جنگ 1965 میں شعرا اور گلوکاروں کا کردار


 

 

عالمی ادب کے مطالعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انسانی زندگی کے ہر پہلو میں ادب نے اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ زیست کے ہر زیر و بم میں انسان کے شانہ بشانہ چلتا آ رہا ہے۔ یونان کے ایتھنز سے لے کر رومیوں تک، اہل چین سے لے کر اہل عرب تک نیز ہر دور کی اقوام کی راہنمائی ادب نے بخوبی کی ہے۔

ہر بڑا ادب رزمیہ عناصر سے متاثر ہوا ہے۔ عالمی ادب کے شاہکار فن پارے رزمیہ وصف کے حامل ہیں۔ خواہ وہ فردوسی کا ”شاہ نامہ“ ہو یا پھر والمیکی کی ”رامائن“ ہو۔ ویاس کی ”مہا بھارت“ ہو یا گوئٹے کی ”فاؤسٹ“ ۔ رزم چوں کہ انسانی جذبات و احساسات کے ساتھ اپنے اندر ثقافتی، سماجی، تہذیبی اور نفسیاتی نقوش لیے پھرتی ہے۔ جس کی چھاپ مدتوں تک انسانی زندگی پر نقش ہوتی ہے۔ قدیم زمانے میں شعرا جنگی دستوں کے ساتھ بھیجے جاتے تھے۔ وہ جنگ کے دوران میں ایسے اشعار پڑھتے جن سے سپاہیوں کے حوصلے بلند ہوتے تھے۔ اس طرح جنگیں جیتی بھی جاتی تھیں اور شعرا کو ان کے کلام کے عوض نوازا جاتا تھا۔ یہاں اس تمہید کا تعلق 1965 کی جنگ کے ساتھ بھی کسی حد تک ہے۔

بہر کیف ادب، ادیب، شاعر، تخلیق کار، فن کار کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہوتی اور نہ کسی حد تک نظریاتی حد ہوتی ہے۔ البتہ سماج نے ان کو محدود کر دیا ہے۔ ان کو ایک خاص قوم، ملک، زمین، یا نظریے سے جوڑ دیا۔ اسی وجہ سے جنگ عظیم اول میں امریکہ کا اتحادی گروپ کا حصہ بننے پر اکثر مفکرین اور ادیبوں نے امریکہ کی حمایت کی تھی۔ لیکن جان ڈیوی، رنڈولف بورن جیسے مفکرین نے اگر چہ مخالفت کی تھی۔ لیکن باوجود اس کے انہوں نے اپنے سپاہیوں کی حوصلہ شکنی نہیں کی اور نہ ہی ملکی سالمیت کو تباہ کرنے میں کسی سازش کا حصہ رہے ہیں۔ دوسری جانب بائیں بازو کے انشا پردازوں اور شاعروں نے خوب امریکہ کا ساتھ دیا۔

اسی طرح 1965 کی پاک بھارت جنگ میں بھی دونوں طرف سے ادبا اور شعرا نے اپنے ملکوں کی خوب حمایت کی۔ اپنے سپاہیوں کے حوصلے باندھے۔ ان کی بہادری اور شجاعت کے قصیدے الاپ رہے تھے۔ 1965 کی جنگ دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی، سرحدی اور نظریاتی جنگ تھی۔ اس میں ہر شعبے سے منسلک لوگوں نے کسی حد تک حصہ لیا اسی طرح شاعر حضرات، ادبا اور گلوکاروں نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ کیوں کہ ایک طرف سے اسلامی ادب والوں نے اس جنگ کو معرکہ اسلام سمجھ کر پاکستان کی حمایت میں خوب رقم طرازی کی اور دوسری جانب حلقہ ارباب ذوق کے شعرا اور ادبا نے بھی ریاست کے استحکام اور سلامتی پر خوب خامہ فرسائی کی حالانکہ بظاہر ریاستی، مذہبی یا جغرافیائی تفریق کی بنا پر تخلیق کرنا ان کا شیوہ نہیں تھا اسی طرح ترقی پسند شعرا نے بھی وطن پرستی کا لبادہ اوڑھ کر ملکی سالمیت کے لیے ملی نغمے اور ترانے لکھے۔ گلو کاروں نے بھی اپنے بلند آہنگ اور خوش الحانی سے لکھے ہوئے ترانوں میں حرارت پیدا کر دی قوم کو نئے جذبے سے سرشار کیا۔ عوام اور سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ قربانی کا جذبہ ان کے دلوں میں ڈال دیا۔ استحکام اور یکجہتی کا پیغام دیا۔ یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہیے کہ بعض شعرا نے اس جنگ کی مخالفت بھی کی تھی۔

پاکستان کی سالمیت اور ملکی دفاع میں فرنٹ لائن سپاہی کا کردار ادا کرنے والوں میں رئیس امروہی، حفیظ ہوشیاری، صوفی تبسم، احسان دانش، جمیل الدین عالی، حمایت علی، فیاض ہاشمی وغیرہ شامل تھے۔ ان کے علاوہ ترقی پسند شعرا احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی نے، حلقہ ارباب ذوق سے منیر نیازی نے اور مزاحمتی شاعر احمد فراز کے علاوہ، مجید امجد، مختار صدیقی، ساقی جاوید، جعفر طاہر، شورش کاشمیری، فارغ بخاری، صہبا اختر، شاعر لکھنوی، ادا جعفری وغیرہ نے اپنے شاعری میں وطن پرستی کے ثبوت دیے۔

ظہیر کاشمیری اپنی نظم *آج کا کھیل* میں کچھ یوں لکھتے ہیں

کج کلاہوں کو زمیں بوس کیا ہے ہم نے
شہر یاروں سے سدا باج لیا ہے ہم نے
جب کبھی اٹھے ہیں ہم جذبہ بیدار کے ساتھ
آج کا کھیل رہے برش تلوار کے ساتھ

احسان دانش کی نظم کے کچھ اشعار ملاحظہ کیجیے

تم مرد میداں، تم جان لشکر
آئین دیں ہیں سب تم کو ازبر
احکام باری، قول پیغمبرﷺ
اللہ اکبر، اللہ اکبر

انور حسین نے سپاہیوں کے حوصلوں کے لیے نظمیں لکھی تھیں۔ یہاں دو شعر ملاحظہ کیجیے

بڑھے چلو مجاہدو خدا تمھارے ساتھ ہے
تمھارے عزم بے کراں میں قوم کی حیات ہے
تمھارے عزم سے ہے پاک سر زمیں کی آبرو
عدو نہ سر اٹھا سکے جھپٹ کے جاؤ چار سو

حبیب سبحانی کی نظمیں بھی قومی حوصلہ افزائی کا باعث بنیں۔

بڑھے چلو بڑھے چلو دلاورو! مجاہدو
محاذ کفر توڑ دو
ستم کے رخ کو موڑ دو
سر غرور پھوڑ دو
قدم اٹھاؤ تیز تر مسلمو! مجاہدو

محشر بدایونی نے *جاگ رہا ہے پاکستان* جیسی باکمال نظم لکھ کر ملکی دفاع میں نام ثبت کر لیا

اپنی قوت اپنی جان، لا الا اللہ محمد الرسول اللہ
ہر پل ہر ساعت ہر آن، جاگ رہا ہے پاکستان
نکلے ہی مردان حق سینوں میں لے کر قرآن
ہم سے رہے باطل ہشیار، جاگ رہا ہے پاکستان

اس دور میں اتنی شاعری کی گئی کہ اس کا احاطہ کرنا آسان نہیں ہے۔ 1965 کی جنگ کے حوالے سے *جنگ ترنگ* اور *جاگ رہا ہے پاکستان* یہ شاعری کے ضخیم مجموعے ہیں۔ اس دور میں تقریباً دو ہزار سے زائد نظمیں لکھی گئیں۔

شاعری کے مقابلے میں نثر میں زیادہ نہیں لکھا گیا کیوں کہ نثری فن پارے کو تخلیق کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ البتہ نظمیں کم مدت میں لکھی جا سکتی ہیں۔ لیکن چند افسانہ نگاروں نے اپنے قلم کی دھار سے جنگ کو موضوع بنایا۔ ان میں انتظار حسین، الطاف فاطمہ اور مسعود مفتی خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ مسعود مفتی کے افسانوں کا مجموعہ * ”رگ سنگ“ * 1969 میں شائع ہوا۔ ان افسانوں میں مصنف نے جنگ کے پس منظر میں اہل وطن کے جذبات کی پر تاثیر عکاسی کی۔

شعرا اور ادبا کے علاوہ مختلف رسائل فنون، نقش، نقوش، ساقی، ادبی دنیا، افکار نے حب الوطنی پر مشتمل ایسے موضوعات شائع کرائے جنھوں نے ملکی دفاع میں اپنا کردار ادا کیا

گلو کاروں میں ملکہ نور جہاں صف اول میں کھڑی تھیں۔ انھوں نے اردو اور پنجابی ملی نغمے اور جنگی ترانے گائے تھے۔ اس طرح شعرا، گلوکاروں، اور ادبا نے مل کر وطن عزیز کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا۔

 

Facebook Comments HS