وائس چانسلرز تعیناتی کا معاملہ اور دو کروڑ کی آفر
پاکستان میں مسلمان صرف نام کے ہیں مگر اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کے احکام پر عملدرآمد اور سنت رسولﷺ مقبول کی پیروی ہم سب پر فرض ہیں۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ”ایک مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا“ اس حدیث مبارکہ کا موجودہ حکومت کی سیاسی جماعت سے موازنہ یا تقابل کیا جائے تو ہم بطور پاکستانی اس جماعت کے جھوٹے وعدوں پر کئی بار اعتبار کر کے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا چکے ہیں۔ اسی حکومت کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات صاحب محکمہ تعلیم میں انقلاب اور جدید اصلاحات کے نام پر اس کا کباڑا نکال رہے ہیں۔
وزیر تعلیم کا وائس چانسلر کے لیے دو کروڑ کی رشوت کی پیشکش کو ٹھکرانے کا دعویٰ سمجھ سے بالاتر ہے۔ رشوت نام سے نفرت ہر انسان کی فطرت میں شامل ہے، مگر دیہاڑی لگانے کے لیے اس ناپاک لفظ کی جگہ مہذب اور معتبر نام کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جس میں تحفہ، نذرانہ، خدمت، بلکہ آج کل ٹیکس نام کا لفظ کافی معروف ہے۔ صوبائی حکومت کے زیر تحت 25 یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کی تعیناتی کا اختیار گورنر کے اختیارات سے نکال کر کابینہ کے اختیارات میں شامل کر لیا گیا ہے۔
گورنر صرف کابینہ کے منظور شدہ وائس چانسلرز کو تعینات کرنے کا پابند ہو گا۔ وائس چانسلر مکمل طور پر ایک یونیورسٹی کا وا لی وارث ہوتا ہے۔ سرکاری یونیورسٹی میں وائس چانسلر ایک پرکشش اور حساس عہدہ ہے۔ اس سے انسان اپنی قابلیت کی بنا پر اربوں روپے کما سکتا ہے۔ ڈگریوں کی بندر بانٹ بھی وائس چانسلر کی ایما پر ہوتی ہے۔ اکثر یونیورسٹی میں پابندی ان ڈگریوں کی بندر بانٹ کی وجہ سے لگ چکی ہیں۔ پرائیویٹ یونیورسٹی کا رخ کریں تو وہاں پر وائس چانسلر کا عہدہ سیٹ کو فل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اور چیئرمین ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی کے تمام فیصلے چیئرمین اور ڈائریکٹر کرتے ہیں۔ یونیورسٹی آف سیالکوٹ کے چیئرمین اور ڈائریکٹر ہی تمام فیصلے کرتے رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کچھ ماہ وائس چانسلر کے عہدے پر براجمان رہے ہیں۔ اسلام آباد کا رخ کریں تو وہاں کے مائی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی نام کے وائس چانسلر ہیں۔ ڈائریکٹر مائی یونیورسٹی تو سیاست میں مصروف ہیں۔ چیئرمین نے یونیورسٹی کے تمام اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔
ایک ہزار کا بل پاس کرنے کا اختیار بھی وائس چانسلر کے پاس نہیں ہے۔ تقریباً دو ہزار ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز اس یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ پنجاب کی 25 سرکاری یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کا معاملہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن کا وزیر نہ ہونے کی وجہ سے وزیر اعلی مریم نواز صاحبہ ہی اس محکمہ کی وزیر ہیں۔ وائس چانسلر کے لیے تین ناموں کی سمری بذریعہ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن وزیر اعلی کو ارسال ہوں گی۔
سفارشات سے بچاؤ کے لیے تین ناموں کا انٹرویوز خود وزیر اعلی صاحبہ کریں گی۔ چار سال تک یونیورسٹی کے تمام فیصلوں اور سرگرمیوں کی ذمہ داری وائس چانسلر پر عائد ہو گی۔ اس لیے اس آسامی کو حساس قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو کمیٹی کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر ہونے کے باوجود انتظامی امور میں تجربہ رکھنے والوں کو فوقیت دی جائے گی، اب جب تمام وائس چانسلر کی تعیناتی کا اختیار کابینہ کے پاس ہے تو یہی سمجھ لیں کہ یہ اختیار وزیر اعلی پنجاب کے پاس ہی ہوا۔
وزیر تعلیم سے وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے دو کروڑ کی پیشکش اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ آپ کی کارکردگی سے وزیر اعلی مطمئن ہیں اور آپ کا تجویز کردہ نام بڑی اہمیت کا حامل ہو گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا فارم 47 کی یہ حکومت وائس چانسلرز کی تعیناتی مکمل ایمانداری اور غیر جانبداری سے کرنے میں کامیاب ہو گی یا سکولز کی نجکاری کی طرح دیہاڑی لگائے گی، سکولز کی نجکاری میں دس دس ہزار روپے لے کر کروڑوں کی دیہاڑی لگا کر من پسند این جی او ’s اور ایجوکیشن چین کو اکثریتی سکول سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حکومت کی سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر یہ دو کروڑ کی پیشکش ٹھکرانا والی بات پر اعتبار نہیں ہو رہا ہے۔ گورنر سے تعیناتی کا اختیار چھین کر اپنے پاس لے جانے کا فیصلہ ہی اس تعیناتی کو مشکوک بنا رہا ہے۔


