فخر عوام مہناز اعوان


عورت ایک بہادری اور جدوجہد کا نام ہے۔ عورت ایک مخلص کردار ہے۔ عورت کا وہ مقام ہے جس کو لطیف سرکار نے اپنی شاعری کی سات سورمیاں کہہ کر پیش کیا تھا۔ عورت وہ تخلیق ہے جس کو خدا نے نایاب بنا کے اس دنیا کے وجود کا حصہ بنایا۔ موجودہ دور کے حساب سے اگر دیکھے گے تو بہت سی خواتین اپنے انقلاب کی جدوجہد میں آگے رہی ہیں۔ ان سب نام نہاد عورتوں میں ایک عظیم اور منفرد نام اپنا اپنے خاندان کا اور سوسائٹی کا اونچا کرنے میں مہناز اعوان کا بھی نام سر فہرست ہوتا ہے۔

بہترین حیثیت رکھنے والی سنجیدہ افسر، سوشل ایکٹوسٹ اور بہت سے مسکین اور لاوارث لوگوں کے لئے ایک امید بن کے سماج میں اپنا نام ایک عام خاتون سے شخصیت تک لے جانے والی عمرکوٹ کی عوام کی فخر نوجوان افسر مہناز اعوان جس پر ہر شہری کو ناز ہے، اس کی سچائی، بہادری، اپنی محنت اور لگن سے کام کرنے والی جو سب کے لئے ایک مثال بن گئی ہیں۔ مہناز اعوان اپنے بچپن میں ہی سماج کا دکھ درد محسوس کرنے والی ایک بہادر اور نفیس دل کی عظیم عورت ہیں جس نے شادی کے بعد اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

اکثر ہماری سوسائٹی میں پڑھیں لکھی عورتیں گھر کے کام کاج اور بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ لیکن ان سب کے لئے ایک اتساہ اور جو تاریخ رقم کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مہناز اعوان نے شادی کے بعد اپنی پرائیویٹ تعلیم جاری رکھتے ہوئے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری اور سال 2004 ع میں پولیس شعبہ میں ایک اچھے افسر کے طور پے جوائن کیا، جس کا کریڈٹ اپنے ہمسفر ساتھی پے جاتا ہے جس نے اتنی مصروفیات ہوتے ہوئے بھی سب کو نظر انداز کر کے انہیں اپنے مقاصد میں کامیابی کی دوڑ میں جدوجہد کے قائل بنایا اور انہوں نے وہ سب کر کے بھی دکھایا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ کسی نے کہاں ہے کہ منزلیں ہمیشہ انہی کو ملتی ہیں جو منزلوں کو تلاش کرتے ہیں۔

انسان کو اگر دنیا میں کامیابی حاصل کرنی ہو تو دو چیزیں بڑا کردار ادا کرتی ہیں، پہلے نمبر پر ہے والدین کی پرورش اور دوسرے نمبر پر ہے معاشرے کو سمجھنا اگر یہ دو چیزیں کسی کے اندر آ گئیں یا اسے سمجھ گئے تو اس مرد یا عورت کے لئے زندگی میں آگے بڑھ کر کامیاب بننا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوتا ہیں۔ ایسے ہی صحرائے تھر ضلع عمرکوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک بہادر اور فخرے عوام مہناز اعوان ہیں جو کسی بھی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔

میں نے جب لکھنے کے لئے قلم اٹھایا تو رکا نہیں۔ جس کے پیچھے جو بات ہے وہ یہ ہے کہ مجھے اتنا سب کچھ لکھنے کے لئے جو اتساہ ملا وہ یہ ہے کہ ایک دن میں اعوان صاحبہ کی آفس گیا تو وہاں پر اس حوالے سے بہت لمبی گفتگو ہوئی، جس میں خاص موضوع رہے لڑکیوں کی تعلیم اور ان کے روک تھام کا مسئلہ، دوسری ہماری یہاں پر اکثر چھوٹی عمر میں لڑکیوں کی شادی کی جاتی ہے، جو عمر لڑکی کی کھیلنے کودنے کی ہو اس عمر میں اسے بڑی ذمہ داری دی جائے تو اس کی زندگی کیسے گزرے گی؟ اعوان صاحبہ کی کارکردگی دیکھ کر مجھے پروین شاکر کا ایک شعر یاد آیا کہ؛

مر بھی جاؤں تو لوگ کہاں بھلا دیں گے مجھے؟
لفظ میرے، میرے ہونے کی گواہی دیں گے۔

ضلع عمرکوٹ کی ایک ایسی ہی سماجی شخصیات جس کے اوپر جتنا بھی لکھیں بہت کم ہیں۔ جس کا پورا نام مہناز اعوان ہے، جن کا جنم ایک غریب گھرانے میں سائیں اللہ دین پٹھان کے گھر ضلع عمرکوٹ میں ہوا۔ اس نے اپنی ابتدائی تعلیم عمرکوٹ سے حاصل کی لیکن آگے بڑھنے کا شوق اپنا برقرار رکھا انہوں نے ٹھان لیا کہ کچھ بھی ہو جائے میں اپنی عوام کے لئے خدمات کا کچھ حصہ ضرور بنوں گی۔ اعوان صاحبہ نے بتایا کہ ہمارے ابو ایک دوست اور ایک اچھے ساتھی کی طرح ہم بہنوں اور بھائیوں سے سلوک رکھتے تھے۔

ہمیں کبھی کسی چیز سے محروم نہیں رکھا اور ہماری ہر خواہش پوری کرتا رہا۔ لیکن ہوا یہ کہ جیسے ہی میں نے بارہویں جماعت پاس کیا تو میری شادی ہو گئی وہاں پر بھی میرے شوہر نے اپنا پورا کردار ادا کیا۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد مجھے بیچلرز کی ڈگری وغیرہ حاصل کرنے کی اجازت دی۔ اور پھر سال 2004 ع میں نے کمیشن کا امتحان دیا۔ جب رزلٹ ڈکلیئر ہوا تو اس وقت ڈویژن میرپور خاص میں ہم دو فیمیل سلیکٹ پولیس ڈپارٹمنٹ میں سلیکٹ ہوئی۔

آج کل کے دور میں والدین بچوں کے لئے ہوم ٹیوشن یا اچھے ٹیوشن سینٹر وغیرہ ڈھونڈتے ہیں اور وہاں پر انہیں پابند کیا جاتا ہے۔ میرے والد صاحب خود نہیں پڑھا تھا لیکن ہم بیٹیوں اور بیٹوں کو تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے اپنی کوئی کمی نہیں چھوڑی جہاں تک کر سکتا تھا وہ سب کیا۔ لیکن ہمارے ٹائم یہ ٹیوشن وغیرہ کا رجحان اتنا عام نہیں تھا۔ ہم جو بھی پڑھتے سیلف یعنی خود محنت کرتے تھے اور اسکول سے واپس ہمارے گھر کا ماحول ہی ایک اسکول کے ماحول کے برابر ہی تھا۔

گھر میں ہم آپس میں بہن بھائی کتابیں اٹھا کر پڑھائی میں لگ جاتے تھے اور اسی ٹائم یہ موبائل وغیرہ بالکل اتنے عام یا سمارٹ فون کا مس یوز نہیں تھا۔ ہمارے گھروں میں اکثر پی ٹی سی ایل کا موبائل ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ہم اپنا رابطہ برقرار رکھ سکتے تھے۔ بچپن میں میرا بھی ایک خواب تھا کہ میں ڈاکٹر بنوں گی، لیکن کچھ حالات کی وجہ سے وہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ ابھی میری بڑی بیٹی تحریم مہناز اعوان کا خواب ہے کہ میں ڈاکٹر بنوں گی تو میں اس کی محنت اور جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہوں اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہوں کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے۔

مہناز اعوان ایک استاد کا نام ہے، جو اپنے شہر کی لڑکی کا ایک بڑا موٹیویشن رہی ہیں۔ جب میری تفصیلی گفتگو ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ میں اپنی تعلیم والے دور میں اچھی پوزیشن اور گریڈ حاصل کرنے والی طلبہ رہی ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں سے میرا تعلق ہے وہاں بچیوں کی تعلیم بالکل نہ ہونے کے برابر تھی اسی وقت اور اب اس کے دور کے حساب سے بہت شعور آیا ہے لوگوں میں جہاں ایک بیٹا پڑھ سکتا ہے وہاں پر بیٹی بھی اپنی پڑھنے لکھنے کی ڈیمانڈ کرتی ہے یہ ایک خوش آئندہ بات ہے۔

جب میں نے پوچھا کہ اعوان صاحبہ یہ بتاؤ کہ آپ نے پولیس شعبہ کیوں سلیکٹ کیا شعبے تو اور بھی بہت تھے؟ بتایا کہ مجھے پولیس شعبہ اس لئے اچھا لگا کہ جب میں چھوٹی تھی تب ٹی وی میں فلمیں یا ڈرامے دیکھتے تھے تو اس میں پولیس سے سخت لہجے سے اور ہر کوئی عام سا آدمی پولیس کو نیچا دکھانے کے لئے پیش آتے تھے۔ دوسری بات جب میں نے اپنی سوسائٹی میں بچپن کے ٹائم لوگوں کے ساتھ بہت ساری نا انصافیوں، غیر قانونی کام، عورتوں کے ہر روز جھگڑے اور عورت کو اپنے پاؤں کے جوتے کے برابر سمجھنا ایسی گری ہوئی سوچ پے جب میں نے ایک دن گھر جا کے سوچا کہ اب خدا کرے میں کمیشن جیسے امتحان میں مقابلے کا بن جاؤں اور پاس ہو کے مجھے کسی بھی طریقے سے پولیس شعبہ میں اچھی پوزیشن پے آنا ہے۔

اس وقت میں نے انٹرمیڈیٹ لیول پے اپلائی کیا تھا سندھ پبلک سروس کمیشن میں اور الحمدللہ میری سلیکشن ہو گئی تھی۔ لوگوں کی سوچ کبھی بھی ایک جیسی نہیں ہو سکتی کیوں کہ میں ایک مثال دوں گی، دیکھو انسان کے ہاتھ کا جو تھمب اگر ایک دوسرے سے میچ نہیں ہوتا تو لوگوں کی سوچ ایک دوسرے سے کیسے میچ ہوگی؟ تو ہمیں کام پر فوکس کرنا چاہیے لوگوں کی باتوں میں بالکل بھی نہیں آنا ہیں۔

میرا خاندانی پس منظر اگر دیکھتی ہوں تو کوئی زمیندار گھرانے سے نہیں تھا میں مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون تھی اور ابھی بھی مجھے اس وقت اور حالتوں کا پورا پس منظر اچھی طرح یاد ہے، اور مجھے غریبوں سے ملنا جلنا بہت اچھا لگتا ہے، کیوں کے مجھے اس چیز کا احساس ہے۔ ہمارے یہاں وومین پولیس اسٹیشن ضلع عمرکوٹ کا 2019 ع سے 2023 ع تک کا ایک ریکارڈ رہا ہے تین سو سے زائد ایف آئی آر درج کرنے کا اور اس سلسلے مجھے بہت این جی او سیکٹرز نے جو خاص طور پے عورتوں کے حوالے سے کام کرتی ہے ان کی طرف سے مجھے بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ دیے گئے ہیں۔

ہماری ڈپارٹمنٹ کی طرف سے 2022 ع میں مُجھے ایس ایس پی صاحب نے بھی ایپریشیٹ ایوارڈ دیا تھا جو میرے لئے بہت خوشی اور فخر کی بات تھی۔ 2023 ع میں مجھے عورتوں کے عالمی دن پر انٹرنیشنل لیول پے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2022 ع میں مجھے سی ایس ایس پی کی جانب سے بہترین کارکردگی کی طور پر ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے ساتھ بہت سے سرٹیفکیٹ اور نیشنل لیول پے شیلڈز دی گئی ہیں۔ میں لڑکیوں اور لڑکوں کو یہ پیغام دوں گی جتنا ہو سکے محنت کرو، تعلیم حاصل کرو، دور بہت مقابلے کا ہے جتنا ہو سکے مقابلے کے امتحان میں حصہ لو اور اپنے مقاصد بڑے رکھو تو کامیاب آپ کے قدم چومے گی۔

Facebook Comments HS