ایک تھا جنگلی جانور


یاد پڑتا ہے کہ کسی فلاسفر نے یہ کہہ رکھا ہے کہ انسان سماجی حیوان ہے۔ اس نے یہ کب، کیوں اور کس سیاق میں کہا تھا یاد نہیں، البتہ اتنا یاد ہے کہ پاکستانی منظر نامے سے اس کا ضرور کوئی نا کوئی رشتہ بنتا ہے۔ پاکستانی تناظر میں اس جملے کی تعبیر یوں کی جا سکتی ہے کہ جیسے جانوروں کو جینے کے لیے پانی اور کھانے کی ضرورت ہوتی ہے، پاکستانی عوام کو بھی یوں ہی پانی اور کھانے کی ضرورت تک محدود کرنے اور ان کو قدرتی زندگی کے قریب کرنے کی کوششیں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ بلکہ شاید میں حقائق چھپانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ معاملہ تو دراصل یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ پانی کے بے جا ضائع ہونے کو بھی غیر فطری بتاتے ہوئے، دن میں محض ایک آدھ بار ہی پانی میسر ہونے کی پالیسی پر کام جاری ہے۔ یہ پالیسی کب تک عملی صورت میں ملکی سطح پر بھر پور مظاہرہ کرے گی، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ مگر عوام کو یہ خوشخبری دی جا سکتی ہے کہ شہروں میں اس پالیسی پر عملدرآمد ہو رہا ہے اور بہت جلد گاؤں بھی اس سے مستفید ہوں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ حکومت ملک کی بہتری کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے ان کو سراہا جانا چاہیے۔ مدح سرائی کیسے کی جائے اس کا بیان سنیے۔ کچھ دن پہلے جمعے کے خطبے میں خطیب صاحب فرما رہے تھے کہ ”ہم بطور مسلمان اور دینی رہنما حکومتِ وقت کی اس پالیسی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو انہوں نے بجلی کے بلّوں میں اضافہ کرتے ہوئے لاگو کی۔“ ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ نامہ اعمال میں برائیوں کی مثال اور اس کے نتائج سمجھانا آسان ہو گیا ہے، جس سبب برائیوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ برے نامہ اعمال کی مثال اس بجلی کے بل جیسی ہے جس پر یونٹ کی تعداد دو سو سے تجاوز کر چکی ہو تو غریب آدمی پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور بعض اوقات غشی کا عالم ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اس بات کو طے کر پانا کہ پاکستانی قوم، جانور بننے کو کیوں ترجیح دے رہی ہے، بعید از قیاس ہے۔

ایک وقت تھا جب ہم اپنی دادی/ نانی سے سنا کرتے تھے کہ کسی جنگل سے ولیوں کا گزر ہو رہا تھا جو ذکرِ الٰہی میں مصروف تھے۔ ایک ہرن نے جب ان کو بآواز بلند ذکرِ خالقِ کائنات کرتے پایا تو ان پر رشک کیا کہ کاش وہ بھی انسانوں کی طرح ہوتا۔ خیر یہ تو بہت ہی پرانی کسی داستان کی بات ہے۔ آج کی نانی/دادی کی کہانی بدل چکی ہے۔ میں نے ایک عورت کو اپنے نواسوں کو یہ کہانی سناتے پایا کہ انسانوں کی بستی سے جانوروں کا ایک گروہ گزر رہا تھا تو ان کو دیکھ کر لوگ پکار اٹھے کہ کاش ہم ان جانوروں جیسے ہوتے۔ نہ ہی بجلی کا بل آتا اور نہ ہی ووٹ کے ذریعے اپنے اوپر ایسی کٹھ پتلیوں کو مسلط کرنا مجبوری ہوتا جو ہلتے تو ہیں مگر کسی دوسرے کے ہاتھوں کی جنبش سے۔ شاید یہ بات درست نہیں کیونکہ اگر وہ خود بے جان کٹھ پتلیوں کی مانند ہیں تو ملک کو کیسے لوٹ لیتے ہیں؟

آج کا انسان واقعی جانور بن چکا ہے۔ جس کی عمدہ مثال یونیورسٹیوں میں پڑھتے نوجوان طبقے سے دی جا سکتی ہے۔ میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ وہ رات، خواب میں خود کو جنگلوں میں ”جھینگا لالا ہو ہا“ کرتے پاتا ہے اور جب چاہتا ہے جو کچھ چاہتا ہے وہ کرتا ہوا زندگی کے مزے لیتا ہے۔ نہ ہی کسی پروفیسر کے ذاتی کام کرنے پڑتے ہیں اور نہ ہی وہ منافقت جو نمبر حاصل کرنے کے لیے ہر استاد کے سامنے اس کی تعریف کی صورت کرتے ہیں۔ میں اس کی بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ کیونکہ جنگلوں میں جنگلیوں کی طرح زندگی گزارنے کی خواہش کے درپردہ اس کی مفاد پرستی ہے۔ جنگلوں میں آپ کسی کو کہیں بھی، کچھ بھی کہہ سکتے ہیں شرط یہ کہ دوسرے جانور پر بھی شاعرانہ مزاج طاری ہو۔ مگر جب آپ انسانی روپ میں آتے ہیں تو دو لوگوں کی باہمی رضا مندی اس وقت تک محض فریب ہی قرار پاتی ہے جب تک چار لوگوں کے دستخط نہ ہو جائیں۔ اور جب چار لوگوں کے دستخط کا بندوبست کر لیا جاتا ہے تو ایسا شور مچایا جاتا ہے کہ سب کو معلوم پڑ جائے کہ کچھ غیر انسانی ہونے جا رہا ہے۔ اس کے باوجود کہ میرا دوست بہت بڑا خود غرض ہے، میں اس کی اس بات کو اہمیت دیتا ہوں کہ جنگلیوں کی جون میں پیدا ہونا واقعی خوش قسمتی ہے کیونکہ جنگل کا ایک قانون ہوتا ہے جسے سب جانور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور نظریہ ضرورت کے تحت ترمیم نہیں کرتے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ملکی حالات کی سختی کے پیش نظر قوم کا جانور بننے کی خواہش کرنا درست ہے؟ فلاسفر شیدے کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بعض قومی ادارے پہلے ہی جانوروں کی جون میں تبدیل ہو چکے ہیں، اب محض عام آدمی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے میڈیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لومڑی کی مثال دی جو شیر کی بھی دوست ہے اور ہرن کی بھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شیر جنگل کا رکھوالا ہوتا ہے۔ وہ جنگل کی حفاظت کے لیے جو تبدیلی چاہے، بروقت ہونا چاہیے۔ مگر لومڑی کو یہ حق ہرگز نہیں پہنچتا کہ وہ ہرن کو یہ بتائے کہ تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ چپ چاپ شیر کے سامنے کھڑے ہو جاؤ۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais