پاکستان کے دو عظیم ترین ججوں کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 1954 آ چکا تھا۔ قائداعظم کی 1948 میں ناوقت رحلت کے باعث ایک نمایاں لبرل دہشت گرد مولوی تمیز الدین خان کو آئین ساز قومی اسمبلی کا سپیکر بنا دیا گیا تھا جو کہ ابھی تک اپنے عہدے پر فائز تھے لیکن سات برس میں بھی اسمبلی دستور بنانے سے قاصر رہی تھی۔ آخر کار 24 اکتوبر 1954 کو درد دل رکھنے والے عظیم محب وطن گورنر جنرل غلام محمد کا پیمانہ صبر اس وقت لبریز ہو گیا جب ان کو اطلاع ملی کہ نئے آئین میں ان کا عہدہ نمائشی ہو گا۔

ملک کی محبت میں سرشار ہو کر انہوں نے ایک حکم نامہ جاری کیا اور قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ حکم نامے میں انہوں نے بتایا کہ ’ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ آئنی مشنری ٹوٹ چکی ہے۔ آئین ساز اسمبلی عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ اس لئے گورنر جنرل نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا ہے۔ جلد از جلد الیکشن ہوں گے۔ جب تک گورنر جنرل کی منتخب کردہ کابینہ ملک کی باگ دوڑ سنبھالے گی‘۔

لبرل دہشت گرد مولوی تمیز الدین تو ملک کا مفاد سمجھتے ہی نہیں تھے۔ حالانکہ حکومتی اہلکاروں نے انہیں پکڑ کر سمجھانے بجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ انہیں جل دے کر اور برقع پہن کر سندھ چیف کورٹ (اس زمانے کا ہائی کورٹ سمجھ لیں) چلے گئے۔ دعوی دائر کر دیا کہ گورنر جنرل کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا قانونی اختیار ہی نہیں ہے کیونکہ 15 اگست 1947 کے عبوری آئینی حکم کے تحت گورنر جنرل سے یہ اختیار واپس لے لیا گیا تھا اور صرف اسمبلی کے پاس ہی خود کو تحلیل کرنے کا اختیار ہے۔ نیز یہ کہ آئین تو تیار ہے اور 25 دسمبر کو اسمبلی میں پیش کرنے کی تیاری مکمل ہے۔ آئینی مشنری کی ٹوٹ پھوٹ کا الزام بھی بے بنیاد ہے۔

گورنر جنرل کے وکلا نے بتایا کہ ان کے پاس وہی سارے اختیارات ہیں جو غلاموں کے اوپر برطانیہ کے بادشاہ کے پاس ہوتے ہیں مگر سندھ چیف کورٹ کے چیف جسٹس اس وقت جارج کانسٹنٹائن نامی جج تھے جن کو رتی برابر بھی احساس نہیں تھا کہ وطن عزیز ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ان کی سربراہی میں ججوں نے فیصلہ دے دیا کہ گورنر جنرل کا حکم نامہ غیر قانونی ہے اور گورنر جنرل کو جمہوریت ہائی جیک کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اسمبلی بحال کر دی گئی۔

کیس فیڈرل کورٹ (سپریم کورٹ جانیے) میں گیا۔ وہاں پانچ ججوں نے کیس سنا۔ ایک طرف مولوی تمیز الدین جیسا لبرل دہشت گرد سیاستدان تھا اور دوسری جانب چودھری محمد علی، اسکندر مرزا، ڈاکٹر خان صاحب اور جنرل ایوب خان جیسے محب وطن افراد جو پاکستان کو بچانے نکلے تھے۔

Justice Munir
Justice Munir

پاکستان کی تاریخ میں اساطیری حیثیت رکھنے والے چیف جسٹس منیر کی سربراہی پانچ ججوں نے کیس سنا۔ چار دانش مند ججوں نے فیصلہ دیا کہ کیونکہ وطن عزیز ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور ان سیاستدانوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اس لئے وطن کی بچانے کی خاطر گورنر جنرل غلام محمد جو چاہیں وہ کریں۔ صرف ایک جج تھا جس نے اختلاف کیا اور بے وقت کی راگنی الاپی کہ قانون اہم ہے اور اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ اس جج کا نام تھا جسٹس اے آر کارنلئیس۔

کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ پہلے چیف کورٹ کے جسٹس جارج کانسٹنٹائن نے محب وطن حکمرانوں کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور اب جسٹس اے آر کارنیلیئس نے ایسا کیا؟ کاش یہ دونوں بھی باقی ججوں کی طرح اچھے مسلمان ہوتے تو ان کا نام تاریخ میں داغدار نہ ہوتا۔

بہرحال وطن کی محبت سے سرشار جسٹس منیر کی مہربانی سے پاکستان میں محب وطن حلقوں کو اختیار مل گیا کہ وہ چاہیں تو سیاہ کو سفید کریں یا دن کو رات، مگر ملک کے مفاد کی خاطر ہر قانون اور ہر اصول کو نظرانداز کر دیں۔ جسٹس منیر کے اس عظیم کارنامے کو ہماری تاریخ میں نظریہ ضرورت کے سنہری حروف سے لکھا گیا جو کہ بعد میں ضرورت پڑنے پر جنرل اسکندر مرزا، جنرل ایوب خان، جنرل یحیی خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جیسے ہر محب وطن ڈکٹیٹر کے ججوں نے استعمال کیا اور وطن عزیز کا کرپٹ اور نااہل سیاست دانوں سے دفاع کیا۔

Justice-Alvin-Robert-Cornelius
Justice Alvin Robert Cornelius

دوسری طرف جسٹس جارج کانسٹنٹائن، جسٹس اے آر کارنیلیئس اور انہیں کی روایت پر چلنے والے جسٹس ایم آر کیانی کا نام آج کوئی لیتا تک نہیں ہے سوائے ان لبرلوں کے جو کہ ہر سیاہ کو سفید کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ شریفوں کی لبرل حکومت نے لاہور کی اہم ترین شاہراہ پر انڈر پاسوں کے نام ان ججوں کے نام پر رکھ دیے ہیں۔ اسی سے ان کی وطن عزیز سے محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ایسی ہی پرشکوہ کہانی پاکستان کی تاریخ کے دوسرے عظیم ترین جج کی ہے۔ جسٹس افتخار چوہدری نے جنرل مشرف کے اقتدار سنبھالنے پر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں پی سی او کے تحت حلف تو اٹھایا اور ہر قدم پر ان کی مدد کی، مگر آٹھ برس کی مختصر مدت گزرنے کے بعد جیسے ہی ان کو اندازہ ہوا کہ اب جنرل مشرف ملک کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہوئے ان کو برخواست کرنا چاہتے ہیں تو وہ مزاحمت کا استعارہ بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

ان کے ساتھ ہی ملک بھر کے وکلا مل گئے۔ ایک عظیم تحریک چلی۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کی امید بندھی۔ جنرل مشرف کو گھر واپس جانا پڑا۔ پھر لبرل دہشت گرد صدر زرداری کے خلاف ایک اور عظیم تحریک چلی۔ اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو جسٹس افتخار چوہدری کو بحال کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

اس وقت ملک کو بظاہر کئی گمبھیر مسائل گھیرے ہوئے تھے۔ جیسے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات پر انتشار پھیلا ہوا تھا۔ مگر ایک صائب الرائے شخص جانتا ہے کہ کس معاملے کی اہمیت زیادہ ہے۔ عمران خان صاحب کی انتخابی دھاندلی کی پیٹیشن سننے سے انکار کرتے ہوئے جسٹس چوہدری نے فرمایا کہ عدلیہ مقدمات کے بوجھ میں گردن گردن ڈوبی ہوئی ہے اور حقدار کو اسمبلی میں پہنچانے کا ان کے پاس وقت نہیں ہے۔

انہوں نے اس کی بجائے ان مقدمات کو اہمیت دی جو کہ ملک و قوم کی اخلاقی بربادی کا باعث بن رہے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے ٹی وی پر ٹکر پڑھا کہ ہوائی اڈے پر لبرل جنرل پرویز مشرف کی پارٹی سے تعلق رکھنے والی خوبرو اداکارہ عتیقہ اوڈھو کے سامان سے شراب کی دو بوتلیں برآمد ہوئی ہیں تو انہوں نے مقدمات کے بوجھ کو گردن سے اتار کر فوراً سو موٹو لیا اور کیس کی سماعت شروع کر دی۔ جسٹس چوہدری نے درست فیصلہ کیا کہ اس لبرل دہشت گرد کو عبرت کی مثال بنا دیا۔

یہ قوم کی بدقسمتی ہے کہ کیس شاید ابھی تک چل رہا ہے۔ یا شاید عتیقہ اوڈھو بری ہو گئی ہیں۔ یا شاید ان کو جرمانہ ہو گیا ہے۔ یا پتہ نہیں کیا ہوا ہے۔ ان دو بوتلوں کے بارے میں بھی ہمیں علم نہیں ہے کہ ان کا کیا ہوا۔ مگر اس کیس کے بعد سے وطن عزیز سے شراب کا نام و نشان مٹ گیا ہے اور اب وہ پکڑی نہیں جاتی ہے۔

ایسے ہی محب وطن اور ذی شعور جج ہوتے ہیں جو کہ وطن عزیز کو نازک صورت حال سے نکالتے ہیں اور اس کو سیاست دانوں اور مدبرین کی لبرل گمراہی کے قعر معذلت میں گرنے سے بچاتے ہیں۔

اچھے جج جتنے بھی ہوں وہ کم ہیں۔ اور خدا کا شکر ہے کہ پاکستان میں اچھے ججوں کی کمی نہیں ہے۔

پہلی تاریخ اشاعت Mar 12, 2017


اسی بارے میں

کاش آج افتخار چوہدری چیف جسٹس ہوتے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1432 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar