کچے اور پکے کے ڈاکووں کا آسان علاج
پاکستان میں کچے اور پکے کے ڈاکو عوام اور خواص دونوں کے لئے درد سر بن چکے ہیں، کچے کے ڈاکو بندوق دکھا کر لوٹتے ہیں تو پکے کے ڈاکو قانون کا لبادہ اوڑھ کر جیب خالی کرتے ہیں۔ فورسز اور حکام جان توڑ کوشش کے باوجود ان ڈکیتوں کو روکنے میں ناکام ہیں۔ کچے کے ڈاکو سندھ اور پنجاب کی دریائی پٹی میں سرگرم مجرم گروہ ہیں، یہ اغوا، بھتہ خوری اور قتل سمیت اپنی پرتشدد سرگرمیوں کے لیے مشہور ہیں۔ شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کو اغوا کرتے ہیں، جسمانی تشدد کی ویڈیوز بناتے ہیں اور لاکھوں روپے تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ایسے معاملات میں جہاں تاوان ادا نہیں کیا جاتا ہے وہاں یرغمالیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ ڈاکو اب صرف ڈکیتیوں میں ملوث نہیں ہیں بلکہ انھوں نے اپنی کارروائیوں کو مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ ڈاکو محبت یا کاروبار کا بہانہ کر کے لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ ڈاکو اب باقاعدگی سے سوشل میڈیا پر کھلم کھلا ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں، کچھ ویڈیوز میں یہ ڈاکو ہتھیار بھی دکھاتے ہیں، جو سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہیں۔
حال ہی میں پنجاب میں ڈاکوؤں نے پولیس کے جوانوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد کچے کے اطراف میں پولیس اہلکار فرائض انجام دینے سے انکاری ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورتحال بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی ہے جہاں چن چن کر پنجابیوں کو قتل کیا جا رہا ہے لیکن فورسز بھرپور کوششوں کے باوجود دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
اکثر فلمیں اور ڈرامے حقیقی زندگی سے متاثر ہو کر بنائے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات کسی تخلیقی ذہن سے ایسی کہانی اور پہلو سامنے آتے ہیں کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کیس کی تحقیقات کے لئے نئی زاویوں سے سوچنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ پاکستان میں تو اس وقت ٹی وی اور فلم انڈسٹری کا اللہ ہی حافظ ہے، یہاں مسائل کے حل کے لئے آئیڈیاز تو کیا ملنے ہیں دوسرا گھر اجاڑنے کے تمام لوازمات یہاں موجود ہیں تاہم بھارت کے کئی ڈرامے اور فلمیں مختلف مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ بھارتی ٹی وی پر کئی برسوں سے جرائم کے حوالے سے پولیس کی تحقیقات پر مبنی کہانیوں کو ڈرامائی انداز میں پیش کر کے معاشرے کو آگہی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان سیریلز میں پولیس کے طریقہ تفتیش و تحقیقات کے مختلف پہلو اجاگر کیے جاتے ہیں جن سے دوسروں کو بھی مدد مل سکتی ہے۔
بھارت میں ایسی لاتعداد فلمیں ہیں جن میں تحقیقات اور سوچ کے ایسی پہلو سامنے آتے ہیں کہ اگر تحقیقات پر مامور افسران ان سے سیکھنے کی کوشش کریں تو شاید کافی مدد اور رہنمائی مل سکتی ہے۔
تحریر کا عنوان تھا کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کا آسان علاج تو چلیں اب اس طرف بھی چلتے ہیں۔ کچے کے ڈاکو نام سن کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان کی سفاکیت اور بربریت کا سوچ کر انسان خوف سے کانپنے لگتا ہے اور کم و بیش یہی حال پولیس فورس کا بھی ہے۔
پولیس افراد کا ایک تشکیل شدہ ادارہ ہے جو ریاست کی طرف سے با اختیار ہے جس کا مقصد قانون کو نافذ کرنا اور امن عامہ کے ساتھ ساتھ عوام کی حفاظت کرنا ہے۔ اس میں عام طور پر شہریوں کی حفاظت، صحت اور املاک کو یقینی بنانا اور جرائم اور سول ڈس آرڈر کو روکنا شامل ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں پولیس کا نظام اس حد تک خراب اور کرپٹ ہو چکا ہے کہ یہ کہاوت عام ہے کہ پوری دنیا میں پولیس کو دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے لیکن پاکستان میں بھلے ہی آپ نے کوئی جرم نہ کیا ہو پولیس سے لٹنے کا اندیشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کیونکہ ہماری پولیس کو دیکھ کر کبھی لگتا ہی نہیں کہ یہ محافظ ہیں بلکہ ہر شہری پولیس کو دیکھ کر خوف کا شکار ہوجاتا ہے۔
تو چلیں اس مسئلے کا بھی حل تلاش کرتے ہیں، بھارت نے 1998 میں ایک فلم بنائی تھی چائنہ گیٹ جس میں اوم پوری، امریش پوری، نصیر الدین شاہ، ڈینی، ممتا کلکرنی اور پریش راول شامل تھے لیکن اس فلم کا سب سے دلچسپ کردار تھا جگیرا۔ مکیش تیواری نے اس فلم میں ڈاکوؤں کے سردار جگیرا کا کردار بہت خوبصورتی سے نبھایا تھا اگر یوں کہا جائے کہ مکیش تیواری کے پورے کیریئر کا یہ سب سے بہترین اور لازوال کردار تھا تو شاید غلط نہیں ہو گا۔ یہاں مقصد فلم کی تعریف نہیں بلکہ تصور پیش کرنا ہے، فلم چائنہ گیٹ کے تمام ہیرو فوج سے جبری طور پر نکالے گئے فوجی ہوتے ہیں جو اپنی عزت اور ساکھ بحال کرنے کے لئے ذاتی حیثیت میں ڈاکوؤں کا مقابلہ کر کے عوام کو اس مشکل سے نجات دلاتے ہیں۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا کہ پاکستان کی پولیس بھی کچے کے ڈاکوؤں سے کسی صورت کم نہیں ہے، اغواء برائے تاوان، منشیات اور ہر طرح کے جرائم میں ہماری پولیس پوری تندہی سے ملوث ہوتی ہے، آپ کو کوئی بھی غلط کام کروانا ہو یا کرنا ہو پولیس کی مدد سے کوئی بھی کام مشکل یا ناممکن نہیں۔
اب چلتے ہیں مسئلے کے حل کی طرف تو جیسے فلم چائنہ گیٹ میں بھلے ہی ایماندار سابق فوجی میدان میں اترتے ہیں ویسے ہی ہمارے ریٹائرڈ کرپٹ، بے ایمان اور راشی پولیس اہلکاروں اور افسران کو بھی میدان میں لا کر ڈاکوؤں سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکوؤں کے ساتھ ساتھ یہ کرپٹ اور راشی پولیس اہلکار و افسران بھی معاشرے کے لئے ناسور بن چکے ہیں کیونکہ اگر پولیس کرپٹ نہ ہو تو معاشرے میں برائیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اب ایک مشکل یہ بھی ہے کہ ان کرپٹ اور راشی اہلکار و افسران کو پکڑے جانے کی صورت میں صرف واجبی سی کارروائی کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔



دھنے واد برادر