تہران: ایلیٹ کلاس اور گدھا
تہران کے جس علاقے میں ہماری یونیورسٹی ہے اسے فارسی اصطلاح میں ”بالائی شہر“ کہتے ہیں۔ میں جب پہلے پہل ایران آئی تھی تو فارسی بس مناسب حد تک ہی اچھی تھی۔ یعنی حال احوال پوچھ لیتے یا یہ بتا دیتے کہ ”من فارسی بلد نیستم؛ یعنی مجھے فارسی نہیں آتی“ اور اس جملے کو سن کر کچھ ایرانی تو جان لیتے کہ اچھا فارسی نہیں آتی اور کچھ لوگ بضد کہ جب یہ جملہ آتا ہے تو پھر فارسی تو آتی ہے نا؟ بہرحال اس قلیل سی فارسی اور کثیر اردو زبان کی وجہ سے یہ ہوتا کہ باتوں کے مطلب نکال ہی لیتے تھے۔ تو مجھے لگا بالائی شہر اس لئے کہتے ہیں کیونکہ پہاڑ پر واقع علاقہ ہے۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ بالائی شہر یعنی ”امیر طبقے کے رہنے کی جگہ“
سرسبز، لاہور شہر کے مکینوں کے لئے شروع شروع میں ذرا تھکا دینے والا (چونکہ میدانی علاقے والے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر اترائی اور چڑھائی نسبتاً مشکل ہوتی ہے ) ، لیکن پرفضا علاقہ، ہر طرف سبزہ اور بلند قامت درخت، پہاڑوں کی انتہائی بلند چوٹیوں پر برف کی دبیز تہہ جو اکثر اپریل تک بھی دیکھنے کو ملتی۔ ہاں لیکن انہتر ( 69 ) سیڑھیوں کو سر کرنے کے بعد آنے والا ہمارا ”دانشکدہ ادبیات و علوم انسانی؛ Faculty of letters and Human Sciences“ ہر قسم کے پرفضا ماحول پر بھاری تھا۔ کیونکہ ہم نے ایران جاتے ہوئے یہ خواب تو دیکھا تھا کہ علم و معرفت کے آسمان کو چھو کر ملک و قوم کا نام روشن کریں گے لیکن یہ تو دریچہ فہم و خیال میں بھی نہیں تھا کہ یہ بلندی ہر روز اس مشقت طلب عمل کے بعد نصیب ہوگی۔
اچھا بھی لگا کہ قدرت نے ہماری رہائش کا انتظام یہاں کیا ہے۔ کیونکہ سب سے پرسکون جگہ یہی تھی۔ اصلی شہر کی پرشور آوازوں سے کہیں دور۔ لیکن پردیس اور تنہائی؛ ہر کام خود ہی کرنا ہوتا تو ظاہر ہے روز اول سے شہر کے مختلف علاقوں میں چکر لگتا رہا۔ حیرت انگیز طور پر ادراک ہوا کہ پورا شہر گدھے، گھوڑے کے وجود سے جیسے ناآشنا۔ ہر طرح کے علاقے سے گزر ہوا حتیٰ کے دوستیاں نبھانے کی رسم جو قائم تھی سو تہران کے ساتھ ساتھ اس کے ”گرد و نواح“ کو بھی شرف باریابی بخشا اور ان علاقوں میں بھی جانے بلکہ رہنے کا اتفاق ہوا۔ تہران میں اپنے قیام کے دوران پورے شہر میں ہی یہ حیوان دیکھنے کو نہیں ملا۔ خیر ہم کون سا ان کی زیارت کی نیت سے تہران گئے تھے لہذا مختصر یہ کہ ایک فرق تھا جو بیان کیا۔
جس علاقے میں ہماری رہائش تھی وہ تو یوں بھی بڑے لوگوں کا مسکن تھا۔ ہمارے علاقے ”ولنجک“ کے پیچھے ”درکہ“ نامی علاقے میں ایک بہتی ندی سی ہے۔ انتہائی ٹھنڈک لئے گرم دوپہر کا آسرا۔ جب وہاں جاؤ تو کیا لطیف احساس ہوتا ہے جو بیان سے باہر ہے۔ سارے دن کی تھکان کو اپنی بانہوں میں سمیٹ کر بولتی ہے جاؤ میرے ٹھنڈے میٹھے پانی کے تیز بہاؤ کی طرح آزاد ہو جاؤ اور زندگی کی کشمکش میں یونہی بہہ جاؤ جیسے میں دنیا سے بے خبر پہاڑوں کی اوٹ میں بہہ رہی ہوں۔ اس آبشار، اس ندی، اس بہتے پانیوں کی اتنی توصیف سنی تھی اور جا کر دیکھا تو لگا بھی ”چلے تو زمانے اس کو ٹھہر کے دیکھتے ہیں“ اور حقیقت بھی یہی ہے اس بہتے پانی کے ساتھ کسی راستہ کھوئے مسافر کی مانند، جس کو یہ تو معلوم نہیں کہ یہ رستہ کہاں کو جاتا ہے، مات و مبہوت قدم بڑھاتے یقین سا ہو چلا کہ اگر یہ ٹھہر جائے تو گردشیں اس کا طواف کرنے لگیں۔ دیدار یار کا خمار ایسا تھا کہ راستے کی بھول بھلیوں میں کھو کر ایسے سنسان علاقوں میں پہنچ گئے کہ کچھ دیر کو تو ڈر گئے کہ اب ہو گا۔ اسی اثنا میں ایک ”صاحب خر“ ملا۔ اس سے رستہ پوچھا اور متعلقہ جگہ پر پہنچ گئے۔ راستہ کھو دینے کا ذہن پر کچھ ایسا اثر تھا کہ پہلے پہل سمجھ نہیں آئی کہ ان آنکھوں نے گدھا دیکھا؟ ارے کوئی غلط نہ سمجھے کہ ہم نے گدھے کو سلیبرٹی تو نہیں بنا دیا تو نہیں جناب ایسا کچھ نہیں ہے۔ بہرحال وہ صاحب خر یعنی گدھے کا مالک کافی شریف اور اچھا انسان تھا۔ اس نے گدھے (جس کو فارسی میں خر کہتے ہیں ) کو ہانکتے ہوئے نہ صرف رستے کی طرف رہنمائی کی بلکہ اس کی معیت میں ہم منزل تک پہنچ گئے۔
اس واقعے کے کافی مہینوں بعد کسی کام سے بینک جانا ہوا۔ موبائل کی بیٹری کم تھی سو ساتھ لے کر نہیں گئے۔ بینک میں کام ہو گیا اور ہم واپس لوٹ رہے تھے۔ بے ہنگم ٹریفک سے بچتے بچاتے سڑک کراس کر کے سکون سے ہاسٹل کے لئے بس کا انتظار کرتے ہوئے اچانک ہماری نگاہوں نے ایک منظر دیکھا۔ ایک ”گدھے“ نے اس ”اپر کلاس“ علاقے میں قدم رکھا اور خراماں خراماں چلتے ہوئے ”انہی رستوں پر چل دیا جن رستوں میں کوئی کہکشاں تو نہیں“ لیکن رستہ پیارا تھا۔ مجھے بھی چونکہ تہران میں گدھا دیکھنے کی عادت نہیں تھی تو حیرت ہوئی لیکن ایرانیوں کی تو حیرت قابل دید تھی۔ گاڑی میں ہوں یا پا پیادہ ہر کوئی ”محترم“ کی ویڈیو بنانے میں مشغول ہے۔ اگر وہ ”محترم“ اجازت دیتے اور اطمینان دلاتے کہ دولتی سے استقبال نہیں کریں گے تو کیا خبر کچھ افراد رسم و ریت کے مطابق سیلفی بھی لیتے۔ اور عین ممکن تھا وٹس ایپ، ٹویٹر اور فیس بک پر یہ مناظر پوری دنیا کو دیکھنے کو ملتے۔
بہر حال فون ہمارے ہاتھ میں بھی ہوتا کہ بدقسمتی سے نہیں تھا، یہ ویڈیو بنانے سے تو ہم بھی محروم نہ رہتے۔ مختصر یہ کہ اس کمیٹی کو بلایا گیا جن کا کام جانور کو بحفاظت انسانوں کے سیلفی زدہ ماحول سے فرار دلانا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ایک گاڑی بڑی تیزی سے علاقے میں داخل ہوئی اور وردی میں ملبوس چار افراد گاڑی سے باہر آئے۔ گدھا صاحب اپنی مخصوص و مرغوب غذا ”گھاس“ کھانے میں مشغول تھے۔ اسی اثنا میں میں نے یہ منظر دیکھا کہ وہ چاروں افراد، گاڑی سے اتر کر گدھا صاحب کے اطراف مودبانہ حلقہ بنائے کھڑے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اپنے کام سے فراغت کے بعد ہمارے طرف متوجہ ہوں تو ہم اپنی ذمہ داری ”یعنی ان کو ان کے مقام تک پہنچانے“ کی ذمہ داری انجام دیں۔
بس آ گئی تو مجبوراً یہ دلچسپ منظر چھوڑ کر با دل نخواستہ بس کی ایک نشست پر براجمان ہوئے اور ہمارا سفر، جو بمشکل دس منٹ پر مشتمل تھا شروع ہوا اور ٹھیک دس منٹ بعد بس سے اتر کر کارڈ سکین کر کے کرایہ ادا کیا اور ہاسٹل کا گیٹ پار کر کے اپنے گھر نما پیار بھرے ماحول کے احاطے میں قدم رکھ دیا۔ عادت سے مجبور اور ایرانی کلچر کے زیر اثر سب نظر آنے والوں کو سلام کر کے بالآخر اپنے کمرے اور اس کی تنہائی کو گلے لگایا اور اپنے محبوب کا خیال دل میں آتے ہی الماری کھولی، چائے کا سامان نکالا اور باورچی خانے کا رخ کیا۔ چائے بن گئی تو اپنے محبوب یعنی چائے کی پیالی تھامے گوشۂ عافیت؛ بالکنی میں آئے۔ اور چائے کی پہلی چسکی کے ساتھ سوچا آج جو رویہ اور سلوک اس قوم کا گدھے کے ساتھ دیکھا وہ قابل تعریف تھا۔ یہ بھی سوچا کہ یہ کیسی قوم ہے جو حیوان کے ساتھ بھی حیوان نہیں بنتی انسان ہی رہتی ہے۔ اور اس وقت میں نے سوچا کہ اگر یہ پاکستان ہوتا تو اس گدھے کو جو کہ لاعلمی میں شہر کی حدود میں داخل ہوا اور کسی کو نقصان تک نہ پہنچایا اگر یہی جانور پاکستان میں ہوتا تو پاکستانی عوام اس کو چابک سے ہانک ہانک کر اپنے ”اشرف المخلوقات“ ہونے کا ثبوت دے چکے ہوتے۔


