غور و فکر کی معدومیت


جس طرح زندگی کے ہر پہلو میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، اسی طرح ہمارا دنیا کو دیکھنے کا طریقہ کار اور نقطہ نظر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ انسان کی سماجی تاریخ اس تبدیلی اور جمود کی حالتوں کی جدلیات سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔ جس دور میں آج ہم رہ رہے ہیں اس کو انفارمیشن اور ڈیجیٹل کا دور کہا جاتا ہے۔ اس میں معلومات اور اشیا با آسانی میسر ہوتی ہیں اور نظر آتی ہیں۔ اس لئے آج کے دور میں کسی بھی چیز کے میسر ہونے کے لئے لمحہ موجود میں ہمہ وقت ہونا بھی ضروری ہوتا ہیں۔ اگر وہ مادی وجود رکھتا ہے مگر اوجھل ہے تو وجود نہیں رکھتا ہے۔ صارفیت کی تہذیب میں لمحہ موجود میں موجودگی ہی کسی بھی چیز کی افادیت اور مصرف کی ضامن ہوتی ہے۔ اس لمحہ موجود کو نظر نہ آنے والی الگورتھم کی ایک مشین برقرار رکھتی ہے۔

اسی طرح انفارمیشن اور میڈیا ٹیکنالوجی کے زیر اثر ہماری سوچ، علم کے ذرائع اور علمیات کی بنیادیں یکسر اتنی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں کہ دس سال پہلے کا علم آج متروک ہوجاتا ہے۔ یہ تغیر بنیادی طور پر علم کے ذرائع اور سرچشموں میں تبدیلی کی وجہ سے رونما ہوتی ہے۔ اس تیز رفتار معدومیت کو عالمگیریت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بڑھا دیا ہے۔ جدید دور کے آغاز میں انسانی سماجوں اور ریاستوں نے اپنے ہاں علوم کو ان بنیادوں پہ ڈھالنے کی کوشش کی جن کو پرنٹنگ پریس کے گنٹن برگ انقلاب نے فراہم کی تھیں۔ اسی لیے تعلیم اور علم کا سارا نظام اس کے اردگرد گھومتا تھا۔ امتحان میں شرکت کرنا، مقالہ لکھنا، مقالے کا سپروائزر، منطقی تسلسل، مرکزی خیال، نئی تھیوری، کریٹیکل سوچ، معلومات، ڈیٹا اور دعووں کا تقابل اور موازنہ کرنا، کیٹلاگ، یہ سب گٹن برگ انقلاب پر مبنی نظام علم اور علمیات کے مظاہر ہیں اسی لئے پرنٹنگ پریس کے نظام علمیات میں پہلے پڑھا جاتا تھا، پھر سوچا جاتا تھا اور اس کے بعد لکھا جاتا تھا۔ آخر میں ان سب کے نتیجے میں بندہ بولنے کے قابل بن جاتا تھا۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں گٹن برگ کا یہ علمیاتی کلیہ الٹا ہو گیا ہے۔ اب پہلے بولا جاتا ہے اس کے بعد اگر موقع ملا تو بولے ہوئے جملوں کو دھرا کے لکھا جاتا ہے۔ اور بہت ہی کم اس سطح سے اٹھ کر پڑھنے اور سوچنے کی طرف جاتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے ملک میں اب سوچ کے بغیر بولا اور لکھا جاتا ہے۔ اب ہمارے ہاں بغیر سوچ کے بولنے والوں کو آزادی ہے اور سوچ کر بولنے والوں پر پابندی۔ تبھی تو شام کی ٹی وی کی گپ شپ صبح اخبار یا کسی بلاگ میں چھپی نظر آتی ہے اور کچھ عرصے بعد ان میں سے کچھ چیزیں کتاب کی صورت میں نمودار ہوتی ہیں۔ اسی لئے تو پاکستان کے تجزیہ نگار اور کالم نگار ایک آدھ درجن جلدوں کے مصنف بن جاتے ہیں۔ ایک شخص جو ایسے ایکو سسٹم میں رہتا ہو جہاں پہ سوچنے کا وقت نہیں ہوتا کیونکہ ٹائم بولنے اور دکھانے کے لئے ہے، اس سے کسی ایک موضوع پر توجہ مرکوز کر کے کسی مقالے یا تصور کی توقع کرنا پتھر سے تیل نکالنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ توجہ لمحہ موجود سے نکال دیتا ہے اور چیزوں کو طویل نقطہ نظر اور وسیع تناظر میں دیکھنے کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔ مگر لمحہ موجود سے غیر حاضری آپ کو سافٹ ویئر کے صفحوں سے مٹا دینے کا موجب بن سکتی ہے۔ یوں توجہ موجود رہنے تک مرکوز رہتی ہے۔ گٹن برگ اور ڈیجیٹل دور میں ہماری توجہ کی صورتحال کو اس مثال سے سمجھئے۔ ایک کتاب کا صفحہ پڑھ کر پلٹنے میں آپ کو دس منٹ لگتے ہیں، جبکہ سکرول کرنے میں دو سکینڈ۔ یوں آج کے نوع بشر کی توجہ دو سیکنڈ کی رہ گئی ہے۔ جب توجہ چند سیکنڈوں تک محدود ہو گئی ہو تو کسی معاملے کی لامحدود علم و آگاہی کی توقع کرنا فضول ہے۔

اس جدید ڈیجیٹل دور میں چونکہ آپ کو بولنا ہوتا ہے یا دکھانا ہوتا ہے، اس لئے ہمارے اندر موجود دوسری چیزیں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔ مثلاً زیادہ بولنے کا مطلب کم سننا اور سوچنا ہے۔ بولتے سمے آپ لکھ نہیں سکتے۔ مرتکز توجہ یا فوکس سوچ میں غور و فکر آپ کا زیادہ تر وقت کھا جاتا ہے۔ تب جا کے سوچ کی بھول بھلیوں میں کہیں لکھنے کی کرن نظر آتی ہے۔ مرتکز سوچ کی مثال ہم مشہور آسٹرین فلسفی لوڈوگ ونگنسٹائن سے لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کیمبرج میں ان کا لیکچر کئی گھنٹوں تک محیط ہوتا تھا اور بعض اوقات تو وہ کلاس میں یہ کہہ کہ اپنی کرسی پہ دراز ہو کر سوچنے لگتا تھا کہ اس کے متعلق انھوں نے سوچا نہیں تو بات کیسے کر سکتا ہوں۔ بعض اوقات ونگنسٹائن کے لیکچر کے دوران بولنے میں خاموشی سے سوچنے کا دورانیہ آدھا گھنٹہ اور ایک گھنٹے تک محیط ہوتا تھا۔ ان کا مشہور قول ہے جہاں ہم بول نہیں سکتے اسے خاموشی کے حوالے کرنا چاہیے۔ خاموشی نے کتاب اور قاری ایجاد کی اور بولنے نے آج چیٹیراٹی (chatteratti) کلاس۔ جو سوچا نہیں گیا اسے بولا بھی نہیں جاسکتا۔

لوڈویگ وٹگنسٹائن جدید فلسفے کا وہ نابغہ ہے جس نے اپنی ساری زندگی 100 صفحوں پر مبنی ایک ہی کتاب ”منطقیانہ فلسفیانہ مقالہ“ چھاپی تھی۔ اس کا جرمن سے انگلش ترجمہTractus Logicus Philosophicus کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ کتاب انھوں نے اس وقت تحریر کی جب وہ پہلی جنگ عظیم کے دوران محاذ جنگ پہ آسٹرو ہنگرین فوج میں ایک چوکی پر سنتری کی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا۔ اس دوران وہ گولہ لگنے سے زخمی بھی ہوا۔ سنتری کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ دشمن پہ کڑی نگاہ رکھتا ہے اور ہمیشہ چوکنا رہتا ہے کیونکہ دیگر فوجیوں کو خطرے سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری اس کی ہوتی ہے۔ محاذ جنگ پہ انھوں نے فلسفیانہ نوٹ لکھنے شروع کیے جنھیں بعد میں انھوں نے ترتیب دے کر کتاب ٹریکٹیٹس کی صورت میں چھاپا۔ قرین قیاس یہ ہے کہ وٹگنسٹائن نے محاذ پر سنتری کی وجودی صورتحال کو اپنی فکری صورتحال پر منطبق کر کے ایک ایسی زبردست کتاب لکھی کہ اس نے فلسفے کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ وٹگنسٹائن نے تو یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ فلسفے کے اب تک جو مسائل تھے وہ سارے اس کتاب کے ذریعے حل کر دیے ہیں۔ اسی لئے وہ آسٹریا میں ویانا سکول یا منطقی ایجابیت کے حامی فلسفیوں اور سائنسدانوں کے مقبول ترین فلسفی بن گئے۔ وٹگنسٹائن نے منطقی ایجابیت سے بعد میں اپنے آپ کو اس لئے دور کر دیا کیونکہ وہ ہر چیز کو اپنے کلی کلیے میں محدود کرنا چاہتے تھے اور یوں راسخ العقیدگی میں مبتلا ہو گئے تھے۔

وٹگنسٹائن کا دماغ کتنا منطقی اور واضح طور پہ سوچتا تھا، اس پتلی کتاب کے مختصر جملوں اور ان کی ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے۔ آسان اور مختصر جملوں کے آپس میں ربط دکھانے کے لیے وہ جملوں کو نمبروں کے حفظ مراتب میں ترتیب دیتا ہے، اور آخر میں نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ اس نظام میں پہلے نمبر پر ایک بیان ہوتا ہے۔ پھر اس بیان کو بتانے کے لئے ایک آدھ جملہ ہوتا ہے۔ اگر اس سے بھی تصور واضح نہیں ہوتا ہے تو اس نمبر کے ماتحت ایک اور جملہ یا دو جملے ہوتے ہیں۔ یوں کچھ اور ضمنی نمبرات کے بعد آخر میں اس بیان کا منطقی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔ یوں اس سوچ کی منطقی ساخت کچھ اس طرح سے بن جاتی ہے۔

1.
1.11
1.12
1.13
1.2
1.21
2
2.01

اب اس منطقی تقسیم میں 1.11 میں جو بات جس ترتیب سے کہی جا رہی ہے، وہ اس سے قطعی طور پر مختلف ہوتی ہے جو 2.01 میں کہی جا رہی ہے۔ اس لئے اگر 2.13 میں اگر کوئی بات کہنی ہے تو آپ کو پہلے ان دونوں باتوں کے درمیان (نمبر 2.02 سے 2.12 تک) جو باتیں رہ جاتی ہیں ان کو مکمل کرنا لازمی ہے۔ اگر یہ نہیں کریں گے تو ہم بکواس کر رہے ہوں گے ۔ یہ ایسی منطق ہے جس میں فالو کریں گے تو بامعنی گفتگو کریں گے ورنہ خرابات بولنا شروع کر دینے کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ وٹگنسٹائن کا کمال ہے کہ انھوں نے ذہن میں وقوع پذیر ہونے والے فکری عمل کو ریاضیاتی منطق کے تحت سمجھایا۔ اس کو وہ حقائق کے ذہن میں تصویر کہتا ہے۔ ونگنسٹائن اس منطقی ترتیب کو بنانے کی وجہ یہ بتاتا ہے اس سے بامعنی گفتگو اور لایعنی بکواس میں تفریق کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں آج ہم نے بکواس اور بامعنی گفتگو میں تفریق ختم کر دی ہے۔ اسی لئے ہمارے پبلک ڈسکورس غیر معیاری اور واہیات ہو گیا ہے۔ آپ وٹگنسٹائن کے منطقی کلیے کو آزما کر دیکھیں، آپ کی منطقی طور پر سوچنے کی صلاحیت میں نکھار ضرور آ جائے گا اور اپنے خاموش رہنے سے پہلے دو بار ضرور سوچیں گے۔ جو خاموش رہنے سے پہلے سوچتا ہے وہ آرام سے بولنے سے پہلے سوچنے کا ہنر سیکھ لیتا ہے۔

وٹگنسٹائن کی کتاب ٹریکٹیٹس کا دیباچہ معروف انگریز فلسفی برٹرینڈ رسل نے تحریر کیا ہے۔ فلسفے کا یہ نابغہ یعنی وٹگنسٹائن اپنی تعیلم ہوا پیمائی کی انجینئرنگ میں برلن اور مانچسٹر کی یونیورسٹیوں سے حاصل کی تھی۔ مانچسٹر میں انجینئرنگ کے دوران خالص ریاضیات کی دلچسپی اسے فلسفے کی طرف لے گئی۔ وہ جرمن فلسفی فریج کے منطقی نظام سے بہت متاثر تھا۔ فریج کے کہنے پر وہ فلسفے کے مطالعے کے لئے کیمبرج چلا جاتا ہے، جہاں وہ برٹرینڈ رسل کی شاگردی میں فلسفہ پڑھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طالب علمی کے دوران وہ برٹرینڈ رسل کے پاس گیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ انھیں صاف صاف بتا دے کہ آیا ان میں فلسفہ پڑھنے کی قابلیت یا رمق ہے یا نہیں۔ اگر اس میں یہ صلاحیت نہیں ہے تو وہ کیمبرج میں اپنا اور رسل کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا ہے۔ رسل نے وٹگنسٹائن سے کوئی اپنا لکھا ہوا مضمون مانگا تاکہ وہ اس کی صلاحیت کا اندازہ لگا سکے۔ وٹگنسٹائن نے فوری طور پر ایک پیپر جمع کروا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ رسل نے اس مضمون کے متعلق لکھا کہ اس تحریر میں نابغہ کی ساری خصوصیات موجود ہیں۔ اس کے بعد وٹگنسٹائن نے سوچا بہت زیادہ لیکن لکھا بہت ہی کم، اور چھاپا تو بالکل ہی نہیں۔ وہ تو شکر ہے ان کے شاگردوں کا جنہوں نے ان کے لیکچروں کو ترتیب دے کر ان کی موت کے بعد کچھ کتابیں چھاپیں جن سے ہم اب بھی مستفید ہو رہے ہیں۔

مندرجہ بالا سطروں میں وٹگنسٹائن کی حیات اور فکر متعارف کروانے کا مقصد ان کو غلطی سے پاک فلسفے کا دیوتا ثابت کرنا نہیں، بلکہ عصر حاضر کے لئے کچھ سبق حاصل کرنا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل میڈیا کے بولنے اور نظر آنے کے دور میں وٹگنسٹائن سے جو سبق حاصل کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ لازمی نہیں کہ مقدار میں معیار ہو یا اس کے برعکس معیار میں مقدار ہو۔ ایسا ہی مشاہدہ حال ہی میں ڈاکٹر ناصر عباس نئیر نے مشہور لکھاری نوح حراری کی حالیہ شائع شدہ کتاب

”Nexus: A Brief History of Information from the Stone Age to AI“

پر تبصرہ اور حراری کی مقبولیت کا موازنہ بڑے مصنفوں کے ساتھ کیا ہے۔ وہ ایک گہری بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ”بڑے مصنف سراہے زیادہ، پڑھے کم جاتے ہیں۔ سمجھے تو اس سے بھی کم جاتے ہیں۔“ حراری ساری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی بے حد مقبول ہیں۔ ان کے پاس افکار کی دنیا کو سلیس زبان اور دلکش پیرائے میں بیان کرنے کا ملکہ حاصل ہے۔ اس لئے وہ نظریہ ساز کم اور مترشح زیادہ نظر آتے ہیں۔ یہ بھی ایک خوبی ہوتی ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں تقریباً مفقود ہو چکی ہے۔ حراری کو مترشح کہنے کا مقصد ان کتابوں کی اہمیت کو کم کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کی غایت یہ بتانا ہے کہ سوچ کتاب کی تخلیق کرتی ہے۔ بہت بولنا شور پیدا کرتا ہے۔ ویسے بھی سنجیدہ سوچنے والے گمنام ہی ہوتے ہیں۔ مگر وہ اس گمنامی کو اپنی سوچ کو مہمیز دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ بڑی سوچ جلوت میں تب نمودار ہوتی ہے جب وہ بڑی دیر تک خلوت کی کوکھ میں پلتی ہے۔

آج پاکستان میں پڑھے لکھوں سے پوچھا جائے کہ جارج گڈامر، تامس کوون اور ارنسٹ کسیرر کون ہیں تو بہت کم بتا پائیں گے۔ آپ کسی مشہور اینکر ٹی وی یا تجزیہ نگار کا پوچھیں سب کا نام بتائیں گے۔ یہ مثالیں جو چیز واضح کر رہی وہ یہ ہے کہ لکھے ہوئے لفظ کو اب ویڈیو کا میڈیم شکست دے رہا ہے۔ اگر آپ گلوکار ہیں تو اب آپ کو اپنی سند ثابت کرنے کے لئے اپنے استاد کے گھرانے کا صدیوں پرانا شجرہ نسب دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ بس ایک ”بدو بدی“ جیسا گانا گا لیں اور راتوں رات پچیس لاکھ فالورز بنا لیں یا وٹگنسٹائن کی طرح سالوں سوچنے کے بعد کچھ جملے بولنے کی بجائے آپ صرف یہ بتائیں کہ آپ کون ہیں اور یہ تمھارے دوست ہیں اور یہاں پارٹی ہو رہی ہے۔ پھر آپ پر چار چاند لگ کر سٹار بن جائیں گے۔

اوپر کی سطور میں سوچ و فکر کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے شاید آج غیر متعلقہ لگے یا گئے ہوئے وقت کا نوحہ ہو۔ اور یہ ہو بھی سکتا ہے کہ میری تربیت اس نظام علمیات میں ہوئی ہے جو گٹن برگ انقلاب کی پیداوار تھا۔ اس لئے رونا رو رہا ہوں۔ آج تو ڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے۔ اس میں کتاب و فکر کی بات کرنے والا ایسا ڈائنوسار لگے گا جس کی نوع بہت پہلے معدوم ہو چکی ہے۔ دوسری طرف آج انسانی دانش کی جگہ مصنوعی ذہانت زندگی کو ترتیب دے رہی ہے اور یوں انسان کی معدومیت کا سبب بن رہی ہے۔ آپ سب کو مصنوعی اور معدومیت کے دور میں خوش آمدید۔ اس دور میں اس کی بقا ہوگی جو سوچے گا نہیں مگر ساری مصنوعی کیفیات اور ایپس اپنے اوپر طاری کرے گا۔ آج کے دور کی یہ تبدیلیاں شاید مابعد الانسان کی ایک مخلوق کی تخلیق کا دیباچہ اور نشانیاں ہیں جس میں مصنوعی ذہن کے لئے کوئی نشانی نہیں ہے۔

Facebook Comments HS