ذہن میں اور کچھ آتا بھی نہیں

جمہوری نظام میں عوام کی رائے دہی کے بنیاد پہ ایک منتخب پارلیمان وجود میں آتا ہے۔ اس نظام میں طاقت کا سر چشمہ عوام ہی ہوتا ہے۔ انتخابی عمل میں عوام اسی سوچ کے تحت اپنے رائے دہی استعمال کرتے ہیں کہ جو کوئی بھی جیت جائے اور حکومت کا باگ ڈور سنبھال لی اس کی پالیسیوں کا محور عوام ہی ہو گا۔ اپوزیشن کا حکومت سے اختلاف بھی عوام کے لیے ہو گا۔ آئین ساز ایوانوں میں قانون سازی کا محور یہ ہو گا کہ کس طرح ریاستی باشندگان کو فوری سستا انصاف، تجارت کے لئے یکساں اور موافق حالات، بنیادی صحت اور تعلیم کے سہولتیں، اظہار رائے کی آزادی، آمدن و خرچ میں توازن، جان و مال کو تحفظ حاصل ہوں۔
ترقی یافتہ جمہوری معاشروں میں پارلیمان قانون سازی کی ذریعے اپنے اختیارات کو سرکاری نیم سرکاری نجی اور بلدیاتی اداروں کو تفویض کرتے ہیں۔ اداروں کے استعداد کار بڑھانے اور خدمات کے موثر فراہمی کرنے کے لیے پارلیمان اداروں کو جواب دہ بنا کر اس کی کڑے نگرانی کرتا ہے۔ اور پھر انتخابات میں عوام ووٹ کے ذریعے حکومت کا احتساب کرتے ہیں۔
ہم نے اپنا پہلا رائے دہی کا اظہار 2008 کے انتخابات میں جمہوری دعویٰ رکھنے والے جماعتوں کے حق میں اس امید پہ کیا کہ اب صبح نو کا سورج طلوع ہو گا اور بد نصیب قوم سے مشرف آمریت کے کالی گھٹائیں بہت جلد چھٹ جائیں گی۔ پی پی پی حکومت کے اوائل دو سال میں تو ملک بدترین دہشتگردی کا شکار رہا۔ 2010 میں پی پی پی دیگر بڑے جماعتوں خاص کر پی ایم ایل این کے تعاون سے اٹھارہویں ترمیم میں کامیاب ہوئی۔ جس کے رو سے صوبوں کے خودمختاری کا دیرینہ مطالبہ بھی پورا ہوا اور ساتھ ساتھ آمریت دور کے سارے شقوں کو نکال کر آئین کو اپنے اصل روح کے ساتھ بحال کیا۔
انیسویں آئینی ترمیم کے آڑ میں عدلیہ کا پارلیمان سے اختیار چھیننا، میمو گیٹ سکینڈل کے چھتری تلے آرمی چیف کا تین سالہ توسیع لیے نا اور چودھری کورٹ کا جوڈیشل ایکٹیویزم کے ذریعے حکومت پارلیمان انتظامیہ کا مفلوج بنانا یہاں تک کہ منتخب وزیراعظم کو بیک قلم جنبش فارغ کرنا یہ عوامل ہی تھے جس نے منتخب پارلیمان کو سرنگوں کر دیا۔ اسی طرح پی ایم ایل این کے پانچ سالہ دور کو ملٹری عدلیہ گٹھ جوڑ نے پی ٹی آئی کے مشہور زمانہ 2014 کا دھرنا، ڈان لیکس، پاناما پیپرز میں نواز شریف کو گھر بھیجنا، تحریک بلیک کا فیض آباد دھرنا، بلوچستان حکومت کا خاتمہ کچھ اس طرح عوامل کی ذریعے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا اور ساتھ ہی عمران رجیم کے صورت میں ہائبرڈ ماڈل جمہوریت کی بنیاد رکھ دیا۔ عمران اگر چہ بھرپور ملٹری مدد سے برسرِ اقتدار آئیں لیکن اس میں ہم عوام میں مقبولیت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔
سیاسی رہنما ہر وقت اس بات پہ نالا نظر آتے ہیں کہ ماضی میں ہم اس لیے ڈیلیور نہ کر سکے کہ ہر وقت ہمارے خلاف سازشوں کا ایک جال بچھا ہوا ہو تھا (خیر اس میں بھی سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف شامل ہوتے اور خود ایک معمولی پریشر کا تاب نہ لاتے ) اس کے علاوہ ہمارے پاس تو کوئی اختیار تھا ہی نہیں خارجہ پالیسی، معیشت، داخلی عوامل یہ سب تو ”طاقتوروں“ کے ہاتھوں میں تھا جو تھوڑا کچھ تھا وہ تو عدلیہ سلب کر گیا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ آج پاکستان جس حال میں ہے سارا قصور اوروں کا ہے سیاستدان تو بس دہی کھا کر بیٹھے رہیں۔
اگر سیاستدان اتنا ہی لا چار اور بے بس ہے تو ہر وقت عوام کے نام پہ سیاست کیوں کرتے ہیں کہ ہم تو سب کچھ بس عوام ہی کے لیے کرتے ہیں۔ اب تو سیاست نام ہی طاقت، اثر رسوخ اور پیسے کا حصول ہے ورنہ باجوہ ایکسٹینشن پہ سارے ایسی ہی کیوں لیٹ گئے کسی نے بھی یہ نکتہ نہیں اٹھایا کہ باجوہ کے موجود تین سالوں میں ملک و قوم کو کیا ملا کہ اب اس کے بغیر گلشن کے ویران ہونے کا خدشہ ہے اس میں بھی اپنا پنا الو سیدھا کر کے یہ کہا کہ موجودہ حالات میں ملک و قوم کے لئے یہ بہتر ہیں۔
ماضی کا سویلین سپرمیسی کا علمبردار نواز شریف اور آج کا عمران خان ایک ہی پیج پہ کھڑے ہیں کہ بس کسی طرح کرسی پہ برا جمان ہو جائیں عوام اور ملک جائیں باڑ میں۔ عوام بھی تھوڑا شعوری طور پر سوچے کہ ملک و قوم کے نام پہ کب تک لٹیرے پالتے رہے گیں۔ لیکن بجلی اور گیس کے بھاری بھرکم بلوں کو بھرے کیسے ذہین میں اس کے علاوہ کچھ اور آتا بھی نہیں۔

