حضور، ”بارود“ تھوڑا کم ڈالا کریں
سرکاری نوکری اور سیاست دو متضاد چیزوں کے نام ہیں، سرکاری ملازم کی مدت ملازمت ہوتی ہے جبکہ سیاستدان تا مرگ سیاستدان ہی رہتا ہے، سرکاری ملازم ایک محکمے میں رہتے ہوئے اپنے شعبے کا انچارج ہو یا پورے محکمے کا ، اس کی نفسیات اور تربیت کچھ اس طرح پروان چڑھ چکی ہوتی ہے کہ جب تک میں کرسی پر بیٹھا ہوں سب ٹھیک چلے نہ چلے مگر ٹھیک دکھنا چاہیے، پھر میں ریٹائر ہو جاؤں اور تمام سہولیات کے ساتھ گمنامی کی گہرائیوں میں کہیں کھو جاؤں، خواہ اس کی قیمت ادارے کو ہی کیوں نہ چکانی پڑے، میری بلا سے، بعد میں آنے والے جانیں اور ان کا کام، مستقبل کی پلاننگ اس کی سرشت میں ہی شامل نہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد تو جیسے اسے صرف ساحل کا کنارہ اور تا حد نگاہ سمندر ہی نظر آ رہا ہوتا ہے۔
دوسری طرف برے سے برا سیاستدان اپنے آپ کو گمنامی کی گہرائیوں سے بچانے کی حَتّی الوُسْع کوشش کرے گا، وہ کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ سمجھے گا، تمام تر ناکامیوں کے باوجود کچھ نہ کچھ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا کہ دوبارہ عوام میں جا سکے، کیونکہ وہ کم از کم اگلے پانچ سال کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے۔
سرکاری ملازم کے اندر ایک چھوٹا سا ڈکٹیٹر چھپا ہوتا ہے، جو اختیار اور عہدے میں اضافے کے ساتھ بڑا اور مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے، وہ اپنی کچن کیبنٹ بنا کر اپنے گرد ایک حصار قائم کر لیتا ہے، اپنے اختیارات اور ادارے کے وسائل چند لوگوں پر نچھاور کرنے کے ساتھ ہر اس شخص کو کھڈے لائن لگانے کی کوشش کرتا ہے جس سے اس کا یا اس کے قریبی لوگوں کا شخصی ٹکراؤ ہو، کیونکہ اس کی کچن کیبنٹ اس کے آنکھ، کان بن چکے ہوتے ہیں۔
دوسری طرف سیاست دان بھی کچن کیبنٹ بناتا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی پارٹی کے کسی چھوٹے سے چھوٹے رکن کو بھی کھونا چاہے، وہ پارٹی کی مین پاور میں اضافے کا ہمیشہ بھوکا رہتا ہے، دراصل اسی بھوک کا نام سیاست ہے، اسے کبھی نہ کبھی توازن قائم کرنا ہی پڑ جاتا ہے۔
سرکاری ملازم اگر سیاست کرے اور ملک کا سربراہ بن بیٹھے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ اس کا جواب پاکستان کی تاریخ میں جگہ جگہ منہ چڑا رہا ہے، پے در پے سیاسی اور معاشی ناکامیاں، ہر دور میں بین الاقوامی سطح پر جگ ہنسائی، مغرب سے مقابلہ تو دور کی بات لیکن ہر میدان میں اپنے خطے کے ترقی پذیر ممالک سے بھی کہیں پیچھے رہ جانا، ہر دور میں سیاست دانوں کی کردار کشی اور جمہوری نظام پر میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے کروڑوں پر مشتمل عوامی بھیڑ کے دلوں میں شک ڈال کر اسے مسائل کی جڑ قرار دینا، اسی کا نتیجہ ہے۔
پاکستان کی تاریخ تو خوفناک مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن اگر ہم حالیہ دو دہائیوں کا مطالعہ کریں تو سرکاری ملازموں کی کچن کیبنٹ نے ایک عجیب ہی کام ڈالا ہے، ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر کو راتوں رات نجات دہندہ اور صدیوں کے بعد حاصل ہونے والا خطے کا سب سے بڑا سیاسی رابن ہڈ قرار دے دیا، اور بیشتر میڈیا کو بزور ”زر و تلوار“ اس راگ کو الاپنے کا حکم دے ڈالا، بقیہ تمام سیاسی پارٹیاں اور لیڈر متروک قرار پائے۔
خیر یہ گیم تو تاریخ میں پہلے بھی ڈالی جا چکی ہے لیکن اس بار کے سرکاری ملازم کچھ زیادہ ہی ”کلرک“ ثابت ہوئے، جس گھوڑے پر انہوں نے اپنا سارا پیسہ اور وسائل جھونک دیے وہ بیچ راہ میں رک گیا، یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن یہ گھوڑا پہلے گھوڑوں سے بالکل مختلف تھا، وہ انہی پر حملہ آور ہو گیا، دولتیوں کے ساتھ اپنا گند انتہائی کامیابی سے اپنے سہولت کاروں کی جھولیوں میں بھر دیا۔
توازن تو ان لوگوں نے سیکھا ہی نہیں تھا، پروپیگنڈے کی لہر اس قدر شدید تھی کہ یہ خود اور ان کے خاندان بھی اس کا شکار ہو گئے، کیونکہ ان کے گھروں میں بھی مخصوص چینل ہی چلتے تھے، سچ نا یہ خود دیکھنا چاہتے تھے اور نہ ہی کسی کو دکھانا چاہتے تھے، بس ایک جستجو تھی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں، جہاں ہمیں کوئی دیکھ سکے نا سڑکوں پر پہچان سکے، کوئی ہم سے ہم کلام نہ ہو سکے، بیویوں بچوں سمیت گمنام ہو جائیں، بعد میں آنے والے جانیں اور ان کا کام۔
اب یہاں عوام کا کیا قصور؟ انہیں تو جو بتایا، سنایا اور دکھایا گیا، انہوں نے آنکھیں بند کر کے قبول کیا، بہت سے قلم کار نما سوشل میڈیا انفلوئنسرز جو ان کے محبوب بھی تھے اور بقول ان کے اندر کے لوگ بھی نے تو خود فائلیں دیکھیں، جناب فائلیں ایسے ہی تو نہیں دیکھی جاتیں، فائلیں دیکھنا کوئی آسان کام ہے؟ کشٹ اٹھانا پڑتا ہے صاحب، ذرا سی فائل ادھر ادھر ہو جائے تو جان بھی جا سکتی ہے۔
کچھ جو ملک سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے، مختلف ممالک میں بیٹھ کر اس لائن کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں جس کے بارے میں انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ یہی سچ ہے، بہت سوں کا تو روزگار بھی اس سے جڑ چکا ہے، انہی لوگوں کی بدولت بیرون ممالک رہنے والی عوام جنہوں نے صرف اور صرف الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے ہی سیاسی بصیرت حاصل کی کا ایمان اس پر مزید پختہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
موجودہ سیاسی حالات دیکھتے ہوئے مجھے ایک لطیفہ اکثر یاد آتا ہے، خودکش حملہ آوروں کو ٹریننگ دینے والے ایک مولوی کے خواب میں اس کا حال ہی میں مر چکا تربیت یافتہ خود کش حملہ آور آتا ہے اور درخواست کرتا ہے کہ مولوی صاحب جیکٹوں میں بارود تھوڑا کم بھرا کریں، دھماکہ اس قدر تھا کہ ہم تو جنت سے بھی کئی میل آگے نکل گئے ہیں۔
حضور، مانا کہ آپ کا کام بارود کا ہے، لیکن کچھ توازن قائم کر لیں، سرکاری بارود ہے، جہاں ضرورت نہیں وہاں نا بھرا کریں، کچھ اپنے بعد آنے والوں کے لیے بھی چھوڑ دیں، وہ بیچارے بھی گھر سے افسری انجوائے کرنے آتے ہیں، اب نتیجہ دیکھ لیں، عوام اور بالخصوص اوورسیز آپ کی بنائی اور دکھائی جنت سے بھی کہیں آگے نکل گئے ہیں۔


