لاہور کی فضا میں ایک بہادر ہندوستانی پائلٹ کی ہلاکت – پہلا حصہ
کہانی کے ہیرو سید نذیر احمد جیلانی (ائر کموڈور ریٹائرڈ) سے میرا غائبانہ تعلق 24 ستمبر 1988 کو اس وقت ہو گیا تھا، جب میں نے انجینئرنگ کرنے کے بعد ، پی اے ایف کیمپ بڈھ بیر میں بطور فلائنگ آفیسر رپورٹ کی اور جیلانی صاحب کے بیٹے سید مختار جیلانی میرے سینیئر بنے۔ یہ اور بات کہ میں اور پوری پاکستانی قوم بالخصوص تمام لاہوری، بزرگ جیلانی صاحب کے 1965 کی اُس سہ پہر سے مقروض ہیں، جس کا آگے جا کر تذکرہ ہو گا۔ یاد رہے کہ بڈھ بیر وہی بدنام زمانہ امریکی اڈہ ہے جہاں سے بقول ساری دنیا امریکی جاسوس ”یو 2“ طیارے اڑتے تھے
"ابا“ جیلانی سے میرا تعلق چند سال بعد اُس وقت مزید گہرا ہو گیا، جب میرے والد جو اُن دنوں یعنی جنگ 1965 کے دوران کسی سرکاری کام کے سلسلے میں جوہر آباد سے لاہور پہنچے ہوئے تھے۔ انہوں نے 1991 میں مجھے اپنا 1965 کی جنگ کا ایک آنکھوں دیکھا اور ناقابل فراموش واقعہ سنایا۔ کچھ سال بعد تحقیق کی تو پتہ چلا کہ والد محترم، ”ابا“ جیلانی کے کارنامے کے ہی راوی تھے، جس کا اس تحریر میں ذکر ہے۔

کچھ واقعات کا سچ مجھ پر آج تک ایک قرض کی طرح ہے۔ ان میں ایک واقعہ یہ بھی ہے جو مجھے انکل جیلانی سے دہائیوں پہلے سننے کو ملا۔ مگر میں ان کے ساتھ ہوئی نا انصافی پر ظاہر ہے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
واقعہ کے لگ بھگ 46 سال بعد ، مئی 2011 کی ایک تپتی سہ پہر تھی اور میں انکل جیلانی کے ساتھ ماضی میں ہوئی ”نا انصافی“ کے اہم کردار کے گھر پر موجود تھا۔ ملاقات سے واپسی پر جب میں نے گھر کی عمارت سے باہر نکلنے کے لئے صدر دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو پیچھے سے ایک چھڑی آئی اور میرے گلے میں اٹک گئی۔ اُسی طرح جیسے ڈرامہ ”خواجہ اینڈ سنز“ میں اداکار علی اعجاز (باپ) ، گاہے بگاہے اپنے بیٹے جواد جی ”اداکار اورنگ زیب“ کے گلے میں محبت سے چھڑی اٹکا کر ”خبیث“ کہہ کر اس کو روکتا تھا۔ میں بھی چھڑی کو گلے میں پا کر گھبرا گیا، مگر ساتھ ایک شفیق سی آواز آئی۔ خبیث نہیں بلکہ ”رک جاؤ“ ۔
80 سالہ بزرگ میزبان نے مجھے چھڑی سے پیچھے دھکیلا، اور اپنے نحیف و نزار ہاتھوں سے دروازہ کھول کر پہلے خود باہر نکلے اور کہا۔ ”آ جاؤ“ ۔مجھے معاملہ سمجھ نہ آیا، سو پوچھ لیا۔1965 کی جنگ میں ستارہ جرات حاصل کرنے والے، سابق ائر چیف انور شمیم نے بتایا کہ ہم لوگ قبائلی خانہ بدوش ہیں۔ ہماری روایت ہے کہ ہمارا مہمان جب خیمے میں داخل ہو رہا ہو تو اُس سے پہلے ہمیشہ ہم خیمے میں داخل ہوتے ہیں۔ مبادا خیمے کے اندر کوئی ہمارا دشمن موجود نہ ہو (جو مہمان کو نقصان پہنچادے ) ۔ اسی طرح ہمارے بزرگ خیمے سے نکلتے وقت بھی پہلے خود نکلتے تھے (تاکہ اگر دشمن گھات لگائے باہر موجود ہو تو ان کے مہمان کو کوئی گزند نہ پہنچے ) ۔ پورچ میں کھڑا میں ان کی بات سنتا رہا اور سلام کر کے رخصت ہو گیا۔
یادرہے، انور شمیم، جنگ ستمبر کے دوران سرگودھا اسٹیشن کے واحد فلائنگ ونگ کے افسر کمانڈنگ تھے۔ جن کے نیچے متعدد اسکواڈرن تھے۔ جن میں سے ایک اسکواڈرن کے سربراہ ایم ایم عالم اور دوسرے کے سرفراز رفیقی تھے۔ائر فورس کا ونگ کمانڈر آرمی کے لیفٹننٹ کرنل، اسکواڈرن لیڈر (میجر ) اور فلائٹ لیفٹننٹ (کپتان) کے مساوی ہوتا ہے۔ میں نے انور شمیم صاحب اور ان کی بیگم کے بارے میں مختلف باتیں سن رکھی تھیں۔ لیکن اس دن جو شخص میرے سامنے تھا وہ اپنے وقت کے طاقتور ترین ائر چیف سے بہت مختلف نظر آ رہا تھا۔ کسی تصنع یا بناوٹ کے بغیر۔
مجھے ان کی انگریزی خودنوشت، ”کٹنگ ایج“ ، کا اردو ترجمہ کرنے کا کہا گیا تھا، جس کے لئے میرے پاس وقت نہیں تھا۔ مگر میں اس بہانے ان سے ملنے کا موقع بھی گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ بہرحال اُس دن کی ملاقات اور خیمے کی کہانی نے میرا ارادہ بدل دیا۔ اور میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی کتاب کے ابتدائی چند صفحات، ”اپنے طریقے“ سے ترجمہ کر کے انہیں بھجوا دیے۔ اور بزرگ محترم نے بہت خوشی سے، چند دن بعد مجھے پھر بلوا لیا۔ بقول محترم وجاہت مسعود تمہاری ”کچھ“ تحریروں میں جادو ہوتا ہے جو پڑھنے والے پر سحر طاری کر دیتا ہے۔ اور یہی جادو اس دن بزرگ انور شمیم پر بھی چل چکا تھا۔

ستمبر کی 20 تاریخ تھی سال 1965 اور لاہور کی فضا، عمومی طور پر گرد آلود ہی نظر آ رہی تھی۔ کچھ مقامات پر بادل تھے اور کہیں بہت نیچے آسمان پر کچھ پرندے بھی اڑتے نظر آ جاتے تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 1965 کی جنگ لگ بھگ آخری سانسیں لے رہی تھی۔
لکھنؤ سے ہجرت کر کے آنے والے میرے والد ”سید اعظم علی جعفری“ ، بادشاہی مسجد سے نماز اور مقبرہ اقبال پر فاتحہ پڑھ کر منٹوپارک کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں اپنے ایک سِکھ دوست کبیر سنگھ سے گپ لگانے رک گئے۔ لکھنؤ کے لوگوں میں مذہبی رواداری کیسی تھی یہ میں نے اپنے والد میں دیکھی۔ مندر، مسجد، گردوارہ، چرچ، خانقاہ ہو یا امام بارگاہ : عبادت گاہ کوئی بھی ہو وہاں کے لوگوں کو اس بات کا کبھی احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ شخص ہم میں سے نہیں۔ کبیر سنگھ سے دوستی اس لئے بھی ہو گئی تھی کہ والد صاحب کے لاٹوش روڈ پر واقع گھر کے قریب موجود سنتوشی ماتا کے مندر کے پاس کبھی کبیر سنگھ کی محبوبہ رہتی تھی۔
نماز کے بعد اس دن بھی والد محترم نے یہی دعا مانگی تھی کہ پاکستان کی فوج، حملہ آور ہندوستانی فوج کو شکست دے کر ملک کی حفاظت کرے۔ کراچی میں موجود اپنے اہل خانہ سے ہزاروں میل دور، دعا کے ساتھ گاہے بگاہے ان کے دل میں بھی ہر پاکستانی کی طرح یہ خواہش بھی تھی کہ کاش کسی طرح وہ بھی اس جنگ کا حصہ بن سکیں۔ رنجیت سنگھ کی سمادھی کے باہرگپیں عروج پر تھیں کہ زن سے کوئی چیز سر پر سے گزری۔ جب تک یہ لوگ سنبھلتے کچھ فاصلے پر آسمان سے شیل برستے نظر آئے۔ لمحے بعد ایک بھیانک آواز کے ساتھ گولے برساتا ایک طیارہ ان کے سر پر سے گزرا۔
دوسرا اور پھر تیسرا۔ چوتھا طیارہ شاید اس سے بھی پہلے زن کر کے گزر چکا تھا۔ جسے وہ گن ہی نہ سکے تھے۔ ساتھ کھڑا کبیر سنگھ چیخا، ”بھاگو! حملہ ہو گیا ہے“ ۔ لکھنؤ کے بانکے جعفری صاحب کو اور تو کچھ نہ سوجھا جھٹ، تھوڑی دیر پہلے نماز کے لئے سر پر باندھا رومال پھر سے باندھا اور رنجیت سنگھ کی سمادھی میں گھس گئے اور لمحوں بعد وہ دونوں ایک بلند مقام پر پہنچ کر آسمان کا جائزہ لینے لگے۔

26 سالہ اکاؤنٹنٹ کو کچھ علم نہیں تھا کہ کون سا جہاز کس ملک کا ہے۔ اور فی الوقت کس کا پلڑا بھاری ہے۔ تھوڑا ہوش آیا تو اندازہ ہوا آدھا لاہور، آسمان پر ہونے والی اس جہازوں کی لڑائی ( یعنی ڈاگ فائٹ) کو دیکھنے کے لئے گھر اور ہر اونچی چھت پر شور مچاکر پاکستانی پائلٹوں کے حوصلے بڑھارہا تھا۔ بالکل بسنت کا سماں تھا۔ مگر آسمان پر کاغذ کی پتنگوں کی جگہ جیتی جاگتی انسانی زندگیوں کی ڈور کٹ رہی تھی۔

قبلے کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے ہوں تو سامنے 20 کلومیٹر دور واہگہ بارڈر تھا اور سیدھے ہاتھ پر اس سے دوگنے فاصلے پر شہر قصور اور ہندوستانی سرحد۔ جس سے محض چار کلومیٹر دور کھیم کرن کا گرم محاذ تھا۔ جو اُس وقت پاکستانی فوج کے قبضے میں تھا۔
اس سہ پہر در حقیقت سرگودھا سے فلائنگ ونگ کے سربراہ، ونگ کمانڈر انور شمیم نے تین مختلف پائلٹوں کے ساتھ فضائی پٹرولنگ کے مشن پر جانا تھا۔ دو مختلف اسکواڈرن نے ایف 86 سیبر طیاروں کا ایک ایک پیئر (جوڑا) فضائی پٹرولنگ پر متعین کیا تھا۔ جس نے نہ صرف سیالکوٹ سے لے کر قصور، بلکہ مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں موجود پاکستانی فوج کو ہندوستانی فضائیہ کی طرف سے کسی بھی حملے سے بچانا تھا۔ انور شمیم کا ساتھ دینے کے لئے ایم ایم عالم کے نمبر 11 گیارہ اسکواڈرن سے ’فلائٹ لیفٹننٹ جیلانی اور امان اللہ‘ جب کہ نمبر 5 پانچ اسکواڈرن سے ’فلائٹ لیفٹننٹ انوار الحق ملک‘ کسی بھی لمحے پرواز کے لئے تیار تھے۔ انور شمیم نے تجربے کے لحاظ سے جیلانی کو اپنا ڈپٹی مقرر کیا اور سب کو مشن کی اہمیت اور منصوبے سے آگاہ کیا۔ جیسے ہی یہ لوگ اپنے پیراشوٹ پہن کر اور ہیلمٹ لے کر ، زیر زمین رہائش (بنکر) سے باہر نکلے۔ انور شمیم نے دیکھا کہ ایک ایمبولینس، تین چار ٹرک اور آگ بجھانے والی گاڑیاں، رن وے کے اختتام کی طرف بھاگتی جا رہی ہیں۔ کسی بھی فضائی اسٹیشن پر تمام فلائنگ اور آگ یا ہنگامی صورت حال میں فلائنگ ونگ کا سربراہ ہی معاملات کو دیکھتا ہے۔ انور شمیم نے واکی ٹاکی سے ٹاور یعنی ائر ٹریفک کنٹرولر سے وجہ پوچھی تو پتہ چلا، فلائٹ لیفٹننٹ سید محمد احمد نے اپنے لگ بھگ تباہ طیارے کے ساتھ ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔ معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے انور شمیم نے باقی تینوں کو ان کے بغیر مشن پر جانے کو کہا۔
اسی اثناء میں ان کی نظر جی ایچ کیو سے تازہ تازہ واپس آئے ایک پائلٹ پر پڑی۔ جو کسی بھی اسکواڈرن کا حصہ نہیں تھا مگر فلائنگ ونگ سے منسلک تھا اور اب تک دفتری امور انجام دے رہا تھا۔ یہ صاحب پائلٹ کی وردی میں حسرت سے آتے جاتے دوسرے پائلٹس کو دیکھ رہے تھے۔ انور شمیم کو جانے کیا سوجھی اس کو پاس بلا کر پوچھا کہ تم نے ”فلائنگ کے لئے کرنسی“ حاصل کر لی ہے۔ (یعنی واپسی کے بعد کم از کم مشن پورے کر لیئے ہیں ) ۔ افسر نے اثبات میں سر ہلادیا۔ پوچھا اب تک کوئی مشن کیا ہے۔ کہا نہیں۔ پوچھا۔ کرو گے؟ اور اس افسر کی باچھیں کھل گئیں ( گویا لاٹری نکل آئی) ۔ یہ بلوچستان میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے اور اُس وقت کے آرمی چیف، جنرل موسیٰ کے داماد، ”اسکواڈرن لیڈر شربت علی چنگیزی“ تھے۔ چنگیزی کا یہ پہلا جنگی مشن تھا۔ اب تک انہوں نے کسی ”ہنٹر، نیٹ یا مسٹیئر“ کا سامنا نہیں کیا تھا۔
انور شمیم نے چنگیزی کو ان تینوں کے حوالے کیا اور خود تباہ شدہ طیارے اور سید محمد احمد کو دیکھنے چل پڑے۔ فلائٹ لیفٹننٹ سید محمد احمد کا شمار ان چار پائلٹس میں ہوتا ہے جنہوں نے دونوں جنگوں میں جنگی تمغے حاصل کیے ۔ اس کے علاوہ ونگ کمانڈر مڈل کوٹ نے دونوں جنگوں میں ستارہ جرات حاصل کیا تھا۔ یہ دونوں ہی 71 میں وطن پر قربان ہو گئے تھے۔ تیسرے، ائر چیف مارشل حکیم اللہ (وفات 2024 ) اور چوتھے ائر کموڈور محمد افضل چوہدری (وفات 2013 ) تھے۔

جیلانی نے اپنے سے سینیئر اسکواڈرن لیڈر کو ”ری۔ بریف“ کیا۔ اور یہ چاروں فضاء میں بلند ہو گئے۔ اب بظاہر ان سب میں بلحاظ نوکری چنگیزی سینیئر ترین تھے مگر جن کا جنگی تجربہ نا صرف سب سے کم بلکہ صفر تھا۔ دوسری طرف ایم ایم عالم کے ڈپٹی جیلانی نے، چند دن پہلے ہی، ہندوستان کے اندر گھس کر امرتسر سے بھی پرے ”ترن تارن“ پر ایک ”نیٹ“ طیارہ گرایا تھا۔
انوار الحق ملک (عرف بِلّا) کی داستان انتہائی سرد و گرم تھی۔ 7 ستمبر کو جب ہندوستانی فضائیہ نے سرگودھا پر جوابی حملہ کیا۔ انوار الحق ملک اپنے ایف 86 میں ہیلمٹ پہن کر ، دنیا سے بے خبر فضائی مشن پر جانے کے لئے جہاز کا انجن گرم کر کے پری فلائٹ چیکنگ کر رہے تھے۔ عین اسُی وقت ہندوستانی فضائیہ نے حملہ کر دیا۔ جہاز کے ڈیڑھ دو سو ڈیسی بیل والے چنگھاڑتے انجن کے شور میں چند قدم پر کھڑے ائرمین، ’سینیئر ٹیکنیشین راشد احمد‘ کے چیخنے کی آواز، انوار الحق کے کانوں میں کہاں سے پہنچتی۔ انتہائی مستعد راشد نے اپنی جان پر کھیلتے ہوئے ایک عجیب اور نامعقول حرکت کی۔
پاس پڑی سیڑھی لے کر کاک پٹ میں پھنسائی اور تیزی سے اوپر پہنچ گیا اور حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے انوار الحق کے یونیفارم کو مضبوطی سے پکڑ کر نیچے کھینچ لیا۔ انوار الحق نے غصے سے اسے گھورتے ہوئے بمشکل تمام خود کو گرنے سے بچایا۔ اسٹارٹ انجن کے ساتھ جہاز سے نیچے اترتے غصہ سے اس نے ابھی ہیلمٹ بھی نہیں اتارا تھا کہ راشد اسے لگ بھگ گھسیٹتے ہوئے جہاز سے مزید دور لے گیا۔ بمشکل چند سیکنڈ ہی گزرے ہوں گے کہ رن وے کی سائیڈ پر موجود امریکی ایف 86 طیارہ ہندوستانی حملہ آور کی شیلنگ کی زد میں آ کر تباہ ہو چکا تھا۔ اور انوار الحق کو اپنی قسمت پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ اسے یہ سب کسی انگریزی فلم کا منظر لگ رہا تھا۔
اس جہاز کا اُدھار، بِلّا، نے اسی شام کسی خون آشام بَلا کی طرح اتار دیا۔ جب پونے چار بجے، ’فرانسیسی ساختہ مسٹیئر‘ طیارے سرگودھا پر حملہ کرنے آئے تو فضاء میں پہلے سے انتطار کرتے ’انوار الحق‘ نے ایک ’ہندوستانی مسٹیئر‘ کو اس کے پائلٹ سمیت زمین پر دے مارا۔ اور اپنی اس کامیابی کو اپنے اسی ماتحت ’سینیئر ٹیکنیشین راشد احمد‘ کے نام کر دیا۔ یہ اپنے ماتحت مگر محسن کو ایک شاندار خراج تحسین تھا۔
چنگیزی کے ساتھ تیسرا پائلٹ امان اللہ بھی کسی سے کم نہیں تھا۔ اگرچہ اس کے کریڈٹ پر کسی شان دار ڈاگ فائٹ کا تجربہ نہیں تھا۔ مگر اس نے ڈاگ فائٹ سے زیادہ مشکل مشن انجام دیے تھے۔ ان میں گورداس پور میں ”اسلحے سے لدی ہندوستانی مال گاڑی“ سے لے کر ”امرتسر ریڈار“ اور مختلف مقامات پر زمینی فوج کی مدد کرتے ہوئے انڈین ٹینک اور آرٹلری کو تباہ کرنے کے خطرناک مشن شامل تھے۔ جس دوران پائلٹ کو نہ صرف تاک تاک کر دشمن پر نشانے لگانے ہوتے تھے بلکہ زمینی توپ خانے یعنی ’اک اک‘ اور فضائی پٹرولنگ کرنے والے دشمن کے جہازوں سے بھی نبٹنا ہوتا تھا۔ امان اللہ کی 6 ستمبر سے 20 ستمبر تک کی شان دار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ یقینی تھا کہ جنگ کے بعد اسے بھی ستارہ جرات ملے گا۔

یہ تھے وہ حالات جن میں شربت علی چنگیزی، اس سہ پہر، ”ان انتہائی پرانے چاولوں کے ساتھ“ فضاء میں بلند ہوئے۔
نوٹ : فضائیہ کی تمام تصاویر کا کریڈٹ فضائیہ کی مختلف تاریخی کتابیں۔ باقی ذاتی ذخیرہ



یار وردی مافیا کی وجہ سے اس قسم کی تحاریر اب بالکل بھی مزہ نہیں دیتیں چاہے جتنے بھی حقیقی کیوں نہ ہوں۔ جب تک ملک وردی گردی سے آزاد نہیں ہوجاتا تب تک ان لوگوں کے خلاف نفرت بڑھتی رہیگی۔
یہ تو صریحاً زیادتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے گزرے کل میں اپنی جان پر کھیل کر ہمارے آج کو یقینی بنایا ہم ان کو اس طرح نظر انداز کردیں۔ وہ تمام ہمارے محسن تھے اور ہیں۔ کیا ہم آج کسی کی زیادتی کی وجہ سے اپنے محسنوں کو بھول جائیں۔ یعنی ہم خود پر احسان فراموش کا لیبل چسپاں کرلیں۔
میں تصور کرتا ہوں کہ آپ مسلمان ہوں گے۔
اسلام کسی شخص کے جرم یا گناہ کے بدلے اس کے رشتے دار اور اعزا اقربا کو سزا دینی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
وہی جس کی بنیاد پر تھانوں یا ایجنسی کے لوگ کسی شخص کے رشتے داروں کو اٹھاکر سزا دینے لگتا ہے۔ ماضی میں بادشاہ ریاست کے مجرم کے پورے خاندانوں کو فنا کردیتے تھے۔ تو سوال یہ ہے کہ آپ کیا کررہے ہیں؟
اگر آپ کی دانست میں کوئی "وردی” پہنے شخص آپ یا آپ کے لوگوں پر زیادتی کررہا ہے تو آپ اس کے تمام پیٹی بھائیوں سے نفرت کریں گے ؟
چیچوں کی ملیاں میں ایک گاؤں میں ایک باوردی تھانیدار ہے جس نے زمیندار سے مل کر لوگوں کی زندگی جہنم بنادی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ نے اس کے خلاف کیا جہاد کیا۔ کیا اس بنیاد پر آپ کراچی اور کوئٹہ میں رہنے والے تمام تھانیداروں سے اس وقت تک نفرت کریں گے جب تک چیچوں کی ملیاں ٹھیک نہیں ہوجاتا۔
اور کیا اس بات میں کوئی وزن ہے کہ ضیا دور میں تمام مارشل لا کی ڈیوٹیاں خاکی فوج کے لوگ دیتے تھے۔ تو کیا اس دور کے فضائیہ یا نیوی کے لوگوں کو ضیا کے فیصلوں پر مطعون کیا جاسکتا ہے ؟
آج بھی وہی بات ہے بالفرض آپ سمجھتے ہیں کہ خاکی فوج کے لوگوں نے آپ کی زندگی اجیرن کردی ہے تو کیا اس کا فضائیہ یا نیوی کے اہل کاروں سے کوئی تعلق ہے۔
اور اگر محض ہر وردی پہننا والا آپ کی نفرت کا مستحق ہے تو ڈاکئے سے لے کر ٹرین کے ٹی ٹی اور گارڈ اور نیوی فضائیہ سب لوگوں سے نفرت کریں کیوں کہ یہ سب وردی پہنتے ہیں۔
کسی مسجد یا مدرسے کے مولوی نے اگر بچے یا بچیوں سے زیادتی کی تو کیا آپ طارق جمیل اور فضل الرحمن کو بھی اسی گناہ میں شریک تصور کریں گے کیوں کہ وہ بھی اس کے پیٹی بھائی ہی ہیں۔
اگر لمحہ موجود میں ہمارے مذہبی راہ نما گھٹیا مفاد پرست اور ظالم بن جاتے ہیں تو ہم مذہب کی ابتدا کرنے والے صحابہ اکرام رض اور انبیاء علیہ سلام سے نفرت کرنے نہیں لگے گیں ۔
احسان مند بنیں احسان فراموش نہیں۔
۔