نوجوانوں کے لئے مرضی کے کیریئر کے انتخاب اور اس سے متعلقہ تعلیم میں رکاوٹیں


کوئی بھی شخص کسی شعبے میں اس وقت تک مکمل دلچسپی، محنت اور اعتماد کے ساتھ کام نہیں کر سکتا جب تک وہ اس کی پسند کا نہ ہو۔ تحقیق کے مطابق پسند کا شعبہ نہ ہونا 40 فیصد تک محنت کرنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔ اپنی دلچسپی کے کیریئر کا انتخاب براہ راست ترقی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ کام میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ اپنے کام سے متعلقہ معلومات یا تعلیم کا نہ ہونا بھی ہے جو تحقیق اور ترقی کی شرح کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لہذا کیریئر کا انتخاب کسی بھی شخص کی زندگی کا اہم ترین مرحلہ ہوتا ہے جس پر اس کی آنے والی زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔ اور کسی بھی ملک کی مجموعی ترقی کا انحصار اس کے افراد کی کام میں دلچسپی اور انفرادی ترقی پر ہوتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کیریئر کے انتخاب میں نوجوان کس حد تک آزاد ہیں یا وہ کتنا جانتے ہیں کہ انہیں کس شعبے میں جانا چاہیے؟

میرے اندازے کے مطابق 90 فیصد والدین بچپن سے ہی اپنے بچوں کو یہ بتانا شروع کر دیتے ہیں کہ انہیں کیا بننا ہے۔ وہ ”ہمارا بچہ کیا بننا چاہتا ہے؟“ کی بجائے ”ہم بچے کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟“ پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اسی کے مطابق اس کو تعلیم دلواتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر وہ بچہ اگر اس شعبے میں دلچسپی نہیں رکھتا تو وہ اس میں بھی کامیاب نہیں ہوتا اور کسی دوسری چیز کے بارے میں بھی اسے علم نہیں ہوتا یا یوں کہیے کہ کم علم ہوتا ہے۔ مثلاً اًیک نوجوان جو ڈاکٹر نہیں بننا چاہتا مگر اس کے گھر والوں نے زبردستی اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا اور ایم بی بی ایس کے بعد انتظامی امور میں دلچسپی ہونے کی وجہ سے وہ سی ایس ایس کر کے کسی دوسرے شعبے میں چلا جاتا ہے تو وہ جتنی بھی محنت کرے اس شخص کا مقابلہ نہیں کر سکتا جو شوق سے اس شعبے کی تعلیم حاصل کر کے اس میں آیا ہے۔

یا پھر یوں ہوتا ہے کہ والدین بچوں کے سامنے چند محدود شعبے رکھتے ہیں اور انہیں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر لڑکیوں کے لئے ہوتا ہے جہاں ان کو بتایا جاتا ہے کہ یہ شعبہ ان کے لیے ٹھیک ہے اور یہ نہیں۔ مرضی کے کیریئر کے انتخاب اور اس سے متعلقہ تعلیم حاصل کرنے میں تیسری رکاوٹ معاشی طور پر مضبوط نہ ہونا اور علاقے میں تعلیمی سہولیات کا موجود نہ ہونا بھی ہے۔ مثلاً ایک نوجوان ریسورس منیجمنٹ کی ڈگری حاصل کرنا چاہتا ہے مگر اس کے علاقے میں یہ سہولت موجود نہیں اور کسی دوسرے شہر جا کر مہنگی یونیورسٹی سے یہ ڈگری لینے کے لیے اس کے پاس وسائل نہیں۔ لہذا مجبوراً وہ کسی دوسرے شعبے کا انتخاب کرتا ہے۔

چوتھی وجہ پاکستان کے نوجوان طبقے خاص طور پر میٹرک اور انٹرمیڈیٹ لیول کے بچے کو چند ایک کے علاوہ کیریئرز کے بارے میں معلومات ہی نہیں۔ پاکستان کی 50 فیصد مڈل کلاس کے 16 سے 20 سال کے نوجوان سے اگر کیرئیر کے بارے میں پوچھا جائے تو اس کے پاس بتانے کے لئے چند شعبے ہوں گے، ڈاکٹر، انجینئر فارماسسٹ، نرس، آرمی، پولیس، ائر فورس، وکیل، جج۔

اور اگر ان میں سے کچھ بھی نہ بن سکے تو پھر مجبوراً کوئی کاروبار کریں گے یا کوئی اور نوکری۔ اسے 18 سال کی عمر میں اگر فوٹو گرافی کا شوق ہے تو اسے یہ معلوم نہیں ہو گا کہ فوٹوگرافی ایک کیریئر ہے۔ یا اگر معلوم ہوا بھی تو سہولیات نہیں ہوں گی یا اجازت نہیں ملے گی۔ والدین کسی بھی نوجوان کو سائنس کی فیلڈ میں ڈگری لینے کے بعد نوکری نہ ملنے پر ڈھابے پر چائے پکوڑے بیچتا برداشت کر لیں گے لیکن اگر وہ پروفیشنل شیف بننا چاہتا ہے تو اس کی شاید اسے اجازت نہ ملے۔ کہنے کو 80 فیصد آبادی اینڈرائیڈ یوزر ہے مگر ایسی معلومات شاید ترجیح نہیں۔ نئے ٹرینڈ کے مطابق جدید ترین کیریئر (پاکستان میں ) صرف ٹک ٹاک اور یو ٹیوب پر ویڈیوز بنا کر ڈالنا اور پیسہ کمانا ہے۔

اس کے علاوہ ہمارے نوجوان کو نہ ریسرچ میں شوق ہے، نہ ٹیکنالوجی میں، نہ انتظامی امور میں اور نہ ہی سیاسی و سماجی مسائل میں۔ نتیجہ کے طور پر یا تو نا اہل لوگ ہر جگہ قابض ہیں یا پھر 10 پرسنٹ ایلیٹ کلاس جو کیریئر کونسلنگ اور پسند کے کیریئر کے انتخاب پر یقین رکھتے ہیں اور نوجوان کا رونا ہے کہ اسے روزگار نہیں ملتا۔

ایک وجہ کسی خاص شعبے میں کسی ایک جنس کا ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً آرمی میں مردوں کو زیادہ تناسب دیا جاتا ہے جو غلط نہیں ہے تو نرسنگ میں ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور چند ایک کے علاوہ کسی بھی گورنمنٹ کالج میں لڑکوں کو نرسنگ کی ڈگری نہیں دی جاتی۔ لیکن یہ اتنا اہم نہیں ہے۔

پسند کے کیریئر میں تعلیمی ادارے کیسے رکاوٹ بنتے ہیں؟

نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے مطابق کیریئر کے انتخاب میں سب سے اہم اور بڑی وجہ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری لیول کے تعلیمی ادارے ہیں۔ پاکستان میں گورنمنٹ سیکٹر میں سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری تعلیم کا رواج تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اور پرائیویٹ سیکٹر ہی یہ خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ مگر غور کیا جائے تو سکولوں اور کالجز میں آرٹس کی بنیادی تعلیم تقریباً ختم ہو چکی ہے اور آئی ٹی میں بھی بہت کم تعداد نظر آتی ہے اور ان پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ میٹرک تقریباً سائنس مضامین میں کروائی جاتی ہے اور جب انٹرمیڈیٹ کی باری آتی ہے تو کالجز کے پاس تین ہی آپشنز ہوتے ہیں :ایف ایس سی پری میڈیکل، ایف ایس سی پری انجینئرنگ اور آئی سی ایس!

اگر ایک کالج میں 2000 طلباء ہیں تو ان میں تقریباً 1700 پری میڈیکل کے ہوتے ہیں اور باقی 300 پری انجینئرنگ اور آئی سی ایس کے۔ یعنی وہ لوگ جو اگر آرٹس کے مضامین پڑھتے تو وہ میڈیا، سوشل ورکنگ اور سیاسی و سماجی شعبوں کی طرف جا سکتے تھے انہیں موقع ہی نہیں دیا گیا اور آئی ٹی میں جانے والے چند ایک کو سنجیدہ ہی نہیں لیا گیا۔

مڈل کلاس میں ڈاکٹر بننے کی خواہش بچے کے دماغ میں ڈالی جاتی ہے اور اس کے ارد گرد ہر طرح سے اسی کی ایڈورٹائزمنٹ کی جاتی ہے۔ یہ ایک الگ طویل بحث ہے۔ نتیجہ کے طور پر 100 فیصد میں سے تین فیصد اس میں کامیاب ہوتے ہیں اور باقیوں کے ذہن میں ہمیشہ یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ لہذا وہ بے دلی سے کسی سائنس سے متعلقہ شعبے کا انتخاب کرتے ہیں اور تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے نوکریوں کے انتظار میں بوڑھے ہو جاتے ہیں۔

یہ وہ اصل مافیا ہے جو تعلیم کے نام پر نوجوانوں کے دماغوں کو زنگ لگا رہا ہے۔

اس کے علاوہ میڈیا بھی اپنی ذمہ داری نہیں پوری کرتا۔ بجائے اس کے کہ نوجوانوں کو نئی دنیا میں ابھرنے والے نئے مواقع کے بارے میں آگاہی دی جائے اور تحقیقاتی سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے پروگرامز کروائے جائیں دن بھر کی خبروں میں سیاست دانوں کے سانس تک کی خبریں اور پرائم ٹائمز میں مرغے لڑانے کے علاوہ میڈیا کے پاس کوئی ویژن نہیں۔ ایڈورٹائزمنٹ کی بھی جائے تو وہی آرمی کی یا میڈیکل کی۔ پروڈکشن ہاؤسسز بھی زیادہ تر چونکہ ان چینلز مالکان کے ہی ہیں اور رائٹرز بھی ویسے تو ڈرامہ اور فلم انڈسٹری اس سے بھی چار ہاتھ آگے ہے۔ ان کے پاس سرے سے کوئی ویژن ہی نہیں اور کالج یا یونیورسٹی جانے کا مقصد صرف عشق لڑانا ہے۔ کیریئر کے طور پر پولیس کو ہمیشہ برا دکھانا، آرمی کو مسیحا، اور بزنس مین اور کہیں کہیں ڈاکٹر۔ اس کے علاوہ کسی شعبے کے بارے میں سرے سے جیسے معلومات ہی نہیں۔

تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو کیسے بتایا جائے یا احساس دلایا جائے کہ کیریئر کا سوچ سمجھ کر انتخاب کرنا ان کی اپنی اور ملک کی ترقی کے لئے کتنا اہم ہے؟

اس کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیریئر کونسلنگ کو پروموٹ کیا جائے۔ یہ صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ والدین کے لیے بھی ہو۔ ہر کالج میں ایک کونسلنگ سینٹر بنایا جائے اور داخلے سے پہلے بچے کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اسے گائیڈ کرنے کے بعد متعلقہ تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا جائے۔ ایسے سینٹرز یونیورسٹی لیول پر بھی قائم کیے جائیں اور والدین کو بھی قائل کیا جائے کہ ان کا بچہ کس شعبے میں کتنی قابلیت رکھتا ہے۔ ہر شعبے کی تعلیم کو سستا اور قابل رسائی بنایا جائے اور یونیورسٹیوں کی فیس کو ریگولیٹ کیا جائے۔ نمبرز کی بجائے گریڈنگ سسٹم لایا جائے۔

حکومتی سطح پر ایڈورٹائزمنٹ اور میڈیا ایجنسیز کے ذریعے نئے شعبے نوجوانوں میں متعارف کروائے جائیں اور ان سے متعلقہ تعلیم کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں۔ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون کہلاتا ہے اور ریاست کا کام صرف حقوق و فرائض نہیں کسی حد تک شہریوں کی اصلاح بھی ہوتا ہے۔

لہذا میڈیا کا کردار اس میں اہم ترین ہے۔ خبر صرف یہ نہیں کہ آج کس سیاستدان نے کیا بیان دیا بلکہ دنیا میں کیا ایجاد ہوئی؟ ، کس نے کس شعبے میں کیا کارنامہ انجام دیا؟ ، دنیا میں سماجی امور کیسے چل رہے ہیں؟ ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کہاں پہنچ چکی ہے؟ دنیا کے انٹیلی جنس سسٹم کہاں کھڑے ہیں؟ ، دنیا کا تعلیمی میدان کون سے نئے کیریئر متعارف کروا رہا ہے اور ہمارے نوجوانوں کے لیے اس میں کتنی گنجائش ہے؟ اور انہیں کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ شاید یہ بھی خبریں ہیں جو شاید پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں دی جاتی ہیں۔

اسی طرح نئے ڈرامہ اور فلم رائٹرز کو پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے جو ڈیجیٹل دنیا اور نئے معاشرے کی سوچ کو پروان چڑھائیں نہ کہ اٹھارہویں صدی کی عشقیہ داستانیں جو حقیقت میں کہیں نظر نہیں آتیں۔ میڈیا اور پروڈکشن ہاؤسسز کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ اس پر عمل کریں شاید اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو کچھ بہتر بنا سکیں۔

اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کی عمر کم کی جائے تا کہ نئی اور بہتر صلاحیتیں رکھنے والے لوگوں کو آگے آنے کا موقع ملے اور وہ بہتر پالیسیز بنا سکیں۔ ہر شعبے کے لیے متعلقہ تعلیم کو لازم قرار دیا جائے مثلاً سیاست کے لئے پولیٹیکل سائنس یا پبلک ایڈمنسٹریشن، صحافت کے لئے آئی ٹی کے ساتھ ساتھ ماس کمیونیکیشن یا جرنلزم کی ڈگری لازمی قرار دی جائے اسی طرح سیکیورٹی فورسز میں ڈیفینس سٹڈیز کو لازمی قرار دیا جائے۔ انتظامی امور مثلاً معدنیات کو ڈیل کرنا وغیرہ جیسے شعبوں کے لئے منیجمنٹ سائنسز وغیرہ۔

اسی طرح ایک نوکری سے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری نوکری کا قانون ختم کیا جائے۔ مراعات ختم کی جائیں تا کہ نوجوان چند زیادہ مراعات والے شعبوں کی طرف رجحان کم کریں۔ اور سب سے بڑھ کر اساتذہ کی ٹریننگ ایسے کی جائے کہ وہ حقیقی معمار بنیں نا کہ بزنس مین۔

قوم کی مجموعی ترقی کا انحصار افرادی ترقی پر اور افرادی ترقی کا انحصار دلچسپی، محنت اور جنون پر ہے جو صرف پسند کے کام میں ممکن ہے۔ لہذا آج کا نہیں آنے والے پاکستان کا سوچیں اور سب مل کر نئی نسل کو جدید دنیا کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں۔

Facebook Comments HS