آمریت میں منفی اور مثبت کردار ادا کرنے والی خواتین


پوری تاریخ میں خواتین نے اپنے وقت کے واقعات پر سب سے اہم اثر ڈالا ہے۔ ذرا سوچئے کہ اگر گریٹا تھنبرگ کے ماحولیاتی جہاد، پاکستان میں خواتین کی تعلیم کے لیے ملالہ کی عظیم جدوجہد کے یا ہیریئٹ ٹبمین کی غلاموں کی مدد کے بغیر عالمی منظر نامہ کیسا ہوتا اس جانب البتہ کم توجہ دی گئی ہے کہ خواتین نے اپنے ارد گرد کے واقعات اور سیاسی قیادت پر بالواسطہ کس قسم کا اثر ڈالا ہے۔ جمہوری جد و جہد میں خواتین کی شرکت کی تو بہت مثالیں موجود ہیں لیکن تاریخ میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ انہوں نے پنی اپوزیشن اور اثر و رسوخ کے ذریعے آمریت پر بھی بہت زیادہ اثر ڈالا ہے۔ بظاہر یہ خیال عجیب لگتا ہے کیونکہ قدیم زمانے سے آمریت مردوں کے غلبے والا کام سمجھا جاتا رہا ہے یعنی کبھی کوئی خاتون ڈکٹیٹر نہیں رہی تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ انفرادی طور پر اور ایک گروہ کے طور پر خواتین کا آمریت پر بہت زیادہ اثر رہا ہے۔

آئیے چند ایسے افراد کی مثال لیتے ہیں، جیانگ چنگ، ایوا براؤن، ’جنرل رانی‘ ، اور ایوا پیرون۔

جرمن ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر کا ان کی اہلیہ ایوا براؤن کے ساتھ تعلق نازی جرمنی میں سب سے زیادہ چھپائی گئی بات تھی۔ نازی پارٹی نے پوری پالیسیاں بنائی تھیں تاکہ اسے جرمن عوام سے خفیہ رکھا جا سکے تاکہ ہٹلر کی ایک اکیلے شخص کے طور پر کشش میں اضافہ ہو اور اسے ’صرف آریائی کاز کے لیے وقف‘ دکھایا جا سکے۔ مزید برآں، کچھ ذرائع کے مطابق، یہ بھی افواہیں ہیں کہ اعلی درجے کے نازیوں کی بیویاں اکثر ایوا براؤن کے ساتھ اپنی دوستی کو اپنے نازی شوہروں خاص طور پر ہٹلر کے اندرونی حلقوں میں رہنے والوں کے سفارش کے لئے استعمال کرتی تھیں۔ تقریباً 13 سال قبل گارڈین میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سامنے آنے والی ایک اور دلچسپ بات نے ثابت کیا کہ ایوا نازیوں کی کارروائیوں سے مکمل طور پر واقف تھیں اور وہ اتنی سادہ لوح نہیں تھیں جتنا مغربی مورخین اور تفتیش کاروں نے انہیں ثابت کیا تھا۔ بنیادی طور پر ایوا کا اس تاریک دور میں جرمن حکومت کے معاملات میں ایک اہم کردار، اثر و رسوخ اور اہمیت تھی۔

جیانگ چنگ کی کہانی یہ ہے کہ وہ چیئرمین ماؤ زے تنگ کی اہلیہ تھیں جنہوں نے انہیں عوامی جمہوریہ چین کی خاتون اول بنا دیا تھا۔ وہ ثقافتی انقلاب گروپ کی ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنے دور میں چار افراد کا ٹولا بنانے اور سیاسی مخالفین پر ظلم و ستم کرنے کے لئے بدنام تھیں۔ گینگ آف فور مادام چنگ سمیت تین دیگر چینی کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداروں کا ایک گروپ تھا جو گریٹ لیپ فارورڈ کے دوران نمایاں ہوا۔ مادام چنگ اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرنے کے لئے مشہور تھیں، خاص طور پر وزیر اعظم چو این لائی جن کے بارے میں ان کی ذاتی ناپسندیدگی تھی، یہ افواہ ہے کہ چو این لائی کی موت کے بعد، چنگ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کیے کہ مرحوم وزیر اعظم کے لئے کچھ زیادہ سوگ نہ منایا جائے۔ میڈم چنگ ان لوگوں کو نشانہ بنانے کے لئے بھی مشہور تھیں جنہوں نے انہیں چیلنج کیا تھا یا ان کے مختصر اداکاری کیریئر کے دوران ان کے لئے پریشانی پیدا کی تھی۔ میڈم چنگ کے اقدامات نے بنیادی طور پر چینی تاریخ کا رخ بدل دیا اور ان کے ہاتھوں پر سینکڑوں لوگوں کا خون ہے۔

اسی طرح ایوا پیرون ارجنٹائن جمہوریہ کی خاتون اول کی حیثیت سے اپنے کردار اور اثر و رسوخ کو سماجی کنٹرول کے پروگراموں کو فروغ دینے کے لئے استعمال کرنے کی ایک مثال ہیں لیکن جو چیز ان میں باقی مذکورہ امیدواروں کے ساتھ مشترک نہیں ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر، ارجنٹائن کے ڈکٹیٹر جوآن پیرون سے زیادہ مقبول تھیں۔

بدنام زمانہ جنرل رانی بھی اس کی ایک قابل ذکر مثال ہیں۔ اقلیم اختر عرف جنرل رانی جنرل یحییٰ خان کی ”دوست“ تھیں جو پاکستان کے دوسرے فوجی ڈکٹیٹر تھے۔ جنرل خان کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے وہ ایک زمانے میں پاکستان کی سب سے طاقتور خاتون سمجھی جاتی تھیں۔ مبینہ طور پر اس کا جسم فروشی کا کاروبار تھا اور وہ بیوروکریٹس اور امیر اور طاقتور مردوں کو لڑکیوں کی فراہمی کے لئے بدنام تھی۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی جنرل یحییٰ خان کی توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے جنرل رانی سے رابطہ کرنا پڑے گا۔

تاہم، عورتیں ہی ظالموں کی مخالفت کی بھی علامت رہی ہیں۔ ظالموں کی مخالفت کرنے والے بہادر انقلابیوں کی چند مثالوں میں شامل ہیں ؛ اقبال بانو جنہوں نے 1985 میں لاہور کے ایک اسٹیڈیم میں شاعر فیض احمد فیض کی لکھی ہوئی انقلابی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ پیش کی تھی جس کے دوران انہوں نے ضیاء کے نافذ کردہ قوانین کی علامتی مذمت کرتے ہوئے کالی ساڑھی پہن رکھی تھی۔ ضیا الحق کے دور میں ہی تحریک نسواں اور ویمن ایکشن فورم کی لازوال قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔ ایک اور قابل ذکر مثال وہ خواتین ہیں جنہوں نے 1785 میں مارسائی میں بادشاہ لوئس شانز دہم کے خلاف بغاوت کا ڈھول بجایا اور خواتین کے مارچ کی قیادت کی جس نے فرانسیسی انقلاب کو مہمیز کیا۔ جرمنی میں روزا لکسمبرگ اور ان کی کمیونسٹ تحریک اور ہمیں 1917 میں روس میں خواتین کے مارچ کو نہیں بھولنا چاہیے جس نے زار کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ کورازن اکینو اور ان کی تحریک جس نے ڈکٹیٹر فرڈینینڈ مارکوس اور پھر زپاٹسٹ عسکریت پسند رہنما کمانڈنٹ رمونا کا تختہ الٹ دیا اور ہم مجاہد آزادی لیلیٰ خالد کو کیسے بھول سکتے ہیں جو ایک بہادر فلسطینی انقلابی اور پی ایف ایل پی کی رکن تھیں۔

خواتین اور آمریت کے درمیان تعلقات بہت پیچیدہ رہے ہیں۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر فتحی مقدم اور ییل جیکسن انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل افیئرز کی سینئر لیکچرر آشا رنگپا کے مطابق یہ دلیل دی جاتی ہے کہ آمر خواتین کو خطرناک سمجھتے ہیں کیونکہ آمرانہ ذہنیت ایک ایسی درجہ بندی کو بحال کرنا چاہتی ہے جس میں مرد سماجی نظام سے اوپر بیٹھتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ آمریت سے آمریت تک مختلف ہوتا ہے۔ ہٹلر کا جرمنی اور اسٹالن کا سوویت یونین ایک اچھا موازنہ ہیں کیونکہ اسی دور میں ایک ملک میں خواتین پر ظلم کیا جاتا تھا اور دوسرے میں انہیں زیادہ آزادی حاصل تھی۔ جب ہٹلر نے نازی پارٹی کی پدرشاہی ذہنیت کی وجہ سے خواتین کو کام کی جگہ سے ہٹا دیا تھا اور انہیں ان کے گھروں تک محدود کر دیا تھا لیکن ’جنگ کو گھریلو محاذ پر لانے سے گریز‘ کے بہانے اسٹالن نے فوج، بحریہ، فضائیہ، مسلح گروہوں وغیرہ میں خواتین کی شمولیت کی نگرانی کی۔ خواتین فیکٹریوں کی مزدوری میں شامل ہو سکتی تھیں، جنگی طیارے اڑا سکتی تھیں، بحری جہازوں کی کمان کر سکتی تھیں اور یہاں تک کہ میدان میں پیدل دستوں کی قیادت بھی۔ لہٰذا، یہ سیاسی نظریے کا فرق تھا جس نے ایک ہی وقت میں موجود دو آمریتوں میں خواتین کی حیثیت کو تبدیل کر دیا۔

اب جبکہ ہم نے حزب اختلاف اور آمریت پر اثر انداز ہونے والوں کے طور پر خواتین کے کردار پر تبادلہ خیال کیا ہے، تو ہمیں یہ پیچیدہ سوال پوچھنا چاہیے کہ ان کے اثر و رسوخ کو تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کے میری رائے میں دو ممکنہ جوابات ہیں۔

پہلا اور سادہ سا جواب یہ ہے کہ ایک ڈکٹیٹر کی حیثیت سے ظالم حاکم عوام کی توجہ کا مرکز بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر، آرتھوڈوکس چرچ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لئے اسٹالن نے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لئے اسٹالن ازم کو تخلیق کیا اور اس طرح ہر اس شخص کو منظر عام سے ہٹا دیا جس کا اس کی طاقت سے کوئی تعلق تھا اور وہ توجہ کا مرکز بن گیا۔ لہٰذا جب ایک جابر توجہ کا مرکز ہوتا ہے تو یہ عورتوں کے اثر و رسوخ سمیت دوسروں کے اثرات کو غیر اہم بنا دیتا ہے۔

دوسرا، (شاید تھوڑا سا دور افتادہ) افسوسناک اور پیچیدہ جواب یہ ہے کہ جس دور میں ان میں سے زیادہ تر عورتیں آج کے دور کی طرح موجود تھیں، اس دور میں پدرشاہی معاشرے کا غلبہ تھا جہاں مرد سماجی نظام سے بالاتر تھے۔ لہٰذا، مثال کے طور پر ہم ان خواتین کے کردار کو کریڈٹ دے سکتے ہیں جنہوں نے فیکٹریوں میں ہتھیار اور گولہ بارود بنانے کے لیے کام کیا اور جنگ کے محاذ پر نرسوں کے طور پر خدمات انجام دیں، مگر بنیادی طور پر ہم اب بھی مرد جرنیلوں اور فوجیوں کو بنیادی طور پر پہلی جنگ عظیم اور ایک حد تک دوسری جنگ عظیم کی فتح کا سہرا باندھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک تجربے کے طور پر، میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ جب خلائی تحقیق کا ذکر کیا گیا تو وہ سب سے پہلے کس شخص کے بارے میں سوچتے تھے، اکثریت نے ویلنٹینا ٹیریسکووا کے بجائے نیل آرمسٹرانگ کو جواب دیا۔ جاسوسی کے بارے میں پوچھے جانے پر لوگ ماتا ہری کے بجائے جیمز بانڈ کا جواب دیتے ہیں۔

اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے سماجی بغاوت کرنے والے کارکنوں کی ایک نسل کی جد و جہد کے باوجود اب بھی بڑے پیمانے پر جنسی تفریق، نسل پرستی اور پدرشاہی موجود ہے جس کے نتیجے میں خواتین کی کامیابیاں یا ریکارڈ شدہ تاریخ کے دوران اچھے اور برے دونوں طرح کے کردار کو زیادہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔

تاہم، یہ آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ آج کا معاشرہ آہستہ آہستہ ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے، ہم نے گہری تحقیق شروع کر دی ہے اور آخر کار ان لوگوں کو کریڈٹ دینا شروع کر دیا ہے جو اس کے مستحق تھے اور پدر شاہی، نسل پرستی اور دیگر خوفناک معاشرتی مسائل کے سائے میں نظر انداز کر دیے گئے تھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اچھے یا برے سے قطع نظر خواتین کی خدمات کو نوٹ کیا جائے۔

مجھے بہت افسوس ہے کہ میری تحقیق کے باوجود مجھے آمریتوں یا آمرانہ دور میں کیے جانے والے اقدامات میں خواتین کے کردار کا کریڈٹ دینے والا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ملا حالانکہ آمریت کی جڑیں فرعونوں کے زمانے سے جڑی ہوئی ہیں جس کا مطلب ہے کہ اس کے بعد سے کسی نے اس کردار کے بارے میں کبھی نہیں سوچا اور مجھے یقین ہے کہ آمریت پر اثر انداز ہونے والی خواتین کی مزید مثالیں موجود ہیں جیسے مغل شہنشاہ جہانگیر کی بیوی نورجہاں، آٹھویں ہنری کی بیوی این بولین، قذافی حکومت میں جلاد ہدا، جوآن ہیرنگ اور افغانستان میں ضیاء حکومت کی کارروائیاں یا مشرقی جرمنی کے ڈکٹیٹر ایرک ہوئنکر کی اہلیہ مارگوٹ ہوئنکر جنہیں ان کے مخالفین نے جامنی چڑیل کا لقب دیا تھا اور وہ مشرقی برلن میں مفروروں کے پیچھے رہ جانے والوں کے بچوں کو الگ کرنے کے لیے بدنام تھیں۔

یہ افراد اپنے متعلقہ ممالک کی تاریخ میں مثبت اور منفی کردار کی وجہ سے ریکارڈ شدہ تاریخ میں قابل ذکر ہیں کیونکہ اس نے دنیا کی تاریخ کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شمالی کوریا میں تاریخ کی پہلی خاتون آمریت کا امکان موجود ہے۔ چیئرمین کم کے انتقال کی صورت میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگلی قطار میں ان کی بہن ہوں گی لیکن حال ہی میں کم کو ایک نوعمر لڑکی کے ساتھ دیکھا گیا ہے جسے بہت سے لوگ ان کی بیٹی سمجھتے ہیں لہذا کم جونگ ان کی وفات کی صورت میں تاریخ پہلی خاتون ڈکٹیٹر کی گواہ ہوگی کیونکہ یا تو کم کی بہن یا ان کی بیٹی ممکنہ طور پر ورکرز پارٹی کے جنرل سیکریٹری کے عہدے کی جانشین ہوگی۔

Facebook Comments HS

حسین قاضی

حسین قاضی نوجوان طالب علم ہیں۔ آپ مطالعہ تاریخ ، خصوصاً سرد جنگ کے واقعات سے شغف رکھتے ہیں اور اس دور سے متعلق یادگاری عجائبات جمع کرنے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ نو برس کی عمر میں پہلی کتاب "ٹائی ٹینک کی یاد میں" لکھ چکے ہیں اور آج کل اپنے تاریخی مطالعات مدون کر رہے ہیں ۔

hussain-qazi has 5 posts and counting.See all posts by hussain-qazi