ریفریشر کورس: تمت بالخیر


15، 16 مئی

آج کورس کا آخری سے پہلا دن تھا صبح اسمبلی کے بعد حاضری لگائی گئی۔ آج طریقِ کار کافی سخت تھا۔ پراکسی لگوانے کا کوئی چانس نہ تھا۔ ہماری پورے مہینے کے دوران دو غیر حاضریاں لگی ہوئی تھیں۔ جس کا ہمیں قطعاً افسوس نہ تھا۔ کیوں کہ دو دو غیر حاضریاں بہت ہی باقاعدگی سے کورس اٹینڈ کرنے والوں کی بھی لگی ہوئی تھیں۔ لوگوں نے شکور صاحب کی منت سماجت کر غیر حاضریوں کو حاضریوں میں تبدیل کیا۔ اس کے بعد ہم ریاضی کے پیریڈ میں شیخ صاحب کے پاس آ بیٹھے۔ آج پڑھنے کا قطعاً موڈ نہ تھا۔ اس لیے شیخ صاحب سے گپ شپ شروع کردی۔ شیخ صاحب نے بورڈ میں ہونے والی دھاندلیوں کی مفصل وضاحت کی۔ اس کے بعد ہم شکور صاحب کے ڈرانے دھمکانے کے باوجود عزیز صاحب کی مہیا کی ہوئی موٹر سائیکل پر شہر نکل گئے۔ وہاں مختلف جگہوں پر پھرتے پھراتے دوپہر بارہ بجے واپس پہنچے۔ کالج میں داخل ہوتے ہی افتخار صاحب کے ہتھے چڑھ گئے۔ اور انہوں نے کلاس میں لا بٹھایا۔

ہم آج پڑھنے کے قطعاً موڈ میں نہ تھے اور پھر وہ بھی بیالوجی۔ بہر حال وہ کچھ اوٹ پٹانگ سی شکلیں بناتے رہے اور ہم مکھی پہ مکھی مارنے کی ناکام کوشش کر نے لگے۔ کیوں کہ افتخار صاحب کے پیریڈ میں فارغ بیٹھنا تقریباً ناممکن تھا۔ بظاہر ساہ اور نرم خو سے نظر آنے والے پروفیسر حقیقتاً کلاس پر مکمل کنٹرول رکھتے تھے۔ آج شاید وہ بیالوجی ختم کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ تھیوری کے بعد انہوں نے مینڈک کا ڈائی سیکشن شروع کیا۔ ڈائی سیکشن ختم کرنے کے بعد وہ باہر نکل گئے۔ اور ہم سے کہہ گئے کہ اس کے تمام سسٹم کی ڈایا گرام بنا کر لیبل کرو۔ ہم نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ان کے پیچھے ہی کھسک لیے کمرے کے آگے سے گزرتے وقت انہوں نے دیکھ لیا اور آواز دی کہاں جا رہے ہو۔ ہم نے وہیں کھڑے کھڑے بہانہ گھڑ دیا کہ پانی پینے جا رہے ہیں فرمانے لگے تمہیں اتنی پیاس کیوں لگتی ہے۔ ادھر آؤ ہم ان کے پاس گئے تو کہنے لگے سچ سچ بتاؤ۔ تم نے آج تک کبھی بیالوجی کا کام کیا ہے۔ ہم خاموش رہے فرمانے لگے۔ تمہارے ذمے جو چارٹس لگائے گئے تھے وہ بنائے۔ ہم نے نفی میں سر ہلایا۔ اس پر انہوں نے ہمارے ہاتھ میں موجود فائل کھول کر اس پر بنی ہوئی اوٹ پٹانگ شکلیں دیکھیں اور کہا، کہ جاؤ۔ کلاس روم میں بیٹھ کر یہ شکلیں دوبارہ ٹھیک کر کے بناؤ اور اس کے بعد مجھے دکھا کر کہیں جاؤ۔ نا چار واپس کلاس روم میں آ بیٹھے اور انہیں شکلوں کو درست کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ غرض ڈیڑھ بجے جا کر کہیں جان چھوٹی۔ کھانا کھا کر ہم نے اعلان کیا کہ اب سب لوگ جتنا دل چاہیں سو لیں۔ رات کسی کو سونے نہ دیا جائے گا۔ کیوں کہ اس کالج میں یہ آخری رات ہے۔ اس لیے اس کو یاد گار طریقے سے جاگ کر گزارا جائے گا۔ شام کو سو کر اٹھے۔ ذوالفقار صاحب نے دست شناسی شروع کر دی ہمارے ہاتھ کا معائنہ کر کے ہمیں اعلیٰ ٰ تر صفات سے حامل انسان قرار دیا گیا۔ یہ راز بعد میں کھلا کہ موصوف نے سب لوگوں کے متعلق اسی سے ملتی جلتی ہی باتیں کی تھیں۔

آج رات کا کھانا بھی خاص اہتمام سے کھایا گیا۔ اپنے پیسوں سے نہیں بلکہ میاں منور حسین کی جیب سے جن کا صرف یہ قصور تھا کہ پچھلے سال ان کی شادی ہوئی اور اس سال بچہ۔ رات دس بجے کے قریب واپس پہنچے تو ایک صاحب کو بڑی تیزی سے کالج کے چکر لگاتے ہوئے دیکھا۔ وہ دس منٹ میں چوتھی بار آئے تھے۔ انہیں بلا کر دریافت کر نے پر معلوم ہوا کہ موصوف کا صبح ماڈل لیسن ہے اور رات ٹھہرنے کے خواہاں ہیں۔ ہم خود بھی مسافر تھے۔ چارپائیاں پوری سے بھی کم تھیں۔ اور ہم میں سے ایک کو پہلے ہی پرنسپل صاحب کے ریٹائرنگ روم میں سونا پڑتا تھا۔ بہر حال ہم نے انہیں تسلی دے کر بٹھایا۔ اور انہیں کہا کہ وہ نہا کر ہمارے کمرے میں جاکر آرام سے سو جائیں ہم خود کچھ ضرورت اور کچھ شغل کے پیش نظر ساتھ والے ہوسٹل میں چار پائی مانگنے نکل کھڑے ہوئے۔

وہاں سب سے پہلے ہمارا سامنا ایک مولانا سے ہوا۔ جو لوٹا ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔ ان سے پتہ کیا کہ کوئی طالب علم بورے والا یا آس پاس کا ہے۔ فرمانے لگے کہ اس وقت وہ ہوسٹل میں موجود نہیں ہیں وہ ترنت جواب دے کر باتھ روم میں اپنی تشریف لے گئے۔ اس کے بعد ایک اور کمرے میں داخل ہوئے وہاں بھی کچھ باریش حضرات سے پالا پڑا۔ رسمی تعارف کے بعد ان سے کام کی بات کی تو معلوم ہوا کہ ان تلوں میں بھی تیل نہیں۔ بہر حال باتوں باتوں میں جتنی مٹی پلید کر سکتے تھے کردی۔ ہم سوچ رہے تھے کہ یا تو ہوسٹل کی روایات ہی تبدیل ہو گئی ہیں یا ہمارا واسطہ ہی اس قسم کے لوگوں سے پڑا ہے۔ کیوں کہ ہوسٹل میں تو چارپائیوں اور بستروں کا بندوبست کرنا کچھ مشکل کام نہیں ہو تا تھا۔ بہر حال ہم کالج پہنچے تو معلوم ہوا کہ چار پائی وہاں پہنچ چکی ہے۔ یہ چار پائی ہمارے پاسٹ ساتھی ذوالفقار صاحب کی ہاتھ کی صفائی کے نتیجے میں ہاتھ آئی تھی۔ کیوں کہ بقول ان کے ہوسٹل کی چھت پر فارغ ہی پڑی ہوئی تھی میں اٹھا لایا۔ جب ہم نے کہا کہ یار یہ تو صریحاً چوری کا کیس ہے۔ کہنے لگے ضرورت کی چیز کو چوری کر لینا کچھ برا نہیں۔ ہم نے کون سا چوری کے خیال سے ایسا کیا ہے۔ کل کو واپس کر جائیں گے۔

ساڑھے گیارہ کا وقت ہو چکا تھا۔ اب رات کے لیے پروگرام ترتیب دینے لگے۔ مختلف تجاویز تھیں جن میں ایک تجاویز یہ بھی تھی کہ وی سی آر منگوا کر فلمیں دیکھی جائیں۔ منشا صاحب اور اقبال صاحب سے ان کی رائے معلوم کی گئی۔ کیونکہ دونوں عمر کے لحاظ سے باقی تمام افراد سے بزرگ تھے۔ انہوں نے بزرگوں کی سی باتیں شروع کر دیں کہ چھاپہ پڑ جائے گا یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا۔ ہم نے انہیں بڑی تسلی دی کی کچھ نہیں ہوتا۔ ویسے بھی اب تو وی سی آر پر فلم دیکھنا غیر قانونی بات نہیں رہی۔ لیکن وہ ماننے والے نہ تھے۔ بہر حال رات ایک بجے تک اسی مسئلے میں الجھے رہے۔ اب نیند بھی محسوس ہو رہی تھی۔ اس لیے سب باتیں چھوڑ کر کمرے میں آ کر لیٹ گئے۔

آج کورس کا آخری دن تھا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر واپس پہنچے تو تقریباً تمام ساتھی پہنچ چکے تھے۔ اور وہ آج کورس کی آخری بزم میں پڑھی جانے والی رپورٹ کے متعلق کچھ جاننے کے خواہشمند تھے۔ جو ہماری اور منشا صاحب کی تیا ر کی ہوئی تھی۔ میں نے انہیں یہ بتایا کہ رپورٹ میں ہم نے لکھا ہے کہ ایسے کورسز کا انعقاد ماسوائے وقت اور پیسے کے ضیاع کے اور کچھ نہیں۔ اگر کورس کروانا ہی مقصور ہو تو کورس کے آخر پر پڑھائے ہوئے سلیبس میں ٹیسٹ لیا جائے اور صرف پاس ہونے والے امیدواروں کو اسناد جاری کی جائیں اور اس کورس کی دو دن توسیع کر کے اس کام کو نپٹایا جائے۔ یہ بات سنتے ہی ہم پر ہر طرف سے سوالات، اعتراضات اور استفسارات کی بوچھاڑ ہو گئی۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ خود پورے ماہ میں صرف چار دن ہی حاضر نہیں ہوئے اور اب ماہر بن بیٹھے ہیں۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ یہ تو شیخ صاحب کی چمچہ گری کر رہا ہے۔ ہم اطمینان سے بیٹھے ہوئے اپنی بات کو دلائل کے زور پر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بہر حال اس سے یہ بات تو واضح ہو گئی تھی کہ امتحان سے ہر فرد ہی گھبراتا ہے۔ چاہے وہ شاگرد ہو یا استاد بہرحال ان کی تسلی کے لیے انہیں رپورٹ پڑھ کر سنائی گئی۔ جس میں اس قسم کی کوئی نا معقول تجویز نہ تھی۔ جس کو سن کر تمام افراد نے پاس کر دیا۔

دس بجے کے قریب اختتام کورس کی کارروائی شروع ہوئی۔ لاہور سے صفیہ صاحبہ تشریف لائی ہوئی تھیں۔ ان کے کمرے میں داخل ہونے پر سب افراد احتراماً کھڑے ہو گئے۔ لیکن ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے مولوی صاحب نے اسے خلاف اسلام سمجھا اور اس بات پر سیخ پا ہونے کی کوشش کی لیکن ہم نے اس کو کھڑا ہو کر بات نہ کرنے دی اور اس طرح بدمزگی سے بچ گئے۔ مختلف لوگوں نے رسمی تقاریر کیں۔ کورس کو انتہائی کامیاب اور فائدہ مند قرار دیا گیا۔ پرنسپل صاحب نے اسناد تقسیم کیں۔ تمام شرکائے کورس بمعہ ہمیں کامیاب قرار دیا گیا۔ اور ہم سوچ رہے تھے کہ ہم ہر بات کا تخمینہ اس کی بابت مہیا کردہ رپورٹوں سے ہی لگایا کرتے ہیں۔ کس قدر تضاد تھا کورس اور کورس سے متعلقہ رپورٹ میں۔ کورس بالکل فضول، ناکام اور بے فائدہ لیکن رپورٹ بالکل مکمل جامع فائدہ مند اور کامیاب کورس کی آخر میں گروپ فوٹو ہوا۔ اور اس طرح یہ ایک ماہ کا کورس بخیر و خوبی سر انجام پایا۔

Facebook Comments HS