اختر مینگل کا استعفا۔ کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا


جسدِ قومی کو لاحق مرض بھی معلوم ہے، تشخیص بھی بارہا کی جا چکی اور علاج بھی ناممکن نہیں، مگر ”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ بلوچستان لہو لہو ہے ایسے ماحول میں اختر مینگل کا استعفا کسی دھماکے سے کم نہیں۔ اختر مینگل سردار عطاء اللہ مینگل کے صاحب زادے ہیں جنہوں نے سردار ہونے کے باوجود جون 1972 ء میں بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خاتمے کی قرار داد پیش کی وہ اس وقت قائد ایوان اور صوبے کے وزیر اعلیٰ تھے۔ عطاء اللہ مینگل بلوچ تاریخ کے پہلے منتخب سردار تھے۔ اپنے مد مقابل کے 16 ووٹوں کے مقابلے میں انہوں نے 106 ووٹ لے کر سردار منتخب ہوئے تھے، لیکن انہوں نے وزیر اعلیٰ بن کر خود سرداری نظام کے خلاف قرارداد پیش کی۔ عطا ءاللہ مینگل نے 21 جون 1972 ء کو صوبائی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے کہا ہے کہ سرداری نظام ختم کرنے کے لئے آپ صرف قرار داد منظور کر سکتے ہیں لہٰذا میں یہ قرارداد پیش کر کے اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔

سردار عطاء اللہ مینگل نے اردو کو بھی صوبے کی دفتری زبان بنایا لیکن وہ صرف 9 ماہ حکمرانی کرسکے۔ 13 فروری 1973 ء کو ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ کچھ عرصہ کے بعد ان کا جوان بیٹا اسد اللہ مینگل غائب کر دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب ”افواہ اور حقیقت“ کے مطابق اسد اللہ مینگل کو قتل کر کے ٹھٹھہ میں دفن کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ عطاء اللہ مینگل کو بتائیں ان کا بیٹا افغانستان بھاگ گیا ہے۔ عطاء اللہ مینگل نے بیٹے کے دکھ کے باوجود پاکستان کے خلاف کوئی بات نہ کی۔ ان کا واحد احتجاج یہ تھا کہ انہوں نے لاہور کا بائیکاٹ کر دیا۔ وہ لاہور نہیں جاتے تھے۔ وہ وفاق کی سیاست کرنے کے لئے اختر مینگل کو آگے لائے۔

اختر مینگل 1977 ء میں وزیر اعلیٰ بنے لیکن صرف 16 ماہ کے بعد فارغ کر دیے گئے۔ مشرف دور میں اختر مینگل پر غداری کے مقدمات بنائے گئے اس کے باوجود وہ وفاق کی سیاست کرتے رہے۔ 2013 ء کے انتخابات کے بعد اختر مینگل نے عمران خان سے ایک تحریری معاہدہ کیا جس میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا وعدہ سرفہرست تھا۔ اس معاہدے کے تحت اختر مینگل نے اپنے چار ووٹ عمران خان کو دیے۔ عمران خان کوئی وعدہ پورا نہ کرسکے تو انہوں نے عمران خان کی حکومت کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مارچ 2022 ء میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپوزیشن قیادت سے ایک اجلاس میں اسے واپس لینے کا کہا تو خالد مگسی نے کہا کہ اگر سارے فیصلے آپ نے ہی کرنے ہیں تو بہتر ہے ملک میں مارشل لاء لگا دیں۔ اختر مینگل نے بھی اس اجلاس میں سخت لب و لہجہ اختیار کیا جس پر جنرل باجوہ کو دفاعی انداز اختیار کرنا پڑا۔ انہوں نے شہباز شریف کی حمایت کی۔

گزشتہ سال تک اختر مینگل کی جماعت شہباز شریف کی مخلوط حکومت میں شامل تھی۔ وزیر اعظم بننے کے بعد شہباز شریف بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہ کرسکے تو انہوں نے حال ہی میں اپیکس کمیٹی کے کوئٹہ کے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ یہ خطرے کی گھنٹی تھی لیکن حکومت توجہ نہ دے سکی۔ اب اختر مینگل نے قومی اسمبلی سے استعفا دے پارلیمانی سیاست اور ریاست پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔ اختر مینگل کے استعفے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا مجھے یہ کہنے میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ محض طاقت کے استعمال، محض مذاکرات یا پسندیدہ سیاسی کھلاڑیوں کے ذریعے حل نہیں ہو گا، ‏درد مندانہ اپیل ہے کہ حکمران اتحاد اور ریاستی ادارے سر جوڑ کر بلوچستان کا پائیدار حل تلاش کریں۔ یہ استعفا وفاق کے لئے نیک شگون نہیں۔ سردار اختر مینگل کا مستعفی ہوجانا غیر معمولی ہے۔ ان کے فیصلے پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر اور مکالمے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ شکوہ بجا ہے کہ بلوچستان کے مسئلہ پر پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جانا چاہیے تھا جسے غیر ضروری سمجھا گیا۔ حکمران اتحاد کو شاید احساس نہیں کہ اس سے کتنی بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ فیڈریشن کو طالع آزما جس طرف دھکیل رہے ہیں اس سمت گہری کھائیاں ہیں۔ ماضی پر نظر ڈال لیجیے، ہر صفحہ پر اقربا پروری، اختیارات سے تجاوز، دستور سے ماورا اقدامات، شوق ملکیت میں ہوئے قاتل تجربوں کے نتائج رقم ہیں جس کے باعث اب ہر طرف مایوسیوں کا راج ہے۔

بلوچستان کا سلگتا آتش فشاں پھٹ چکا ہے۔ وقت ریاست کی مٹھی سے ریت کی طرح پھسل رہا ہے۔ سردار اختر مینگل کا مستعفی ہونے کا اعلان بظاہر ریاست اور نظام سے مکمل مایوسی کا اٹھایا گیا قدم دکھائی دیتا ہے۔ سردا اختر مینگل لگ بھگ 20 برسوں سے شکایات کناں ہیں۔ بلوچستان کا مسئلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ اختر مینگل یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچ ارکان پارلیمنٹ سماج کے بدلتے ہوئے سیاسی و قومی منظرنامے میں غیر موثر ہوچکے ہیں اب ان کا اسمبلیوں میں بیٹھنا نہ بیٹھنا برابر ہے کیونکہ وقت اور بلوچ سماج دونوں کسی اور سمت دیکھ رہے ہیں۔

کاش:

کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

ملکی صورتِ حال بھی یہ ہے کہ پاکستانی نوجوان غیر مطمئن اور پریشان ہیں، پارلیمنٹ پر سوالیہ نشان ہے۔ اعلیٰ قومی اداروں پر عوامی اعتماد کا فقدان ہے، زرخیز ذہنوں کے حامل افراد کی امریکا اور یورپ کی جانب اڑان ہے۔ اس بات پر سب متفق ہیں کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ ترقی اس وقت ہوئی جب جنرل رحیم الدّین وہاں کے گورنر تھے۔ وہ ایک سخت گیر منتظم تھے، انھوں نے کرپشن نہیں ہونے دی اور یقینی بنایا کہ ترقیاتی فنڈز گراؤنڈ تک پہنچیں اور عام آدمی مستفیض ہو۔ بلوچستان کے اہل دانش حضرات بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بلوچستان کو سب سے زیادہ فنڈز مسلم لیگ کے پنجابی وزیراعظم کے دور میں فراہم ہوئے۔

نواز شریف نے اپنی پارٹی کو نظرانداز کر کے اختر مینگل کو وزیر اعلیٰ بنوایا۔ دوسری بار 2013 میں نواز شریف نے پھر قربانی دی اور اپنی پارٹی کے بجائے ایک قوم پرست لیڈر ڈاکٹر مالک کو وزیر اعلیٰ بنایا۔ جنھوں نے دو ڈھائی سال اچھا کام کیا۔ بلوچستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں پنجابیوں کے قتل کے محرکات مقامی کے بجائے عالمی ہیں، یہ دشمن ممالک کا منصوبہ ہے جس کے تحت وہ پاکستان کی مختلف کمیونیٹیز کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی دوسری وجہ گوادر کی بندرگاہ اور چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔ گوادر، بھارت، امریکا اور اسرائیل کے علاوہ ہمارے مسلم بھائیوں کو بھی کانٹے نہیں خنجر کی طرح چُبھتا ہے، اس لیے تمام ممالک یہاں غارتگری اور بدامنی پھیلانے کے لیے بے تحاشا پیسہ لگا رہے ہیں۔ مگر تشویشناک امر یہ ہے کہ امن و امان قائم رکھنے والی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ادارے غیر موثّر ثابت ہو رہے ہیں۔ اداروں کو ایک دن میں دس جگہوں پر کی جانے والی کارروائیوں کی بروقت خبر نہ ہو سکی اور دہشت گردوں کو موثر جواب بھی نہ دیا جا سکا۔ ملک کے وزیرِ داخلہ کا بیان کہ یہ ایک ایس ایچ او کی مار ہیں، انتہائی سطحی بات ہے، اگر ایسا ہے تو وہ ایس ایچ او کہاں ہے؟ بلوچ دانشور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بلوچستان کو فنڈز ملتے رہے ہیں مگر اس پیسے سے سرداروں، ممبرانِ اسمبلی اور سرکاری افسروں نے اپنی جیبیں بھریں۔ وہاں کے باخبر حلقے کہتے ہیں اگر فنڈز کا دس فیصد بھی لگ جاتا تو بلوچستان کے حالات مختلف ہوتے ”۔

سمجھدار اور تجربہ کار افسروں سے مشاورت کر کے ایماندار اور جرات مند افسر بلوچستان میں تعینات کیے جائیں۔

گوادر کے مقبول اور درویش صفت راہنما ہدایت الرحمن کو گرفتار کرنا اور ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں پیش کرنا سخت زیادتی ہے، یہ فیصلہ کم فہمی کا نتیجہ ہے اس وقت ملک اور بلوچستان کو گرداب سے نکالنے کے لیے انا کے خول سے نکل کر بلوچوں کی بات سننا ہوگی۔ اس ملک کے سنجیدہ فہم سیاسی کارکنوں، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، اور دوسرے اصحاب الرائے حضرات کو مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بلوچستان کے لئے آواز اٹھانا ہوگی۔ وقت بہت کم ہے اور اگر یہ ہاتھ سے نکل گیا تو پھر افسوس و ملال کا اظہار کرنے والوں کے لئے خودکشی کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ سعد رفیق نے درد مندی سے جو حل تجویز کیا ہے اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور عام بلوچوں تک رسائی کے جنرل رحیم الدین کا فارمولا اپنانا ہو گا۔ اب تک بلوچستان کا مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ اخلاص اور نیک نیّتی کا فقدان ہے۔ فیصلہ سازوں کو ذاتی اور گروہی مفاد سے بالا تر ہو کر فیصلے کرنے ہوں گے۔

Facebook Comments HS