افسانہ: ایمبولینس
آسمانی موسم کی شدت اپنی جگہ تھی جو صرف اور صرف لو برسا رہی تھی اور زمینی شدت تو اس سے کہیں زیادہ تھی جو انسانی خون کی پیاسی بنی پھر رہی تھی ملکی حکمران سیاست میں خونی ہولی کھیل رہے تھے سڑکوں پر ہر وقت ہڑتال اور گنڈا گردی کا سماں تھا کوئی کسی پارٹی کے شخص کو تشدد کا نشانہ بنا رہا تھا تو کوئی کسی پارٹی کے شخص کو تشدد کا نشانہ اور عوام سیاسی ہتھکنڈوں کو سمجھنے کی بجائے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو اپنے ہی ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار کر ان کی موت پر جشن منانے میں مصروف تھی۔
کاظمی صاحب گزشتہ چند دنوں سے اپنی بیماری سے لڑ رہے تھے۔ عمر لگ بھگ کوئی چالیس سے اوپر کی ہی ہو گی مگر غریبی ان کو ان کی عمر سے بیس پچیس سال اوپر کا دیکھا رہی تھی اور یہی ان کی زندگی کا آخری دن تھا۔ بیماری کی وجہ سے چارپائی پر چند دنوں سے پڑے تھے اور دوسروں کے محتاج بنے تھے۔ زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ رب کسی کو کسی کا محتاج نہ کرے۔ بہت ہی سیدھے سادے آدمی، شریفانہ صورت، رنگ طبیعت بھی اچھے خاصے معقول انسان نظر آتے تھے۔ اپنی خواہشات کو کبھی اپنی چادر سے بڑھنے نہ دیا۔ روکھی سوکھی جو کھائی حلال کی کھائی، حرام کی طرف تنگ دستی میں بھی ہاتھ نہ بڑھنے دیا۔ بیماری کی وجہ سے ہڈیوں کی مٹھ رہ تھے۔ رنگت ہلکی سانولی جو بیماری کی بدولت نظر آنے لگی تھی، قد درمیانہ، چہرے پر داڑھی کی مقدار شریعت کے مطابق جو چہرے پر بیماری کی حالت میں بھی نور سجائے تھی۔
کاظمی صاحب کے دروازے پر دستک ہوئی ان کا چھوٹا لڑکا دروازے پر گیا۔ تو معلوم پڑا محلے کے کچھ لوگ کاظمی صاحب کی تیمارداری کو آئے ہیں۔
میاں صاحب جو اس محلے میں اپنی کریانہ سٹور چلاتے ہیں بولے : چھوٹے کاظمی صاحب کی طبیعت کچھ سنبھلی؟ ”
تو کاظمی صاحب کا بیٹا کہنے لگا: نہیں میاں صاحب ذرا برابر فرق نہیں پڑا۔ ”
میاں صاحب اور باقی محلے داروں کو کاظمی کا لڑکا اپنے والد کے کمرے میں لے گیا۔ جہاں کاظمی صاحب بیماری کے بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ کمرہ چھوٹا تھا تو کچھ کرسیوں پر بیٹھ گئے اور کچھ کھڑے ہو گئے۔
حاجی صاحب بولے : ”کاظمی بھائی دیکھے کون کون آیا ہے آپ سے ملنے کو؟“
کاظمی صاحب آنکھیں کھول دیکھنے لگے سب احباب باری باری کاظمی سے مل کر ایک جگہ ہو گئے اور آپس میں باتیں کرنے لگے جو مُٹھ بھیڑ ہو کر یوں کمرے میں اور کاظمی صاحب کے کانوں سے ہوتی ہوئی سارے بدن میں گھومنے لگی۔
لوگوں کی مایوس کن باتیں سن کر کاظمی صاحب کی طبیعت اور بگڑنے لگی۔ باپ کی بگڑتی حالت دیکھتے اور بڑوں کی باتیں سنتے بچے پریشانی میں باپ کی طرف لپکے۔ اتنے میں کاظمی کا بڑا لڑکا مسعود بھاگتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔ چھوٹی ٹی وی لگا، سنا ہے رستے کھل رہے ہیں۔ ہم ابا کو سرکاری ہسپتال لے جاتے ہیں۔ وہ ٹھیک ہو جائیں گئے۔ یہ سنتے ہی چھوٹی لڑکی نے ٹیلی ویژن لگایا۔
اسلام علیکم! میں آپ کی اپنی اسماء چودھری ایک نئی بریکنگ نیوز سے آپ کو آگاہ کرتی چلوں۔ سیاسی جماعتوں نے مل بیٹھنے پر اتفاق کیا ہے اور اپنی اپنی پارٹی کے کارکنوں کو احتجاج روکنے اور سڑکوں کو کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ جی یہ اہم خبر سے آپ کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔
میاں صاحب بولے : ”اوہ کیبل گئی۔“
حاجی صاحب بولے : ”کوئی نہیں بچوں ہم ایمبولینس بلواتے ہیں آپ اپنے ابا کو لے کر سرکاری ہسپتال جاؤ ہمیں آگاہ کر دینا۔ پھر ہمارا نمبر ہے نہ مسعود؟“
مسعود نے کہا: ”جی انکل آپ کا نمبر ہے۔“
حاجی صاحب بولے : ”چلو ہم ایمبولینس بلواتے ہیں۔“
کاظمی صاحب کا چھوٹا لڑکا بولا: ”انکل میں نے فون کر دیا ہے ایمبولینس آنے والی ہے۔ ابا کو بٹھا کر ہم میو ہسپتال ایمرجنسی میں لے چلتے ہیں۔“
اتنے میں ایمبولینس اپنا ہارن دیتی ہمما اا اا اا اہمما اا اا اا اا آن پہنچی اور ادھر سیاسی پارٹیاں جو ڈیل ڈن نا ہونے پر آگ بگولا ہوئی تھی۔ اپنے کارکنان سے پھر سے مظاہرے اور دھرنے دینے اور سڑکوں کو بند کرنے کا حکم دے رہی تھی۔ ایمبولینس تو آن پہنچی تھی اور کیبل نہ ہونے کے باعث کاظمی صاحب کے بچے اس خبر سے محروم تھے۔ محلے داروں نے کاظمی صاحب کو اسٹریچر پر لٹا کر ایمبولینس تک لے جایا گیا اور ایمبولینس اپنے ہارن کی بدولت ایک ہی بات کہتی آگے بڑھ رہی تھی ’میں زندہ لاش ہوں مجھے رستہ دو‘ ۔ چند لمحوں میں ایمبولینس محلے سے دور مین سڑکوں پر آ پہنچی۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے سڑکوں پر رش ہونا شروع ہو گیا۔ ٹریفک جام ہونی شروع ہوئی، ادھر بچوں کے دل اپنے باپ اور ایمبولینس کی کم رفتاری کے ساتھ ساتھ تیز دھڑکنے شروع ہو گئے۔
کاظمی کی بیٹی بولی: ایمبولینس جلدی چلائیے انکل آہستہ کیوں کر دی آپ نے۔
ڈرائیور بولا: باجی آگے رستہ بند ہو رہا ہے اور ٹریفک جام ہو گئی ہے۔
بچی گھبرا گئی بولی: مسعود بھائی اب ہم ابو کو ہسپتال کیسے لے کر جائیں گئے؟
ادھر ایمبولینس میں طبی امداد کاظمی صاحب کو دی جا رہی تھی۔ ان کی سانسیں کبھی اوپر تو کبھی نیچے کو ہو رہی تھیں۔
مسعود نے ابا کی طبیعت کو دیکھ کر ڈرائیور سے کہا: کہ آپ کسی اور رستے سے ہسپتال تک پہنچا دیں یہ ایمبولینس ہے لوگ اس کو تو رستہ دے ہی دیں گے۔ آپ آگے ہو کر بات تو کریں کہ مریض کی حالت سیریس ہے۔ ہمیں ہسپتال تک جانے دیں۔ ڈرائیور داتا دربار کی سڑک پہنچا مگر وہاں رستے کو پتھروں کی بڑی بڑی سلوں اور لوہے کے بڑے کنٹینرز سے بند کیا تھا۔
ایمبولینس دیکھ پولیس کا ایک سپاہی ڈرائیور کے پاس آیا اور کہا کہ یہاں سے گاڑی واپس لے جائے آگے کوئی رستہ نہیں جانے کا۔
ڈرائیور بولا: سرکار یہ ایمبولینس ہے مریض سخت بیماری کی حالت میں ہے۔ اگر اس کو ہسپتال تک نہ پہنچایا تو دم توڑ دے گا۔
پولیس والا بولا: تجھے اثر نہیں ہوتا؟ بولا ہے کہ گاڑی آگے نہیں جائے اوپر سے آرڈر آیا ہے گاڑی آگے نہیں جا سکتی۔
مسعود یہ سب دیکھ آنسو اپنے ہی اندر اتارتا ہوا بولا: ڈرائیور صاحب آپ کسی اور رستے سے لے جائیں یہاں بھی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ ابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ہسپتال پہنچنا ضروری ہے۔
ڈرائیور ایمبولینس کا رخ دوسری طرف کر اپنا ہارن بجاتے ’میں اندر لاش ہوں مجھے رستہ دو‘ کا نعرہ بلند کرتے آگے بڑھتی دہلی دروازے کو ہو لیے۔ مگر قسمت کو شاید آج کاظمی صاحب کو سڑکوں پر ہی گھمانا تھا۔ یہاں بھی رستہ بند ملا سڑک بلاک کر رکھی تھی اور کارکن سڑکوں پر ٹائروں کو نظر آتش کیے شور غول مچا رہے تھے جیسے یہ کوئی اپنا ملک نہیں بلکہ برصغیر پاک و ہند کے وقت ہندؤ مسلم فسادات جاری ہوں کہ مسلم ہندوؤں کو اور ہندؤ مسلمانوں کو صفا ہستی سے ہی مٹا کر دم لیں گئے، کا پس منظر پیش کر رہا تھا۔
کاظمی صاحب جو اب بس اپنی سانسوں کی گنتی میں ہی تھے آنکھوں میں آنسوں لیے یہ سوچ رہے تھے کہ کیا ہم اسی ملک کے آزاد شہری ہیں یہ پھر یہ ملک ہم سے ہماری سانسیں بھی چھین لینا چاہتا ہے۔ کیا یہ وہی قائد کا ملک ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا جن کو ہم اپنے ووٹ دیتے ہیں وہی اس ملک کو کھوکھلا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مسعود ابا کو حالت دیکھ تسلی کے یہی الفاظ بول سکا بس ہم پہنچنے والے ہیں۔ کاظمی صاحب کے کانوں میں اپنے بیٹے کی آواز پڑی تو بچوں کی طرف ایک ایک نظر ڈالی کہ میرے بعد ان کا کیا ہو گا اور اتنا ہی بول سکے اب یہ ایمبولینس ہسپتال نہیں جا جا جا جات جاتی۔

