الوداع چترال اور اہل چترال – حصہ دوئم
دوپہر کا کھانا کھا کر ہم لوگ پامیر ہوٹل گئے جہاں سے بمبوریت کے لیے روانگی ہوئی۔ گاڑی کا ڈرائیور مقامی تھا۔ جس نے آیون گاڑی روک کر ہمیں وہ راستہ دکھایا جو فاریسٹ والوں نے بمبوریت تک کھرہ کے جنگل سے پہاڑوں کے گردا گرد کاٹ کر بنایا تھا۔ یہ راستہ دشوار گزاری اور خوبصورتی دونوں لحاظ سے بے مثال تھا۔ پتہ نہیں اسے کیوں بند کر دیا گیا۔
بمبوریت میں سچی بات ہے ویرانی کی دھول اُڑتی تھی۔ سارے میں اُداسی اور بے کیفی کی فضا تنی ہوئی تھی۔
کراکال میں جرمن حکومت کے تعاون سے ایک بڑا ٹیکنیکل کالج بن رہا تھا۔ کراکال کی بشالینی بھی گریک منسٹری آف فارن افسران کے تعاون سے بنی ہوئی تھی۔
یہ وہی بشالینی تھی جہاں تاکا جھانکی ممنوع تھی۔ اور اب ہم نے اس کے ایک ایک کمرے کو دیکھا تھا۔ میٹرنٹی ہوم کو جدید سامان سے آراستہ دیکھ کر باغ باغ ہوئے۔ فائیو سٹار ہوٹلوں جیسے باتھ روموں کو استعمال کر کے خوشی ہوئی۔ کالاشیوں کی مادی ترقی کے ساتھ ساتھ ذہنی ترقی یقیناً قابل رشک تھی۔
مسز زہرہ ممتاز بمبوریت دیکھ کر بہت مایوس ہوئیں۔ میں نے کہنا ضروری سمجھا تھا ”دراصل آف سیزن ہے۔ خزاں کی آمد ہے وگرنہ وادی کی خوبصورتی میں کوئی شبہ نہیں۔ “
جب واپسی میں چترال داخل ہوئے تو پولو گراؤنڈ میں اُتر گئے کہ وہاں ہجوم عاشقاں تھا۔ تیز ساز والی موسیقی کی تانیں تھیں۔ پلے ہوئے خوبصورت گھوڑوں پر بیٹھے رعنا جوان برق کی مانند انہیں بھگائے پھرتے تھے۔ دھرتی ملیریا کے مریض کی طرح کانپتی تھی۔ پولو کا میچ عروج پر تھا۔ کسی ٹیم کا گول ہوا لوگوں کے نعروں کے شور اور بینڈ کی چیختی چنگھاڑتی موسیقی نے کانوں کے پردے پھاڑنے والا کام کیا تھا۔
ہماری بمبوریت والی بوریت کہیں بھاگ گئی تھی۔ اس سنسنی خیز اور خون کو کھولانے والے کھیل سے ہم نے لمحہ بہ لمحہ مسرت کشید کی اور اپنے آپ کو مسرور کیا۔
جب یہ سارا کھیل تماشا ختم ہوا۔ سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔ چترال کی شام خنکی میں ڈوب کر لطیف ہو گئی تھی۔ ایک دوسرے کو خدا حافظ کہتے ہوئے ہم جدا ہوئے۔
ہمارے لیے تاج صاحب کا گھر گھر سے باہر گھر جیسا آرام اور سُکھ لیے ہوئے تھا۔
مہمان خانے کے سامنے چھتنار درختوں کے جنگل کی عقبی سمت کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر دھوپ پھیل جاتی تب ہم اندر جاتے۔ اُس وقت نہم میں پڑھنے والی حنا سکول کے لیے بیگ سیٹ کرتی سب سے چھوٹی آٹھ نو سالہ لاڈو بیٹی سویٹی باپ کے ساتھ چہلیں کرتی اور مسز تاج چوبی ریلنگ والے برآمدے میں چائے تیار کرنے اور نازک سی ہنس مکھ بیٹی ناشتے کے اہتمام میں مصروف ملتیں۔ ناشتے سے فارغ ہو کر جب ہم جانے کے لیے اُٹھے مسز تاج بولی تھیں۔ ”رات کا کھانا گھر پر کھانا ہے۔ بیٹی آج قلی (چترالی سوپ ) بنائے گی۔“
مہمان خانے کی طرف بڑھتے ہوئے کوثر نے کہا تھا۔ ”آپ نے مسز تاج کے لہجے میں چھلکتے محبت کے رچاؤ کی شدت کو محسوس کیا۔ کیسی دریا دل عورت ہے۔“
پورا گھر ہی خلوص کے شیرے میں لُتھڑا پڑا ہے۔ رحمت کی بجائے اب ہم زحمت والے خانے میں داخل ہو گئے ہیں۔ پر پھر بھی ان کے چہرے پیار بھری مسکراہٹوں سے ”آپ کا اپنا گھر ہے“ کا پیغام دیتے ہیں۔ ہاتھ ہیں کہ دسترخوان نئی نئی چیزوں سے سجاتے کہتے ہیں۔ ”ارے آپ اپنے حصے کا رزق کھا رہی ہیں۔“
چترال بازار پہنچ کر جونہی کوثر نے اپنے پرس سے کاغذ نکالا میں تو جی جاں سے دہل گئی۔ گرم چشمہ کی پٹی والی واسکٹیں اپنے بچوں اور عزیزوں کے لیے تو ضروری تھیں پر یہاں تو سہیلیوں کے شوہروں کے لیے بھی لمبا چوڑا نمبر تھا۔
کوئی ڈیڑھ بجے شاہی بازار کی نُکڑ والی چھوٹی سی دکان سے بیسن میں تلے آلو پیپسی کے ساتھ کھائے اور سول اسپتال کے پاس میونسپل لائبریری گئے۔ لائبریری میں کتابیں بھی تھیں اور پڑھنے والے بھی۔ اہل چترال کتابوں سے محبت کرتے ہیں۔ لائبریرین کے اس جملے میں علمانہ تفاخر تھا۔
ساری شام پرنس اسد الرحمٰن کے ساتھ گزری۔ خاندانی البم اُس مہ لقا کی تصویروں سے بھرا ہوا تھا۔ جسے دیکھنے کی چاہت میں گزشتہ چند سالوں سے میں مری جا رہی تھی۔ البم میں ایک اور مہ لقا کی بھی وضاحت ہوئی۔ وائی ہنزہ میر غضنفر کی ہمشیرہ پرنس اسد کی سابقہ منگیتر۔ نظریں تو اس پر یوں چپک گئی تھیں کہ ہٹانا مشکل ہو رہا تھا۔ ایک لمبی داستان تھی اس کی منگنی کے ساتھ جو سُننی پڑی۔
جب شام ڈھلے گھر آئے تو لان میں تاج صاحب کے ساتھ باتیں کرتے ایک نوجوان سے تعارف ہوا۔ محکم الدین ایونی چترال کا ذہین آرٹسٹ۔ خاصی دیر باتیں ہوئیں۔
رات کے کھانے پر چترالی سوپ نے لذت دی۔ ترکیب نوٹ کی۔ چوتھے نمبر والی بیٹی جس کی ساری سہ پہر اس کی تیاری میں گزری تھی کو شاباش دی۔
صبح ائر پورٹ جا کر چانس پر سیٹ کے لیے کوشش کی پر ناکام رہے۔ اگلے دن فلائٹ نہیں آئی۔ اس سے اگلے دن بھی نہیں۔ سامان اُٹھا کر جانا اور شرمندگی کا طوق چہرے پر سجائے واپس آنا کس قدر ذلت آمیز تھا۔ اب ہمیں کسی ہوٹل جا کر اپنے میزبانوں کی رسوائی بھی گوارا نہ تھی۔
”پروردگار“ میں نے ہندوکش کے پہاڑوں میں گھرے نیلے آسمان کی وسعتوں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ہمارے حال زار پر رحم کر۔ کوثر لواری ٹاپ سے سفر کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس معزز اور شریف گھر نے سارے چترالی اور میدانی کھانے ہمیں پکا پکا کر کھلا دیے ہیں۔ اب ان کے پاس ہمیں کھلانے کے لیے کوئی نئی ڈش نہیں۔
رحم میرے مولا ہم پر اور ہمارے میزبانوں پر۔
اور اگلے دن ہم پر رحم ہو گیا تھا

