اصغر ندیم سید، احوال و آثار
تعارف
*اصغر ندیم سید بحیثیت ڈراما نگار۔ :* گزشتہ نصف صدی سے اردو دنیا کے افق پر چھائی رہنے والی شخصیات میں سے ایک نام اصغر ندیم سید کا بھی ہے۔ اصغر ندیم سید ہمہ جہت ادبی ہیں۔ آپ اردو ادب کے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ڈراما نگار، صحافی، شاعر، افسانہ نگار۔ اور ناول نگار بھی ہیں۔ اصغر ندیم سید کی علمی و ادبی کارگزاریاں کم و بیش تیس سالوں یہ محیط ہیں۔ لیکن ادب میں جس شعبے سے ان کی شناخت قائم ہوئی۔ وہ ڈراما نگاری ہے۔
اصغر ندیم سید علی تخلیقی ذہن کے مالک ہیں۔ ڈراما نگاری کے علاوہ انہوں نے دیگر اصناف ادب میں بھی طبع آزمائی کی۔ انہوں نے شاعری، افسانے اور ناول نگاری کی طرف بھی توجہ دی۔ لیکن بطور خاص ان کی دلچسپی کا محور و مرکز ڈراما رہا۔ تخلیقی ادب میں جو کامیابی ان کو ڈرامے کے ذریعے ملی۔ وہ کسی اور صنف سے نہ مل سکی۔ ڈرامے کے احیا میں اصغر ندیم سید نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ایک ایسے وقت ڈرامے کی طرف توجہ دی۔ جب کتابوں کی زینت بن جانے سے ان کا دائرہ کار تبدیل ہو رہا تھا۔ ایسے میں اصغر ندیم سید نے اردو ڈرامے کو عوام کے قریب لانے اور ڈرامے کی اہمیت و افادیت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی۔ اور اس سلسلے میں وہ خاطر خواہ کامیاب بھی ہوئے۔
*پیدائش* :
اصغر ندیم سید کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔
ایم فل کے مقالے میں اصغر ندیم سید کی تاریخ پیدائش کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ کہ وہ
14 مئی 1949ء کو ملتان میں پیدا ہوئے ”۔ (1)
وکی پیڈیا اور فیس بک پر اصغر ندیم سید کی تاریخ پیدائش کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ کہ وہ
14 جنوری 950 1ء کو ملتان میں پیدا ہوئے ”۔ ( 2)
آپ سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔
*اصل نام* :
آپ کا نام آپ کے والد غلام اکبر شاہ نے اپنے نام کی نسبت سے رکھا تھا۔ آپ کا خاندانی نام ”غلام اصغر ندیم سید سبزواری“ ہے۔
”اصغر ندیم سید کا اصل نام“ غلام اصغر شاہ ”ہے۔ (3)
”اصغر ندیم سید“ بطور قلمی نام بی اے کے بعد اپنایا۔
دوست احباب ”شاہ جی“ جبکہ گھر والے ”اصغر“ کہتے ہیں۔
*والدین*
آپ کے والد کا نام غلام اکبر شاہ ہے۔ والد کا تعلق بہاولپور سے ہے۔ جبکہ والدہ کا تعلق ملتان سے ہے۔ آپ کے والد روزگار کے لئے ملتان آئے۔ تو وہاں انہوں نے شادی کی۔ آپ کے بچپن کا ابتدائی حصہ بہاولپور کے دیہی علاقوں میں گزرا۔ آپ تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ آپ سب سے بڑے ہیں۔
*اصغر ندیم سید لکھتے ہیں :*
”میرے بچپن کا ابتدائی حصہ بہاولپور کے دیہی علاقوں میں گزرا۔ دادا بہارپور کے مضافات میں رہتے تھے۔ ہم چھٹیاں وہیں گزارتے تھے۔ یہ جگہ ہے۔ چاچنا شریف اس علاقے میں صرف کھجوروں کے باغ تھے۔ (4)
آپ کے خاندان کا تعلق حضرت شاہ شمس سبز واری کے خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ والد صاحب کا تعلق ریاست بہاولپور کے علاقے چاچڑاں شریف اور حجہ عباسیاں کے ایک بستی سے تھا۔ وہ کئی میل دور جا کہ ایک بستی میں پڑھتے تھے۔ یہ علاقہ کھجوروں اور آم کے باغات کے لئے مشہور ہے۔ جبکہ میری والدہ کا تعلق ملتان سے تھا۔ اس لئے میرے والد صاحب ملتان آ گئے۔ ان دونوں جگہوں سے ہمارا رشتہ قائم ہے۔ میرے ڈرامے ”دریا“ اور ”پیاس“ دونوں میں یہ علاقے کسی نہ کسی شکل میں دکھائی دے جاتے ہیں۔
*اصغر ندیم سید* اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں یوں بتاتے ہیں۔ :
”میرے خاندان کا تعلق حضرت شاہ شمس سبزواری کے خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ میرے دادا کہتے ہیں کہ ہم ایران سے آ کر یہاں سے ریاست بہاولپور کے گاؤں میں آباد ہو گئے تھے۔ ان کے کچھ رشتے دار مختلف علاقوں میں آباد ہوئے تھے۔ والد صاحب آٹھ جماعتوں کی تعلیم پا سکے۔ اور پھر ملتان کے خاکوانی خاندان کے پانچ بھائیوں کی زمینوں کے مختار مقرر ہو گئے تھے۔ انہوں نے ہم پانچ بہن بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم تک پڑھایا ہے۔ (5)
*تعلیم*
اصغر ندیم سید نے ابتدائی تعلیم ایم سی پرائمری سکول ملتان سے حاصل کی۔ اور میٹرک ملت ہائی سکول ممتاز آباد سے کیا۔ گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے بی۔ اے کیا۔ 1972ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ ایم اے اردو کرنے کے فوری بی بعد لیکچرر شب مل گئی۔ سعادت سعید اور اصغر ندیم سید کی سلیکشن اکٹھے ہی ہوئی تھی۔ لیکچرر شب مل جانے کی وجہ سے آپ نے بہت دیر بعد پی ایچ ڈی کی۔ 2007ء میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کیا۔
*ملازمت*
آپ نے اپنی ملازمت کا آغاز 1972ء میں بطور لیکچرار گورنمنٹ کالج مظفر گڑھ سے کیا۔ پھر ایمرسن کالج ملتان آگے۔
” ایمرسن کالج میں بہت سے اساتذہ نے آپ تربیت کی۔ جس میں عرش صدیقی (شاعر اور افسانہ نگار ) اسلم انصاری، خلیل صدیقی، فرخ درانی اور پروفیسر نذیر احمد شامل ہیں۔“ (6)
آپ کے کلاس فیلوز میں تصدق حسین جیلانی اور ڈاکٹر انوار احمد بھی شامل ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں آپ کا تبادلہ گورنمنٹ کالج شکر گڑھ کر دیا گیا۔ پھر شیخوپورہ کے کالج میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں آپ کی پوسٹنگ ہو گئی۔ ریٹائرمنٹ سے دو تین برس پہلے آپ کو ڈائریکٹر میوزیم بنا دیا گیا۔
*بقول اصغر ندیم سید*
”ریٹائرمنٹ کے بعد میں ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں پڑھاتا رہا۔ وہاں میں نے پانچ سال تھیٹر، فلم اینڈ ٹی وی ڈیپارٹمنٹ میں گزرے۔ میں صدر شعبہ بھی رہا۔ اب میں کوئی ملازمت نہیں کرتا۔ لیکن میرے پاس اب بھی بہت کام ہیں۔ اب مجھے کوئی نوکری نہیں کرنی چاہیے۔ “ (7)
انہوں نے اپنے اساتذہ کرام سے متاثر ہو کر شعبہ تدریس کا انتخاب کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے حادثاتی طور پر نہیں۔ بلکہ اپنی خوشی سے اس پیشے کو اپنایا ہے۔ وہ 1972ء میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوئے۔ وہ آج بھی اس شعبے سے منسلک ہیں۔ اور اپنی اس حیثیت پہ بہت فخر کرتے ہیں۔ ان کو اس شعبے سے وابستہ ہوئے تقریباً 36 سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے۔ 36 سالوں میں سے وہ 22 سال ”گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور“ ایک سال ”فارمین کرسٹن کالج لاہور“ اور 3 سال ”گورنمنٹ کالج ملتان سے منسلک رہے۔ وہ سکول کے دور سے ہی شاعری اور بزم ادب میں حصہ لیا کرتے تھے۔
اس کے بعد وہ لاہور کے حلقہ ارباب ذوق سے منسلک ہو گئے۔ وہ 1984ء سے 1983ء میں حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری بھی منتخب ہوئے۔ 1972ء میں ان کی پہلی غزل رسالہ ”فنون“ میں چھپی۔ اس کے بعد ”اوراق“ ، ”سیپ“ وغیرہ میں ان کی شاعری چھپتی رہی۔
ان کے نظریات ترقی پسندانہ ہے۔ وہ ملک میں مارشل لاء کے خلاف ہیں۔ اس مخالفت کی وجہ سے ان کو کئی بار عتاب کا نشانہ بننا پڑا۔ وہ ملتان میں 1974ء میں لیکچرار مقرر ہوئے۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی میں ”سعادت حسن منٹو“ کا افسانوی مجموعہ ”خالی بوتلیں خالی ڈبے“ پڑھ لیا تھا۔ جس کے بعد ان کو محسوس ہوا کہ انسان کو لکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ لکھنا ہی انسان کی آزادی ہے۔ اور میں اب تک اس آزادی کے راستے پر چل رہا ہوں۔
کسی محقق نے جب ان کی زندگی کے ابتدائی ایام کے حوالے سے سوال کیا۔ تو ان کا کہنا تھا۔ کہ میں نے عام طور پر زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مجھ میں لکھنے کی جرت آ گئی۔
*بقول اصغر ندیم سید* :
”ابتدائی ایام میں زندگی کئی طرح سے ملی۔ کھیلوں میں دلچسپی فطری بات تھی۔ مگر کھیل بھی عام لوگوں کے پتنگ بازی، لٹو گھمانا، پٹھو گرم، چھین چھپائی، گلی ڈنڈا، پکڑ پکڑائی، کوکلا چھپاکی، بنٹے کھیلنا، جی بھر کے کھیل کھیلے۔ جی بھر کے فلمیں سینما میں جا کر دیکھی۔ جی بھر کے ہوٹلوں، خوانچوں اور گلی محلے کے پھیری والوں سے کھانے کی اشیا کھائیں۔ جی بھر کے شہر میں گھومے پھرے۔ شاید یہی وہ باتیں تھیں۔ جنہوں نے زندگی کے قریب کر دیا۔ اور مطالعے نے یہ جرات پیدا کر دی کہ مجھے بھی لکھنا چاہیے۔“ (8)
2013 ء میں انہوں نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے بورڈ آف گورنرز میں خدمات انجام دی۔ اور 2020ء میں انہیں پاکستانی ٹیلی ویژن کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ اس وقت انہوں نے تین کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں ”آدھے چاند کی رات“ ، ”طرز احساس“ اور ”ادھوری کلیات“ شامل ہیں۔
*شادی* :
اصغر ندیم سید نے پہلی شادی فرزانہ ندیم سید سے کی تھی۔ یہ ان کی پسند کی شادی تھی۔ لیکن فرزانہ ندیم سید کی بے وقت موت نے ان پر بہت برا اثر ڈالا۔ اس حادثے کے بعد وہ بالکل ٹوٹ گئے تھے۔ ان کی اولاد میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ بیٹا عدیل انجینیئر ہے۔ اور دبئی میں پراجیکٹ مینیجر کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ایک بیٹی ماہم نے ایم بی۔ اے کیا ہے۔ جب کہ دوسری بیٹی فاطمہ نے انگریزی اور سائیکالوجی پڑھی ہے۔
*اصغر ندیم سید* کا کہنا ہے۔ کہ فاطمہ میری ادبی وراثت کی امین ہو گی۔ پہلی بیوی کی وفات کے بعد انہوں نے دوسری شادی شیبا عالم سے کی جو کامیاب رہی۔ شیبا عالم بھی اردو ادب کی استاد ہیں۔
*شاعری کا آغاز* :
شاعری اصغر ندیم سید کا پہلا شوق تھا۔ انہوں نے ایمرسن کالج میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ ان کی شاعری کی تربیت ملتان میں ہوئی۔ اس تربیت میں ایک اہم نام مجید امجد کا تھا۔ وہ ان سے ملنے ساہیوال جاتے تھے۔ پھر عبد الرشید اور عرش صدیقی نے بھی ان کی شعری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ سبط حسن نے بھی اصغر ندیم سید کی شاعری میں پرورش کی۔ جب انہوں نے نظمیں لکھنا شروع کیں۔ تو وہ پابند نظموں کا زمانہ نہیں تھا۔ ن۔ م۔ راشد اور مجید امجد جیسے لوگ پابند نظموں سے آزاد نظموں کی طرف آ گئے۔ ان کا زمانہ آزاد اور نثری نظموں کا تھا۔
*بقول اصغر ندیم سید* :
”سرمہ صہبائی، افضال احمد سید، ثروت حسین اور سارہ شگفتہ میرے ہم عصر تھے۔ اس طرح نظم کی ایک لاہوری تحریک بن گی۔ نسرین انجم بھٹی بھی اس تحریک میں شامل تھیں۔ “ ( 9)
اصغر ندیم سید کے مضامین، ناولٹ، شعری مجموعوں اور ٹی وی سیریلز کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جس طرح آپ نے نظم نگاری، کالم نگاری اور ڈراما نگاری میں اپنے جوہر دکھلائے۔ اس طرح آپ نے ناول نگاری کے میدان میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ اصغر ندیم سید نے تنقید بھی لکھی اور اس میں بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔
سبط حسن نے بھی اصغر ندیم سید کی شاعری میں پرورش کی۔ ان کا پرچہ ”پاکستانی ادب“ میں آپ کی تخلیقات شائع ہوتی رہی۔
*اصغر ندیم سید غزل کے بارے میں فرماتے ہیں۔ *
” میں نے غزل اس لیے نہیں لکھی کہ میرا شعری مزاج ایسا نہیں تھا۔ بلکہ میں یہ کہوں گا کہ مجھ میں غزل لکھنے کا ٹیلنٹ ہی نہیں تھا۔ میرا احساس مجھے نظم کی طرف لے کر جاتا ہے۔ میں غزل گو نہیں، لیکن کئی ایک غزل گو مجھے بہت پسند ہیں۔ میر اور غالب تو چھوڑتے ہی نہیں۔ “ (10)
اصغر ندیم سید کا کہنا ہے کہ میں نے کالج میں کچھ اساتذہ سے متاثر ہو کر شاعری کا آغاز کیا۔ ان کے اساتذہ میں سجاد حیدر، ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر اے۔ بی۔ اشرف، عرش صدیقی، فرخ و درانی، اسلم انصاری، اقبال شاہ، تاج محمد جیسی شخصیت ملتی ہے۔ ان کے لیے ان کے ساتھ اساتذہ مثالی شخصیت ہیں۔ وہ ان جیسا ہی بننا چاہتے ہیں۔
دور طالب علمی سے ہی انہوں نے ادیب، شاعر اور استاد بنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ان کے پسندیدہ ادبی شخصیت میں فیض احمد فیض، منیر نیازی، ن۔ م۔ راشد، مجید امجد، سبط حسن، گوپی چند نارنگ، ظہیر کاشمیری، انتظار حسین، صفدر میرا اور سید فیض الرحمان شامل ہیں۔
*ان کا کہنا ہے :*
”یہ شخصیات زندگی کے ترقی پسندانہ شعور اور انسانی قدروں کی حفاظت کرتی تھیں۔“ (11)
*ادبی خدمات*
اصغر ندیم سید نے اپنی تخلیقی زندگی کا آغاز شاعری کی حیثیت سے کیا۔ انہوں نے شاعری میں صرف آزاد نظم اور پھر نثری نظم کی صنف کو اپنایا۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ”جنگل کے اس پار جنگل“ شائع ہو چکا ہے۔ آج پاکستان میں آزاد نظم کے بعد نئی شاعری کی فکری اور تکنیکی سطح پر یہ توجیہ کی گئی۔ کہ انسان کو اپنی حیات سے کام لیتے ہوئے کائنات سے فکری اور تخلیقی رشتہ استوار کر کے زندگی کے معنی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس تحریک میں ان کا نام نمایاں ہے۔
اصغر ندیم سید کی شاعری کو اگر فکری سطح پر دیکھا جائے تو وہ انسان کی آزادی، حرمت اور روحانی خوشی کے مرکزی دھارے سے پھوٹتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی محبت، خوشی، دوستی اور کائنات سے خوشگوار ذہنی، جذباتی تعلق کو پیش کرتی ہے۔
ان کی نظموں میں افریقہ اور فلسطین کے آدمی کا دکھ بھی محسوس کیا گیا ہے۔ اور بیسویں صدی کے فرد کے اندیشوں اور خوابوں کو بھی پیش کیا گیا ہے۔
اصغر ندیم سید نے افسانے بھی لکھے ہیں۔ جن میں نئی علامتی تکنیک کے ساتھ کہانی کی نئی شکل بھی نظر آتی ہے۔
*اصغر ندیم سید* کی آج کل کی شاعری اور افسانہ نگاری کے بارے میں رائے :
آج کے نوجوان زیادہ تر غزل لکھ رہے ہیں۔ اور اس میں بھی یک رنگی ہے۔ جب تک نوجوان مطالعے کی طرف توجہ نہیں دیں گے۔ ان کا وزن نہیں بڑھے گا۔
”نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ دوسری زبانوں کا ادب پڑھیں۔ انہیں اپنی تاریخ بھی پڑھنی چاہیے۔ نوجوان غزل کی طرف اس لئے راغب ہے۔ کہ وہ غزل کو آسان صنف سمجھتے ہیں۔ جس کی انہیں فوری طور پر تحسین بھی مل جاتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کی شاعری کی کتابیں بکتی نہیں۔ بلکہ تقسیم ہوتی ہے۔“ (12)
میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ بڑی شاعری کا امکان کم ہو گیا ہے۔ یہی حال آج کی افسانہ نگاری کا ہے۔ آج کے افسانہ نگاروں کے ہاں وہ تجربہ نظر نہیں آتا۔ جو ماضی کے افسانہ نگاروں میں پایا جاتا ہے۔ جب تک زندگی کا زیادہ سے زیادہ تجربہ حاصل نہیں ہو گا بات نہیں بنے گی۔
*سیاسی نظریہ* :
میں جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا ہوں۔ لیکن جمہوریت کی جو شکل پاکستان میں ہے۔ وہ ہرگز قابل قبول نہیں۔ یہ چند خاندانوں کی حکومت ہے۔ یہ وہ سسٹم نہیں۔ جو جمہوریت کو استحکام بخشے۔
ہماری سیاسی پارٹیوں کا رویہ بھی غیر جمہوری ہے۔ ان کا مقصد حیات عوام کی فلاح و بہبود نہیں صرف اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ یہ سٹیٹس کو کی پارٹیاں ہیں۔ اور جب ان کی کرپٹ حکومت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ تو یہ جمہوریت کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ شہروں میں انتخاب جیتنے کے لئے تاجر اور صنعت کار پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ اور دیہی علاقوں میں یہی کام جاگیر دار کرتے ہیں۔ اور جب یہ لوگ اسمبلیوں میں آئیں گے تو عوام کی کیا خاک خدمت کریں گے۔ ہمارے ان نام نہاد جمہوری رہنماؤں نے عوام کا سکون غارت کر رکھا ہے۔
ڈراما نگاری کا آغاز
اصغر ندیم سید نے 1980ء میں ڈراما نگاری کا آغاز کیا۔ اور سب سے پہلا ڈراما چودہ اگست کے موضوع پر لکھا۔ وہ ڈراموں میں ملک کے سماجی، معاشرتی و سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے ٹیلی ویژن کے لیے کئی مشہور ڈرامے لکھے۔ ان کے ڈراموں میں معاشرے کی سماجی نا انصافیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے دیہی علاقوں میں جاگیر دارانہ ثقافت، خواتین کے استحصال کی عکاسی کرنے والے ڈرامے لکھے۔ انہوں نے ”کنور آفتاب“ کی فرمائش پہ ڈرامے لکھنے کا آغاز کیا۔ کنور آفتاب نے ان کی نظم سنی۔ تو ان سے ڈراما لکھنے کی فرمائش کی۔ انہوں نے ”صبح کی دستک“ کے نام سے ڈراما لکھا۔ یوں اصغر ندیم سید کی ڈراما نگاری کا آغاز ہوا۔
80 اور 90 کی دہائی میں ان کے ڈراموں کو بہت شہرت ملی۔ مسلسل دس سال تک ان کو ”بہترین ڈراما رائٹر کا ایوارڈ“ ملتا رہا۔
*اصغر ندیم سید کا کہنا ہے کہ:*
”ٹی وی اور فلم عوام تک پہنچنے کا ایک بڑا اور اہم وسیلہ میڈیم ہے۔ لہٰذا میں نے اپنی تخلیقی صلاحیتیں اس شعبے کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ دور تھا۔ جب ٹی وی پہ پڑھے لکھے پروڈیوسروں کی حکومت ہوتی تھی۔ میں نے 1980ء میں پہلا ڈراما ٹی وی کے لئے لکھا۔ یہ چودہ اگست کے حوالے سے خصوصی کھیل تھا۔“ صبح کی دستک ”۔“ (13)
اصغر ندیم سید نے جب ڈراما نگاری کی طرف توجہ کی۔ تو ان کے پیش نظر اس وقت کا پر آشوب ماحول بنتے بگڑتے تہذیبی ڈھانچے، سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں اور تاریکی حوالے تھے۔ اصغر ندیم سید نے سماجی، سیاسی، تاریخی اور عصری مطالبات سے اپنے ڈراموں کا تانا بانا تیار کیا۔ اور ٹی وی ڈرامے کی تکنیک کا لحاظ رکھتے ہوئے کامیاب ڈرامے تخلیق کیے ہیں۔ جو ان کے فکر و فن کا نمونہ ہیں۔
*اصغر ندیم سید کا کہنا ہے کہ:*
”افسانہ، ڈراما، ناول تنقید یہ سب میرے اظہار کا میڈیم ہے۔ ان سب میں اپنے تجربات و مشاہدات کو تخلیقی مزاج سے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہر میڈیم اپنی جگہ اہم ہوتا ہے۔ اور اظہار کے لئے اس میں گنجائش ہوتی ہے۔ ایک لکھنے والے کو اپنے جذبات اور فکر کو بہتر پیرائے میں ادا کرنے کے لئے کسی نہ کسی میڈیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اسے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ تو وہ اس کا حق ادا کر سکتا ہے۔“ (14)
اصغر ندیم سید چونکہ فکری اعتبار سے ترقی پسند فلسفہ حیات کے علمبردار ہیں۔ لہٰذا ان کے ڈراموں میں اس نظریے کی گہری چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کئی تحقیقی و تنقیدی کام بھی سر انجام دیے۔
* PhD Research work on Waqar Azeem as a fiction critic.
* Articles more than twenty-five in various literary articles.
* Research articles on eighteen fifty-eight mutiny and literature presented in Maulana Azad.
* Research done on Baluchistan ’s customs and Historic Values.
* Research done on Gender Sensitization in Pakistani Media.
ان پر اب تک تین تحقیقی کام مختلف جامعات میں ہو چکے ہیں۔
*ایوارڈ:*
2006ء میں اصغر ندیم سید کو حکومت کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی دیا گیا۔
اس کے علاوہ انہیں پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کا ایوارڈ برائے بہترین مصنف بھی مل چکا ہے۔
*تصانیف*
طرزِ احساس ( تنقیدی کتاب)
*شعری مجموعے :*
جنگل کے اس پار جنگل (شاعری)
ادھوری کلیات (شاعری) نظموں کا مجموعہ
*ناولٹ:*
آدھے چاند کی رات
*سفرنامہ:*
ترکی با ترکی
*ترجمہ شاعری:*
زمیں زد کے افق
*ڈرامے :*
چاند گرہن، دریا، خواہش، پیاس، ہوائیں، نجات، غلام گردش، آوازیں، بول میری مچھلی، دل تو بھٹکے گا، صبح کی دستک، الاؤ، ان داتا، محبتیں، جو بات گھر میں ہے، میگھ ملہار، چاند نگری، مون سون، تم ہو کہ چپ، غریب شہر، خدا زمیں سے گیا نہیں ہے،
*افسانوی مجموعہ:*
کہانی مجھے ملی (اس میں دس کہانیاں شامل ہیں۔ )
*مرتبہ کتاب:*
نئے زمانے کی بہاریں ( برہن )
*طرزِ احساس ( تنقیدی کتاب) *
یہ کتاب 1988ء میں سنگ میل پبلیکیشنز سے شائع ہوئی۔ یہ مضامین کا مجموعہ ہے۔ جس میں کل 24 مضامین ہے۔ اس کے سرورق پر درج ہے۔ کہ
”یہ مضامین اردو میں جدید تر شعری اور ادبی رویوں کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ رویے ایک طرزِ احساس اور ایک تخلیقی مزاج کے بطن سے پھوٹتے ہیں“ ۔ (15)
*آدھے چاند کی رات (ناولٹ) *
1993ء میں نیاز احمد نے سنگ میل پبلیکیشنز سے شائع کروائی۔ ان کا ناولٹ معاشرتی موضوع کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ نیز مرد اور عورت کے جذبات کا بیانیہ لئے ہوئے ہے۔
”ان کا پہلا ناولٹ آدھے چاند کی رات“ عورت اور مرد ”کے باطنی رشتے کو بیان کرنے کی ایک کوشش ہے۔ آج کے معاشرے میں گہرائی اور باریکی کے ساتھ اس رشتے کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اصغر ندیم سید کے مشاہدے اور نفسیاتی باریک بینی کا اظہار اس ناولٹ میں بے حد دل پذیر اسلوب میں ہوا ہے“ ۔ (16)
*ادھوری کلیات* :
ادھوری کلیات 2014ء میں سنگ میل پبلیکیشنز نے شائع کی۔ یہ ان کی شاعری کی کلیات ہے۔ جس میں نظموں کو شامل کیا گیا ہے۔ نظموں کے عنوان دلچسپ اور سادہ ہیں۔ ان میں زیادہ تر آزاد نظمیں شامل ہیں۔
*اے خاموشی*
اے خاموشی!
میرے خون میں چھپ کے بیٹھ
دلہن بن کے میرے چہرے پر شرما
آج کی شب
اس خوں میں دریا روئیں گے
اور بچے شور مچائیں گے۔
اے خاموشی!
کفن ہو جیسے رنگت سے محروم
تجھ میں بھی کچھ ایسی بے لفظی کا موسم پھیلے
تو بھی دم توڑے میری آنکھوں میں
ان سانپوں میں
جو سانسوں میں پھنکارتے ہیں
اے خاموشی! تاروں سے اُتر
تاریکی کے امکاں سے اُبھر
اے خاموشی! (17)
*زمین زاد کے افق (ترجمہ شاعری) *
یہ ان کی تراجم کی کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے عالمی شعرا کی شاعری کا ترجمہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
”عالمی شاعری کا مطالعہ کرنے کے بعد میں مجبور ہو گیا۔ کہ ان نظموں کا اردو میں ترجمہ کرنا چاہیے۔ دنیا کے ترقی پسند شاعروں نے خوبصورت معاشرے کی تشکیل میں جدوجہد کرتے ہوئے جو شاعری کی۔ میں نے اسے اردو میں ترجمہ کر کے کتاب میں پیش کیا۔ پھر کورین شاعری کو بھی اردو میں کیا۔ پھر نثر میں کچھ بے حد عظیم ادب کا بھی ترجمہ کیا۔ یہ کام جاری ہے ایسا کام اردو میں زیادہ ہونا چاہیے ترجمے میں دلچسپی کی وجہ ادب اور شاعری کا ذوق ہے جس ادب سے روحانی خوشی ملتی ہے اسے ترجمہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔“ (18)
*کہانی مجھے ملی:*
یہ کتاب دس کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ جو 2017ء میں سنگ میل پبلشرز سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں موجود کہانیاں پاکستان کی سیاسی اور تاریخی صورتحال واضح کرتی ہیں۔ ماضی کے واقعات کو قصے کے انداز میں قلم بند کیا گیا ہے۔
اس میں 9/11 اور سقوطِ ڈھاکہ وغیرہ جیسے واقعات لکھے ہیں۔
*بقول اصغر ندیم سید:*
یہ تمام واقعات جو میں نے تحریر کیے ہیں۔ وہ سب صحیح ہیں۔ سچے ہیں۔ ان کے کردار کچھ ہیں۔ کچھ نہیں رہے۔ ان دس کہانیوں کے اندر آپ کو پاکستان کی سیاسی، سماجی، اور ثقافتی زندگی کی ساری جھلکیاں کہیں نہ کہیں ملیں گئی ”۔ (19)
*نجات:*
یہ کل تیرہ اقساط کا ڈراما ہے۔ جو ٹی وی پر 1993ء میں نشر ہوا۔ اس ڈرامے میں شہر اور دیہات کی عورت کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ اس کو سندھ میں فلمایا گیا ہے۔ جس میں تین خاندان دکھائے گئے ہیں۔
*آخری گیت:*
”ادارہ لوک ورثہ“ ۔ کی طرف سے بنائی گئی پہلی تجرباتی ویڈیو فلم تھی۔ اس میں انہوں نے تھر پارکر کی ثقافت، لوک ورثے اور گیتوں کی تلاش کے سفر کو ایک رومانوی کہانی کی صورت میں بیان کیا۔
*ہوائیں *
ان کی اور ان کی اہلیہ کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے۔ جو آج بھی ان لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے۔ جنہوں نے اس ڈرامے کو دیکھا ہے۔ یہ ایک غریب گھرانے کی کہانی ہے۔ جس کے سربراہ کو قتل کے جھوٹے الزام میں تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ کہانی اس کے بعد اہلِ خانہ کو پیش آنے والی مشکلات کا احاطہ کرتی ہے۔
اصغر ندیم سید آج کل ایک ناول اور اپنی سوانح نگاری پر کام کر رہے ہیں۔ اصغر ندیم سید ایک باشعور اور سنجیدہ ڈراما نگار ہیں۔ ملک کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی و تاریخی پہلوؤں پر ان کی گہری نظر ہے۔ ساتھ ہی فن و تکنیک کے قدیم و جدید اصولوں پر بھی مکمل گرفت ہے۔
لہٰذا فن اور فکر کے حسین امتزاج سے انہوں نے کئی ڈرامے تخلیق کیے۔ اور اردو ادب میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تنقید کی جدید تھیوریاں ادب کو سمجھنے میں مدد تو دیتی ہیں۔ مگر تنقید کے بغیر بھی قاری ادب کو سمجھ لیتا ہے۔ اچھے ادب کو کسی نقاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لئے تنقید لازمی نہیں ہے۔ اچھا ادب تنقید کا محتاج نہیں ہے۔ اصغر ندیم سید آج بھی ڈراما نگاری میں اپنا نام بنا رہے ہیں۔
*قاتلانہ حملہ :*
لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن تھانے کے ایس ایچ او میاں احسان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جوہر ٹاؤن کے شادی وال چوک پر ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نا معلوم مسلح افراد نے اصغر ندیم سید کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔
”21 جنوری 2014ء کو جب آپ ملازمت سے واپس آ رہے تھے۔ آپ پر گولیوں سے قاتلانہ حملہ ہوا۔ حملہ بہت شدید تھا۔ مگر خوش قسمتی سے آپ اس حادثے میں بچ گئے۔“ (20)
انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ان کے دائیں کندھے پر دو گولیاں لگی ہیں۔
میاں احسان کے مطابق اصغر ندیم سید کو پہلے سرکاری جناح ہسپتال اور بعد میں قریبی ڈاکٹرز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اصغر ندیم سید لاہور کی مختلف یونیورسٹیز میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ آج کل آپ کی رہائش لاہور میں ہے۔ حال ہی میں یہ ریٹائر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں انہوں نے سوات میں طالبان شدت پسندوں کے خلاف فوج کے آپریشن کے بارے میں ڈراما ”خدا زمیں سے گیا نہیں“ تحریر کیا تھا۔
*حوالہ جات:*
1۔ صبا وحید، اصغر ندیم سید کے کرداروں کا مطالعہ، اسلام آباد : نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، 2019ء، ص: 5
2۔ https://ur.wikipedia.or
3۔ صبا وحید، اصغر ندیم سید کے کرداروں کا مطالعہ، ص: 5
4۔ https ://m.facebook.com /urduGhar5/Photos/a.762485/?type=3
5۔ اصغر ندیم سید، انٹرویو از صبا وحید، لاہور : 12نومبر8 201ء، بوقت : شام 5بجے
6۔ https ://m.facebook.com /urduGhar5/Photos/a.762485/?type=3
7ـ https ://m.facebook.com /urduGhar5/Photos/a.762485/?type=3
8۔ اصغر ندیم سید، انٹرویو از صبا وحید، لاہور : 12نومبر8 201ء، بوقت : شام 5بجے
9ـ https ://m.facebook.com /urduGhar5/Photos/a.762485/?type=3
10۔ https ://m.facebook.com /urduGhar5/Photos/a.762485/?type=3
11۔ اصغر ندیم سید، انٹرویو از صبا وحید، لاہور : 12نومبر8 201ء، بوقت : شام 5بجے
12ـ https ://m.facebook.com /urduGhar5/Photos/a.762485/?type=3
13۔ صبا وحید، اصغر ندیم سید کے کرداروں کا مطالعہ، ص: 7
14۔ ایضاً، ص: 8
15۔ اصغر ندیم سید، پروفیسر، طرزِ احساس، لاہور : سنگ میل پبلشرز، 1988ء، ص : ابتدائیہ
16۔ اصغر ندیم سید، پروفیسر، آدھے چاند کی رات، لاہور : سنگ میل پبلشرز، 1993ء، ص : ابتدائیہ
17۔ اصغر ندیم سید، پروفیسر، ادھوری کلیات، لاہور : سنگ میل پبلشرز، 2014ء، ص: 119
18۔ اصغر ندیم سید، انٹرویو از صبا وحید، لاہور: 12 نومبر 8 201ء، بوقت: شام 5بجے
19۔ https://www.youtube.com/watch?V=xEba7gr6t-M
20۔ https://www.bbc.com/urdu/Pakistan/


