ڈیٹنگ ایپ ایک ٹیبو ہے


بہت سے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ڈیٹنگ ایپس کا استعمال عام ہو رہا ہے جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔ یہ مضمون اس بات پر غور کرتا ہے کہ ڈیٹنگ ایپس کو پاکستان میں ممنوع کیوں سمجھا جاتا ہے؟

ٹنڈر کی کامیابی کے بعد ، بہت سے دوسرے لوگوں نے بھی ڈیٹنگ ایپلی کیشنز بنائی۔ متعدد ڈیٹنگ ایپس ایسی بنائی گئی ہیں جو مخصوص مذاہب کے پیروکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہی مذہب کے شراکت داروں کی تلاش میں ہیں، جن میں مسلمانوں کے لیے مز اور سلام ایپس شامل ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں، ان پلیٹ فارمز کو اکثر شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

مزایپ نے لاہور میں ایک ایونٹ منعقد کرایا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ جس میں غیر شادی شدہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے ایک دوسرے سے ملاقات کر کے اپنے مستقبل کا شریک حیات تلاش کرنے کی کوشش کی، ایونٹ میں 20 سے 35 سال کی عمر تک کے لڑکوں اور لڑکیوں نے شرکت کی جو اپنے شریک حیات تلاش کرنے آئے تھے، ایونٹ میں یونیورسٹی کی طالبات سے لے کر پروفیشنل کیریئر میں تجربہ رکھنے والی لڑکیوں سمیت لڑکوں نے بھی شرکت کی اور انہوں نے ڈیٹنگ ایپ کا استعمال کرتے ہوئے وہاں ملنے والے ساتھیوں سے براہ راست ملاقات کر کے اپنے مستقبل کے جیون ساتھی کو تلاش کرنے کی جانب قدم بڑھایا۔ اب معاشرے میں بحث ہو رہی ہے کہ ایسا ایونٹ ہماری اسلامی اور مشرقی روایات کے مطابق ہے یا نہیں؟

اسی طرح ایک اور ایپ ”دل کا رشتہ“ نے بھی حال ہی مین ایک ایونٹ منعقد کروایا جس میں لڑکے اور لڑکیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نجی ٹی وی چینل کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کچھ خواتین نے اس ایونٹ کے حوالے سے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ ان ایپس نے والدین کا کام آسان کر دیا ہے بچے اپنی مرضی سے اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کر سکتے ہیں کیونکہ زندگی تو بچوں نے ہی گزارنی ہے اس لئے شادی کے لئے لڑکا یا لڑکی خود پسند کرنے کا دونوں کو پورا پورا اختیار دینا چاہیے۔ ہمارے اسلام میں اس معاملے پر بڑی خوبصورتی سے روشنی ڈال دی گئی ہے، مگر ان ڈیٹنگز ایپس کو استعمال کرنے سے ہمارے معاشرے میں جو برائیاں جنم لے رہی ہیں ان کا ذمہ دار کن کو ٹھہرایا جائے گا۔

بطور صحافی یہ مضمون لکھنے سے پہلے میں نے خود ان ایپس کو استعمال کرنے کا سوچا تا کہ میں ان ایپس کے حقائق سے پردہ اٹھا سکوں اور میرے دل میں ان ایپس کو لے کر جو شکوک و شبہات ہیں ان کو بھی دور کر سکوں۔ خیر میں نے مز ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کی اور اپنی پروفائل بنائی۔ پروفائل بنا لینے کے بعد ایک کے بعد ایک مردوں نے مجھے اپروچ کرنا شروع کیا، بہت سارے لوگوں نے مجھے میسجز بھی کیے جن سے بات کر کے میں نے یہ جانا کہ اس طرح کی ایپس پر اپنا جیون ساتھی ڈھونڈنا بیوقوفی ہے۔

زیادہ تر مردوں نے اکیلے ملنے کے لیے اصرار کیا تو کچھ مردوں نے پہلے دن سے ہی والدین کو معاملات میں شامل نہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا جس کی وجہ سے کسی سے بات نہ بن سکی۔ جبکہ اس ایپ پر بہت ساری فیک آئی ڈیز بھی دیکھنے کو ملیں اس کے بعد 2 سے 3 دن بعد اس ایپ کو میں نے اپنے موبائل سے ڈیلیٹ کر دیا جبکہ مذکورہ ایپلیکیشن کا دعویٰ ہے کہ وہ مکمل طور پر اسلامی اور پاکستانی روایات کے مطابق لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان تعلقات اور روابط کو فروغ دیتی ہے۔

حال ہی میں ان ایپلیکیشنز کا استعمال کرنے والی لاہور کی ایک لڑکی عصمت دری کا نشانہ بنی۔ ”ریپ کا شکار“ لڑکی کی جانب سے ایف آئی آر درج بھی کرائی گئی جس نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ شادی سے متعلق ایپ پر ڈاکٹر سے ملی۔ اس سے ہسپتال کے کیفے میں ملاقات کی، ڈاکٹر مبینہ طور پر اسے زبردستی اپنے ساتھ لے گیا اور اس کی عصمت دری کی مگر افسوس کے ساتھ ملزم گرفتار نہ ہو سکا۔ ایسے اور بھی بہت سے کیسز ہوں گے جو ابھی ہمارے سامنے نہیں آئے۔

شادی ایک انتہائی پاکیزہ بندھن ہے جس میں صرف دو جسم ہی نہیں بلکہ دو خاندان بھی آپس میں ملتے ہیں، اسی جوڑے نے نئی نسل کو جنم دینا ہوتا ہے، ان کی پرورش کرنا ہوتی ہے، معاشرے مین رہنے کے قابل بنانا ہوتا ہے، معاشرے میں ایک باعزت مقام دینا ہوتا ہے، یہ ایک دو دن کا بندھن نہیں ہوتا، مرتے دم تک ایک دوسرے سے پیار و محبت، دکھ، سکھ بانٹنا ہوتا ہے۔ اسلام نے شادی کے حوالے سے جو آزادی دی ہے ان پر بھی پاکستانی روایات کے مطابق عمل کرنا مشکل ہے۔

اسلام نے لڑکے اور لڑکی کو اپنی پسند سے جیون ساتھی چننے کی اجازت تو دی ہے مگر کیا پاکستانی روایات کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ ان ایپس کے ذریعے اپنا جیون ساتھی چنا جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت کچھ بدل گیا ہے مگر پاکستانی روایات اور معاشرہ اتنا بھی نہیں بدلا ان ایپس کی حمایت کی جائے اور گھر کے بچوں کو کھلی چھوٹ دی جائے۔

ہمارے یہاں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ لوگوں نے پیسہ بنانے کے نت نئے طریقے ایجاد کر لئے ہیں جبکہ ایپ والوں کا دعوی ہے کہ اسلامی اور پاکستانی روایات کے مطابق تعلقات اور روابط کو فروغ دیتے ہیں، پتہ نہیں یہ کس اسلام اور روایات کی بات کرتے ہیں جہاں لڑکی کو نامحرم کے ساتھ تعلقات بنانے کے لئے نہ صرف پلیٹ فارم مہیا کیا جاتا ہے بلکہ لڑکے اور لڑکی کی ملاقات کروانے کا سارا بندوبست بھی کیا جاتا ہے اور پھر اس میں پاکستان کی روایات اور اسلام کا ٹچ بھی دیا جاتا ہے۔

یہ ایپلیکیشنز جو بھی کام کر رہی ہیں سماج کی بھلائی کا تو نظر نہیں آتا ہاں البتہ یہ ایک دھندا ضرور لگتا ہے جسے لوگوں کو دکھانے کے لیے اسلام کا لبادہ اڑا کر پیش کیا گیا ہے، اب ہو سکتا ہے کہ ایپ والوں نے شادی کے لئے آئے لڑکے اور لڑکیوں سے اچھی خاصی رقم بھی بٹوری ہو کیونکہ یہ کام فی سبیل اللہ تو نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اتنا بڑا ایونٹ کا انعقاد کرنا اور اپنی جیب سے پیسہ لگا کر نا محرم جوڑوں کو تنہائی فراہم کرنا ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ انہوں نے لڑکا اور لڑکی کی ملاقات سے پہلے کوئی بھاری فیس تو ضرور مانگی ہوگی۔ بہتر ہوتا اس ایونٹ کے انعقاد سے پہلے شرط رکھی جاتی کہ لڑکا اور لڑکی اپنے معاملات طے کرنے کے لئے اپنے اپنے والدین کو ساتھ لے کر آئیں تاکہ معاملات کسی انجام کو پہنچ پاتے۔

پاکستان میں ڈیٹنگ ایپس ایک متنازعہ مسئلہ بنی ہوئی ہیں، جو ثقافتی اور مذہبی ممنوعات کے ساتھ گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان ایک بنیادی طور پر مسلم ملک ہے جہاں ثقافتی اور مذہبی اصول ڈیٹنگ سمیت سماجی رویوں پر سخت اثر انداز ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات میں، ڈیٹنگ کو ممنوع سمجھا جاتا ہے، اور توقع کی جاتی ہے کہ تعلقات براہ راست شادی کی طرف بڑھیں۔ شادی سے پہلے تعلقات ایک حساس موضوع ہوتا ہے۔ ڈیٹنگ ایپس بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر کے ان اصولوں کو چیلنج کرتی ہیں جو روایتی توقعات کے مطابق نہیں۔

ان 77 سالوں میں پاکستان نے بہت ترقی کی ہے مگر ہمارے معاشرے میں اتنی ترقی نہیں ہوئی کہ والدین خوشی خوشی اپنی بچیوں کو ان کے بوائے فرینڈز سے ملنے کے لیے بھیج دیں۔ ہمارے معاشرے میں اور بھی بہت سے مسئلے مسائل موجود ہیں اس لئے ایسی ایپس بنانے والے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی فلاحی کام کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ ایسی ایپس کا پاکستان میں کھلے عام کام کرنا نہ صرف اسلام اور پاکستان کے معاشرتی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ ایپس بچیوں کو غلط راستے کی جانب راغب کرنے کا مکروہ فعل بھی ہے جس پر حکومت کو نوٹس لینا چاہیے اور ایسی ایپس پر فوری طور پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی تاکید کرنا چاہوں گی کہ اپنے بچوں پر گہری نظر رکھیں تاکہ عمر بھر کا پچھتاوا نہ ہو۔

Facebook Comments HS