آن لائن ٹائپنگ جابز یا لالچ کا جال
لالچ اکثر ہماری آنکھوں پر غرض کی پٹی باندھ کر ہمیں اندھا کر دیتا ہے۔ یہ مکڑی کے جال کی مانند ہے، بظاہر آسانی سے ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے لیکن بعض اوقات یہ اتنا مضبوط ہوجاتا ہے کہ نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ زویا بھی لالچ کے اسی جال میں بری طرح سے پھنس گئی تھی۔
زویا ایک باہمت، تعلیم یافتہ اور خودمختار لڑکی تھی۔ وہ ایک بڑے نجی اسکول میں بچوں کو پڑھاتی تھی، بچوں کو پڑھانا اس کا شوق تھا، نا کہ مجبوری۔ صبح سویرے تیار ہو کر اسکول جانا، بچوں کو پڑھانا اور ان کی تربیت کرنا اسے پسند تھا۔ اس کے بعد وہ گھر آ کر کتابیں پڑھتی، بلاگز لکھتی اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ گھنٹوں چیٹ کرتی۔ اس کی زندگی میں سکون اور اطمینان تھا، اور وہ اپنی مصروف زندگی سے خوش تھی۔
زویا کی زندگی میں بڑی تبدیلی تب آئی جب اسکول میں ایک نئی ٹیچر ہانیہ نے جوائن کیا۔ ہانیہ ایک بہت ہی شوخ، چنچل اور باتونی لڑکی تھی، جس کا رہن سہن بھی شاہانہ تھا، اپنی باقی کولیگز کی طرح زویا بھی اس کے زرق برق لباس، زیورات کی چمک دمک اور ٹھاٹھ باٹھ سے کافی متاثر ہو چکی تھی۔
ایک دن ہانیہ نے زویا کو اپنی چھوٹی بہن کی برتھ ڈے پارٹی میں مدعو کیا۔ پارٹی میں زبردست انتظامات کیے گئے تھے اس لیے سب نے ہی خوب انجوائے کیا۔ اس دوران ہانیہ نے اپنی چند اور دوستوں سے زویا کو متعارف کروایا۔ پارٹی کے اختتام پر، ہانیہ زویا اور دیگر دوستوں کو ایک الگ کمرے میں لے گئی، جہاں کئی کمپیوٹرز نصب تھے۔ زویا کے استفسار پر ہانیہ نے اسے بتایا کہ یہ سب کمپیوٹرز اس کے آن لائن بزنس میں استعمال ہوتے ہیں۔ ہانیہ نے فخریہ انداز میں بتایا کہ وہ آن لائن ٹائپنگ جابز کا بزنس کرتی ہے اور لاکھوں روپے کما رہی ہے۔ اس نے زویا کو بھی اس کاروبار میں شامل ہونے کی دعوت دی اور اسے بتایا کہ وہ بھی آسانی سے ہزاروں روپے کما سکتی ہے۔ زویا، جو پہلے ہی ہانیہ کی شاہانہ زندگی سے متاثر تھی، لالچ کے اس جال میں پھنس گئی۔
زویا نے ہانیہ کے ساتھ مل کر آن لائن ٹائپنگ کی جاب کے اشتہارات سوشل میڈیا پر لگانے شروع کر دیے۔ ان اشتہارات میں لکھا ہوتا کہ ”اگر آپ کے پاس کمپیوٹر یا موبائل ہے تو آپ روزانہ دس سے پندرہ ہزار روپے کما سکتے ہیں۔“ یہ بات سننے میں بہت دلکش لگتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو معاشی تنگی کا شکار ہوں۔
ہزاروں لوگ اس فراڈ میں پھنسنے لگے۔ وہ دو ہزار روپے کی رجسٹریشن فیس جمع کرواتے، جو کہ جعلی شناختی کارڈز پر بنائے گئے جاز کیش اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس میں منتقل کروائی جاتی۔ جیسے ہی فیس کے پیسے وصول ہوتے وہ پیسے بھیجنے والوں کو بلاک کر دیتے۔ یعنی تو کون اور میں کون؟
اب زویا کے پاس پیسے کی فراوانی تھی اور وہ ایک شاہانہ زندگی گزار رہی تھی۔ ایک دن ہانیہ نے زویا سے ایک اور بزنس پلان شیئر کیا اور کہا کہ اگر وہ اس بزنس میں انویسٹ کرے تو اسے غیر معمولی منافع مل سکتا ہے، اور بہت کم وقت میں وہ بے تحاشا دولت کما سکتی ہے۔ زویا چونکہ ہانیہ پر مکمل اعتماد کرتی تھی، اس لیے اس نے بغیر سوچے سمجھے اپنا تمام پیسے اس اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے۔ جیسے ہی پیسے منتقل ہوئے، ہانیہ اور اس کے ساتھی غائب ہو گئے۔ زویا کا بینک اکاؤنٹ خالی ہو چکا تھا، اب جب وہ ہانیہ اور اس کی ٹیم کے نمبرز پہ رابطہ کرتی تو وہ بند ملتے، وہ اس کے گھر گئی تو پتہ چلا کہ گھر تو کرائے پر تھا اور وہ اسے خالی کر کے جا چکی تھی۔ اسی پریشانی میں وہ تین دن سکول نہ جا سکی، جب وہ سکول گئی تو پتہ چلا کہ اس کی کئی اور کولیگز بھی ہانیہ کا شکار بن کے لٹ چکی تھیں، دھوکے سے کمایا گیا پیسا تو گیا ہی ساتھ سیلری اور سیونگز بھی گئیں۔ اوپر سے شاہانہ لائف سٹائل کی عادت، کریڈٹ کارڈ کے بلز اور گاڑی کی انسٹالمنٹس لمبے عرصے تک ادا کرنی تھیں۔
زویا کو اب احساس ہوا کہ شکاری خود شکار ہو چکا تھا۔ سارا پیسہ چند لمحوں میں غائب ہو گیا۔ اس نے اپنے تمام دوستوں اور جاننے والوں سے بات کی، لیکن سب بے سود۔ ہانیہ اور اس کی ٹیم کی تمام شناختی معلومات جعلی تھیں، اور زویا کے پاس ان کو ڈھونڈنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ پولیس کے پاس بھی وہ نہیں جا سکتی تھی۔
زویا کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ لالچ کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے ہمیشہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ جب بھی آن لائن کام یا سرمایہ کاری کے مواقع سامنے آئیں، تو فیصلہ کرنے سے پہلے ان پر اچھی طرح غور و فکر اور تحقیق کرنی چاہیے، خاص طور پر جب وہ غیر حقیقی منافع کا دعویٰ کر رہے ہوں۔ نیز یہ بھی یاد رکھیں کہ حقیقی کامیابی کا راستہ ہمیشہ محنت، ایمانداری اور مستقل مزاجی سے گزرتا ہے، جو انسان کو پائیدار کامیابی اور اطمینان فراہم کرتا ہے۔


Good one
Decades ago, luring ads about marriages were published in newspapers about a young widow of a rich man with polio // unmarried divorced widower or person seeking second marriage every one apply for….groom was promised for money or hand in running business
Grooms were asked a color photo and 50 to 100 Rs postal stamps …to be despatch on a PO Box address for a promise that picture of girl and important documents would be send by mail using those stamps
In those days 50 to 100 rupees worth even more than 5000 Rs of today