تفرید : چند تحریریں


انسانی سرشت تنوع کی خوگر ہے۔ سروائیول اوّ دا فِٹیسٹ (Survival of the fittest) نے خوب سے خوب تر کی جستجو کو انسانی سرشت کا جزوّ لازم بنا کر پیش کیا تو قلب و نظر اور عقل و فکر میں جدّت طرازی کو وجود بخشا گیا جس سے یکسانیت کا جلد از جلد شکار ہونے کی راہ ہموار ہوئی اور تفرید نے جنم لیا۔ تعمیر و تخریب کو پیرالل رکھ کر ’تفرید: چند تحریریں‘ نے اپنے عنوان میں موجود پیراڈوکسی اور تنوع کو آخری صفحے تک قائم رکھا ہے۔

پیش لفظ میں دی گئی دعوت فکر سے شروع ہونے والی علمی و فکری غوّاصی مصنف کے خاکے میں مصنف کی مختلف پرتوں کو کھنگالتے ہوئے ’مضامین‘ کی گہرائیوں میں اترتی ہے۔ تنوع قائم رہتا ہے۔ ’ادبی کالموں‘ کی اقلیم کے سفر سے ہوتے ہوئے ’نامہ و پیام‘ میں صاحب فکر و ادراک ادباء کی گفتگو سے جنم لینے والے سحر سے حظ اٹھاتے ہوئے ’فکاہیہ‘ کالموں میں غوطہ زنی ہوتی ہے اور بالآخر ’فکر و نظر‘ کے عنوان سے معنون کثیر الجہتی موضوعات کے عمق میں موجود تنوع کو فکر کا حصہ بنانے کے لیے مسلسل غوطہ غوطہ زنی جاری رہتی ہے۔ پیش لفظ سے شروع ہونے والا یہ علمی، فکری، ادبی، روحانی اور فلسفیانہ غوطہ آخر میں موجود ’یہ کتابیں‘ کے عنوان سے لکھے گئے تبصروں میں سے بھی تنوع کے موتی نکالنے کے لیے گہرائیوں کو ماپتا رہا ہے۔ علمی و ادبی پیراکی کا ایک قلزم ثابت ہوئی ہے۔

مُوڈ سوِنگز کی بدولت اکثر و بیشتر کتاب کی خواندگی کو درمیان میں ہی چھوڑنے والوں کے لیے اس کتاب میں جگہ جگہ پہ منفرد انٹینسٹی کے میگنیٹس لگائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پہ، ’افسانے کا فن: چند معروضات‘ کی خواندگی نے فکشن کی عمیق حقیقتوں سے لبادہ ہٹا کر اس مختصر و جامع مضمون کی اطراف و اکناف کو واضح کیا تو ایک گہری فکر کے طاری ہونے کے بعد میرا مُوڈ سوِنگ ہو گیا جس کا علاج کتاب کے آخر میں موجود ’دکھ کی نئی معنویت‘ میں ملا۔ تین صفحات کی اس تحریر میں انسانی کیفیات میں سے شاید سب سے زیادہ موضوع بحث رہی کیفیت دُکھ کا تحلیل نفسی سے لے کر بائیولوجیکل، فلاسوفیکل، اور سپرچوئل، تمام پہلوؤں سے جائزہ لے کر سوِنگ ہوتے ہوئے موڈ کو ایک نقطے پر مرتکز کرنے کا سامان مہیا کیا۔ جامعیت ہر ہر صفحے پہ قائم رہی ہے۔

راہ عشق دا سوئی دا نکا
دھاگہ ہوویں، تاں جاویں
(عشق کا راستہ سوئی کے ناکے جیسا ہوتا ہے۔ گزرنے کے لیے دھاگہ بننا پڑتا ہے )

کتاب میں موجود ایک تحریر ’فنا اور بقا‘ میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر پڑھی۔ ہم بس میں بیٹھے ہوئے تھے اور دیپالپور ایک تاریخی مقام کے ٹور پہ جا رہے تھے۔ میں متن کی اونچی آواز میں تلاوت کرتا اور میرا دوست عبارت میں ملفوف معانی کے پرتیں کھولنے کی کوشش کرتا۔ یہ ایک دلچسپ عمل تھا۔ اس تاریخی اور تفریحی ٹور کے سارے رستے ہم نے ابسرڈٹی (Absurdity) کی مختلف لہروں کی فریکوئنسی کو سمجھنے کی کوشش کی۔ جمیل احمد عدیل صاحب کی نثر کا جادو تھا کہ درک بینی، میرے دوست نے جو بھی سوال اٹھایا اس کا جواب اگلے پیراگراف میں موجود پایا۔ اس بات کا جواب تو اب عدیل صاحب ہی دے سکتے ہیں کہ تحریر لکھتے ہوئے ٹیلی پیتھی و ہپناٹزم سے کس حد تک مستفید ہوئے ہیں۔ اس تحریر کی سب سے بڑی خوبی ابسرڈٹی کو اردو شاعری اور مذہبی تعلیمات کے حوالوں سے دیکھا گیا جو کم از کم میرے لیے بالکل نئی چیز تھی۔ عدیل صاحب کی مسحور کن نثر میں پیش کیا گیا فنا اور بقا کا مقدمہ دیکھیں ذرا

”فنا۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اپنی مہیب تاریکی سے قلوب پر دہشت طاری کر دیتا ہے۔ یہیں سے پھر دو واضح طرز احساس فروغ پائے۔ ایک کا مضمون ابسرڈٹٰی یعنی لایعنیت اور دوسرا معنویت سے موسوم ہوا۔ دلچسپ نکتہ اس گفتگو میں بس یہی ہے کہ دونوں انواع کے افکار سے وابستگان بھی بالآخر بظاہر فنا کی وادی میں اتر جاتے ہیں۔ کُلُّ مَن علَیہا فان۔ ( 15 / 26 ) ۔ جو مخلوق میں پر ہے سب کو فنا ہونا ہے۔ “

یہاں سے ہمارے اس مبحث کا آغاز ہوا جو تفریدی پہلوؤں سے تہی تھا۔ انالیٹیکل سکلز اگر جمود کا شکار ہو جائیں تو تو تفرید کا عمل رک جاتا ہے۔ خواندگی ’تفرید‘ کے دوران میرے دوست کی قلبی تفرید نہ ہو سکی۔ وہ رکا ہوا تھا۔

جو مخلوق میں پر ہے سب کو فنا ہونا ہے۔ ابھی گوگل کرو اور دیکھو ایسے بیکٹیریا یا ان جیسے ہی کوئی مائیکرو مالیکیولر لیول کے کوئی جاندار ہیں جو کبھی بھی فنا نہیں ہوتے، اور نہ ہی ہوں گے۔ اس لحاظ سے مجھے تو اس ابتدائی قائم کیے گئے مقدمے پر ہی اعتراض ہے“

” کیا بکواس بات کر ہے ہو! کہاں الیکٹرون مائیکرو سکوپک لیول پر چلے گئے ہو۔ یار اتنا کریٹیکل ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں جراثیموں کے مرنے یا زندہ رہنے سے کیا۔ تم اپنی موت کی بات کرو“

” مجھے موت کا کوئی خوف نہیں۔ ہاں البتہ اس درد کا خوف ہے جو حادثاتی طور پر واقع ہونے سے چوٹیں آنے سے ہو گی“

” ویسے ہمارا مدعا معنویت یا لایعنیت تھا۔ تم ایکسیڈنٹ کروا لو۔“

اس فلسفیانہ تحریر میں ادبیت پوری آب و تاب کے ساتھ ہماری لطافتوں کو جلا بخشنے کا سامان رکھتی ہے۔ کہاں البرٹ کامیو اور فرانز کافکا کے ناولوں سے ابسرڈٹی کو نشیدنا اور کہاں اس اٹھارہ انیس صفحات میں مقید شاعرانہ لایعنیت کا ادراک۔ عدیل صاحب لایعنیت اور معنویت کی بحث کا آغاز کر کے دماغ پہ طاری ہونے والی سنجیدہ کثافت کو اسی قبیل کے اشعار درج کر کے لطافت میں بدل دیتے ہیں۔ اشعار ملاحظہ ہوں :

لگتا ہے کہ سچ مچ کہیں موجود ہے دنیا
ہم وہم بھی کرتے ہیں تو کرتے ہیں یقیں سے
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے، جو اعتبار کیا
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسد
عالم تمام حلقہِ دام خیال ہے

اس تفریدی پرزم سے پھوٹنے والے رنگوں کا اجمالی جائزہ لیں تو قوس قزح کی فریکوئنسی کا دھنک کی فریکوئنسی سے اتصال ہوتا ہے۔ قلب و نظر کو اس کے رزق کے اسباب مہیا ہوتے ہیں۔ فہم پروان چڑھتا ہے۔ درک بنتا ہے۔ خواندگی جنم لیتی ہے۔ ’پیار کا پہلا شہر‘ کی لہر اس ادبی پرزم سے نکلتی ہے اور جسم و جاں میں سرایت کر جاتی ہے۔ اگر چہ اس ناول کا مطالعہ عرصہ ہوا کر چکا تھا مگر یہاں سے پھوٹنے والی روشنی نے ’پیار کا پہلا شہر‘ کے بارے میرا پیراڈائم ہی شفٹ کر دیا۔ عدیل صاحب کا تجزیہ ملاحظہ ہو: ”علم نفسیات کے فراہم کردہ نکتے عضوی جدلیت ( Organ Dialect) کو سامنے رکھیں تو پاسکل کے کردار میں یہ پہلو نمایاں طور پر نظر آتا ہے کہ اس کا احساس کمتری تعقید کمتری میں داخل نہیں ہوتا یعنی کسی مرحلے میں وہ مخاطب پر برتری جتانے میں کوشاں دکھائی نہیں دیتی بلکہ خود ترسی جیسے اس میں ٹھہر گئی ہے“ ۔ قدیم و جدید علوم کی اصطلاحات سے حیران کن واقفیت تنقید میں ان کے مقام کو اوج ثریا پر پہنچا دیتی ہے اور وہ بین العلومیت کی کہکشاں میں مرکزی سیارے سا مقام رکھتے ہیں۔ اگلی لہر کی فریکوئنسی غزل کے مدار پہ سیٹ ہوئی اور دائرے بناتے ہوئے دو عظیم ناول نگاروں عبداللہ حسین اور انتظار حسین کو محصور کر لیا۔ دونوں ناموں میں حسین کی اشتراکیت اس بات پر دلالت ہے کہ قدرت میں پایا جانے والا نظم اس تفریدی پرزم سے بدرجہ اتم مترشح ہے۔ ہم وقتیت کہنا بے معنی ہو گا۔ روشنیوں کے پھوٹنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لہریں نکلتی رہتی ہیں۔ جمیل احمد عدیل کی جمیل انگلیاں الفاظ کے پیانو پر عدیل ہونے کا حق ادا کرتی رہتی ہیں۔ پرانے اور متنازع موضوعات سے کر جدید ادبی تصورات پہ خامہ فرسائی قاری کو اوبھنے نہیں دیتی۔ خالص معروضی پیمانوں پہ لکھی گئی تنقید سے لے کر خالص موضوعی پیمانوں پہ استوار کی گئی پرسنل ڈائری کے اوراق تک آپ کو اس کتاب میں ملیں گے۔ دوران سفر، یہ کتاب آپ کو کئی کتابوں سے بیگانہ کر سکتی ہے کہ ہر نوع کا مضمون تلون مزاجوں کو تنوع سے مالا مال کرتا رہتا ہے

دوران مطالعہ، تفرید میں پایا جانے والا معنوی تنوع فکر و سوچ کی تحلیل و تعمیم کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی (biological) معانی (تفرید mitosis) کا انطباق بھی کرتا ہے۔ اسلوب کی انفرادیت خیال کو مہمیز دیتی ہے تو یکسانیت عنقا ہو جاتی ہے۔ ان چند تحریروں میں یکسانیت اور تنوع پیرالل پائے گئے ہیں کہ تفرید کا عمل قول محال (پیراڈوکس) کے بغیر نا مکمل تھا۔

Facebook Comments HS