پاکستان ایک خواب
آئے روز سوشل میڈیا پر گردش کی جانے والی خبریں میرے رونگٹے کھڑے کر دیتیں ہیں کہ کیا ہم آزاد ہیں؟ کیا ہم آزاد مملکت میں جی رہے ہیں؟ کیا ہم آزاد مملکت کے شہری ہیں؟
کاش ہم ہوتے آزاد مملکت کے باسی، کاش یہ وطن ہمارے قائد اور اقبال کے خواب جیسا ہوتا، کاش یہ ویسا ہوتا جیسا اس کو بنانے کے لیے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں کروڑوں قربانیاں دے دیں۔
مگر نہ تو کوئی قائد جیسا نکلا اور نہ ہی کوئی تصور اقبال جیسا، ہر کوئی اس مملکت، جس کا نام پاکستان ہے، دونوں ہاتھوں سے کھانے میں خوشی محسوس کرتا ہے اور اس کے قوانین، عدالت اور عدلیہ تک کو خرید سکتا ہے کیونکہ ان کے پاس پیسے جیسی طاقت ہے، جو کسی غریب کے پاس میسر نہیں۔ اسی لیے غریب بڑی بڑی گاڑیوں کے نیچے کچلا جا رہا ہے اور امیر ذہنی مریض کا ٹیگ لگائے مظلومیت کا ڈھونگ رچاتا ہوا اگلے چند دنوں میں ہر سزا سے بری ہو جائے گا۔ کبھی کوئی غریب وارڈن کچلا جاتا ہے تو کبھی کسی کی موٹر سائیکل کو کچل کر رکھ دیا جاتا ہے تو کسی سیاسی بندے کے پاس سے ہسپتال میں ملنے والی الکوحل لیبارٹری میں جا کر زیتون میں تبدیل ہو جاتی ہے اور ان سب کے پیچھے صرف پیسہ بولتا ہے۔
جی یہ ہے وہ مملکت جس کا خواب ہمارے قائد اور اقبال نے دیکھا تھا۔ کیا ایسا خواب دیکھا تھا؟ جی نہیں ایسا تو نہیں تھا ان کا خواب، ان کا خواب تو اسلامی مملکت بنانا تھا ان کا خواب اسلام کا نظام رائج کرنا تھا۔ جس میں حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ جیسے حکمران اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ جیسے انصاف کے علمبرداروں نے اللّٰہ کے حکم کو نافذ کیا اور امن و سلامتی قائم کی۔
آج کے اس عہد میں ہمیں ان جیسے حکمران چاہیے جو عدل و انصاف کا وہی دور واپس لاتے اور غریبوں کو انصاف مل سکتا۔ مگر آج ہمارے سیاسی میدان اور روزمرہ زندگی سے تعلق رکھنے والے شعبوں میں صرف پیسے جیسی طاقت سبقت حاصل کر رہی ہے۔
اگر آپ کے پاس پیسے جیسی طاقت ہے تو یقین مانے آپ اس ملک کی ہر چیز خریدنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ کسی غریب کو، کسی عہدے کو، کسی عدالت کو، کسی فیصلے کو، کسی ڈگری کو، کسی کی عزت تک کو، کسی کے جذبات کو، ہر چیز کو خریدنے کا اختیار رکھ سکتے ہیں اور یہ اختیار صرف اور صرف پیسے نے دیا ہے آپ کو، کیونکہ یہ پاکستان ہے اور یہاں سب چلتا ہے۔ آپ خود ہی سوچیے کیا یہی ہے پاکستان جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا؟

