کتھا ایک دم توڑتے جزیرے کی


 

اس نے پتے کی بیڑی کا کش لگاتے کہا ”وہ باغ ہے اس میں آم کے، جامن کے نیم کے پیڑ ہیں وہ ادھر نیبو کے درخت ہیں اور موتیے کے پودے بھی، موتیے کے برابر میں گلاب کی کیاری ہے، وہاں اس طرف پیپل کا پیڑ ہے جو میرے دادا کی عمر سے بھی بڑا ہے“

میں نے سامنے دیکھا جس طرف اس نے اشارہ کیا تھا ایک ویران و بنجر زمین تھی، جس میں دور ایک مردہ درخت کا ڈھانچہ دھرتی پہ سجدے جیسی حالت میں جھکا ہوا تھا، میں نے پھر اس کی طرف دیکھا مجھے اس میں اور مردہ درخت کے ڈھانچے میں کچھ خاص فرق محسوس نہیں ہوا۔

”میری ذہنی حالت پہ شک ہو رہا ہے تمہیں“ اس نے بنجر زمین سے نظریں ہٹا کر مجھے گھورتے کہا

اس کے اس طرح کے اچانک سوال نے مجھے لاجواب کر دیا میں کوئی جواب دوں، اس سے پہلے وہ پھر بولے ”تم نہیں دیکھ سکتے، میں دیکھ سکتا ہوں میرا بچپن میری جوانی اسی باغ میں گزری ہے،

ان درختوں میں جھولے ڈال کے جھولا ہوں ان کا پھل کھایا ہے، اس باغ کو صرف وہ دیکھ سکتا ہے جو ان درختوں اور سبزہ زاروں کے دکھ کا حصہ دا رہا ہو ”

وہ کچھ پل خاموش بیڑی پھونکتا رہا
پھر مردہ درخت کے ڈھانچے کی طرف دیکھ کر گویا ہوا

”میں نے اس خوبصورت اور خوشحال گاؤں کو برباد ہوتے دیکھا ہے، بھوکا مرتے دیکھا ہے، اپنے مکینوں سے بچھڑتے دیکھا ہے، ہنستے بستے گھروں کو ملبے کے ڈیر میں بدلتے دیکھا ہے، چوپایوں کو پیاسا مرتے دیکھا ہے، ان بچوں اور ان کی ماؤں کے جنازے اٹھائے ہیں جنہوں نے ابھی اس دھرتی پہ آنا تھا مگر وہ آنے سے پہلے ہی اپنی ماؤں کے پیٹ میں ان کے ساتھ اوجھل ہو گئے“

اس کی آنکھیں نم ہو گئیں

اس نے بیڑی زمین پر رگڑ کر بجائی اور اپنی ٹانگوں کے گرد بانہوں کا گیرا ڈال کر ایسے سکڑ کر بیٹھ گیا جیسے کسی جواں سال موت پہ تدفین کے بعد مرنے والے کا باپ اس کی قبر پہ بیٹھ جاتا ہے۔

آٹھ سال پہلے میں ایک نجی ٹی وی چینل کے لئے ڈاکومینٹری شوٹ کرنے کھارو چھان گیا تھا،
کھارو چھان سندھ ضلعیٰ ٹھٹہ میں واقع سمندری جزیرے پہ آباد ایک گاؤں ہے۔

بابیہو کے بندر سے کھارو چھان جانے کے لئے میں اور میری ٹیم کشتی میں سوار ہوئے، کشتی میں بہت سارے میٹھے پانی کے کین اور ڈرم رکھے تھے۔

”کھارو چھان میں میٹھا پانی ناپید ہے کنویں کھارے ہو گئے ہیں، اس لئے میٹھا پانی دریا پار سے لاتے ہیں“

کشتی میں موجود ایک مفلس الحال شخص نے بتایا، جس کے ساتھ اس کی سات سال کی چھوٹی بچی بھی تھی، اس کی قمیض کے دونوں کندھوں سے کپڑا گھس کر پھٹ چکا تھا جس پہ پیوند لگے تھے، ہاتھ میں ایک ٹرانسپیرنٹ پلاسٹک کا شاپر تھا جس میں تین آلو، دو ٹماٹر، ایک بہت ہی چھوٹے شاپر میں تھوڑا سا گھی اور ہرا مصالحہ تھا، کچھ خواتین اور مرد بھی اس کشتی میں سوار تھے۔

معروف سندھی ادیب اور شاعر غلام حسین رنگریز اپنی آپ بیتی خانہ بدوش روح جی کتھا میں لکھتے ہیں

” کھارو چھان کسی زمانے میں چراگاہوں، باغات اور پلا مچھی کے حوالے سے جانا جاتا تھا یہ خوشحال لوگوں کا شہر تھا، پچاس کی دہائی میں کھارو چھان تحصیل ہیڈ کواٹر تھا، اس سرسبز و شاداب جزیرے کو سندھ کا کشمیر بھی کہا جاتا تھا“

کشتی میں ڈیڑھ دو گھنٹے کے آبی سفر کے بعد ہم کھارو چھان کے کنارے پر اتر کر بیس منٹ پیدل سفر کرنے کے بعد اس ویرانے میں پہنچے جس کو کھارو چھان کا شہر کہا جاتا ہے۔

شہر کیا تھا وہ ایک کھنڈر تھا، جہاں جگہ جگہ لکڑی، مٹی اور اینٹوں کے بنے گھروں کا ملبہ بکھرا ہوا تھا، وہ ایک اداس کردینے والا منظر تھا۔

ایک گھر کے ملبے کا باقی سب کچھ زمیں دوز ہو چکا تھا بس صرف ایک لکڑی کا دروازہ جانے کس کے انتظار میں کھڑا تھا۔

دروازے کی کنڈی میں ایک زنگ آلود قفل لگا تھا، حالانکہ اب یہ دروازہ قفل کی قید سے آزاد ہو چکا تھا۔

چند کچے گھر تھے جن میں زندگی کے آثار تھے باقی سب یادیں بن گئے تھے ان زندگیوں کی، ان رشتوں کی، محبتوں کی، بچوں کے قہقہوں کی گھر چھوڑتے وقت اپنے گھر کو آخری نظر دیکھتی بڑھیاؤں کی ہچکیوں کی۔

برائے نام ایک بازار تھا، جس میں ایک ہوٹل، ایک سیدھے کی دکان، ایک درزی کی دکان، ایک پان بیڑی کی مانڈلی تھی، سیدھے کی دکان کے دالان میں نہائی کی ایک پرانے وقتوں کے طرز کی ٹوٹی ہوئی لکڑی کی کرسی رکھی تھی۔

ہوٹل کے چھاپرے کے نیچے ہاتھ سے پتے کی بیڑی بنانے والا ایک کاریگر سوت کی بوری بچھا کے بیٹھا تھا۔ لوگوں کے چہروں پر مایوسی اداسی اور بیکاری کے آثار تھے، جو بہت کم بات کرتے تھے چپ چاپ ادھر ادھر تکتے رہتے تھے، ان کے پاس بہت سارہ وقت تھا یا ان کا وقت مشکل سے کٹ رہا تھا یہ طے کرنا مشکل تھا۔

مقامی باشندوں کا کہنا تھا بٹوارے سے پہلے یہاں ایک ہموار آباد بازار تھا جس میں بہت ساری دکانیں تھیں، رونقیں تھی، رنگینیاں تھی، مگر اب سارے رنگ اڑ چکے تھے۔

معروف سندھی ادیب و شاعر عبد مانجھوٹھی کا ایک شعر ہے
”میرے محبوب میں تم سے خوشگوار گفتگو کیسے کروں
میرا جیون کھارو چھان جیسا ہے ”
کھارو چھان اب ویرانی اداسی جدائی اور کرب کی علامت بن کے رہ گیا تھا۔

”یہ کسانوں کی بستی تھی مگر جب دریا ہم سے روٹھ گیا یا دریا کو ہم سے چھین لیا گیا تو زندہ رہنے کے لئے کسان مچھیرے بن گئے“ دھنی بخش نے تھوڑے فاصلے پہ مچھلی پکڑنے والا جال اٹھا کر لے جانے والے مچھروں کو دیکھتے کہا

دھنی بخش کھارو چھان کا پچھہتر سالا رٹائرڈ پرائمری ٹیچر تھا اس کو تاریخ پہ دسترس تھی، وہ شاہ لطیف بھٹائی کا پارکھو تھا، شاہ سائیں کا سرسامونڈی اسے زبانی یاد تھا۔

پانی اوپر جھونپڑے
مورکھ پیاسے مرے
یہ شاہ سائیں نے ہمارے لئے کہا تھا ”دھنی بخش کے لہجے سے پیاس چھلک رہی تھی۔

”آپ یہ گاؤں چھوڑ کر کیوں نہیں گئے یہاں کے کنویں کھارے ہو گئے ہیں زندگی محال ہو گئی ہے“ میں نے سوال کیا۔

اس نے مجھے دیکھے بغیر گردن جھکائے جواب دیا ”میں نہیں جا سکتا مجاور مزاروں کو چھوڑ کر نہیں جایا کرتے“۔

ہم نے برباد بستی، بنجر زمین کے مجاور دھنی بخش کو الوداع کیا اس نے ہماری طرف پیٹ کردی ہمیں الوداع نہ کہا شاید اس میں اب کسی کو الوداع کہنے کی ہمت باقی نہ رہی تھی۔

واپس جاتے وقت میرے اسسٹنٹ نے کہا ”یہاں پرندے بہت کم نظر آ رہے ہیں“

”جہاں انسانوں کے لئے زندگی ناگزیر ہو جائے وہاں سے پرندے ہجرت کر جاتے ہیں“ میں نے سوچا مگر اس کو صرف اتنا کہا ”ہاں یہاں پرندے بہت کم نظر آئے“۔

دنیا میں سمندری جزیروں کو خاص حیثیت حاصل ہے، سیاحتی ریونیو جنریٹ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، دنیا کے سیاحوں کو اپنے دلکش مناظر سے لبھاتے ہیں، وہاں کی حکومتیں ان جزیروں کو مزید دلفریب بنانے کے لئے مصنوعی پلانٹ نصب کرتی ہیں۔

اور ہمارے سمندری جزیروں سے زندگی چھینی گئی ہے، جہاں سب مر رہے ہیں درخت، چوپائے پرندے، انسان۔

Facebook Comments HS