زندگی ناچ ہے


 

زندگی کی دہلیز پر کھڑا ہوں اور زندگی کی بے رحمیوں کا مسلسل نشانہ بن رہا ہوں۔ اور میں بھی بڑی معصومیت سے نشانہ بنتا جا رہا ہوں۔ زندگی کو صلاح عام ہے کہ آ مجھے نچا میں ناچنے کے لیے تیار ہوں۔ میں کسی طرح کی کوئی مجبوری پیش نہیں کروں گا۔ میں کبھی کوئی بہانہ نہیں بناؤں گا۔ میں کبھی تھکنے کا تاثر نہیں دوں گا۔ زندگی تو آ بس آزما۔ میں تیرے ہر امتحان پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا۔ اگر پورا نہ اتر سکا تو پھر بھی مجھے کوئی افسوس و ملال نہیں ہو گا کیونکہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا تیرا مقابلہ کرنے کے لیے۔ اس کے باوجود میں نے سر اٹھا کر جینے کی ٹھانی اور تیرے ہر حملے کو ناکام کیا۔ اور میں کامیاب و کامران ٹھہرا۔

میں یہ ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ میں بہت ہی باہمت ہوں اور طاقتور ہوں بالکل بھی نہیں۔ میں کبھی بھی اس غلط فہمی کا شکار نہ تھا اور نہ ہی ہوں۔ زندگی سے کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس نے اپنے خونخوار پنجے ہر ایک کی گردن میں ڈالے ہیں بغیر کسی امتیاز کے۔ اس کا ایک ہی خاصہ ہے میزانیہ ہے۔ یہ لوگوں کی طاقت اور حیثیت کے مطابق ضرور آزماتی ہے مگر یہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ امیر لوگ اپنی عیاشیوں کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ حالت سکون میں زندہ رہیں اور غریب ان کی بچی کھچی روٹیوں کے لئے تڑپتا رہے۔ زندگی دونوں پلڑے بہت ہی خوبصورتی سے برابر کرتی ہے کہ روٹی والا بھی اور بغیر روٹی کے بھی دونوں ہی تڑپتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ دونوں کی وجوہات مختلف ہیں۔

سارنگ جب بھوکا ننگا ناچ رہا تھا تو اس کو ناچنے اور کھانے میں مزا آ رہا تھا۔ وہ اپنے ناچ کو فن کے طور پر لے رہا تھا اور زندگی کے شب و روز کا انحصار توکل پر تھا ناچنے پر نہیں تھا۔

ناچنا اس کا شوق تھا اور وہ اپنا شوق بہت ہی اچھے طریقے سے پورا کر رہا تھا۔ سارنگ کے علاوہ بھی اگر دیکھا جائے تو بہت سے ”جید“ لوگ بھی اس حالت سے گزرے ہیں مگر ان کے اس رنگ کو تاریخ مختلف ناموں سے یاد کرتی ہے۔ یہ تو تاریخ کا منافقانہ طرز عمل ہے جو ناچ میں بھی تفریق کرتی ہے۔ کسی کو کوئی جواز دیتی ہے تو کسی کو کوئی۔ کسی کا ناچنا تفریح ہے تو کسی کا ناچنا تذلیل۔ کسی کا ناچ تحلیل ہے تو کسی کا تخریب۔ سارنگ کی نظر میں ناچ ایک ہی ہے۔ وہ ناچ کے ذریعے سے اپنی زندگی کی خو کرتا۔

بہت سے لوگ ناچ کو اپنا پیشہ بنا لیتے ہیں اور اپنی زندگی میں مزاحم ہونے کی بجائے اس سے صلح کر لیتے ہیں۔ یہ بہت ہی کم درجہ کے لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنا آپ گنوا بیٹھتے ہیں اور تخلیہ اختیار کر لیتے ہیں مگر سارنگ ان سب سے مختلف ہے۔

زندگی اور تاریخ کو ہمیشہ ایک جیسا ہونا چاہیے۔ ان میں جب کبھی بھی فرق آئے گا تو دونوں میں سے ایک مشکوک ہو جائے گی۔ سارنگ اپنی تاریخ اور زندگی دونوں کی سمت ایک ہی رکھنا چاہتا ہے۔ وہ دونوں کو ایک ہی سمجھتا ہے اور ایک ہی رکھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا تو دونوں کو الگ الگ کر کے اپنی لیے آسانی پیدا کر سکتا ہے مگر وہ ایسا نہیں کر رہا۔ وہ تمام پرانے خیالات کو نئے معانی دینے میں مصروف ہے۔ وہ تاریخ کو صرف فاتح کی نظر سے نہیں دیکھتا وہ مفتوح کو بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل قرار دیتا ہے۔

مفتوح کا بھی کچھ تو کردار ہوتا ہو گا نا، تو کسی کے فاتح ہونے میں اس کا ذکر ہمیں تاریخ میں کیوں نہیں ملتا۔ جب تاریخ سے مفتوح غائب ہوتا ہے تو باقی سب کچھ یک طرفہ ہوتا ہے اور اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ فاتح جتنا اہم ہو گا مفتوح بھی اتنا ہی اہم ہو گا۔ سارنگ ان خیالات کو سامنے رکھ کر اپنی تاریخ کسی مورخ پر نہیں چھوڑتا بلکہ وہ خود فیصلہ کرتا جاتا ہے کہ فاتح کون ہے اور مفتوح کون۔

سارنگ کو احساس رہتا ہے کہ مفتوح کی کس کمزوری نے اسے فاتح بنایا ہے۔ اور وہ اپنی جیت کا کریڈٹ اسے دیتا ہے۔ سارنگ کا ایک نظریہ کہ فاتح مفتوح سے زیادہ کمزور ہوتا ہے اور جیتنے کی خواہش یا یوں کہیے کہ ہار کے ڈر کو اپنی طاقت بنا لیتا ہے کیونکہ وہی اس کی زندگی اور موت ہوتی ہے مگر مفتوح اس طرح کی سوچ سے مبرا ہوتا ہے اور وہ اپنی ہار یا جیت کے لیے کسی کے آمنے سامنے نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی سرشتِ اور فطرت اور اہمیت کی وجہ سے سامنے ہوتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں مگر چند ایک آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں تاکہ اپنے نقطہ نظر کو مضبوطی کا جواز فراہم کر سکوں۔ مثال کے طور پر شیر کبھی جیتنے کے لیے نہیں لڑتا۔ وہ دو وجوہ کی بنیاد پر لڑتا ہے۔ ایک زندہ رہنے کے لیے اور دوسرا اپنی فطرت کی وجہ سے۔ اگر وہ شکار نہیں کرے گا تو بھوکا مر جائے گا اور دوسرا اسے فطرتاً اپنی طاقت کا احساس ہے اور جب موقع آتا ہے تو وہ اپنی طاقت کا بھرپور استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح ہرن کو دیکھ لیں، شاہین کو دیکھ لیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ کوئی بھی جیت کے لیے نہیں لڑتا سوائے انسان کے جو خود کو کاٹ دیتا ہے۔ جو خود کو آدھا کر دیتا ہے اس کے باوجود جیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

سارنگ بہت ہی مختلف الخیال انسان ہے۔ وہ ان تمام فرسودہ باتوں کو پیش نظر نہیں رکھتا۔ وہ آزادی، جمہوریت، شخصی آزادی، اور عزت نفس جیسی خصوصیات کو پروان چڑھانے کی سوچ کا حامل ہے کیونکہ اس طرح کے کم درجے کے خیالات کو وہ بہت پہلے بھگت چکا ہے۔ وہ اپنی کم عمری سے ہی ان مکروہات کے ساتھ کہنہ مشق ہے۔ اب اس کی نظر میں یہ سب کچھ چھوٹا ہے۔ اور سارنگ کچھ عظیم کرنے کی لگن دل میں لیے اپنی زندگی اپنے اصولوں پر گزارنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “زندگی ناچ ہے

  • 08/09/2024 at 7:44 شام
    Permalink

    زندگی واقع ایک ناچ ہے💃

Comments are closed.