ارسا میں تبدیلی: سندھ کے پانی پر شب خون مارنے کا ایک نیا منصوبہ!


پاکستان میں اس وقت عملاً آئین کے کئی حصوں پر عمل نہیں ہو رہا۔ ”ہائبرڈ جمہوریت“ کے نام پر حساس معاملات پر مرکز اور صوبوں میں بے اختیار حکومتیں موجود ہیں۔ اسمبلیوں میں براجمان نام نہاد بڑی پارٹیوں کو بھی ایک دائرہ بنا کر دیا گیا ہے، جسے پار کرنے کی انہیں اجازت نہیں اور نہ ہی ان میں ایسی جرات ہے کہ وہ اپنی محدود خودمختاری کو بھی ان معاملات میں استعمال کر سکیں۔ نتیجتاً عملی طور پر ملک میں نہ کوئی حقیقی عوامی جمہوریت ہے اور نہ خودمختار صوبوں پر مشتمل کوئی جمہوری وفاقیت۔

پہلے سے ہی بہت سے بحرانوں کا شکار ریاست کا اس کے نتیجے میں جو حشر ہُوا ہے وہ اب کسی سے ڈھکا چھُپا نہیں ہے۔ تشویشناک بات تو یہ ہے کہ اختیارات پر قابض قوتوں کو اس کی کوئی پرواہ بھی نظر نہیں آتی۔ گویا بحرانات کے محرکات اور معروضی حالات ہی مستقبل کا تعین کریں گے، انہیں انصاف اور فضیلت سے حل کرنے کا کوئی ارادہ اور ایجنڈا نظر نہیں آتا۔

اس ملک کے بین الصوبائی تنازعات اور ریاست کے غیر تصفیہ شدہ معاملات میں آبی تنازعہ حساس ترین معاملات میں سے ایک ہے۔ سندھ اور پنجاب کے مابین یہ تنازعہ نیا نہیں، 1859 سے جاری ہے۔ برطانوی دور میں سندھ کی بارہا شکایات پر انگریز دور میں بھی دو کمیشن بنائے گئے یعنی 1935 میں اینڈرسن کمیشن اور 1941 میں انڈس راؤ کمیشن بنے۔ تقسیمِ ہند کے بعد چار کمیشن یعنی 1968 میں اختر حسین کمیشن، 1970 میں فضل اکبر کمیشن، 1981 میں انوارالحق کمیشن اور 1983 میں حلیماں کمیشن بنے مگر سندھ اپنا آبی حصہ حاصل کرنے کے حوالے سے ہمیشہ انصاف سے محروم رہا۔

انگریز دور میں پھر بھی کچھ بہتری آئی تھی لیکن قیامِ پاکستان کے بعد اس تنازعے کا تصفیہ کبھی نہیں ہو سکا۔ اس پُورے پس منظر میں 1991 میں نواز شریف کے حکومتی دور میں 1991 کا آبی معاہدہ ہُوا۔ اس سے قبل سندھ میں کالاباغ ڈیم کے خلاف بھرپور تحریک چل چکی تھی اور پچھلے کمیشن کی ناکامیاں بھی موجود تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ نے اُس وقت 1991 کے آبی معاہدے پر سخت اعتراضات کیے تھے اور اسے سندھ کے ساتھ سنگین زیادتی پر مبنی مسلط کردہ معاہدہ قرار دیا تھا۔ بعد میں سندھ کے پانی پر شب خون مارنے کا ایک ایسا بدترین دور آیا کہ سندھ نے حالات کے جبر سے مجبور ہو کر زہر کا گھونٹ پیتے ہوئے بالآخر اس معاہدے کو بھی قبول کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے پر بھی کبھی عمل نہیں ہُوا، جس پر سندھ کی حکومتیں، لوگ اور ارسا کے ارکان مسلسل چیخ و پکار کرتے رہتے ہیں۔

دراصل ارسا کا ادارہ اِسی معاہدے کی بنیاد پر ہی قائم کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد 1991 کے معاہدے کے تحت طے شدہ فارمولا پر پانی کی تقسیم اور مانیٹرنگ کرنا تھا۔ یہ ادارہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد مشترکہ مفادات کی کونسل کے شعبہ جات اور ذمہ داریوں کی فہرست میں شامل ہو گیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ایک طرف ارسا خود بین الصوبائی ادارہ ہے، جس میں چاروں صوبوں کے ممبران مساوی حیثیت اور اختیار کے حامل ہوں گے اور ادارے کا چیئرمین بھی ان ہی صوبوں کے نمائندہ ممبران میں سے باری باری ہو گا تاہم چیئرمین کو کوئی صوابدیدی اختیار حاصل نہیں ہو گا۔

دوسری بات یہ کہ ارسا کے ادارے کا مشترکہ مفادات کی کونسل میں شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی موجود یا ممکنہ تنازعے کی صورت میں مشترکہ مفادات کی کونسل میں اس کا تصفیہ حتی الامکان اتفاق رائے سے ورنہ لازماً اکثریت رائے سے کیا جائے گا۔ اُصولاً تو ہونا یہ چاہیے کہ ارسا کے کام کو مزید شفاف، بہتر اور ادارے کو با اختیار بنایا جائے مگر اب تو اُلٹا اس ادارے کو عملاً صوبوں اور مشترکہ مفادات کی کونسل سے الگ کر کے وفاق کے ماتحت کرنے کا ناجائز اور مہلک منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کا پس منظر یہ ہے کہ گزشتہ نگراں حکومت میں یہ منصوبہ صدر اور صوبوں کو ارسال کیا گیا تھا۔ سندھ کی سخت مخالفت کے باعث سندھ کی نگراں حکومت بھی اس کی حمایت نہیں کر سکی اور صدر علوی بھی جاتے جاتے اسے ٹال گئے۔ صدر علوی نے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دیا تھا بلکہ انہوں نے ایک غیرآئینی کام کرنے کے داغ سے اپنے دامن کو بچایا تھا۔ جن قوتوں کو اس ضمن میں اصل بدنیتی ہے انہوں نے جولائی میں یہ معاملہ ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں رکھا۔

سب سے پہلا سنگین اعتراض تو یہ ہے کہ آخر آئین کے کس اختیار کے تحت یہ اجلاس ایوانِ صدر میں رکھا گیا؟ صدر کو تو موجودہ آئین میں اب کوئی صوابدیدی اختیار ہی حاصل نہیں، کیونکہ صدر کو اس طرح کے اختیارات صدارتی نظام میں حاصل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں آٹھویں اور سترہویں ترامیم میں جو اختیارات صدر کو ناجائز طور پر دیے گئے تھے اٹھارہویں ترمیم میں انہیں ختم کیا گیا۔ صدر تو کیا اب تو آئین میں خود حکومتی سربراہ کو بھی کوئی صوابدیدی اختیار حاصل نہیں۔

دراصل ایوانِ صدر میں یہ اجلاس رکھنا ہی ایک بدنیتی تھی۔ نتیجہ بھی منشا کے مطابق ہی سامنے آیا کہ نگراں حکومت میں پیش کردہ مسودے سے بھی زیادہ بدترین ترامیم کا مسودہ صدر نے غیرآئینی اجلاس میں غیرآئینی طور پر منظور کر لیا۔ اس کے بعد یہ مسودہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو منظوری کے لئے ارسال کیا گیا، یعنی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا، اس کے پیچھے دراصل وہی قوتیں ہیں جنہوں نے گرین پاکستان اور کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر ملک کی 46 لاکھ ایکڑ زمین پر اپنے کاروبار شروع کرنے کے منصوبے بنا رکھے ہیں۔

تاحال تو حکومت ِ سندھ کے محکمہ آبپاشی اور ارسا میں سندھ کے ممبر نے اس ترمیمی بل کے منصوبے کو قبول نہیں کیا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آصف علی زرداری کا کوئی خفیہ حکم نامہ آیا تو کیا پی پی پی کے اندر ایسے اسمبلی ممبران ہیں جو زرداری کے حکم کو پسِ پشت ڈال کر اپنے صوبے اور ضمیر کی نمائندگی کرنے کی جرات کریں گے؟ دراصل ارسا کے اس تجویز کردہ ترمیمی بل کا مقصد پانی کے معاملے پر صوبوں کے آئینی اختیار کو حتمی طور پر ختم کرنا ہے۔

موجودہ صورتحال میں تو تمام تر زیادتیوں اور پانی پر ڈاکا ڈالنے کے باوجود سندھ یا صوبوں کے پاس ارسا اور مشترکہ مفادات کی کونسل کے دو ادارے اور آئینی سرشتے موجود ہیں لیکن مذکورہ بل میں سب سے کالی ضرب تو یہ لگائی گئی ہے کہ ارسا کا جو چیئرمین باری باری صوبوں کے نمائندگان میں سے ہوتا تھا اب یہ اختیار وزیراعظم کو منتقل ہو گا اور وہ بھی صوابدیدی اختیار یعنی وہ اپنی پسند کا کوئی بھی حاضر سروس یا رٹائرڈ 21 ویں گریڈ کا افسر براہ راست مقرر کرنے کا مجاز ہو گا۔

جس کے لیے صوبوں کی برائے نام مشاورت یا سفارش بھی لازمی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک بین الصوبائی حساس معاملے کے ادارے کا سربراہ وزیراعظم کیونکر مقرر کر سکتا ہے؟ مزید براں دوسرا ظلم یہ ہے کہ بہت سے صوابدیدی اختیارات کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کے مقرر کردہ چیئرمین کو یہ بھی اختیار حاصل ہو گا کہ وہ ارسا سے باہر اپنی مرضی کے ”ماہرین“ کی کوئی بھی کمیٹی تشکیل دینے کا مجاز ہو گا اور وہ کمیٹی بھی با اختیار ہوگی۔ اس ضمن میں سب سے حساس بات یہ ہے کہ چیئرمین اس طرح کی کمیٹی کی سفارش پر کسی بھی منصوبے کو اسٹریٹجک قرار دے کر اس پر عمل درآمد کی اجازت دینے کا بھی مجاز ہو گا۔

یہ بات تو اب سی پیک اور تھر کول منصوبوں میں واضح طور پر سامنے آ چکی ہے کہ ”اسٹریٹجک منصوبوں“ کی حفاظت کا ذمہ فوج کو دیا جاتا ہے۔ یعنی وفاقیت اور صوبوں کی آئینی خود مختاری کا رسمی تکلف بھی اب جاتا رہے گا! ایسا تو آمریتوں میں بھی نہیں ہُوتا تھا؛ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے آمریتی ادوار میں سندھ نے کالاباغ ڈیم بننے نہیں دیا اور گریٹر تھل کینال کی سخت مخالفت کی اور اس کے خلاف جدوجہد کی۔

اس پُورے منصوبے اور ارسا کو عملاً صوبوں سے چھیننے کے پیچھے دو بنیادی محرکات اور منصوبے نظر آتے ہیں۔ ایک تو یہ جو گرین پاکستان اور ملک میں خوراک کی ممکنہ کمی کو جواز بنا کر ملک میں 46 لاکھ ایکڑ زمین پر کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر کمپنیاں بنا کر، صوبوں سے زبردستی زمینیں اور وسائل لے کر منصوبے شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، ان کے لئے ملک میں پانی موجود نہیں۔ جو پانی نظام میں موجود ہے، اس کا قطرہ قطرہ 1991 کے آبی معاہدے کے تحت پہلے سے ہی منقسم اور طے شدہ ہے اور نہ ہی صوبوں کے لئے مختص پانی میں سے کوئی ایک قطرہ بھی فالتو ہے۔

پھر سوال یہ ہے کہ آخر 46 لاکھ ایکڑ پر یہ آبادی کس پانی پر ہوگی؟ پہلے کہا گیا کہ زمین کے اندر موجود پانی لیا جائے گا، جب کہ پہلی بات تو یہ کہ زیر زمین پانی بھی نظام میں موجود پانی کا ہی حصہ ہے، دوسرا یہ کہ سندھ کا تو زیرِ زمین پانی نوے فیصد کھارا ہے، اگر اس کھارے پانی کو میٹھا کر کے بھی استعمال کیا جائے تو ایسی ملک میں اس وقت نہ تو صلاحیت ہے اور نہ ہی اس کے لئے مطلوبہ وسائل موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہُوا کہ اس ترمیمی بل سے بلی تھیلے سے آخر باہر آ گئی کہ دراصل ارسا کو تبدیل کر کے، اس میں صوبوں کے آئینی اختیارات ختم کر کے، اسی سرشتے سے پانی لیا جائے گا۔

اس ضمن میں دوسرا مقصد یہ ہے دراصل بھاشا ڈیم 15، مہمند 33، کے فور 47، گریٹر تھل کینال منصوبہ 2 سمیت کچھی کینال جیسے بہت سے منصوبوں میں پانی اسی سرشتے میں صوبوں کے مختص کردہ حصوں پر ڈاکا ڈال کر لیا جائے گا۔ اس وقت جب ابھی تک ان منصوبوں میں سے اکثر نے پانی لینا شروع ہی نہیں کیا تو پھر آگے چل کر صوبوں اور بالخصوص زیریں صوبہ سندھ کا کیا حشر ہو گا؟ اس سے صوبوں کے ایک دوسرے کے ساتھ سنگین تنازعات کس نہج پر جا پہنچیں گے؟

ابھی تو بلوچستان نے کچھی کینال کے لئے پانی لینا شروع ہی نہیں کیا، ویسے بھی بلوچستان پانی کے سوال پر ارسا میں پنجاب کی طرف ہوتا ہے۔ یہ تمام تر خطرناک صورتحال پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صوبوں سے اختیار چھینا جائے اور چونکہ سندھ زیریں خطہ ہونے کے باعث سب سے زیادہ اعتراضات کرتا ہے اس لئے اس سے سرے سے یہ احتجاج کرنے کا اختیار ہی چھینا جائے۔ دوسری جانب کالاباغ ڈیم کا راگ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔

ہمیں اس معاملے کی حساسیت اور مستقبل کے خطرات کو سامنے رکھ کر اس پُورے معاملے پر کالاباغ ڈیم مخالف تحریک کی طرز پر ہی انتہائی مضبوط جدوجہد کرنی ہوگی، جس میں سیاسی جماعتوں، ماہرین، میڈیا اور تمام باشعور افراد کو اپنے اپنے حصے کا اور مشترکہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے، صدر اس پارٹی کا ہے، بلوچستان حکومت کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی عملاً یہ جماعت شریک ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں یہ جماعت موجود ہے، اس کے تعاون اور رضامندی کے بغیر یہ ترمیمی بل پاس نہیں ہو سکے گا۔

سندھ کے محکمہٴ آبپاشی اور ارسا میں سندھ کے ممبر کی مخالفت کے باوجود صدر زرداری کی ناجائز منظوری نے اس ضمن میں سندھ کے خدشات کو سنگین بنا دیا ہے۔ اس لئے اس جماعت پر سخت دباؤ پیدا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ اس کی جانب سے اس خطرناک بل کی منظوری کے امکانات کم ہو سکیں۔ آصف علی زرداری نے پی پی پی کا کلچر ایسا بنا دیا ہے کہ اگر وہ کوئی بھی کھیل کھیلنے کے لئے اس جماعت کے لئے کوئی ہدایت جاری کرتے ہیں تو کسی بھی ممبر یا رہنما میں یہ جرات نہیں کہ وہ اس کے خلاف کوئی اُصولی موقف اختیار کر سکے۔ یہ ہی ماجرا ہم 2011 میں دوہرے مکانی نظام سے لے کر بہت سے مواقع پر دیکھ اور آزما چکے ہیں۔ ہاں البتہ یہ ثابت ضرور ہُوا ہے کہ سخت عوامی ردعمل کا پی پی پی سامنا نہیں کر سکتی، اس وقت یہی دباؤ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

آخری بات کہ جمہوریت کو برائے نام رکھ کر مملکتوں کو کارپوریٹ مفادات کے حوالے کرنا نہ صرف پاکستان کے لئے بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے۔ یہ اس نیو لبرل عالمی نظام کی اعلیٰ سطحی پالیسی ہے۔ اس وقت بھارت اور افریقہ سمیت دنیا کے کئی ایک خِطوں میں یہ سرمایہ دارانہ کارپوریٹ یلغار شروع ہو چکی ہے۔ میں رواں سال جنوری میں نیپال میں ہونے والے ورلڈ سوشل فورم میں شریک ہُوا تھا، وہاں پر یہ سنگین صورتحال اُس وقت مزید واضح ہو کر سامنے آئی جب پُوری دنیا سے عوامی، سماجی اور سیاسی تحریکوں کے نمائندگان نے اپنے اپنے دُکھڑے سُنائے، تب نظر آیا کہ ہر جگہ یہ نئے اجگر مسائل اُبھر کر سامنے آ چکے ہیں۔

یہ اِکیسویں صدی میں نیو لبرل نظام کا عالمگیر ایجنڈا ہے، جس کے گھناؤنے چہرے اور سنگین نتائج ابھی سامنے آنے ہیں۔ اس لئے ان سنگین معاملات کو محض مقامی تناظر میں دیکھنا سادگی اور اسٹریٹجک نادانی ہوگی۔ دنیا میں غریب مقامی لوگوں کی زمینوں، قدرتی وسائل اور پانی اور ماحولیاتی وسائل پر ان کی مالکی کی گرفت ڈھیلی اور آہستہ آہستہ ختم کرنے کا عالمی ایجنڈا ہے۔ اس تمام تر خوفناک پیش رفت کے پیچھے ورلڈ بینک اور بالخصوص آئی ایم ایف کا بھی ہاتھ ہے۔

ہمارے ساتھ دوہرا ظلم یہ ہے کہ یہاں اس طرح کے تمام منصوبوں کی حفاظت کے نام پر ملکی فوج کے پاس ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ملک کے سنگین معاشی بحران میں اپنی معاشی بقا کا فوری حل یہ نظر آیا ہے کہ برائے نام جمہوریت میں طاقت کے تمام مراکز پر اجارہ داری قائم کر کے، صوبوں کی زمینوں، پانی اور قدرتی وسائل پر قبضہ جما کر عالمی نیو لبرل ایجنڈا سے ہم آہنگ ہو کر، اپنے محفوظ مستقبل کا بندوبست کیا جائے۔ کیونکہ مذہب اور جہاد سے کمانا اب ممکن نہیں رہا۔ جہاد کی سیاسی اکنامی کا دور بنیادی طور پر تمام ہُوا۔ ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو ہر عالمی صورتحال کی اسٹریٹجک ترجیحات میں سے اپنا اُلو سیدھا کرنے کا ہنر خوب آتا ہے۔

سندھ اور ملک کی وطن دوست اور ترقی پسند سیاست کے کمزور اور ایک حد تک بے اثر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر فریقین تاحال معروضی حالات کو سطحی حقائق اور عالمی نیو لبرل اسٹریٹجک تناظر میں دیکھنے کے بجائے فکری سادگی، جذباتی نعرے بازی، ماضی کی مبالغہ آمیز نرگسیت اور رہنمائی کے قبائلی اور زرعی سماج کے نمونوں سے آگے بڑھ کر مطلوبہ گہرائی اور وسعت سے دیکھنے اور اس کے مطابق تدبیریں بنانے سے قاصر ہیں۔ ارسا میں تبدیلی کا بل اس نئے آنے والے خوفناک دور کی ”اسٹریٹجک“ ابتدا ہے۔

Facebook Comments HS

جامی چانڈیو

جامی چانڈیو پاکستان کے نامور ترقی پسند ادیب اور اسکالر ہیں۔ وہ ایک مہمان استاد کے طور پر ملک کے مختلف اداروں میں پڑھاتے ہیں اور ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔ Jami8195@gmail.com chandiojami@twitter.com

jami-chandio has 11 posts and counting.See all posts by jami-chandio