بائی پولر ڈس آرڈر کیا ہے؟


 سمیع کو اپنے موڈ کے حوالے سے بہت سے مسائل کا سامنا تھا۔ لوگوں کو اس سے اکثر و بیشتر یہ شکایت رہتی تھی کہ وہ  بار بار عجیب و غریب رویہ اختیار کرتا ہے۔ ایسا وہ  جان بوجھ کر نہیں کرتا تھا بلکہ ایسا کرنا اس کے اختیار میں نہیں تھا۔ اس کو بار بار اداسی کے دورے پڑتے تھے۔ ڈپریشن کے فیزز/phases آتے تھے۔
توانائی کا ایک عجیب و غریب سلسلہ تھا۔ کبھی اس میں اتنی انرجی آ جاتی کہ جیسے بلبلے پھوٹ پڑے ہوں اور کبھی اتنی کم انرجی ہوتی کہ اٹھ کر پانی بھی نہ پی سکتا تھا۔  بعض اوقات بے وجہ ہی اس کو غصہ آجاتا تھا  اور اس چڑچڑے پن کی کوئی وجہ سمجھ نہ آتی تھی۔  تمام علامات بائی پولر ڈس آرڈر کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔
بائی پولر ڈس آرڈر ایک ایسی ذہنی بیماری ہے جس میں مریض کو ڈپریشن کے فیزز آتے ہیں اور بار بار اس کا موڈ آف رہتا ہے اور اتنی تیزی سے موڈ بدلتا ہے کہ لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔
  بائی پولر ڈس آرڈر میں مریض کی جو سب سے بنیادی کیفیت ہوتی ہے اس کو ہم "شفٹ” کہتے ہیں، یعنی بار بار   مریض کے مزاج میں تبدیلی آنا یا بہت زیادہ غصہ کر جانا، کبھی بہت زیادہ خوش ہو جانا، کبھی بہت زیادہ اداسی محسوس کرنا، کبھی بہت زیادہ توانائی محسوس کرنا،  کبھی لو فیل کرنا یہ تمام بائی پولر کی خاص نشانیاں ہیں۔
 علامات/ Symptoms
1۔ بہت زیادہ سوچوں کا ہجوم رہنا
2۔ نیند کے پیچیدہ مسائل جیسےبہت زیادہ نیند آنا یا بالکل نیند نہ آنا
3۔ گفتگو کی رفتار کا تیز یا بہت آہستہ ہونا
4۔ نا امیدی کے خیالات آنا
5۔ منفی خیالات کا آنا
6۔ اپنی اہمیت کا بہت زیادہ وہم ہونا
7۔  بہت زیادہ انا پسند ہونا
8۔  تخلیقی صلاحیتوں کا شدت سےابھرنا
9۔  بہت زیادہ  توانائی محسوس کرنا یا  بالکل خالی پن  محسوس کرنا
10۔ بھوک کا اڑ جانا
11۔وزن میں کمی ہو جانا
12۔ طبیعت میں بہت زیادہ چڑچڑا پن آجانا
13۔ بے صبرا ہو جانا
14۔ غصیلا اور جھگڑالو مزاج ہو جانا
 وجوہات/Reasons
 1۔ بائی پولر ڈس آرڈر کی وجوہات بائلوجیکل ہیں جن میں سے ایک فیملی ہسٹری ہے کہ اگر خاندان میں کسی ایک کو ہے تو امکان ہے کہ یہ بیماری  اگلی نسل تک چلے گی۔
2۔  اس کی دوسری وجہ دماغ کے کیمیکلز میں بدلاؤ آجانا ہے۔
 3۔ تیسری وجہ کسی قسم کی دوا کا استعمال یا نشہ آور اشیاء بھی ہو سکتی ہیں۔
 بیماری کا پھیلاؤ/ Prevalence Rate
 بائی پولر ڈس آرڈر کے شروع ہونے کی عمر  15 اور 19 سال کے درمیان کی ہے اور 40 سال کے بعد اس بات کا امکان تقریبا ختم ہو جاتا ہے کہ کسی کو یہ بیماری ہو سکتی ہے۔
 ہر 150 بالغ افراد میں سے کسی ایک کو یہ بائی پولر ڈس آرڈر ہو سکتا ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق 2.4%  لوگوں میں اس بیماری کےآثار دیکھے جا سکتے ہیں۔
 یہ ذہنی بیماری مرد اور خواتین دونوں میں ہو سکتی ہے۔  اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ بیماری جنیٹک ہوتی ہے  یعنی کہ یہ بیماری والدین سے بچے کو ورثے  میں ملنے کے 10 فیصد چانسز ہوتے ہیں۔
 پرہیز اور علاج/Management
 بائی پولر ڈس آرڈر میں وقت گزرنے کے ساتھ،اگر علاج نہ کروایا جائے تو کافی تکلیف دہ صورتحال اختیار کر جاتا ہے۔  بائی پولر ڈس آرڈر کا علاج دوا اور تھیراپی کے ذریعے کسی حد تک ممکن ہے۔
 نوٹ: تمام کردار فرضی ہیں، کسی بھی قسم کی مماثلت  اتفاقی ہو سکتی ہے۔
Facebook Comments HS