ملزمہ نتاشا کو سزا ملنی چاہیے


کارساز روڈ حادثے میں جاں بحق باپ بیٹی کے ورثاء نے ملزمہ نتاشا کو معاف کر دیا ہے۔ نیوز ہے کہ یہ معافی پانچ کروڑ روپے سے زیادہ رقم کے عوض ہوئی ہے۔

کارساز روڈ حادثہ، باپ بیٹی کی فوتگی، اور ورثاء کا کیس میں معافی نامہ قانون و انصاف کی سوال پر سوالیہ ہے!

اگر دیکھا جائے تو روڈ حادثات میں زخمی ہونے اور مرنے والوں کے حوالے سے ویسے ہی قانونی چارہ جوئی انتہائی کمزور ہے۔ خود قانونی کمزوری الگ ایک معاملہ ہے، پاکستان پینل کوڈ میں ٹریفک حادثے میں قتل ”قتل خطا“ کے زمرے میں آتا ہے، اور اس قتل کا سیکشن نمبر 320 قابل ضمانت اور قابل راضی نامہ جرم ہے، اس سیکشن کی بنیادی سزا دیت بنتی ہے، کیس کے حالات و واقعات کو دیکھ کر دیت کی سزا کے ساتھ دس سال قید تک کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

اس واقعے کے کیس کو ٹھوس قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ملزمہ نتاشا کی ضمانت پر رہائی تو پہلے دن ہی بنتی تھی، کیونکہ کہ ٹریفک حادثے سے قتل کا سیکشن قابل ضمانت جرم ہے۔ دوسری طرف دیت کی حالیہ مقرر شدہ رقم 68 لاکھ روپے فی کس متوفی بنتی ہے، جو نتاشا کی وکیل نے زر ضمانت میں جمع کروانے کی پیشکش کی تھی۔ مگر ایف آئی آر میں 322 سیکشن یعنی ”قتل بے سبب“ کے غلط اندراج کی وجہ سے نہ ہو سکی، حقیقت یہ ہے سیکشن کے غلط اندراج کے باوجود ملزمہ کی پہلے دن بھی ضمانت ہو سکتی تھی۔ مگر اس حادثے اور واقعے کی متعلق عوام میں پائے جانے والے غم اور غصے کی وجہ سے سسٹم نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ضمانت نہ دی۔

اب کیس میں مدعی/ ورثاء نے قانون میں موجود دیت کی سزا جو کہ اگر ہو بھی تو 68 لاکھ روپے فی متوفی ہے کی گنجائش کو دیکھ کر ملزمہ کو (معاف! ) کر دیا ہے۔

اس کیس میں جرائم کے حوالے سے جو دفعات بتائے گئے ہیں ان میں قتل دو 320 اور 322 قتل کے ہیں۔ چالان میں کسی ایک سیکشن کو شامل ہونا ہے، باقی دفعات میں 337 G ٹریفک حادثے میں زخمی کرنا، 279 خطرناک، جان لیوا ڈرائیونگ کرنا، 427 ڈرائیونگ سے مالی نقصان کرنا۔ 279 سیکشن کو چھوڑ کر باقی سارے سیکشن میں جرائم قابل ضمانت اور قابل راضی نامہ ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو یہ قانون میں ٹریفک حادثے میں مالی نقصان، زخمی حتیٰ کہ قتل کرنے والے ملزم کے لئے بہت ہی زیادہ رعایت دی گئی ہے۔

ایک خبر کے مطابق ملزمہ نتاشا کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق حادثے کے وقت وہ نشہ کے اثر میں تھی، اس نشے کے سیکشن کا بھی اضافہ ہونا ہے۔ نتاشہ کے میڈیکل رپورٹ کے مطابق نشہ آئس۔ کرسٹل میتھ پایا گیا ہے جو کہ منشیات کی درجہ بندی میں آتا ہے مگر سننے میں آیا کہ متوقع چالان میں شراب نوشی کے خلاف قانون حدود سیکشن شامل کیے جا رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی شہر میں ٹریفک حادثات میں ایک اندازے کے مطابق سالانہ 1000 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔

اور اس کیس میں اگر ملزمہ کو کچھ بھی نہیں ہوتا ہے تو یہ کیس ہمارے پوری قانون و انصاف کے نظام کو ایک مذاق بنانے جیسا ہو گا۔

مختصر تجویز یہ کہ اس طرح کے ٹریفک حادثات کو دیکھتے ہوئے قانون میں مناسب تبدیلی و ترامیم کی اشد ضرورت ہے۔

ابھی اس کیس میں لے دے کر ریاست/پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کے پاس دو سیکشنز 279 جان لیوا ڈرائیونگ اور آئس/میتھ/شراب کے نشے میں حادثہ کرنے کے ہیں جو ناقابل راضی نامہ ہیں۔ جن کی سزا دو سال تک قید و جرمانہ ہے۔ یہ کم سزا بھی ملزمہ نتاشا کی آئندہ کی کارپوریٹ زندگی میں سزا یافتہ مجرم ہونے کا سبب بن سکتی ہے، قانون اور انصاف کا تقاضا بھی پورا ہو گا۔

Facebook Comments HS