رانا سانگا اور سلاطین دلی کا میدان جنگ: گڑگاؤں


مجھے 1999 میں بھارت کا یک طویل سفر کرنے کا موقع ملا۔ اس سفر میں جو دیکھا اس کا احوال پیش خدمت ہے۔

دہلی سے پہلے ہم ایک ایسے علاقے سے گزر رہے تھے جس کا تاریخ میں بارہا ذکر آیا ہے۔ موجودہ دور میں بھی اس کی اہمیت میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ میرے ایک انتہائی پیارے دوست یاسین خان صاحب کے آبا و ٔ اجداد کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا۔

اس علاقے کے بارے میں جاننے کے لیے میں نے درج ذیل تین کتابوں سے استفادہ کیا۔
شائل میرام کی کتاب Against History، Against State
ڈاکٹر اعجاز احمد کی کتاب History of Mewat
بخشیش سنگھ نیجار کی کتاب Origins and History of Jats and Other Allied Nomadic Tribes of India: 900 B۔

جو جانا اس کا ایک مختصر ذکر پیشِ خدمت ہے۔

گوگرون جھاوار پتن کے پاس ہی ہے جہاں گجرات اور مالوا کے مسلمان حکمرانوں کی مشترکہ افواج اور میواڑ کے رانا سانگا کی سربراہی میں راجپوتوں کی ایک بڑی فوج کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ لڑی گئی جس میں راجپوتوں کو فتح حاصل ہوئی۔ اس کے بعد رانا سانگا کے لیے مالوا کی فتح بے حد آسان ہو گئی۔

رانا سانگا نے سلطان کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کیا لیکن رانا نے سلطان سے پانچ ہزار گھوڑوں کا بھاری جرمانہ بھی وصول کیا۔ اس لڑائی کے بعد رانا سانگا نے ایک اور جنگ میں ابراہیم لودھی کو بھی شکست دی۔ رانا سانگا سے متعلق تاریخ میں بے حد مواد موجود ہے۔ اس نے سلاطین دلی کا مقابلہ بھی کیا اور انھیں شکست دی۔ جب بابر نے ابراہیم لودھی کو شکست دی تو بابر نے سوچا کہ اس کی حکومت اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک وہ رانا سانگا کو زیر نہ کر لے۔ رانا سانگا نے بھی اس کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور پہلی جنگ میں بابر کو شکست دی۔ ایک سال بعد دوبارہ جنگ ہوئی، جس میں رانا سانگا کی فوج اسے زخمی حالت میں میدان جنگ سے باہر لے گئی۔ جب اسے پتہ چلا کہ فوج میدان جنگ سے باہر چلی گئی ہے تو اس نے دوبارہ جنگ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس کے سردار ہمت ہار چکے تھے اور وہ میدان جنگ سے باہر ہی موت کی آغوش میں چلا گیا۔

میں اس سفرنامے میں رانا سانگا کے بارے میں کچھ زیادہ تو نہیں لکھ سکتا لیکن اس کی زندگی کی دو باتیں نہایت قابلِ ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بہت بڑا جنگجو تھا اور اس نے بیسیوں جنگیں لڑیں اور ان جنگوں میں اس کی آنکھ، ہاتھ اور پاؤں کو نقصان بھی پہنچا لیکن اس کے باوجود بھی سوائے آخری جنگ کے وہ اکثر جنگوں میں فتح یاب ہوا۔ فتح حاصل کرنے کے بعد اس نے دشمن کو قید بھی کیا لیکن ان کے ساتھ اچھا سلوک بھی کیا۔ اس نے افغانیوں، مغلوں اور سلاطین دلی کے ساتھ باری باری جنگ کی اور ان سب کو شکست دی۔ میرے علم کے مطابق وہ ہندوستان کا واحد سردار تھا جس نے تینوں غیر ملکی حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔

دوسری بات مجھے یہ معلوم ہوئی کہ وہ باکمال سیاسی شعور بھی رکھتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ اکیلا غیر ملکی حملہ آوروں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس لیے اس نے اپنے قرب و جوار اور دور دراز میں واقع مختلف ہندو ریاستوں سے اپنے تعلقات استوار کیے اور انھیں اپنے ساتھ جنگ میں لے کر گیا۔ ایسا صرف اچھی سیاسی سوچ کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے۔ اس نے تمام ریاستوں کے راجاؤں کو یہ بات باور کروائی کہ اگر سلاطین دلی اور اس کے بعد افغان لودھی اور اس کے بعد بابر کا راستہ نہ روکا گیا تو یہ تمام ریاستوں کو ختم کر دیں گے۔ اس لیے ضروری تھا کہ وہ سب مل کر ان کا مقابلہ کریں۔ اس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہوا۔ اسے ہندو دھرم میں ایک بڑا مقام حاصل ہے۔ ان کے نزدیک رانا سانگا کی شکست نے ہندوستان کی تاریخ کا فیصلہ کر دیا اگر وہ شکست نہ ہوتی تو کبھی بھی مغلوں کو ہندوستان میں حکومت کا موقع نہ ملتا۔ تاریخ سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ مغلوں نے رانا سانگا کو شکست دی اور اس طرح انھوں نے ان تمام علاقوں پر قبضہ کیا جہاں پر رانا سانگا حکمرانی کرتا تھا۔

گوگرون قلعے : اپنی نوعیت کا واحد قلعہ

راجستھان میں بے شمار قلعے موجود ہیں۔ ان میں ایک قلعے گوگرون بھی ہے جو جھالاور ریاست میں واقع ہے۔ یہ قلعہ یونیسکو کی اس فہرست میں ہے جسے تاریخی طور پر محفوظ کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایسا اس کے غیر معمولی فن تعمیر کی وجہ سے ہے۔ کہتے ہیں کہ اس قلعے کی تعمیر ساتویں صدی میں ہوئی لیکن اسے سب سے زیادہ ترقی چودہویں صدی میں اس وقت کے راجہ نے دی۔

اس قلعے کے پاس ایک دریا بہتا ہے یہ قلعہ چاروں طرف سے پانی میں گھرا ہوا ہے۔ اس قلعے میں بے شمار مندر ہیں۔ اس کے علاوہ اس قلعے میں صوفی بزرگ میتھ شاہ کا مقبرہ بھی ہے جہاں ہر سال محرم میں ایک بڑا میلہ لگتا ہے جس میں ہندو اور مسلمان دونوں ہی بڑے شوق سے شریک ہوتے ہیں۔ بھارت بھر میں مسلمان صوفیا کرام کے ایسے بے شمار مزار ہیں جو ہندوؤں کے نزدیک بھی قابلِ احترام ہیں۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس قلعے پر تین سو سال تک ایک ہندو خاندان کی حکومت رہی۔ کہا جاتا ہے کہ اس قلعے پر قبضے کی خاطر چودہ جنگیں لڑی گئیں اور دو جوہر کے واقعات بھی ہوئے۔

تاریخی کتب کے مطابق اچل داس قلعے کا آخری حکمران تھا۔ اس کے دور میں سلطان ہوشنگ شاہ نے اپنی بڑی فوج کے ساتھ اس قلعے کا محاصرہ کیا۔ بہت جلد اسے اپنی شکست کا یقین ہو چکا تھا لیکن پھر بھی اس نے لڑنے کو ترجیح دی اور ایک بہادر حکمران کی طرح بہادری سے لڑتے ہوئے میدان جنگ میں موت کو گلے لگایا۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ہوشنگ شاہ نے فتح حاصل کرنے کے بعد اچل داس کی بہادری سے متاثر ہو کر اس کے ذاتی کمرے اور بستر کو اسی حالت میں رہنے دیا، جو 1950 ء تک اسی جگہ پر رہا۔

کسی بہادر کا بہادر کی قدر کرنے کا یہ بھی ایک انداز ہے!

Facebook Comments HS