ففتھ جنریشن کے سپاہی یا ڈیجیٹل دہشت گرد


پاکستان تحریک انصاف کا گزشتہ روز کا جلسہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دھمکیوں، تشدد، ریاستی جبر اور بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود لوگوں کو باہر نکلنے سے کبھی نہیں روکا جا سکتا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں قانون یا آئین کا احترام نہیں ہے اور خاص طور پر 9 مئی کے واقعے کے بعد جب ایک خاص سیاسی جماعت کو سانس لینے کی بھی اجازت نہیں ہے ایسے میں چاروں صوبوں سے جان ہتھیلی پر رکھ کر باہر نکلنا ایک بہت بڑی بات ہے اور اس کا کریڈٹ تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو تو بالکل نہیں جاتا۔ لوگ باہر نکلے ہیں تو اس کی وجہ عمران خان ہے۔

تحریک انصاف کے اس جلسے کے بعد کیا سسٹم میں خان کو کوئی سپیس ملتی نظر آ رہی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ تحریک انصاف سے زیادہ نون لیگ اور باقی جماعتیں اس کا جواب جاننا چاہ رہی ہیں۔ کیوں کہ اطلاعات کے مطابق 21 اور 22 اگست کی رات پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کی خبر میڈیا کے کچھ حلقے رپورٹ کر رہے ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرس کچھ الگ ہی بتا رہی ہے لیکن پس پردہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ حوصلہ افزا ہے۔ کیوں کہ بظاہر اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کا جھگڑا تو بہت آگے بڑھ چکا ہے لیکن دونوں کا رشتہ لو اینڈ ہیٹ والا ہے۔ اسی وجہ سے افواج پاکستان کے ترجمان اور متعدد سیاسی رہنماؤں کی طرف سے بارہا تحریک انصاف سے معافی کا مطالبہ اور آگے بڑھنے کا عندیہ دیا جا چکا ہے۔

علی امین گنڈاپور کی طرف سے کل جس طرح کی زبان استعمال کی گئی اور جیسے ڈیڈ لائن دی گئی اس سے حالات بہتری کی طرف جاتے نظر نہیں آ رہے۔ اور کل کے جلسے میں جس طرح سے رکاوٹیں ڈالی گئی تھیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کی طرف سے یہ دھمکی دی گئی تھی کہ اگر رکاوٹیں نہ ہٹائی گئیں تو یہ جلسہ دھرنے میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ جس کے بعد حکومت نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دی کیوں کہ اگر جلسہ نہ کرنے دیا جاتا تو حکومت کے لیے خطرہ بڑھ جاتا۔ کیوں کہ جس جذبے کے ساتھ لوگ آرہے تھے ان کو روکنا مشکل ہو جاتا۔ حالات جس طرف جا رہے ہیں نون لیگ کے لیے مشکلات ہی مشکلات ہیں کیوں کہ معیشت کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے اور لوگوں کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

تحریک انصاف کے اندر فیصلہ سازی کرنے والا کوئی نظر نہیں آ رہا کیوں کہ فیصلہ سازی کا مکمل اختیار صرف عمران خان کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کا سپورٹر عمران خان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا۔ عمران خان جو فیصلہ کرے گا لوگ بھی مانیں گے اور تحریک انصاف کے باقی لیڈرز بھی۔ لیکن ان کا جیل سے باہر آنے کا پراسس بہت لمبا ہو چکا ہے کیوں کہ ایک سال سے زیادہ ہو چکا ہے اور آج بھی ایسے لگتا ہے کہ جیسے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات پوائنٹ زیرو پر کھڑے ہیں۔ ہر باشعور پاکستانی چاہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت یا کسی بھی شعبے سے ہے ایک بات پر اس کا مکمل یقین ہے کہ عمران خان موجودہ سیاستدانوں میں سب سے بہتر چوائس ہے۔

تحریک انصاف کو میدان میں نکلنا ہو گا لیکن ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا کیونکہ مخالفین گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ کب موقع ملے اور کب ایک اور 9 مئی کروایا جائے۔ ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور نوجوان عمران خان کے ساتھ ہیں اور یہ بات صاحب اقتدار کو بھی پتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ معاملات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کوئی فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ جو لوگ آج ڈیجیٹل دہشت گرد ہیں، کل تک ڈی جی آئی ایس پی آر ان سے ملتے تھے اور ان کو ففتھ جنریشن وار کے سپاہی کہا جاتا تھا۔

Facebook Comments HS