امریکی انتخابات اور پاکستانی سیاست پر ممکنہ اثرات


پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اور اسٹیبلشمنٹ امریکہ کے نومبر میں ہونے والے انتخابات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ شروع میں ایسے لگ رہا تھا کہ ٹرمپ یہ الیکشن آسانی سے جیت جائیں گے مگر جو بائیڈن کے انتخابات سے دستبرداری کے بعد سخت مقابلہ کی توقع کی جا رہی ہے۔ اپنی پارٹی کے اندر جو بائیڈن کی نامقبولیت کے مقابلے میں کملا ہیرس ڈیموکریٹس کی ایک متفقہ امیدوار کے طور پر سامنے آ چکی ہیں ان کے آنے سے ڈونلڈ ٹرمپ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سوئینگ ریاستوں میں کملا ہیرس اپ سیٹ کر سکتی ہیں۔ امریکہ میں مقیم مسلم کمیونٹی جو بائیڈن کی اسرائیل کے لئے مسلسل حمایت سے کافی ناراض ہے مگر ڈونالڈ ٹرمپ بھی مسلسل اسرائیل کی فلسطینیوں کو کچلنے کے اقدامات کو کھل کر سپورٹ کرتے ہیں اس لئے مسلم ووٹرز ایک مخمصہ کا شکار نظر آتا ہے۔

جو بائیڈن سے تحریک انصاف والے بھی کافی ناراض ہیں اور شروع میں یہی بیانیہ بنایا گیا تھا کہ عمران خان کی حکومت ختم کرنے کے لئے امریکی حکومت نے کردار ادا کیا۔ عمران خان نے امریکی سفارت کار کے خط کو جلسہ عام میں لہرا کر براہ راست جو بائیڈن پر الزام لگایا تھا کہ رجیم چینج ایک سازش کا شاخسانہ ہے۔ جو بائیڈن نے بھی عمران خان سے سرد مہری کا رویہ رکھا جس کی ایک وجہ شاید ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ممکنہ قربت بھی تھی۔

اس لئے تحریک انصاف والے سمجھتے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے الیکشن میں کامیابی کی صورت میں ان کی پارٹی کو فائدہ پہنچے گا اور وہ پاکستان پر پریشر ڈالیں گے کہ وہ عمران خان کی پارٹی کو فئیر پلے گراؤنڈ دیں۔ حال ہی میں کانگرس نے پاکستان کے فروری میں ہونے والے متنازع انتخابات پر سوالات اٹھائے تھے اور ان انتخابات میں ہونے والی ممکنہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جس پر پاکستان کی حکومت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اس کو اپنے معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا اور اسمبلی میں اس مداخلت کے خلاف قراردادیں پاس کروائی گئیں۔

مگر تحریک انصاف نے اس کو اپنی ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ امریکہ کے حکومتی سسٹم میں کانگرس، وائٹ ہاؤس، پینٹا گون اور سپریم کورٹ مختلف پاور سنٹرز ہیں جن کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پینٹاگون کی ہماری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قریبی شراکت داری ہے۔ ضیا اور مشرف کے طویل آمرانہ ادوار میں افغانستان میں جاری جنگ و جدل کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کی افواج میں قریبی تعلقات رہے ہیں۔ امریکہ کے اپنے مفادات یہی ہیں کہ پاکستان کے حقیقی حکمرانوں سے اچھے تعلقات رکھے جائیں اور پاکستان کو امریکہ مخالف چین، روس یا ایران کیمپ میں جانے سے روکا جائے۔

اس وقت مشرق وسطیٰ میں جس قسم کے حالات ہیں اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تصادم کے شدید خطرات موجود ہیں تو پینٹا گون پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ سے نہیں بگاڑنا چاہے گا۔ اس لئے تحریک انصاف کو ٹرمپ کی جیتنے کی صورت میں بھی زیادہ توقعات نہیں باندھنی چاہئیں۔ موجودہ حکومت کو خطرہ امریکہ میں ممکنہ تبدیلی سے اتنا زیادہ نہیں ہو گا جتنا خطرہ معیشت کی زبوں حالی اور عام آدمی کی مہنگائی کے ہاتھوں پیدا ہونے والی بے چینی سے ہو سکتا ہے۔

امریکہ کے لئے ایک اور مسئلہ پاکستان کی چین کے ساتھ قریبی شراکت داری سے ہو سکتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے مغربی پریس یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان کے معاشی مسائل کی وجہ چین سے لئے گئے مہنگے قرضے ہیں اور چین سے ان قرضوں کی ری شیڈیولنگ کروانا ممکن نہیں ہو گا۔ دوسری طرف پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرضہ حاصل کرنے کے لئے سخت ترین شرائط کا سامنا ہے۔ ان سخت شرائط کو مان کر حکومت مختلف ٹیکسز لگا رہی ہے اور سبسڈیز ختم کر رہی ہے اور بجلی کے نرخوُں میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے تاجروں سمیت کئی طبقات احتجاج کے لئے پر تول رہے ہیں۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پاکستان کو شدید بدامنی کا سامنا ہے اور اس کو بھی خطے میں ایک گریٹ گیم کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ سی پیک پر کام کرنے والے چینی انجینئروں پر حملے کیے گئے ہیں اور سی پیک کا اہم ترین منصوبہ گوادر کی بندرگاہ کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔ اس وقت امریکہ کے قریبی تعلقات بھارت کے ساتھ قائم ہیں۔ یوکرین جنگ کے دوران بھارت روس سے سستا تیل لیتا رہا اپنے ملک کو دنیا بھر میں آنے والی مہنگائی کی لہر سے بچائے رکھا اور امریکہ اس پر خاموش رہا۔

اس طرح کی سہولت پاکستان کو حاصل نہیں ہو سکی۔ ہمیں ایران کے ساتھ پائپ لائن مکمل نہیں کرنے دی جا رہی ہے اور سی پیک منصوبے کو مکمل کرنے میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ ان تمام مسائل کا حل تو قومی ہم آہنگی اور سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ ایک بات طے ہے کہ امریکہ میں جو بھی حکومت آئے گی وہ ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے اپنے مفادات کو سامنے رکھے گی

Facebook Comments HS