یورپ بھی ذرا جھانک آؤں


لکسمبرگ سے بہار کے موسم اور مارچ کے مہینے میں ایک خط موصول ہوا کھول کر دیکھا تو خط انگلش زبان میں لکھا ہوا تھا۔ گو کہ ایک کھرے اور روایت پسند دیہاتی ہونے کے ناتے انگریزی زبان سے ہماری شروع سے ہی لاگ ڈاٹ رہی ہے۔ لیکن چار جماعتیں پڑھ جانے کی وجہ سے ہمیں یہ بھی زعم ہے کہ ہم انگریزی پڑھ بھی سکتے ہیں اور سمجھ بھی سکتے ہیں۔ اسی اعتماد کے سبب ہم نے اس فرنگی مراسلے کو پڑھنا شروع کر دیا۔ تین چار لائنیں پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ ایک بھی لفظ پلے نہیں پڑا۔ یہاں تک کہ this، are، am، is، اور That جیسے الفاظ بھی کہیں نظر سے نہیں گزرے تھے۔ دل میں اچانک خیال آیا کہ ریٹائر ہوئے دس سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس عرصے میں اس فرنگی زبان سے کسی بھی قسم کی کوئی رسم و راہ نہیں رہی ہے۔

دورانِ ملازمت تو خط و کتابت میں یہی زبان استعمال ہوا کرتی تھی۔ اس لیے اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ صاحب سلام رہتی ہی تھی جو عرصہ دراز سے ختم ہو چکی ہے اور اب ہم یہ زبان کلیتاً بھول چکے ہیں۔ ویسے مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آئین پاکستان میں ہماری قومی زبان اُردو بتائی جاتی ہے۔ تو پھر دفاتر میں انگریزی کا کشٹ کاٹنے کی کیا ضرورت ہے۔

مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہمارے سی۔ او نے ڈی سی او کو بذریعہ درخواست گزارنا تھی کہ سٹاف کی ترقی کے لیے ڈیپارٹمنٹل پرموشن کمیٹی کا اجلاس بلوانے کی اشد ضرورت ہے۔ جس میں آپ کی موجودگی لازمی ہے۔ ہمیں ڈی پی سی بلوانے کے لیے وقت کا تعین کرنے کے لیے آپ کی رائے درکار ہے۔ برائے مہربانی اس سے مطلع کریں ایک ہفتہ گزر گیا۔ ڈی۔ سی۔ او کو خط نہ لکھا گیا۔ دو ہفتے گزر گئے مہینہ گزر گیا لیکن مذکورہ خط نہ لکھا جا سکا۔ میری پروموشن اس میٹنگ سے منسلک تھی۔

اس لیے میں تقریباً دوسرے تیسرے روز صورتِ حال کا پتہ کرواتا تو معلوم ہوتا کہ معاملہ جوں کی توں ہی ہے۔ آخر کار میں نے اس غیر معمولی تاخیر کی وجہ معلوم کی تو پتہ چلا کہ جس کلرک نے یہ خط ڈرافٹ کرنا ہے۔ وہ دو ماہ کی چھٹی پر ہے اور یہ خط اسی ایک دفتری کے پاس ہی ہے۔ وہ جب چھٹی سے واپس آئے گا تو پھر وہ خود ہی اسی قسم کے خط سے مکھی پر مکھی مار کر ڈی سی صاحب کو مذکورہ خط تحریر کرے گا۔ میں نے کہا کہ آپ اُردو زبان میں لکھ دیں اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو میں انگلش میں ڈرافٹ بنوا کر بھجوا دیتا ہوں۔ لیکن دوسری جانب سے اس تجویز پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ متعلقہ کلرک کے آنے پر طے شدہ طریقہِ کار کے مطابق ہی یہ دفتری کام سر انجام دیا گیا۔

ایک بار میں پنجاب سیکرٹریٹ لاہور میں ایک بیوروکریٹ کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ موصوف نے اپنے سامنے اتنی بڑی انگلش ڈکشنری اس کام میں مدد لینے کے لیے رکھی ہوئی تھی۔ گورنمنٹ ہائی سکول روجھان میں میرے پہلے ہیڈ ماسٹر شاہ صاحب جب بھی کوئی سرکاری خط پڑھتے یا لکھتے تو ڈکشنری کو استعمال میں لانا اُن کا روز مرہ کا معمول تھا۔ بلکہ وہ خط ڈرافٹ کرتے وقت ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے مشکل اور کم معروف الفاظ کا کثرت سے استعمال کیا کرتے تھے کہ اسے پڑھنے والا بھی لغت کے بغیر اسے سمجھنے سے قاصر ہوتا۔

سرکاری میٹنگز میں انگریزی بولنا اہلیت کی ایک مضبوط دلیل خیال کیا جاتا ہے۔ بہرحال آئین پاکستان میں وضاحت اور سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود ہم ابھی تک اپنی قومی زبان اُردو کو اپنے دفاتر میں جگہ نہیں دے سکے۔ ویسے یہ کوئی تعجب کی بات بھی نہیں ہے۔ مقتدر لوگ زندگی کے باقی شعبوں میں بھی کون سا آئین کی شقوں اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔

بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔ لکسمبرگ سے موصول ہونے والے خط کی انگلش کو سمجھنے کے لیے ڈکشنری کا سہارا اور گوگل سے بھی مدد لینے کی کوشش کی گئی لیکن بے سود کہیں سے کچھ بھی پلے نہیں پڑ رہا تھا۔ بہرحال ہم نے بھی ہمت نہ ہاری پڑھتے ہی چلے گئے۔

زندگی میں پہلی بار احساس ہوا کہ قرآن مجید ہی وہ واحد کتاب ہے حصولِ ثواب کے لالچ میں جس کو بغیر سمجھے پڑھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی دوسری زبان کو سمجھے بغیر پڑھنا خاصا دشوار اور مشقت طلب کام ہے۔

بہرحال تقریباً آدھا صفحہ پڑھنے کے بعد اچانک ہی وہ مراسلہ کچھ کچھ سمجھ آنے لگ گیا۔ بغور جائزہ لینے پر علم ہوا کہ خط کا وہ حصہ جو ہماری سمجھ سے باہر تھا وہ دراصل لکسمبرگش زبان میں لکھا ہوا تھا۔ جس کے لیے حروف ِ تہجی انگلش کے ہی استعمال کیے جاتے ہیں اور اس کے نیچے اس خط کا انگریزی ترجمہ بھی لکھا گیا تھا جس کی کچھ کچھ شد بدھ لگ رہی تھی۔ اس ترجمے کی ہمیں جو سمجھ آئی وہ کچھ یوں تھی۔ حکومت لکسمبرگ مسرت و شادمانی کے ساتھ آپ کو اپنے ہاں تشریف لانے کے لیے درخواست گزار ہے۔ آپ کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ صد افتخار ہوگی اور ہم آپ کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیے بیٹھے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہمارا اپنا کونسلیٹ تو پاکستان میں موجود نہیں ہے لیکن ہم نے بلجیم کونسلیٹ کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کر دی ہیں۔

آپ وہاں ایک ماہ کے اندر اندر تشریف لے جا کر انہیں اپنا پاسپورٹ مرحمت فرما دیں۔ اس طرح آپ کا پاسپورٹ اُن کے ذریعے ہم تک پہنچ جائے گا اور ہم اس کے اوپر ویزہ سٹمپ کر دیں گے تاکہ سند رہے کوئی سرکاری یا غیر سرکاری کارندہ سد راہ بننے کی کوشش نہ کرے اور بوقت ضرورت آپ کے کام بھی آئے۔ دعوت کا یہ دلبرانہ انداز مجھ جیسے مجرد زندگی گزارنے والے انسان کے لیے خصوصی دل چسپی اور کشش کا حامل تھا۔ لیکن اس کے باوجود میں نے بے تابی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے پندرہ بیس دن گزر لینے دیے تاکہ کافر فرنگی یہ نہ سمجھیں کہ میں حصولِ ویزہ کے لیے مرے جا رہا ہوں۔

بہرحال پندرہ بیس دن گزرنے کے بعد بظاہر بچوں کے پر زور اصرار پر میں نے اپنے چھوٹے بیٹے بدر خالد کے ساتھ لاہور میں واقع بلجیم کونسلیٹ جانے کا پروگرام فائنل کر لیا۔ لاہور جاتے ہوئے اپنے دیرینہ دوست بشیر صاحب کو بھی ساتھ لے لیا۔ اب میں راستے میں مختلف لوگوں کو فون کر رہا تھا۔ ہیلو میں لاہور آ رہا ہوں آپ سے ملوں گا۔ جب اسی قسم کے پانچ سات ٹیلی فون کرچکا تو بدر بے زاری سے بولا ایک تو آپ پینڈو لوگوں کو یہ بڑا مسئلہ ہے کہ آپ نے جب کبھی لاہور جانا ہوتا ہے تو تمام واقف کاروں کو بتانا اور اُن سے ملنا ضرور ہوتا ہے۔

آپ کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ اگر ہم نے آج واپس آنا ہے تو دفتر سے فارغ ہو کر ہم زیادہ سے زیادہ ایک جگہ جا سکتے ہیں۔ بہرحال مجھے اس کی یہ صاف گوئی اتنی اچھی نہیں لگی۔ اس نے میرے پرس میں ایک پچاس ڈالر کا نوٹ اور پانچ دس دس ڈالر کے نوٹ ڈال دیے کہ آپ کو وہاں پراسیسنگ فیس ادا کرنا پڑے گی دو پاسپورٹ سائز فوٹو گراف اور پاسپورٹ کی دو کاپیاں بھی کونسلیٹ کو مہیا کرنے کے لیے میرے حوالے کر دیں۔

ہم ساڑھے دس بجے دفتر مذکورہ کے سامنے پہنچ چکے تھے لیکن وہاں ہمیں گیارہ بجے کا وقت دیا گیا تھا۔ اس لیے ہم نے بیس پچیس منٹ ادھر اُدھر گزار دیے۔ ٹھیک گیارہ بجے میں دفتر میں داخل ہوا۔ ری سیپشن پر میرا موبائل مجھ سے لے لیا گیا اور مجھے وہاں سے ایک انٹری چٹ دے دی۔ یہاں پر رائج رسوم و رواج کے مطابق میں نے وہ چٹ بڑی احتیاط سے سنبھال لی۔ جس پر میرا نمبر 151 درج تھا اور اندر تھوڑے سے فاصلے پر موجود دفتر میں پہنچ گیا۔

اندر داخل ہوتے ہی میں نے چاروں طرف دیواروں پر جھانکا تو ایک دیوار پر روشن پٹی موجود تھی جس پر 178 Belj درج تھا۔ میں اب وہاں ویٹنگ روم میں بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ انتظار طویل ہی ہوتا جا رہا تھا لیکن مجھے پچھلے سال کا تجربہ تھا کہ جب میرا نمبر اور بوتھ نمبر دیوار پر ڈسپلے ہو گا تو میں نے جانا ہے۔

دو اڑھائی گھنٹے اسی طرح گزر گئے میرے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص نے مجھ سے پوچھا آپ نے کس ملک کے لیے ویزا پلائی کرنا ہے میں نے کہا کہ لکسمبرگ اور اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ میں ابھی سے ہی مغربی رسوم و رواج کے مطابق بے تکلفی سے گریز کر رہا تھا۔ وہ شخص اٹھا اور ری سیپشن پر موجود بی بی کے پاس چلا گیا۔ کچھ دیر کھسر پسر کرنے کے بعد ایک بوتھ پر جا کر لائن میں لگ گیا اور دس پندرہ منٹ بعد وہ فارغ ہو کر جا چکا تھا۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ میں جب سے یہاں آ کر بیٹھا ہوں بلجیم جانے والے لوگوں کو ہی بلایا جا رہا ہے۔

لکسمبرگ جانے والے کا تو ایک بھی ٹکر نہیں چلا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں بھی جھجکتا ہوا ری سیپشن والی بی بی کے پاس چلا گیا اور اُسے بتایا کہ میں نے لکسمبرگ کے لیے ویزہ حاصل کرنا ہے۔ اس نے دو تین بار مجھے سر سے پاؤں تک گھور کر دیکھا اور پھر بولی کہ آپ کافی دیر سے یہاں موجود ہیں آپ کے بعد میں آنے والے بھی اپنے کاغذات جمع کروا کر چلے گئے اور آپ ابھی تک ویسے ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔

بہرحال اب آپ بوتھ نمبر 4 پر چلے جائیں وہاں مجھ سے پہلے دو لوگ موجود تھے۔ اُن کے فارغ ہونے کے بعد میری باری آئی تو ڈیوٹی افسر نے مجھ سے تیس ڈالر طلب کیے جو میں نے فوراً ہی بٹوے سے نکال کر اس کے حوالے کر دیے۔ پھر اس نے دو پاسپورٹ سائز فوٹو گراف اور پاسپورٹ کی دو فوٹو کاپیاں طلب کیں۔ اب میں نے اپنے پرس کی جیبوں میں اُن کی تلاش شروع کر دی۔ دو تین بار ساری جیبیں دیکھنے کے بعد بھی مطلوبہ دستاویزات نہ ملیں تو ڈیوٹی افسر نے کہا کہ فکر نہ کریں اگر آپ کے پاس یہ چیزیں موجود نہیں ہیں تو کمرے کے بائیں ہاتھ پر فوٹو سٹیٹ والا بیٹھا ہوا ہے وہ فوٹو کاپیاں بھی کر دے گا اور فوٹو گراف بھی بنا دے گا۔

میں نے دو ہزار روپوں کے عوض اس سے دونوں چیزیں بنوا کر ڈیوٹی افسر کو دے دیں جس نے تمام چیزوں کو ایک فائل کور میں لگا کر میرے سپرد کر کے ایک دوسرے بوتھ پر بھیج دیا اور وہاں پر میں نے کاغذات جمع کروائے او ر دفتر سے باہر چلا آیا۔ باہر بدر میرا منتظر تھا جب میں نے گاڑی میں بیٹھ کر آرام سے اپنا موبائل نکالنے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہاں پر بدر کے دیے ہوئے میرے فوٹو گراف اور پاسپورٹ کی فوٹو کاپیاں موجود تھیں۔ بدر کی اُن پر نظر پڑی تو بولا کہ آپ نے وہاں جمع نہیں کروائیں تو میں نے اُسے ساری رام کہانی صحیح صحیح سنا دی۔ تو وہ کہنے لگا کہ بابا جی آپ کہیں بھیجنے والے تو نہیں ہیں۔ میں نے ایک نظر اُسے گھور کر دیکھا اور خاموش ہو گیا۔

رات دس بجے کے قریب ہم بوریوالا پہنچ گئے اور دو ہفتوں کے بعد میرا پاسپورٹ بھی میرے پاس بوریوالا بذریعہ کوریر سروس پہنچ گیا۔ جس پر 105 دنوں کے لیے ویزہ لگا ہوا تھا۔ افضل سعید سے اس بارے میں ناروے بات چیت ہو رہی تھی تو وہ بہت حیران ہوا کہ شینجن کا وزٹ ویزہ تو عموماً 89 دنوں کا لگتا ہے آپ کا 105 دنوں کا کیسے لگ گیا۔ ویسے سفر کرنے کے لیے بھی تاریخ کا تعین کرنے میں میں نے کسی بھی قسم کی جلد بازی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے چھ ماہ بعد کا وقت یعنی 15 اگست کا وقت دیا تھا اور اب بھی میں 15 اگست کی بجائے 8 ستمبر کو لکسمبرگ روانہ ہو رہا ہوں۔ بچوں کا بس نہیں چلتا ورنہ وہ مجھے انگلی پکڑ کر وہاں چھوڑ کر آئیں کیوں کہ اُن کو خدشہ ہے کہ بابا راستے میں ہی کہیں کھو نہ جائے حالاں کہ ایسی پریشانی والی بات تو کوئی نہیں ہے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “یورپ بھی ذرا جھانک آؤں

  • 11/09/2024 at 2:06 شام
    Permalink

    بہت خوب سر جی

  • 12/09/2024 at 8:16 صبح
    Permalink

    کتھے مہر علی
    کتھے تیری ثناء

    کہاں ریفریشر کورس اور کہاں لکسمبرگ کا سماں

Comments are closed.