مذہب، جنس اور موت کے بارے میں چبھتے ہوئے سوالات


 

محترمی و معظمی تنویر احمد صاحب!

آپ پچھلے چند ہفتوں سے جس باقاعدگی سے مجھ سے سنجیدہ مکالمہ کر رہے ہیں اور زندگی کے اہم موضوعات کے بارے میں سوال پوچھ رہے ہیں ان سے تو یوں لگتا ہے جیسے آپ ایک فلاسفر بننا چاہتے ہیں۔ آپ کی گفتگو سے بالکل نہیں لگتا کہ آپ کی طبعی عمر صرف اکیس برس ہے۔ آپ نے مجھے چند سوال بھیجے ہیں۔ میں ان کے مختصر جواب دوں گا تا کہ "ہم سب” کے قارئین بھی ان سوالات اور جوابات سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔

آپ کا پہلا سوال ہے کہ میں نے روایتی مذہب اور خدا کو کب اور کیوں خدا حافظ کہا۔ میں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے

FROM ISLAM TO SECULAR HUMANISM

میں نے اس کتاب میں اپنے خدا پرستی سے انسان دوستی کے سفر کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ میں یہاں چند باتیں اختصار سے عرض کیے دیتا ہوں۔

مجھے بیس برس کی عمر میں اندازہ ہو گیا تھا کہ مختلف ادوار اور معاشروں میں بہت سے مذاہب مقبول رہے ہیں جن کے عقائد اور اصول ایک دوسرے سے مختلف ہی نہیں متضاد بھی ہیں اس لیے وہ سب درست نہیں ہو سکتے اور ہمارے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں جو یہ بتا سکے کہ ان متضاد مذاہب میں سے کون سا مذہب سچا ہے اور کون سا جھوٹا۔ اکثر لوگ اپنے موروثی مذہب پر ہی ساری عمر گزار دیتے ہیں اور اسے کبھی تنقیدی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔

مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ
کلچر پہلے آیا مذہب بعد میں
زبانیں پہلے آئیں آسمانی کتابیں بعد میں

ہر دور میں مذہبی پیشواؤں نے بعض رسم و رواج بعض عادات و روایات اور بعض تحریروں کو مقدس بنا کر ایک نیا مذہب بنا دیا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ اب ان مقدس کتابوں اور ہستیوں پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا کرے گا تو سنگسار کر دیا جائے گا۔

مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ خدا ایک حقیقت نہیں، استعارہ ہے اسی لیے ہر معاشرے کا خدا کا تصور اور عقیدہ جداگانہ ہے۔

ان خیالات کی وجہ سے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ
خدا نے انسان کو نہیں
بلکہ
انسانی ذہن نے خدا کے تصور کو تخلیق کیا ہے۔

چنانچہ میں نے خدا پرستی کو خدا حافظ کہہ کر انسان دوستی کو گلے لگایا۔ ایسی انسان دوستی جس میں انسان رنگ نسل زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر دوسرے انسانوں کو گلے لگاتے ہیں اور پرامن معاشرے قائم کرتے ہیں۔ انسان دوست جانتے ہیں کہ ہمارے دشمن بھی ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

آپ کا دوسرا سوال ہے کہ انسان کی بنیادی نفسیاتی ضرورت کیا ہے؟

میری نگاہ میں انسان کی بنیادی ضرورت محبت بھرے رشتے ہیں۔ ایسے رشتے جن میں دوسرے انسان اس کی عزت کریں اس کا احترام کریں اور اس کی شخصیت کی تکمیل میں اس کی معاونت کریں۔

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے خاندان اور اپنے معاشرے میں محبت بھرے رشتے بنا سکیں اور نبھا سکیں۔ میرا ایک شعر ہے

آج کل رشتوں کا یہ عالم ہے
جو بھی نبھ جائے بھلا لگتا ہے

جو لوگ محبت بھرے رشتے تعمیر نہیں کر پاتے وہ احساس تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ امریکی ماہر نفسیات ہیری سٹاک سالیوان فرمایا کرتے تھے کہ انسانوں کا سب سے بڑا نفسیاتی مسئلہ اینزائٹی اور ڈپریشن نہیں احساس تنہائی ہے۔ اس مسئلے کا حل محبت بھرے رشتے ہیں۔ جب سالیوان سے کسی نے پوچھا محبت کی کیا پہچان ہے تو فرمانے لگے، ’جب کسی اور انسان کے دکھ سکھ آپ کو اپنے دکھ سکھ کی طرح عزیز ہو جائیں تو سمجھ جائیں کہ آپ ایک محبت بھرے رشتے میں داخل ہو گئے ہیں۔‘

آپ کا تیسرا سوال یہ ہے کہ انسانی رشتوں میں جنس کا کیا کردار ہے؟

تنویر احمد صاحب!
انسانی ارتقا میں انسانی رشتوں میں جنس کی اہمیت و افادیت بدلتی رہی ہے۔ بیسویں صدی میں جب مانع حمل ادویہ مقبول ہو گئیں تو انسانی رشتوں میں جنس کا کردار بدل گیا۔ اب دنیا میں تین طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں جنہیں میں 3 Rs کا نام دیتا ہوں

R …..REPRODUCTION
R……..RELATIONSHIP
R……….RECREATION

پہلا گروہ جنس بچے پیدا کرنے کے لیے کرتا ہے
دوسرا گروہ جنس کو محبت بھرے رشتے کا اظہار سمجھتا ہے
تیسرا گروہ جنس سے محظوظ ہوتا ہے اس کے لیے دو لوگوں کا مباشرت کرنا دو انسانوں کا مل کر آئس کریم کھانے سے زیادہ کچھ نہیں
فکر ہر کس بقدر ہمہ اوست

آپ کا چوتھا سوال یہ ہے کہ میں موت سے کیوں نہیں ڈرتا؟

تنویر احمد صاحب!
میں نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔
میرے نوجوانی کے خواب شرمندہ تعبیر ہوئے۔
اس لیے اب زندگی کی شام میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس دنیا سے کبھی بھی مسکراتے ہوئے رخصت ہو سکتا ہوں۔
میں ایک غیر مذہبی انسان ہوں لیکن انسانوں کی خدمت عبادت سمجھ کر کرتا رہا ہوں۔

میں نے اپنی ذاتی زندگی میں انسان دوستی کے فلسفے کو اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں گرین زون فلسفے کو اپنایا اور دوسروں کی مدد کی کہ وہ بھی گرین زون فلسفے کو اپنا کر صحت مند، خوشحال اور پرسکون زندگی گزاریں تا کہ ہم سب مل کر پر امن معاشرے تعمیر کر سکیں اور آپ جیسے ذہین اور باشعور نوجوانوں کے آگے سرخرو ہو سکیں اور ان کے چبھتے ہوئے سوالوں کے تسلی بخش جواب دے سکیں۔

میرے دو اشعار

نئی کتاب مدلل جواب چاہیں گے
ہمارے بچے نیا اب نصاب چاہیں گے
حساب مانگیں گے اک دن وہ لمحے لمحے کا
ہمارے عہد کا وہ احتساب چاہیں گے

آپ کے مشکل سوالات کے مختصر جوابات دینے کی معذرت

آپ کا دوست
خالد سہیل

نوٹ:
جو دوست میری کتاب ’اسلام سے سیکولر ہیومنزم تک‘ پڑھنا چاہیں وہ مجھے ای میل کریں میں انہیں پی ڈی ایف کاپی تحفے کے طور پر بھیج دوں گا۔ میری ای میل آئی ڈی ہے

welcome@drsohail.com

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

One thought on “مذہب، جنس اور موت کے بارے میں چبھتے ہوئے سوالات

  • 16/09/2024 at 2:23 شام
    Permalink

    بے حد بہترین اور پیاری تحریر۔ سر میں آپ کی تھراپی سے ہی زندگی کو محسوس کرنےلگا ہوں۔ بہت شکریہ سر۔ بے حد محبت

Comments are closed.