قاضی عبد الرشید: کوئی کہاں سے تمہارا جواب لائے گا
آغا شورش کاشمیری کے نام سے کون واقف نہیں۔ انہوں نے آمریت کے خلاف جس بہادری سے جنگ لڑی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یقیناً اس راہ میں آنے والی مشکلات کا جس پامردی سے سامنا کیا اس کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔ ان کا ایک شعر ان کی جد و جہد کا لب لباب بیان کر رہا ہے :
ہمارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا۔
قاضی عبدالرشید رح کی وفات حسرت آیات پر یہ شعر یاد آیا۔ اسلام دشمنوں کی سازشوں کے خلاف ان کی خدمات اور مساعی ہمہ جہت تھیں وہ آخر تک اس محاذ پر ناسازی طبع کے باوجود ڈٹے رہے اور سرخرو ہوئے۔ گزشتہ تین عشروں سے قاضی صاحب سے ربط و تعلق رہا ہمیشہ تپاک سے ملتے۔ تحریک اشاعت اسلام کے پلیٹ فارم پر جب بھی انہیں دعوت دی گئی وہ اکثر سالانہ پروگراموں میں تشریف لاتے اور تحریک کے علماء کرام کے باہمی جوڑ پر مسرت کا اظہار فرماتے اور دوسروں کو تقلید کا مشورہ دیتے۔
قاضی عبدالرشید 1958 ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ دینی تعلیم کے ساتھ انہوں نے عصری تعلیم بھی حاصل کی اور پاکستان ائر فورس کے انجینئرنگ شعبہ میں کام کیا۔ بعد ازاں، دینی علوم کی تکمیل کے لیے جامعہ فاروقیہ کراچی میں داخلہ لیا۔ 1988 ء میں امتیازی نمبروں سے سند فراغ حاصل کی۔ وہ دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد دعوت و تبلیغ سے وابستہ ہوئے۔ جامعہ فریدیہ اسلام آباد میں تدریس سے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا 1992 ء میں دارالعلوم فاروقیہ دھمیال کیمپ راولپنڈی کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ آج پاکستان کے معروف دینی مدارس میں شمار ہوتا ہے۔ وہ طویل عرصہ سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ پنجاب کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں گونا گوں صفات اور کمالات سے بہرہ ور فرمایا تھا، سینکڑوں مساجد و دینی مدارس کا قیام آپ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ پنجاب کے دیہات اور شہروں میں آپ نے دینی مدارس کے تحفظ اور نظریاتی سرحدوں پر بھرپور پہرہ دیا، حق بات ببانگ دہل کہتے، دور دراز مدارس کے سالانہ جلسوں اور تقریبات میں پیرانہ سالی، ضعف اور عَلالت کے باوجود پہنچتے، مدارس کی آزادی اور حریت کا مقدمہ بڑی دلیری سے ہر محاذ اور میدان میں لڑتے رہے۔
عوام میں مدارس کی اہمیت خوب اجاگر کرتے، مدارس کے حوالے سے پھیلائے گئے وساوس کا بڑی عمدگی سے قلع قمع کرتے، آپ کو اگر لسان المدارس کہا جائے تو ہرگز بے جا نہ ہو گا، اندازِ گفتگو نہایت دلچسپ، الفاظ کا اتار چڑھاؤ، انتخاب، برمحل استعمال، چُٹکلے، لطیفے، واقعات و اشعار اور طنز و مِزاح سے بھرپور گفتگو سے مجمع کو اپنا اسیر بنا لیتے۔
قاضی عبدالرشید تمام دینی تحریکوں کے سرپرست اور روح رواں تھے، وہ مسلک دیوبند کے ایسے سپوت تھے، جن کا احترام بریلوی، اہلحدیث اور جماعت اسلامی میں یکساں پایا جاتا تھا۔ قاضی صاحب مرحوم بہترین مدرس، نکتہ داں خطیب، سلیقہ مند منتظم ہونے کے ساتھ متحرک، زیرک اور نڈر رہنما تھے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء مشائخ کے مابین اتحاد و اتفاق کے لیے ہمیشہ مثبت و نتیجہ خیز کردار ادا کرتے رہے انہیں ختم نبوت اور ناموس صحابہ و اہل بیت کے تحفظ کی تحریکات کے لیے منظم کرنا ان کا طرہ امتیاز رہا۔
کسی سے ملتے تو نہایت خندہ پیشانی اور خوش مزاجی سے پیش آتے۔ طلباء و علماء سے بڑے پرتپاک انداز میں ملتے اور ان کے احوال بغور سنتے، وجیہ شکل و صورت، خوش طبیعت، علم و عمل کے حسین امتزاج، ظاہری و باطنی اوصافِ حمیدہ سے متصف تھے۔ قاضی عبدالرشید ایک عرصہ سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے انہیں 22 صفر المظفر 1446 ہ 28 اگست 2024 بروز بدھ تہجد کے وقت دل کا دورہ پڑا ہسپتال منتقل کیے گئے لیکن جانبر نہ ہو سکے اور جان جان آفریں کے سپرد کر دی انا للہ وانا الیہ راجعون۔
قاضی عبدالرشید نے پسماندگان میں ایک بیٹا، چار بیٹیاں، لاکھوں تلامذہ و متعلقین اور سینکڑوں ادارے چھوڑے ہیں۔ ان کی رحلت پر پاکستان کے مختلف اکابر علماء، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر اہم مذہبی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کے انتقال سے دینی، علمی اور اصلاحی حلقوں میں ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو مدتوں پورا نہیں ہو سکے گا۔
صدر وفاق المدارس شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ قاضی عبدالرشید کى ناگہانی وفات سے سخت صدمہ ہوا ہم اپنے ایک متحرک فعال اور مدبر بازو سے محروم ہو گئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری محمد حنیف جالندھری نے تعزیتی پیغام میں کہا، قاضی عبدالرشید میرے دیرینہ ساتھی، سفر و حضر کے رفیق اور تمام اہم امور میں دست راست تھے۔ تین عشروں سے زائد ان سے رفاقت رہی اور انہیں ہمیشہ ہر کارخیر کے لیے فکر مند اور متحرک پایا۔ ان کی رحلت ناقابل تلافی نقصان ہے۔
مولانا زبیر احمد صدیقی نے کہا کہ قاضی صاحب جواں ہمت، مخلص وضع دار، درویش منش اور سچے انسان تھے۔ قاضی عبدالرشید صاحب کی نماز جنازہ لیاقت باغ راولپنڈی میں ادا کی گئی۔ بیماری کے باوجود الحمدللہ جنازہ میں شرکت کی۔ لیاقت باغ اپنی وسعت کے باوجود تنگی داماں کی شکایت کر رہا تھا۔ انہیں دارالعلوم فاروقیہ، دھمیال کیمپ کے قریب والدین کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔
قاضی عبدالرشید نے عقائد اور مدارس دینیہ کے تحفظ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں تک اس مشن کے ساتھ منسلک رہے۔ اس مشن کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ قاضی عبدالرشید اجتماعیت اور یکجہتی کا استعارہ اور ایک عبقری شخصیت تھے، مشکل سے مشکل بات کو چٹکی میں سمجھانے کا گر جانتے تھے، یقیناً ان کی رحلت سے علماء میں جو دینی خلا پیدا ہوا ہے وہ مدتوں پر نہ ہو سکے گا۔
وہ دینِ حق کے ایسے سپاہی تھے کہ جنہوں نے آخری سانس تک حق و صداقت کے پرچم کو سربلند رکھا، پنجاب کے شہروں، دیہات سے، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور کراچی تک انہوں نے دین حق کی بالا دستی، دینی مدارس کے تحفظ اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر بھرپور پہرہ دیا، وہ انتہائی جرات مند اور بے باک انسان تھے، حق بات ڈنکے کی چوٹ پر کہتے، حضرت مولانا قاضی عبدالرشید نور اللہ مرقدہ نے زندگی کا آخری بیان دارالعلوم جامعہ محمدیہ صادق آباد راولپنڈی میں اپنی وفات سے ایک دن قبل کیا، جس میں انہوں نے علماء کرام کو اپنے اکابر کا دست و بازو بننے اور ان کے شانہ بشانہ چلنے کی تلقین کی۔
علما ء کرام منبر و محراب کی طاقت کو پہچانیں منبر و محراب آج بھی ذرائع ابلاغ کی سب سے بڑا اور موثر ذریعہ ہے، بھرپور مطالعے کے بعد موقع محل کے مطابق گفتگو کریں، عوام آج بھی سب زیادہ آپ کے پیغام کو سنتی ہے، کلمہ حق کہنے میں کبھی ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہوں اس سے آپ کی قوت میں اور اضافہ ہو گا، علماء کرام اتحاد کو ہمیشہ برقرار رکھیں، اسی میں ہماری قوت ہے۔ آغا شورش کے شعر کی تضمین کرتے ہوئے قاضی صاحب کے بارے میں یہ کہوں گا:
تمہارے بعد کہاں وہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے تمہارا جواب لائے گا


