جنسی جرائم: وقت کرتا ہے پرورش برسوں
ڈاکٹر مومیتا کیس سے پہلے بھی اور ڈاکٹر مومیتا کے کیس کے بعد بھی پاکستان میں کئی عصمت دری، قتل اور ہراساں کرنے کے واقعات بڑی شد و مد سے نظر آرہے ہیں، جن میں عورتیں بچے یہاں تک کہ مردہ خواتین بھی شامل ہیں 2020۔ 2019۔ کے ان جرائم کا ڈیٹا مستقل واقعات کی بڑھتی ہوئی سطح کی طرف اشارہ دے رہا ہے۔ مختلف حقوق نسواں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ہونے کے باوجود کوئی خاطرخواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔ عورتوں کا مردوں کو برا بھلا کہنا مختلف پوسٹ اور تحریر کے ذریعے صنفی امتیاز کے نعروں اور الزام تراشی کے سوا کچھ ہاتھ آتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ مردوں کا عورتوں کے رہن سہن، پہناوے پر الزام تراشی کرنا، عورتوں کا ان کو وحشی قرار دے کر دوشی ٹھہرانا کئی عرصے سے چلا آ رہا ہے۔
لیکن کسی بھی معاشرے میں اس طرح کے بڑھتے واقعات میں ماہرین عمرانیات سب سے پہلے اس کی وجوہات اور اس کے تدارک کی تجاویز اور ساتھ ہی حکومت اور ارباب اختیار اس کے نفاذ کی کوششیں کرتے ہیں لیکن مملکت پاکستان میں اس طرح کی کوئی پریکٹس ماضی میں یا ابھی دیکھی نہیں گئی ہے۔
ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کیسے ایک انسانی معاشرہ جنگل کی صورت اختیار کر جاتا ہے؟ ایسا معاشرہ جہاں بدحالی بھوک افلاس کا رقص جاری ہو وہاں انسان کے سرور اور لذت کا ذریعہ جنسی لذت کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا ہے۔ وسائل کی عدم دستیابی کی صورت میں یا وسائل نہ ہونے کی صورت میں وہ طاقت کے بل پر اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اکثر اوقات حادثات کو جنم دیتا ہے اور ان وسائل کا نہ ہونا معاشی ناآسودگی طرف واضح اشارہ ہے۔ معاشی آسودگی ایک ایسا عنصر ہے جس سے معاشرے کے دیگر معاملات بھی مربوط ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک ایسا معاشرہ جہاں مرد اور عورت میں صنفی امتیاز برتا جاتا ہو، وہاں کسی بھی ایک صنف کو صدیوں سے برتر اور طاقتور سمجھا جاتا رہا ہو اور وہاں طاقت کی غیر مساوی تقسیم کی وجہ سے کمزور سمجھے جانے والی تمام اصناف کا استحصال اور ظلم ممکن ہو جاتا ہے،
برصغیر پاک و ہند کے معاشرے میں مرد عورتوں اور بچوں پر قادر اور فوقیت رکھتا ہے۔ اس لیے مرد نے اپنے اختیارات اور طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور بچوں اور عورتوں پر معاشرتی اور جنسی استحصال کرنا شروع کیا اور یہ کہانی کوئی چند سالوں کی نہیں کئی سو سالوں پر محیط ہے۔ ہمارے معاشرے میں موجودہ روایات، رسم و رواج، ثقافت پدر شاہی نظام کو تحفظ دینے کے لیے وجود میں لائی گئی ہیں اور یاد رہے کہ یہ مذہبی روایت سے زیادہ پر اثر ہوتی ہیں اور اس کی جڑیں بہت گہری ہوتی ہے، جب مذہب اور ثقافت دونوں کسی ایک صنف کو طاقت کا اختیار دے دیں تو صورتحال گمبھیر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کی ثقافت میں میں مردوں نے میڈیا فلم گانے تقریباً سبھی عوامل کو اپنی طاقت یا اقتدار کو مضبوط رکھنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہاں جو فلمیں گانے ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں وہ بھی پدر شاہی نظام کے آگے فصیل بن کر کھڑے ہوتے ہیں کیوں کہ میڈیا ذہن سازی میں ایک بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
1970 سے لے کر 2010 تک کی ہندوستانی فلم میں ریپ کے سین کو فلم کا لازمی جز بنا کر دکھایا جاتا رہا ہے۔ ویلن کا ہیرو کی بہن اور محبوبہ کا ریپ کرنا یا گینگ ریپ کے طور پر اس کی عزت پر حملہ کرنا یا ان کو لوگوں کے سامنے نچوانا ہماری عظیم تر تفریحی فلموں کا حصہ رہا ہے، یعنی کہ آپ بلاواسطہ طریقے سے اپنی نسلوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ دشمن سے دشمنی نبھانا ہے تو اس کا رد عمل اپنے دشمن کی عزت اور وقار اور خصوصاً اس کی عورتوں پر حملہ کرنا ہے۔
اب نغمات پر آ جائیں جو ہماری نوجوان نسل کا اس غیر تسلی بخش زندگی کی صورتحال میں واحد تفریح کا ذریعہ ہیں۔
گانوں میں بھی کئی سالوں سے عورت کو آبجیکٹ بنا کر اس کے متعلق مغلظ شاعری کی جا رہی ہے اور کی جاتی رہی ہے۔ گانوں کے ذریعے اب ان نوجوانوں کو اکسا یا جا رہا ہے جو اپنی طاقت کے استعمال میں خود کو حق بجانب نے سمجھتے ہیں، کچھ گانوں کے مصرعے ملاحظہ ہوں ان گانوں کی شاعری سے معاشرے کا ماحول اور اس کی ثقافت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے
اساں تے جا نا ہے بلو دے گھر (ہم نے تو جانا ہے بلو کے گھر)
کن کن جانا ہے بلو دے گھر (کس کس نے جانا ہے بلو کے گھر)
ٹکٹ کٹاؤ لین بناؤ ٹکٹ کٹاؤ لین بناؤ
تو بھائی گویا بلو نہ ہوئی یہ کسی آبجیکٹ کی سیل ہو گئی
ایک اور گانا چکنی چنبیلی کے مصرعے ملاحظہ ہوں
جنگل میں آج منگل کروں گی بھوکے شیروں سے کھیلوں گی میں
مکھن جیسی ہتھیلی پہ جلتے انگارے لے لوں گی میں
اگے لکھنا مناسب نہیں لگ رہا لیکن اس طرح کے مصرعے یا گانے قوم کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں ایک نہایت ہی مشہور ہونے والا گانا فیبی کال کہ مصرعے ملاحظہ ہوں
میں تو تندوری مرغی ہوں یار کھٹکا لے سیاں الکوحل سے
اس سے آگے اور بلند معیار ملاحظہ ہوں، ہنی سنگھ کا گانا
تجھ جیسی تو پٹ جاتی ہے پھر دور گھٹنا گھٹ جاتی ہے
میں ہوں شکاری بلیے خالی میرا وار نہیں جاتا
مجھ کو نہ پہچانے تو تیرے گھر اخبار نہیں آتا
سوچیں کہ اس میں کس قسم کی شاعری کی گئی ہے ان گانوں کے ذریعے نوجوان نسل کی ذہن سازی کی کس طرح کی شرمناک کوشش کی گئی۔ شاعری کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے جو ان گانوں میں استعمال کرتے ہوئے شعرا نظر آرہے ہیں۔
اس موقع پر ایک ہی شعر یاد آ رہا ہے
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
اب آ جائیں تعلیمی اداروں کی طرف وہاں بھی ہمارے ہاں جنسی تعلیم یا مہارت حیات سے متعلق کسی مضمون کا نہ ہونا ہے اور یہ ادارے اس صورتحال میں نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے ذہنی مسائل کو حل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ اور پھر نوجوانوں میں مثبت صلاحیتوں کا مرنا گویا ان کی منفی صلاحیتوں کا بیدار ہونا ہے۔ اس کی کئی زندہ مثالیں ہمیں روز بروز نظر اتی ہیں
قانونی اداروں کی کارکردگی سے بھی ہم میں کون ناواقف ہیں، قوانین بنائے تو جاتے ہیں لیکن قوانین کے نفاذ اور اس کے اطلاق کا مرحلہ ندارد
عصمت دری اور ہراسانی کے جتنے مجرمان پکڑے گئے ہیں ان میں سے 80 فیصد کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ موجود ہوتا ہے گویا وہ کئی دفعہ پکڑے جانے کے بعد بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہو جاتے ہیں، قانون کی گرفت اتنی ڈھیلی ہوتی ہے کہ وہ باآسانی چھوٹ جاتے ہیں۔ پھر وہ عام لوگوں کے لیے ایک درندے بن چکے ہوتے ہیں گویا چلتے پھرتے بم۔ درندوں کو آزاد چھوڑنا قانون کو زیب نہیں دیتا۔ بچپن میں ایک انگریزی فلم دیکھی تھی اس کے مکالمے جو بہت مشہور ہوئے لیکن ہمارے پاس وہ مکالمے کچھ اس طرح ہوں گے
Justice may be blind it cannot see in light
عورتوں نے جب تعلیم حاصل کی اور عورتوں میں شعور اجاگر ہوتو عورتوں نے اپنی آواز بلند کی پھر عصمت دری اور ہراسانی کے کیس بھی زیادہ رپورٹ ہونے لگے۔ اب عورتوں کی آواز بلند کرنے کی وجہ سے عورتیں ان مجرمان کے لیے آسان ٹارگٹ نہ رہیں تو ان مجرمان کا اگلا شکار بچے، جانور اور حتی ٰکہ مردہ عورتیں بن گئیں۔ گزشتہ سالوں میں بچوں جانوروں اور مردہ عورتوں کے کیسز میں ماضی کے مقابلے میں اضافہ دکھائی دینا تشویش ناک صورتحال ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ مردہ عورتوں سے زیادتی کے ملزمان میں کوئی ایک بھی نیکروفیلیا کا مریض نہیں تھا اور یہ بات اہل فکر کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں نیکروفیلیا کے کیسز کے سلسلے میں کوئی قانون موجود نہ ہونا سوالیہ نشان ہے۔
ڈاکٹر مومیتا جیسے کہیں کیسز پاکستان ہندوستان میں بکھرے پڑے ہیں الزام تراشیاں سزائے موت، عمر قید ان مسائل کا پائیدار حل نہیں ہیں۔ ہمیں مردوں کی منفی اور مجرمانہ سوچ کو مثبت سوچ میں بدلنا پڑے گا۔ اپنے ارد گرد اور صدیوں سے چلتی ہوئی روایات کو بدلنا پڑے گا۔ تعلیم اور سماجی اداروں کے ذریعے میڈیا کے کردار کو بہتر بنانا ہو گا، ۔ ڈاکٹر مومیتا کے کیس میں ہندوستان پاکستان کا پورا سسٹم ننگا نظر آ رہا ہے۔ مجرمان کا ساتھ دینے والی کالی بھیڑوں کو بھی سزا اور جزا کے عمل سے گزارنا پڑے گا، میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تفریحی اداروں کو معیاری اور مثبت تفریح فراہم کرنا ہوگی۔ حکومتی اداروں کو کھیل، موسیقی، آرٹ اور فن کو فروغ دینا پڑے گا۔
تعلیمی اداروں کو ایسے مضامین متعارف کروانے ہوں گے، جن سے بچوں میں بڑھتے ہوئے ذہنی خلفشار پر قابو پایا جائے۔ قانونی اداروں کو اصول اور قوانین میں نہ صرف ترمیم بلکہ نفاذ اور اطلاق میں دیانت داری اور سختی سے اصولوں پر کاربند رہنا ہو گا۔


