اہل ِ مغرب کی نظر میں عورت


اہل ِ مغرب کی یہ تاریخ رہی ہے کہ جب بھی دنیا کے کسی حصے میں عورت کے خلاف ظلم اہل ِ مشرق اور خصوصاً اہل ِ اسلام کریں شور و غل برپا کر دیا کرتے ہیں، پروپیگنڈا بنا دیا جاتا ہے کسی بھی طور اس کو اسلام یا اسلامائزیشن کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے پھر چاہے وہ انفرادی عمل ہو یا اجتماعی ظلم ہر سطح پر اسلام کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے اس عمل میں ہم مسلم دنیا کے بھی کچھ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار شامل ہوتے ہیں بلکہ اس میں بعض اوقات کچھ نام نہاد این جی اوز بڑے شد و مد سے شامل ہوتی ہیں کیوں کہ ان کے اپنے ذاتی مفادات بھی اس میں پنہاں ہوتے ہیں بحیثیت انسان کے میں دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والے کسی بھی ظلم کی انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہوں اور بالخصوص کسی بھی عورت کے خلاف ہونے والے کسی بھی ظلم کی مذمت کرتی ہوں عصمت دری یا جنسی زیادتی کی کم از کم سزا جو میرے یا کسی بھی عورت کے لئے قابلِ قبول ہو سکتی ہے وہ صرف سزائے موت ہے پھر چاہے اس مجرم کا تعلق کسی مذہب، کسی بھی عقیدے اور کسی ملک سے کیوں نہ ہو۔

اسلام سے نسبت اور تعلق میری زندگی کا سب سے بڑا فخر ہے جس پہ میں بخدا بہت نازاں ہوں اور ہمیشہ رہوں گی میں اپنے دل بہت کرب و دکھ محسوس کرتی ہوں اس مغربی معاشرے کی اس عورت کو دیکھ کر کی جس کی عصمت کی پامالی خود اس کے شوہر کے ہاتھوں ہوتی رہی اور وہ بے خبر رہی سالوں پہ محیط اس ظلم نے تو جیسے رشتوں پر سے اعتماد ہی ختم کر دیا میرا یقین ہے دنیا کے ہر مذہب میں جائز جنسی تعلق کو با عزت سمجھتا جاتا ہے کہ یہی انسانی خواہشات کا اور نسل ِانسانی کی بقا کا ضامن بھی ہے۔ اس کرب میں مبتلا خاتون کو کون سا قانون انصاف فراہم کرے گا اس کا رشتوں پہ اعتبار کیسے قائم ہو گا، اس کی اپنی اولاد کے، معاشرے کے، اور سب سے بڑھ کر اپنی نظروں میں وقعت کا اندازہ ہے کسی کو ۔

ایسے کئی واقعات ہیں کہ جن کو ہم ان کی دنیا میں ہوتا ہوا ایک زمانے سے دیکھ رہے ہیں ان کو ایک خاص منصوبہ بندی اور پالیسی کے تحت پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور اکثر و بیشتر ان میں ملوث مجرمانہ ذہنیت والے افراد کو خاص ذہنی بیماری میں مبتلا قرار دیا جاتا جا تا ہے۔ یقیناً یہ ایک مجرمانہ اور بیمار ذہنیت ہی ہے جو کہ دنیا کہ ہر حصے میں، دنیا کہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد میں ہوتی ہے اور ہو سکتی ہے پھر اہل ِ مغرب اسے اسلام سے کیوں جوڑتے ہیں کیا ان کے یہاں عورت محفوظ ہے؟ ایک عورت اپنے گھر میں، اپنے شوہر کے ہاتھوں میں محفوظ ہے؟ وہ جو عزت و آبرو کا محافظ ہوتا ہے وہی اس کی پامال کر ہاً ہے اور کر وا رہا ہے۔ اب اپنے اس فرسودہ معاشرے کا ناسور کیوں نہیں اچھالا جا رہا کیوں خاموشی ہے؟ کیوں ان کا نظام ِ انصاف کا طوطی صرف نقار خانے میں بول رہا ہے؟ کیوں ہماری نام نہاد این جی اوز اس عورت کے لئے آواز اٹھانے سے قاصر ہیں کہ کہیں ان کے بیرونی آقا ناراض نہ ہو جائیں حالانکہ آج عورت کو ہم سب کی حمایت اور اچھے الفاظ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے دنیا کا کوئی بھی حصہ ہو، دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو، عقیدہ ہو، ظلم ظلم ہے کسی کے بھی ساتھ ہو اس کے خلاف اٹھ جائیں اور مظلوم کے حق میں آواز بلند کریں اس وقت تک کے جب مجرم کیفر ِ کردار تک نہ پہنچ جائے۔

Facebook Comments HS