کیریئر کونسلنگ کیوں ضروری ہے؟


دُنیا بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے جس کی وجہ سے انسان کے سوچ و افکار، کام کرنے کے طریقے، رہن سہن، بول چال بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں۔

انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی میں ایڈوانسمنٹ ہونے کی وجہ سے انسانی زندگی میں جو تبدیلی 100 سالوں میں ہوتی تھی، اب وہ 10 سالوں میں ہو رہی ہے۔ عقلمندی اور دور اندیشی کا تقاضا ہے کہ انسان بھی اپنے آپ کو حالاتِ حاضرہ کے مطابق ڈالے۔ اپنی سوچ اور رُویوں میں مثبت تبدیلی لاتے ہوئے اپنے آپ کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔ جہاں زندگی اور معاشرے کے دوسرے شعبوں میں بے شمار تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہیں تعلیمی نظام اور طریقہ کار بھی بدل رہے ہیں۔ سائیکالوجی اور ریسرچ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر تعلیمی معیار کو جدید طرز کے مطابق نہ ڈالا جائے تو انسان ترقی نہیں کر سکتا ہے۔

کیریئر کونسلنگ اتنی اہم کیوں ہے؟

کیریئر کونسلنگ خود کو جاننے اور خود شناسی میں مدد و معاونت کرتی ہے کہ تاکہ آپ اپنے کیریئر کے لیے مناسب حقائق پر مبنی اور درست فیصلہ کر سکیں۔

کیریئر کونسلنگ، پلاننگ اور فیصلہ سازی میں اہم ہوتی ہے۔ کیریئر کونسلنگ ہمارے کیریئر میپنگ (Career Mapping) میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ کیریئر کونسلنگ سے ہمیں اپنے پروفیشن کے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے پروفیشن سے خوشی اور تسلی ہوتی ہے۔ یہ ہر انسان کے لیے اہم ہوتی ہے خاص طور پر جب ہم نے اپنی تعلیمی زندگی میں اہم فیصلہ لینا ہوتا ہے مثلاً کلاس نہم میں نئے شعبے کا انتخاب! کیریئر کونسلنگ طالب علموں کی حقیقی صلاحیتوں کو جاننے میں مدد کرتی ہے اور ان کی رہنمائی کرتی ہے کہ وہ اس قابل ہو جائیں کہ وہ جان سکیں کہ انہوں نے مستقبل میں کب اور کیا کرنا ہے؟ کیریئر کونسلنگ کی بدولت ہم اپنی صلاحیتوں، وقت، محنت اور پیسے کا مناسب اور بہترین استعمال کر سکتے ہیں۔

انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ اس دُنیا میں کیوں آیا ہے؟ اور اس کا اس دُنیا میں کیا مقصد ہے؟ جو لوگ اس مقصد کو جان لیتے ہیں، درحقیقت وہی دُنیا میں کوئی نمایاں کارنامہ سر انجام دے پاتے ہیں۔

مارک ٹوین  کا ایک خوبصورت قول ہے کہ ”آپ کی زندگی میں دو دن انتہائی اہم ہیں۔ ایک وہ جب آپ پیدا ہوئے تھے اور دوسرا جب آپ یہ جان جائیں کہ آپ کیوں پیدا ہوئے۔“

بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں کیرئیر کونسلنگ کا کلچر بہت دیر سے فروغ پا رہا ہے۔ اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ یہ کوئی نیا ٹرینڈ یا ماڈرن آرٹ ہے بلکہ اگر ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہر نامور اور کامیاب شخص کو اس کی زندگی کا مقصد حاصل کرنے میں اس کے اساتذہ، گرُو، علماء، بزرگوں اور خاص دوستوں کا نمایاں کردار ہوتا تھا۔ آج اس کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ ہمارے پاس ہر چیز کی انفارمیشن، ڈیٹا اور چیزوں تک رسائی ممکن ہے اور دُنیا سپیسیفیکیشن (Specification) اور سپیشلائزیشن کی طرف بڑھ چکی ہے۔ اگر ہم وقت کے مطابق اپنے آپ کو نہیں ڈالتے تو اس میں ہمارا ہی نقصان ہے۔

کیریئر کونسلنگ کی اہمیت:

1:قابلیت اور محنت سے ہی نہیں بلکہ آج کے دور میں کامیاب ہونے کے لیے صحیح ٹیکنالوجی کا صحیح وقت پر درست صلاحیت کے ساتھ استعمال کرنا ہی کامیابی کی ضمانت بنتا ہے۔

2:آج کے دور میں کسی بھی شعبے میں کامیابی کے لیے مینٹور اور رہنما ہونا انتہائی ضروری ہے۔
3:کسی بھی شعبے میں جانے کے لیے درست اور مکمل معلومات و رہنمائی حاصل کرنا انتہائی اہم ہوتا ہے۔

4 کیریئر کونسلنگ اور کریئر گائیڈنس سے آپ کی کامیابی کا سفر نہ صرف آسان اور دلچسپ بلکہ خوشگوار بھی بن جاتا ہے۔

5: کیریئر کونسلنگ کے ذریعے ہمیں اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو جاننے کا موقع ملتا ہے۔

6:ہم سب بنیادی طور پر باصلاحیت، محنتی اور قابل ہوتے ہیں ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ ہم اپنی شخصیت کو بخوبی جانیں کیونکہ پیٹی کیرل کا کہنا ہے ”ہر شخص کے اندر بہت زیادہ طاقت ہوتی ہے۔ انہیں بعض اوقات تھوڑا سا سہارا، تھوڑی سی سمت نمائی، تھوڑی سی معاونت اور کچھ کوچنگ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بہت کچھ کر جاتے ہیں۔“

7:عام طور پر ہمارے ہاں مشورے اور رہنمائی کو بڑ معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ ترقی یافتہ معاشروں میں یہ پروفیشنل آرٹ ہے۔ جس کے ذریعے لوگ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔

کیریئر کونسلنگ کن لوگوں کے لیے ضروری ہے؟

کیریئر کونسلنگ صرف طالب علموں کے لیے ہی نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں کے سربراہ مذہبی رہنماؤں، سوشل ایکٹیوسٹ اور معاشرے کے ہر اس فرد کے لیے ضروری ہے جو دوسروں کی مدد اور رہنمائی کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اکثر ہمارے معاشرے میں ایک طالب علم کے تعلیمی کیریئر میں کئی لوگوں کی رائے شامل ہوتی ہے۔ جیسے ہی بچے میٹرک کا امتحان پاس کرتے ہیں تو والدین اور بچوں کے لیے سب سے بڑا سوال اور مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اب کیا کریں۔ فیصلہ سازی کے اس اہم موڑ پر اگر کوئی مناسب اور پروفیشنل رہنما نہ ملے تو والدین اور بچوں کے لیے بہت مشکل ہو جاتی ہے۔

آگاہی اور معلومات کے اس سفر میں کیریئر کونسلر کا کردار ایک مسیحا کا ہو جاتا ہے۔ عام طور پر درست معلومات اور مناسب رہنمائی نہ ہونے کی صورت میں بے شمار طالب علم اور والدین پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں اور غلط شعبے کا انتخاب کر کے اپنے کیریئر کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

اب کیا کریں؟

برائے مہربانی کسی دوسرے کی دیکھا دیکھی اپنے کیریئر کو برباد نہ کریں۔ وہ کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں کسی ماہر اور پروفیشنل کی مدد ضرور لے لیں۔ کسی دوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھ لیں۔ کیونکہ معروف رائٹر بوب پروکٹر کا کہنا ہے کہ ”ایک استاد وہ ہوتا ہے جو آپ کے اندر آپ سے زیادہ ٹیلنٹ اور صلاحیت دیکھتا ہے اور اس کو باہر لانے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔“

زندگی قیمتی ہے اس کی قدر کریں اپنے درست انتخاب سے اس سفر کو کارآمد بنائیں۔

Facebook Comments HS