ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی: دکھی انسانیت کو جن پر ناز ہے


muhammad salim gujranwala

ڈاکٹر سید ادیب الحسن رضوی موسوم بہ ڈاکٹر ادیب رضوی ایک بقید حیات عہد ساز اور قابل رشک انسان اور گردے کی بیماریوں کے ماہر ترین پاکستانی طبیب ہیں جن کی بے لوث ملکی طبی خدمات پر شعبہ طب کو بھی ناز ہے۔

11 ستمبر ان کا یوم پیدائش ہے۔ اس جنم دن پر وہ اپنی عہد ساز زندگی کی 87 ویں بہار دیکھ رہے ہیں۔

11 ستمبر 1938 کو کلن پور اتر پردیش، ہندوستان میں جنم لینے والے ادیب رضوی 1960 میں ڈاؤ میڈیکل کالج میں طب کی تعلیم کے لیے داخل ہوئے اور 1966 میں ایم بی بی ایس کی سند حاصل کی۔ انگلینڈ سے مزید اختصاصی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان آئے تو اپنے ساتھ طبی آلات سے بھرا ہوا ایک تھیلا بھی لائے۔ سول ہسپتال کراچی میں ملازمت شروع کی تو اس وقت گردے کی بیماریوں کے علاج کے لیے صرف 8 بستروں کا مختصر وارڈ تھا۔ انہوں نے اپنی شبانہ روز محنت شاقہ اپنی تیار کردہ ایک طبی جماعت کی مدد سے گردوں کی بیماریوں کے علاج کا کراچی میں ایک عالمی معیار کا ادارہ سیوٹ۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ قائم کر دیا ہے۔

1991 میں سندھ اسمبلی نے ایک قانون کے ذریعے اس ہسپتال کو انسٹی ٹیوٹ کا درجہ دیا۔ سیوٹ تین سو بستروں پر مشتمل چھ منزلہ عالمی معیار کا ہسپتال ہے۔ دیوان گروپ نے صحت عامہ کے اس عظیم کار خیر میں دل کھول کر امداد کی ہے۔ سیوٹ میں اب تک 544 گردے کی پیوند کاری کے آپریشنز کامیابی سے ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ ڈاکٹر ادیب مختلف مکاتیب فکر کے علماء کے اجماع سے گردے کی پیوندکاری کو شرعی اور قانونی دائرہ کار میں لائے۔ شعبہ بیرونی مریضان میں ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سالانہ تیس لاکھ مریضوں کی طبی جانچ کی گئی۔ 8 لاکھ مریضوں کو داخل کیا گیا جو گردوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ان میں سے 7 لاکھ مریضوں کا آپریشن کیا گیا۔ سیوٹ کی طبی جانچ گاہ میں 4 کروڑ سے زائد انسانی جسم کے مختلف نمونوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔ ڈاکٹر ادیب کی کوششوں سے سیوٹ میں پتھری توڑنے والی مہنگی ترین لتھو ٹرپسی مشینیں نصب کی گئیں۔ سیوٹ کے دو فاصلاتی شفا خانے ڈرگ روڈ کینٹ اور اپوا ہسپتال کراچی میں قائم کئیے گئے ہیں جہاں سے جانچ پڑتال کر کے مریض سیوٹ میں بھیجے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ادیب کی کوششوں سے سکھر سندھ میں ایک اور مکمل ہسپتال قائم کیا گیا ہے۔

87 سالہ ڈاکٹر ادیب رضوی عہد موجود کی ایک روشن اور قابل عمل مثال ہیں جنہوں نے وسائل اور افرادی قوت کی کمی کو اپنے جوش و جذبے کی راہ میں آڑے نہ آنے دیا اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے تشخیص اور علاج و معالجہ کی تمام ممکن سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنایا۔ سیوٹ میں الگ الگ شعبہ بیرونی اور اندرونی مریضان ہیں جہاں بچوں اور بڑوں کے لیے الگ الگ شعبہ جات اور الگ الگ آپریشن تھیٹرز ہیں۔ سیوٹ میں کسی بھی مریض کی عزت نفس کو مجروح نہیں کیا جاتا ہے۔ پیسہ نہ ہونے کے باعث کسی کو علاج معالجے سے انکار نہیں کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ادیب رضوی ہر مریض سے خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ ہوتی ہے۔ وہ آج بھی ہشاش بشاش اور مسکراتے ہوئے اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہیں۔

وہ مندرجہ زیل دو باتوں کو اپنی زندگی کا حاصل بتاتے ہیں۔
ڈاکٹر ہمیشہ طالب علم رہتا ہے کیونکہ اسے سیکھنے کے لیے ہر روز ایک نئی چیز ملتی ہے۔
ڈاکٹر کی اپنے فرائض سے سبکدوشی اس کی موت کے بعد ہی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سید ادیب الحسن رضوی کی بے لوث انسانی خدمات عامہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے انہیں کئی عالمی اور ملکی اعزازات سے نوازا گیا۔

1998 میں ریمن میگاسیسا اعزاز
2004 میں ہمدان اعزاز
2008 میں عالمی ادارہ صحت کا اعزاز
2015 میں حاصل زندگی اعزاز
2018 میں نشان امتیاز پاکستان دیا گیا۔

ان کا سب سے بڑا اعزاز ان کروڑوں مریضوں کی دعائیں اور نیک خواہشات ہیں جو وہ دن رات ان کے حق میں کرتے ہیں۔ رب کریم ان کو صحت والی عمر جاودانی عطا کرے اور وہ اسی جوش و جذبے سے دکھی انسانیت کی خدمت کرتے رہیں۔

Facebook Comments HS