جسمانی طور پر بالغ، ذہنی طور پر نابالغ
تحریر: ڈاکٹر خالد سہیل / مقدس مجید
مقدس مجید کا ڈاکٹر سہیل کو خط
محترم ڈاکٹر خالد سہیل!
امید کرتی ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔
میں نے آپ کی تحریروں اور آپ کی ذات سے بہت کچھ سیکھا ہے اور جب بھی آپ کے سامنے اپنے ذہن میں ابھرتے سوالات رکھتی ہوں تو آپ کی رہنمائی مجھے اپنے اندر کی الجھن کو سلجھانے میں ہمیشہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ آج میں ایک اور سوال پوچھنا چاہتی ہوں جو کہ پاکستانی معاشرے میں ایک ٹیبو جیسا ہے۔
ڈاکٹر سہیل۔
جیسا کہ ہم ایڈوانس ٹیکنالوجی کے دور میں رہ رہے ہیں۔ اس کا نہ صرف ہماری پروفیشنل زندگی بلکہ ذاتی زندگی پر بھی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ ہمارے دوسروں کے ساتھ استوار کیے جانے والے تعلقات پر بھی۔ تیزی سے آگے بڑھتی دنیا میں انسانی تعلقات دھندلا سے گئے ہیں۔
میں پاکستان میں گرین زون اور نوجوانوں کی نفسیاتی صحت کے حوالے سے کام کر رہی ہوں اور مجھے ان کی نجی زندگی کو گہرائی سے جاننے کا موقع بھی ملتا ہے۔ چونکہ نوجوانوں کے رومانوی تعلقات ہمارے یہاں ایک ٹیبو کی حیثیت رکھتے ہیں اس وجہ سے اکثر لڑکیاں اور لڑکے کبھی ان پرسن زندگی میں مواقع ملنے اور زیادہ تر سوشل میڈیا کے ذریعے جلد ہی رومانوی تعلق قائم کر لیتے ہیں اور اکثر زہریلے تعلق میں ہونے کے باوجود یہ بات کسی کو بتا نہیں پاتے۔ وہ صحت مند تعلق استوار کرنے اور اپنا ہمسفر چننے کے اصولوں سے واقف نہیں ہو پاتے۔ وہ خاموشی میں گھٹتے رہتے ہیں اور نفسیاتی الجھنوں کے شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ اذیت دینے والے تعلق کا کنواں ایک طرف اور دوسری جانب رومانوی تعلق قائم کرنے کے گلٹ کی کھائی ہوتی ہے۔ یہ حالت انھیں بے چین رکھتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب۔
میرا آپ سے سوال ینگ لوگوں کے اٹیچمنٹ سٹائلز کے بارے میں ہے کہ عام طور پر بہت سے لوگ آن لائن اور ان پرسن زندگی میں بہت جلدی کسی سے بھی تعلق قائم کر لیتے ہیں جبکہ کچھ میرے جیسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی زیادہ تر لوگوں میں دلچسپی قائم ہی نہیں ہو پاتی۔ وہ بہت کم کسی کی طرف اٹریکٹ ہوتے ہیں۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
آپ کے جواب کی منتظر
آپ کی دوست
مقدس مجید
ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب
محترمہ و معظمہ مقدس مجید صاحبہ!
یہ میری تخلیقات کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں آپ جیسا ذہین قاری نصیب ہوا۔ مجھے آپ سے مکالمہ کرتے ہوئے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ آپ مجھ سے عمر میں اتنی چھوٹی ہیں۔
آپ نے اپنے خط میں مجھ سے نوجوانوں کے رومانوی مسائل کے بارے میں میری رائے پوچھی ہے تو عرض ہے کہ ان مسائل کی چند بنیادی وجوہات ہیں۔
نوجوانوں کے رومانوی مسائل کی پہلی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک غیر فطری معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لڑکیوں اور لڑکوں کو بچپن سے ہی گھروں اور سکولوں میں ایک دوسرے سے جدا کر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے جب وہ ایک دوسرے سے حقیقی دنیا میں نہیں مل پاتے تو وہ ایک خیالی دنیا میں بسنے لگتے ہیں جہاں وہ صنف مخالف کے بارے میں ایسے تصورات اپنا لیتے ہیں جن کا تعلق حقیقت سے زیادہ فینٹسی سے ہوتا ہے۔ اسی لیے جب انہیں ایک دوسرے سے قربت کا موقع ملتا ہے تو ان کی فینٹسی کے شیش محل چکنا چور ہو جاتے ہیں۔
نوجوانوں کے رومانوی مسائل کی دوسری وجہ یہ ہے کہ مثالیت پسند مذہبی روایات انسانوں کے اعمال کو نیک و بد کی کسوٹی پر پرکھتی ہیں۔ اس طرح نوجوانوں کے دلوں اور ذہنوں میں جنس کا تصور محبت پیار اپنائیت اور دوستی کے اظہار کی بجائے گناہ و ثواب سے جڑ جاتا ہے۔ اسی لیے بہت سے نوجوان خود وصلی سے بھی احساس ندامت و خجالت میں گھر کر نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مغرب میں بھی ایک وہ زمانہ تھا جب خود وصلی
Self abuse
کہلاتی تھی اور اب
Self pleasuring
کہلاتی ہے۔
نوجوانوں کے رومانوی مسائل کی تیسری وجہ یہ ہے کہ جنس کے بارے میں تعلیم کو شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔
بہت سی نوجوان لڑکیاں حیض کے بارے میں
اور
بہت سے نوجوان لڑکے شہوانی خوابوں کے بارے میں
کچھ نہیں جانتے۔
وہ اگر ان موضوعات پر بزرگوں سے بات کرنا چاہیں تو بزرگ انہیں بے حیائی اور بے شرمی کی باتیں کہہ کر منہ موڑ لیتے ہیں۔
نوجوانوں کے رومانوی مسائل کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ انہیں اپنے شریک سفر چننے کی اجازت نہیں ہے۔
کسی سماجی یا مذہبی محفل میں کسی ماں کو کوئی سندر اور ذہین لڑکی مل جائے تو وہ اسے پسند کر کے اسے بہو بنانے کا سوچنے لگتی ہے۔ پھر وہ گھر آ کر اپنے جوان بیٹے کو بتاتی ہے کہ اس نے اپنی بہو پسند کر لی ہے۔ بیٹا ماں کی بات نہ مانے تو ماں ناراض ہو جاتی ہے اور کہتی ہے میں تمہیں اپنا دودھ معاف نہیں کروں گی اور بیٹا جذباتی بلیک میل ہو کر ماں کی مرضی کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ ماں کو چونکہ اپنی جوانی میں محبت کرنے کی اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اجازت نہیں تھی تو وہ اس کا بدلہ اپنے بیٹے سے لیتی ہے۔
اگر بیٹا ماں کو یہ سمجھانا چاہے کہ اسے اس لڑکی میں کوئی جنسی کشش محسوس نہیں ہوتی تو ماں اس کی باتوں کر نظر انداز کر دیتی ہے اور بعد میں یہ جان کر حیران ہوتی ہے کہ اس کا مرد بیٹا نامردی کا شکار ہو رہا ہے۔
مقدس مجید صاحبہ!
میری نگاہ میں ان مسائل کا حل یہ ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ
ایک دوسرے سے ملیں
بات چیت کریں
ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں
دوستی کریں
محبت میں گرفتار ہوں
اور اپنے شریک حیات پسند کریں
اور اپنے رشتوں کی ذمہ داری لیں۔
جب شادیاں دوستی اور محبت کی بنیادوں پر استوار نہیں ہوں گی تو وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جائیں گی۔
میں بہت سے ایسے مشرقی جوڑوں کو جانتا ہوں جنہیں اپنے مسائل کو حل کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ ان کے دوستوں اور رشتہ داروں نے ان کے رشتے کی عمارت میں بیوقوف دوست بن کر شگاف ڈال دیے۔
مقدس مجید صاحبہ!
ہم ایک منافق معاشرے کے باسی ہیں
جہاں لوگ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں
جہاں عورتیں دوسرے درجے کی شہری سمجھی جاتی ہیں
جہاں بیوی محبوبہ کم اور کنیز زیادہ سمجھی جاتی ہے
جہاں شوہر بیوی کا دوست بن جائے تو اسے زن مرید کہہ کر اس پر طنز کے نشتر چلائے جاتے ہیں
مقدس مجید صاحبہ!
مشرقی معاشرے میں نجانے کتنے لوگ جسمانی طور پر بالغ ہونے کے باوجود ذہنی طور پر نابالغ ہیں۔ اسی لیے ہمارے ہاں بہت سی شادیاں دو ذہنی نابالغوں کی شادیاں ہیں جن میں جسم تو مل جاتے ہیں لیکن دل اور ذہن نہیں مل پاتے۔
اسی لیے وہ عورتیں جو آپ کی طرح ذہنی طور پر بالغ ہیں انہیں ذہنی طور پر نابالغ مرد پسند نہیں آتے وہ ان کی طرف کشش محسوس نہیں کرتیں۔ وہ جانتی ہیں کہ یہ ذہنی نابالغ مرد ان سے جھوٹے وعدے کر کے انہیں دوسری بیوی بنانے کے چکر میں لگے رہتے ہیں۔
میری نگاہ میں غیر صحتمند رشتے سے بہتر ہے انسان اکیلا رہے اور اس دن کا انتظار کرے جب اسے کوئی ہم خیال ساتھی مل جائے۔
مجھے پوری امید ہے کہ آپ کو زندگی میں ایک ایسا ساتھی ایسا ہم سفر ایسا شریک حیات مل جائے گا جو سنار ہو گا اور جانے گا کہ آپ سونا ہیں۔ اب تک آپ لوہاروں سے ملتی رہی ہیں جو سونے کی قیمت نہیں جانتے۔ عارف عبدالمتین کا شعر ہے
جوہر بے مثال ہوں عارف
مجھ کو رہتی ہے جوہری کی تلاش
آپ کی تخلیقات کا مداح
خالد سہیل


