بلوچ سوال


آج کل ہر کوئی بلوچستان کے بارے کچھ بول یا لکھ رہا ہے۔ حالانکہ بلوچستان اتنے عرصے سے خون میں لت پت ہے کہ اسے پاکستانی مرکزی شعور نے پس منظر میں دھکیل رکھا ہے۔ اس کے باوجود بلوچ قومی سوال ابھر کر سامنے آ ہی جاتا ہے اور پھر سب بلوچستان کے معاملات کے ماہر بن جاتے ہیں۔

موسی خیل میں عام شہریوں کے بہیمانہ قتل، جن میں سے زیادہ تر سرائیکی اور پنجابی تھے، کے بعد جس انداز میں پاکستان کے مرکزی علاقوں میں رد عمل آیا اس سے باآسانی سمجھ آتا ہے کہ بلوچ نوجوان اتنا بدظن کیوں ہے۔

پہلے انتقامی کارروائیوں کے لئے جوشیلے مطالبات کیے گئے۔ مقتولین کے قتل پر اپنے غصے کا اظہار کرنا ایک بات ہے، مگر ریاست کو ”دہشتگردی“ کو کچلنے کا لائسنس دینا ایک بالکل الگ معاملہ ہے۔ بلوچستان میں موجودہ شورش پچھلی دو دہائیوں سے جاری ہے، جس کا بنیادی طور پر آغاز جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دورِ حکومت سے ہوا، جس نے سرِ عام اعلان کیا تھا، ”ان کو معلوم بھی نہیں ہو گا انھیں کس چیز نے مارا ہے“ ۔

تب سے ہی، بلوچ نوجوانوں کو مجرم تصور کیا جاتا رہا ہے اور ریاستی جبر ہر ہر نئے دور کے بعد شورش کو مزید ہوا ملی۔ حالانکہ سرکار کے اعلی نمائندوں نے کئی بار بھی تسلیم کیا ہے کہ بلوچستان میں ماضی اور حال کی بغاوتیں ریاستی پالسی کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہیں۔ بلوچ سوال کو عسکری طریقہ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش پہلے بھی ناکام رہی ہے اور اب بھی کامیاب نہیں ہوگی۔

”دہشت گردوں“ کو کچلنے کے نعروں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے بارے میں علم کی کمی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ دیگر چیزوں کہ علاوہ لفظ ”بلوچی“ کو لوگوں سے منسلک کیا ہے جاتا جبکہ صحیح لفظ ”بلوچ“ ہے۔ پھر اس بات کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا کہ بلوچستان میں پشتون، ہزارہ، پنجابی، سرائیکی اور دیگر نسلیں بھی آباد ہیں اور ان تمام لوگوں کے سیاسی خیالات میں فرق صرف نسلی وابستگی سے نہیں ہیں۔ بلوچ قوم خود بھی بہت متنوع ہے۔ مثال کہ طور پر، جنوبی مکران کا علاقہ ایک الگ سماجی تشکیل رکھتا ہے شمال مشرق حصوں کے مقابلے میں، جس میں بگٹی، مینگل اور مری کے علاقے شامل ہیں، اور پھر بلوچستان کی ”گرین بیلٹ“ بھی بالکل مختلف ہے جو سندھ کی سرحد پر واقع ہے۔

ایک طرف بلوچستان اور خاص طور پر بلوچ خطوں کے بارے میں لا علمی کا مظاہرہ ہوتا رہا ہے تو دوسری طرف حقیقی بلوچ مسئلے کو صرف ایک جیوپولیٹیکل کھیل اور بین الاقوامی سازش قرار دیا گیا۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ بلوچستان میں بین الاقوامی کھلاڑی موجود ہوں گے لیکن بلوچوں کے سی پیک اور اس کے ترقیاتی منصوبوں کے خلاف خدشات اور تحفظات پرانے ہیں اور ان سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر گوادر کی ماہی گیر برادری نے اپنے ذریعہ معاش کو کارپوریٹ ٹرالرز کے ہاتھوں تباہ ہوتے دیکھا، اسی طرح وسیع تر آبادی کی نجی و ریاستی منافع خوروں کے ہاتھوں بربادی ہوئی جو کہ جعلی ریئل اسٹیٹ سکیموں سے بے تحاشا دولت کماتے نظر آئے۔

در اصل سوشل میڈیا کی دنیا میں باریک نکتہ ریزی، تاریخ اور حقائق کی بہت کم اہمیت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن تحریک کو پذیرائی ملی ہے، لیکن موجودہ حالات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فیسبک اور ٹویٹر کے الگوردم کے ساتھ ساتھ ریاستی ٹرولز اور بوٹس کی بدولت بامعنی سیاسی بحث تقریباً ختم ہو چکی ہے اور انتہاء پسند خیالات عروج پر ہیں۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ جبری گمشدگیوں اور نسلی پروفائلنگ جیسے سنگین معاملات پر پاکستان کے مرکزی علاقوں میں قائم ہونے والے بظاہر وسیع اتفاقِ رائے کس قدر تیزی سے ختم ہو جاتے ہیں، اور بہت سے لوگ سرِ عام نسل پرستی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں، جیسا کہ کوئٹہ کیفیز کے بائیکاٹ اور بلوچ طلبا ء کو پنجاب سے نکالنے کے مطالبوں سے ظاہر ہوتا ہے۔

پاکستان کے مختلف قوموں کے درمیان کشیدگیاں اس بات کو واضح کرتی ہے کہ پاکستانی ریاست بلوچ اور دیگر قومی سوالوں کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ مذہب کو مسلح کرنا ہمیشہ ریاست کا پسندیدہ کام رہا ہے اسی لیے ٹی ایل پی اور ٹی ٹی پی جیسے عسکریت پسند ابھرتے رہے ہیں اور پرامن بلوچ نوجوان جو ریاست سے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں، دہشتگرد قرار دیے جاتے ہیں۔ حال میں سینکڑوں پر امن سیاسی کارکنان و طلبا کے ناموں کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنا ایک اور گھناؤنا اقدام ہے جو کہ بلوچ سوال کو مزید گمبھیر بنا دے گا۔

تیس سال قبل، اقبال احمد نے ایک لکچر ”دہشتگردی: ان کی اور ہماری“ کے عنوان سے ایک لیکچر دیا تھا، جس کو آج کل بلوچ سوال پر اچانک ابھرنے والے ”ماہرین“ کو سننا چاہیے۔ اس میں انہوں نے بیان کیا تھا کہ ریاستیں کس طرح اپنے محدود اور مفاد پرستانہ مقاصد کے لیے لفظ ”دہشتگردی“ کو استعمال کرتی ہیں۔ اگر ان تمام اقسام کا سیاسی تشدد جسے کسی قابل عمل حد تک ”دہشت گردی“ کہا جاسکتا ہے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ جدید ریاست ہی ہے جس نے سب سے زیادہ دہشت پھلائی ہے۔

پاکستانی ریاست نے آٹھ دہائیوں پرانے بلوچ مسئلے کو حل کرنے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی بلکہ خاکی وردی والے اس کو اور بھی زیادہ بگاڑتے رہے ہیں۔ پاکستان کے مرکزی علاقوں میں جو لوگ دعوی کرتے ہیں کہ وہ بلوچ عوام کے طرفدار ہیں، انہیں ریاستی ایجنڈے پر عمل نہیں کرنا چاہیے اور کم از کم تنقیدی و تجزیاتی نکتہ نظر اپناتے ہوئے معلوم کرنا چاہیے کہ بلوچستان میں کیا چل رہا ہے۔

محنت کش عوام چاہے ان کا تعلق پنجاب سے ہو یا بلوچستان ہو وہ نفرت کے مرتکب نہیں ہوسکتے ہیں البتہ وہ نفرت کی سیاست کے لیے ایک ذریعہ ضرور بن سکتے ہیں۔ اس نفرت کی سیاست کی ہر قیمت پر مزاحمت کرنی ہو گی۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر عاصم سجاد اختر

ڈاکٹر عاصم سجاد اختر قائد اعظم یونیورسٹی ا سلام آباد میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ بایاں بازو کی سب سے بڑی پارٹی عوامی ورکرز پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری اور تین کتابوں کے مصنف ہیں اور ڈان اخبار میں کالم لکھتے ہیں ۔

aasim-sajjad-akhtar has 4 posts and counting.See all posts by aasim-sajjad-akhtar

One thought on “بلوچ سوال

  • 15/09/2024 at 9:17 صبح
    Permalink

    متفق ہوں

Comments are closed.