سادگی سے شادی، اچھی روایت
کچھ روز قبل میں نے اپنی ایک دوست کی بیٹی کی ایسی شادی اٹینڈ کی جو روایتی شادیوں سے بالکل مختلف تھی۔ یہ بچی عائشہ ایک عالمہ ہے جو کسی بڑے دینی ادارے سے منسلک ہے اس کی شادی کی پہلی شرط جہیز نہ لینا تھی جس پر وہ سختی سے کار بند رہی۔ عائشہ کے دولہا احمد بھی ایک دین دار انسان ہیں لہذا انہوں نے ہر معاملے میں عائشہ کا مکمل ساتھ دیا۔
عائشہ کی سادہ سی شادی کسی بھی قسم کے رسم و رواج سے مبرا تھی۔ شادی سے دو دن قبل گولف کلب میں درس قرآن کا اہتمام رکھا گیا تھا جس میں تمام رشتہ دار اور دوست خواتین مدعو تھیں۔ مردوں میں صرف محرم مرد حضرات تھے جن کی نشست الگ تھی۔ باپردہ عائشہ استقبالیہ پر موجود تھی یہاں تک کہ درس قرآن میں بھی اس نے حصہ لیا۔ خواتین ویٹرز نے کھانا سرو کیا جو ہر لحاظ سے بہترین تھا مجھے عائشہ کی والدہ حریم بتا چکی تھیں کہ نکاح عصر کے بعد مسجد میں ہے جس کے بعد بارات کے چند لوگ اور خاندان کے کچھ افراد کو گھر پر چائے پلا کر بچی رخصت کر دی جائے گی البتہ تقریب ولیمہ میں آپ سب فیملی سمیت دولہا والوں کی جانب سے مدعو ہیں چونکہ میرا ولیمہ میں جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا اس لئے دلہن کو تحفتاً دینے کے لئے کچھ رقم لفافے میں ڈال لائی تھی جو ہرگز اس کھانے یا خلوص کی قیمت نہ تھی جو مجھے ہمیشہ عائشہ اور حریم سے ملا لیکن یہ محبت بھرا لفافہ دیتے وقت عائشہ کے الفاظ نے مجھے ایک بار پھر سے مجھے چونکا دیا
سوری آنٹی شاید امی نے آپ کو بتایا نہیں ہے کہ میں نے اپنی شادی پر سب کو کسی بھی قسم کی رقم دینے سے منع کر دیا تھا کیونکہ میرے پاس سب کچھ ہے مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں سوائے آپ سب کی دعاؤں کے
یہ الفاظ سن کر میں سمجھ نہ پائی اسے کیا جواب دوں تب عائشہ کا ساتھ دیتے ہوئے حریم نے بتایا
ہم نے اس درس قرآن میں جو اہتمام کیا وہ اپنی بیٹی کی خوشی کی خاطر کیا ہے، یہاں تک کہ اس نے جہیز اور بارات کا کھانا بھی منع کر دیا اور اس تمام عمل میں میرا داماد بھی اس کے ساتھ شامل ہے جس نے عائشہ کی ضرورت کا تمام سامان خود خریدا ہے فی الحال تو وہ دونوں کسی سے کچھ نہیں لیں گے البتہ شادی کے بعد شاید وہ کوئی تحفہ قبول کر لے مگر اس موقع پر وہ تمام فرسودہ رسومات سے ہٹ کر اپنی خوشی منانا چاہتی ہے۔
حریم کی یہ بات سن کر مزید بحث کی گنجائش باقی نہ رہی تھی اس لئے میں نے یہ سوچ کر لفافہ اپنے کلچ میں واپس رکھ لیا کہ اس رقم سے عائشہ کو بعد میں کوئی تحفہ دے دوں گی۔
حقیقت میں عائشہ کے ان اقدامات نے مجھے بہت متاثر کیا اور پچھلے دو دنوں سے میں یہ ہی سوچ رہی ہوں ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو عائشہ اور احمد جیسی سوچ رکھتے ہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو اپنی سوچ پر عمل کروانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں؟
المیہ یہ ہے کہ ہم دو اور دو چار کرنے والے لوگ ہیں جو دیکھتے ہیں شادی میں آنے والا کیا دے کر گیا اور بدلہ میں کتنا کھایا اور کتنے افراد ساتھ لایا ( یہاں لوگوں کے عمومی رویہ کا ذکر ہے ) ایسے میں عائشہ کا خاندان میرے لئے قابل تحسین تھا جہاں ولیمہ میں بھی لفافہ منع تھا۔
شاید ہم میں سے دو، چار لوگ ہی ایسے ہوں گے جو اتنا ظرف رکھتے ہوں کہ بنا جہیز اور بارات کے کھانے کے لڑکی رخصت کروا لیں ورنہ اکثریت یہ سب کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی بلکہ بیٹی کے والدین ہی بیٹی اسے بنا جہیز کے رخصت کرنے کا تصور نہیں کر سکتے اور ایسے والدین میں، ہم اور آپ سب شامل ہیں


