ربیع الاول کا چندہ اور عمرے کا ٹکٹ

میں ٹریفک سگنل پر رکا تو وہ بچہ گتے کا ڈبہ اٹھائے آیا اور کہنے لگا ”ربیع الاول کا چندہ دے دیں“ ۔ میں نے پوچھا وہ کون سا چندہ ہوتا ہے۔ کہا 12 ربیع الاول کا۔ میں نے استفسار کیا، 12 ربیع الاول کو کیا ہوا تھا؟ گڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا نبی ﷺ کی پیدائش ہوئی تھی۔ میں نے کہا پیدائش کا چندے سے کیا تعلق؟ چندے کا کیا کرنا ہے۔ کہتا، پہاڑیاں بنانی ہیں، لائٹیں لگانی ہیں، گلی سجانی ہے۔ پوچھا وہ کیوں؟ اس نے جواب دیا ”کیونکہ سب بناتے ہیں“ ۔ میں نے پوچھا، کیوں بناتے ہیں۔ پہاڑیاں بنانے سے کیا ہوتا ہے؟ بچے کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ پھر میں نے پوچھا، جس ہستی کی پیدائش کا تم ذکر کر رہے ہو، وہ کون تھے۔ بچہ لاجواب تھا۔ وہ بس یہی جانتا تھا کہ اس نے دوسروں کی دیکھا دیکھی چندہ جمع کرنا ہے، پہاڑیاں بنانی ہیں اور گھر یا گلی سجانی ہے۔
یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ صحیح، غلط کی تمیز کیے بغیر ہم ہر وہ کام کرتے ہیں جو باقی لوگ کر رہے ہوتے ہیں۔ ہماری اکثریت اپنے بچوں کو بھی درست طریقے سے آشکار نہیں کر پاتی کہ تعلیماتِ نبی ﷺ کیا ہیں، اسوہ حسنہ کو اپنانے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہیے، سیرت سے تعلق کو کیسے مضبوط کرنا ہے۔ سنت پر کیسے عمل پیرا ہونا ہے۔ اخلاقی اقدار کو پامال ہونے سے کیسے بچانا ہے۔ ان امور میں ہماری ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں، ہم اپنے بچوں کو اس ضمن میں سطحی حد سے زیادہ کچھ خاص علم نہیں دے پاتے۔
ہماری اخلاقی حیثیت اور ایمانی حالت کا اندازہ اس امر سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ ہمیں دینی اجتماعات، محافل میلاد وغیرہ میں عمرے کے ٹکٹ کا لالچ دے کر بلایا جاتا ہے۔ بلکہ ماہِ ربیع الاول کے علاوہ بھی کسی محفل میلاد یا محفل نعت کے اشتہار پر نظر دوڑائیں، تو اس میں آپ کو لکھا ملے گا کہ ”شامل ہونے والے کو بذریعہ قرعہ اندازی عمرہ کا ٹکٹ ملے گا“ ۔ کیا ہم ایمانی لحاظ سے اس قدر کمزور ہیں کہ ہمیں ایسے لالچ دے کر بلایا جائے؟ یہ ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ ہمیں لالچ دینے اور لالچ میں آنے کی نوبت کیوں پیش آتی ہے؟ اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو شاید ہمیں اس سوال کا جواب خود سے ہی مل جائے گا۔ ہمارے معاشرے کا یہ مزاج بن چکا ہے کہ لالچ نہ ہو تو افراتفری اور نفسا نفسی کے اس دور میں ایسی محافل کے لئے وقت ہی نہیں نکال پاتے۔ شاید ایسا لالچ دینا ہماری ایمانی حرارت کو جانچنے کا پیمانہ بھی ہے۔ ہمیں خود بھی اپنی ”اداؤں“ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وگرنہ بے خبری میں تو زندگی بسر ہو ہی رہی ہے۔
ماہِ رمضان کی طرح ربیع الاول بھی ہمیں خود احتسابی کا درس دیتا ہے۔ محض گھر، گلیاں، بازار سجانے، محلے میں لاؤڈ اسپیکر کھول کر نعتیں لگانے، اپنے سینے پر نعلین مبارک کا عکس لگانے سے حق ادا نہیں ہوتا۔ ہم نے تعلیماتِ نبوی ﷺ صرف نماز اور قرآن پڑھنے، میلاد منانے، جشن کرنے اور دوسروں کو ”لیکچر“ دینا سمجھ لیا ہے۔ ربیع الاول کائنات کی سب سے باوقار اور عظیم ہستی کی آمد کا مہینہ تھا، جس کے امتی ہونے کے ہم پتہ نہیں قابل بھی ہیں یا نہیں، لیکن ہم نے اس مہینے کو کیا سے کیا بنا کر رکھ دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے روز و شب میں شکرانہ نعمت کا باوقار عنصر غالب نظر آئے، تاکہ کوئی ہمیں کردار و عمل کی غریبی کا طعنہ نہ دے سکے۔

