بچوں کی تربیت اور ٹیکنیکل تعلیم کی ضرورت


ویسے اب ہمارے ملک میں شرح خواندگی بہتر ہو چکی ہے، اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیاں بہت سارے بن چکے ہیں سرکاری اور پرائیویٹ سطح پر بہت ساری سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ اب ملک کا کوئی گاؤں شاید ایسا ہو جہاں سرکاری یا پرائیویٹ اسکول موجود نہ ہو۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اب تک موجودہ تعلیمی سرگرمیاں خاطر خواں برکت اور بامعنی تبدیلی کا سبب نہیں بن پا سکیں اور اس کے سبب ہماری معاشرتی رویہ اور معاشی سر گرمیاں جوں کی توں ہیں۔

دوسری جانب دنیا کے باقی ممالک اور معاشرے جس چیز میں اپنا وقت خرچ کر دیتے ہیں اسے وہ پورا کا پورا فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بیس بائیس سال لگا کے بھی وہی بند گوبھی ہوتی ہے جس کے اندر سے وہی چیز نکلتی جو اس کا بیرونی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہمارے نوجوانوں کی ترجیحات کا اندازہ بخوبی لگا یا جاسکتا ہے۔ موجودہ وقت میں زیادہ تر نوجوان فیشن کے سوا کوئی دوسری مادی اور معاشرتی سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

ٹک ٹاک ہمارے معاشرے اور دیگر معاشروں کے درمیان موجود فرق کو واضح کرتا ہے۔ دوسرے ممالک کے نوجوان کسی کام کاج میں لگے ہوتے ہیں یا کسی کام کو انوکھے انداز سے انجام دینے یا کوئی نئی چال دریافت کئیے اپنی کوئی ویڈیو پوسٹ کرتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں شاہ رخ خان کی طرح کبھی آگے چلتا ہے کبھی پیچھے چلتے ویڈیو پوسٹ کر دیتا ہے۔ ہمارے نوجوان نسل سوشل میڈیا کو ریم پیج بنا کر استعمال کر رہے ہیں، کیونکہ ہمارے ہاں عقل و دماغ تو ہے ہی نہیں بلکہ ہمارا تعلیمی نظام بھی بدترین ناکامی کا شکار ہو چکا ہے۔

مجھے خدشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ والدین اس ناقص تعلیمی نظام سے بغاوت نہ کر دیں اور یہ بات کچھ حد تک ٹھیک بھی ہے، ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیر پختون خوا نے یونیورسٹی کی زمین بیچنے کی سمری تیار کر لی ہے جبکہ دوسری جانب انجنئیرنگ کے لئے ٹیسٹ دینے والے بچوں میں خاطر خواہ کمی مشاہدہ کی گئی اور یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں میں داخلہ لینے والے طلبا و طالبات کی تعداد میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی جس سے نہ صرف جامعات اور یونیورسٹیاں مالی بحران کا شکار ہیں بلکہ تدریسی ماحول میں مایوسی دیکھی جا سکتی ہے، کیونکہ ان یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل بچے اور بچیاں سوشل میڈیا پر فیشن ماڈل بن چکے ہیں۔ ان کے انداز زندگی سے مستقبل میں قوم و ملک کی خدمت کی جھلک بالکل نظر نہیں آتی۔

میرا تو مشورہ یہی ہو گا کہ سارے یونیورسٹیوں کو ٹیکنیکل کام کاج سکھانے کی ماڈل پر منتقل کرے تاکہ ملک میں ایک اچھی خاصی ٹیکنیکل لیبر فورس تیار کی جا سکے اور ہمارے ہاں صنعتی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملکی برآمدات پر بھی اچھے اثرات چھوڑیں گا۔ صنعتی دنیا میں ہم وہی پرانے لمبے چوڑے کتابیں اور مضامین بچوں سے یاد کروا رہے ہیں جس سے ہماری مشکلات کم نہیں ہوں گی بلکہ بڑھ جائیں گے۔ اگر ملک کو صحیح معنوں میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کرنے کی کوئی دوا ہے تو وہ ملکی تعلیمی نظام کو ٹیکنیکل نظام میں تبدیل کرنا ہے۔

Facebook Comments HS