سرکاری جامعات اور مالی بحران
ملک کی معاشی صورتحال سے پاکستان کی سرکاری جامعات بھی محفوظ نہیں ہیں پاکستان کی جامعات اس وقت مالی بحران کا شکار نظر آتی ہیں اور بڑی بڑی جامعات بھی اپنے ملازمین کو وقت پہ تنخواہ دینے میں دقت محسوس کر رہی ہیں۔ اور ظاہر ہے یہ صورتحال ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی اس کے پیچھے بہت سارے عوامل اور اسباب ہیں۔ جن میں سرفہرست منصوبہ بندی کا فقدان اور جامعات کا مالی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہونا ہے۔ جامعات ہمیشہ حکومت یا دوسری اداروں کی طرف معاونت کے لیے دیکھتی ہیں کہ ان کی مالی مدد کی جائے۔ چند ایک جامعات ہی ایسی ہیں جو مالی طور پر آسودہ ہیں اور اپنے وسائل سے اپنی آمدن پیدا کرتی ہیں۔
آئیے کچھ اسباب کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ حالات اس درجہ خراب کیسے ہوئے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کی نئی پالیسی کی بدولت اب بی اے اور ایم اے کے دو سالہ پروگرامز بند کر دیے گئے ہیں۔ دو سالہ ڈگری پروگرامز طلبا اور والدین میں زیادہ قبولیت رکھتے تھے اور ان میں داخلے بھی زیادہ ہوتے تھے۔
بی اے اور ایم اے کے پرائیویٹ امتحانات کی فیس ان جامعات کی آمدن کا بہت بڑا ذریعہ تھی اور یہ آمدن بند ہو گئی ہے اس وجہ سے بھی ان جامعات کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اداروں میں اطلاقی اور خالص تحقیق اور اس تحقیق کو کمرشلائز کرنے کا رجحان پروان نہیں چڑھ سکا۔ ہماری انجینئرنگ اور سائنسز کی جامعات سائنس اور انجینئرنگ کے علوم میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکیں سوائے ڈگریاں تقسیم کرنے کے۔
اساتذہ کرام کا سارا زور بھی ریسرچ پیپرز کے اوپر ہوتا ہے جن کا معاشی ترقی کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں، صرف اپنے پیپرز کی تعداد پوری کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہیں ترقی حاصل کرنے کے لیے ایچ ای سی کی پالیسی کے مطابق اپنے نمبرز بہتر کرنے ہوتے ہیں۔ یا ٹینیور ٹریک پہ کام کرنے والے پروفیسر حضرات کو کچھ خاص نمبر چاہیے ہوتا ہے ہر سال تا کہ وہ اپنے ریسرچ پیپرز شایع کروا سکیں۔ اپنے ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے طلبہ و طالبات سے وہ ریسرچ پیپر پورے کروانے میں لگے رہتے ہیں جبکہ تحقیق کے میدان میں کوئی خاطر خواہ کارنامہ انجام دینے سے قاصر ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی تحقیق کی جائے جس کی پاکستان کی انڈسٹری اور معیشت کو ضرورت ہو اور اس تحقیق کے ثمرات پھر پوری قوم تک پہنچیں مگر ایسا ہرگز نہیں ہو سکا۔ کرونا کے دنوں میں میں نے اپنے ایک سائنسز کی پروفیسر صاحب سے پوچھا کہ حضور ساری دنیا ویکسین بنا رہی ہے تو آپ پاکستان میں کس چیز پر کام کر رہے ہیں موصوف نے بتایا کہ ہم نے ہینڈ سینی ٹائزر بنایا ہے، تحقیق کی سنجیدگی آپ کے سامنے ہے۔ پاکستان مہنگی توانائی کے ایک بحران سے گزر رہا ہے ہماری انجنیئرز نے کتنے واٹ بجلی پیدا کرنے کے ایسے منصوبے بنائے جو کہ کم لاگت میں تیار ہو جاتے اور قوم کے لیے کسی قسم کے ریلیف کا باعث بنتے؟
سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی ہوئی سرکاری جامعات اب سفید ہاتھی بن چکی ہیں ان میں بنی ہوئی عمارات بہت زیادہ مالی اخراجات کی متقاضی ہیں، مگر پیسے نہیں ہیں لہذا اتنا بڑا حجم بھی ان جامعات کے لیے ایک بہت بڑا خرچہ ہے۔ اتنے بڑے انفراسٹرکچر کے باوجود زیادہ داخلے کرنے کی صلاحیت ظاہر ہے کہ محدود ہی رہے گی۔
ترقی یافتہ ممالک کی جامعات میں سے بڑی بڑی کمپنیوں نے جنم لیا ہے اور وہاں کے پروفیسر حضرات کوئی نہ کوئی کمپنی بھی چلا رہے ہوتے ہیں اور اپنے طلبہ اور طالبات کو عملی زندگی میں کاروبار کرنے کے گر سکھا رہے ہوتے ہیں اور یہ کام جامعات میں ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں صرف کامرس اور بزنس کی تعلیم ہی دی جا رہی ہے عملی طور پہ ہم کچھ نہیں کر پائے۔
یہ تو تھے کچھ بنیادی مسائل جس کی نشاندہی ضروری تھی آئیے ان کے حل کی طرف چلتے ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کرونا نے دنیا بدل دی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی بڑی بڑی یونیورسٹیاں بھی اب اپنے مالی حالات کی وجہ سے فاصلاتی یا آن لائن تعلیم کی طرف منتقل ہو رہی ہیں اور ہر سمیسٹر میں چند مضامین کو انہوں نے فاصلاتی یا آن لائن ایجوکیشن کی طرف منتقل کر دیا ہے تو پاکستان کی سرکاری جامعات کے لیے بھی اب ضروری ہو گیا ہے کہ وہ آن لائن تعلیم کا اجرا کریں جس سے ان کے اخراجات میں واضح کمی ہوگی۔
دوسرا جو پرائیویٹ بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں بند ہونے سے ان جامعات کی آمدن پر اثر پڑا ہے اس کا بھی سدباب ہو جائے گا لہذا جامعات کو اپنی تعلیم اب کلاس روم اور آن لائن دونوں طرح سے شروع کرنی پڑے گی۔ اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے آن لائن ایجوکیشن کے لیے اب ایک واضح پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔
سرکاری جامعات کی بڑی بڑی بلڈنگز اور بہت بڑے رقبے کا استعمال بھی کمرشل بنیادوں پر کرنے کا سوچنا چاہیے کہ کس طرح سے اس کو آمدن کا ذریعہ بنایا جائے اگر سرکاری جامعات نے اپنی آمدن کو نہ بڑھایا توان کو فیسوں میں اضافہ کرنا پڑے گا اس کا اثر لامحالہ طلبہ اور طالبات پر پڑے گا اور یہ بہرحال سرکاری جامعات کی طرف سے ایک برا قدم ہو گا۔
مزید برآں پاکستان کی سرکاری اور پرائیویٹ سب جامعات کو انڈسٹری کے ساتھ اپنا تعلق اور ربط بڑھانا پڑے گا اور اس قسم کی تعلیم دینی پڑے گی جس کی ان کو ضرورت ہے اور اس طرح کی ریسرچ کرنی پڑے گی جو بین الاقوامی اور مقامی ضرورتوں کو بھی پورا کر سکے اور علم و تحقیق میں نیا اضافہ کر سکے اور اس ریسرچ کو جب کمرشلائز کیا جائے گا تو ہماری جامعات کی آمدن میں خاطرخواہ اضافہ متوقع ہے۔
اساتذہ کو ریسرچ پیپر کی دوڑ سے باہر نکال کر عملی تحقیق کی طرف لایا جائے اور وہ اپنے طلبہ و طالبات کو آنے والی انڈسٹری کے لیے تیار کریں اس کے لیے جتنے بھی کامرس یا بزنس شعبہ جات ہیں وہاں پر تو بہت ضروری ہے کہ کمپنیاں بنائی جائیں اور وہاں پر نئے نئے بزنسز شروع کیے جائیں تاکہ پاکستان میں بے روزگاری اور بد امنی کا بھی خاتمہ ہو سکے۔
جامعات کو حکومتی گرانٹ کی طرف دیکھنے کی بجائے خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑے گا یہی اس مسئلے کا حل ہے۔


