یوکرین جنگ اور یورپ کا مستقبل (2)


مغربی تجزیہ کاروں کا خیال ہے، ایسا لگتا ہے کہ روس کی دھمکیاں کارگر ثابت ہوئیں، روس کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے والے یوکرین پر امریکی پابندیاں بھی ممکنہ طور پر اس لئے عائد ہوئیں کہ واشنگٹن جوہری جنگ کے خطرے سے خوفزدہ دکھائی دیتا ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ روس نیوکلیئر ہیئر ٹرگر پر ہے اور کوئی بھی اشتعال انگیزی بین الاقوامی سطح کی جوہری جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس وقت جوہری ہتھیاروں کے کل عالمی ذخیرے میں نو ممالک کے پاس 12,000 سے زیادہ وار ہیڈز پائے جاتے ہیں، جن میں روس کے پاس سب سے زیادہ تقریباً 6000 وار ہیڈز موجود ہیں جن میں سے کچھ بیلاروس میں نصب ہیں۔ اسی طرح 5,000 سے کچھ زیادہ ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ امریکہ دوسرے بڑے ایٹمی ذخیرے کا مالک ہے، جن میں سے کچھ اٹلی، ترکی، بیلجیم، جرمنی اور ہالینڈ میں نصب ہیں۔ چین، فرانس، برطانیہ، پاکستان، بھارت، اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس بھی جوہری ہتھیار ہیں۔
اگر ہم پیچھے پلٹ کر دیکھیں تو سرد جنگ کے خاتمہ پر امریکہ نے واحد سپر پاور کے طور پر اپنے منفرد اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یورپ کے لئے نیٹو کے اجتماعی دفاع سے کچھ آگے بڑھ کر وسیع تر عزائم کا اظہار کیا تھا، وہ درحقیقت عالمی مسیحا کی طرح روس کو جمود سے نکالنے کے علاوہ نیٹو کو وسعت دے کر عظیم تر یورپ بنانے کی خاطر مشرقی و مغربی یورپ کے انضمام کا خواہشمند تھا۔ امریکہ نے نیٹو کی توسیع اور روسی شراکت داری کو مجموعی طور پر یورپی انضمام کی ایسی حکمت عملی کے طور پر دیکھنا چاہا، جو سرد جنگ کی پرانی تقسیم کی لکیر کو مٹا کر براعظم یورپ کو مزید مستحکم کر سکے، اسی مقصد کے حصول کی خاطر نیٹو روس کو یقین دلانے کے لیے تیار تھا کہ اس کا جوہری اور روایتی بنیادی ڈھانچہ توسیع کے باوجود مشرقی یورپ کی سمت مزید نہیں بڑھے گا تاہم اس سب کے باوجود امریکہ کو خدشہ تھا کہ نیٹو روس فاؤنڈنگ ایکٹ کے ذریعے، روس نئے اور مربوط یورپ میں اپنی صحیح جگہ لینے کے لیے مغربی یورپ کی جانب اثر و رسوخ بڑھانے سے باز نہیں آئے گا، جیسا کہ اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ نے بارہا دہرایا تھا کہ نیٹو کونسلز میں روس کی توانا آواز تو ہوگی لیکن اسے ویٹو کا اختیار نہیں دیا جائے گا۔

نیٹو نے اپنے اِس اعتماد کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اسے اب روس کی طرف سے کسی ٹھوس خطرے کا سامنا نہیں رہا، متوقع ایکٹ میں روسی فیڈریشن پر کسی قسم کی باہمی پابندیاں لگانے سے اجتناب کیا۔ چنانچہ 1995 کے نیٹو اتحاد نے واضح کر دیا تھا کہ اس کے اجتماعی دفاع کے کام کو ان طریقوں سے پورا کیا جا سکتا ہے جس میں روسی سرحدات کی طرف افواج کی تعیناتی یا جوہری بنیادی ڈھانچے کی منتقلی شامل نہیں ہو گی، مثلاً ناروے اور ڈنمارک نے اپنی سرزمین اور بندرگاہوں پر جوہری ہتھیاروں کی تنصیب پہ خود اعلان کردہ پابندیاں عائد کر رکھی تھیں جبکہ دیگر اتحادیوں کے پاس اپنی سرزمین پر نیٹو افواج یا بنیادی دفاعی ڈھانچہ موجود ہی نہیں تھا، نیٹو اور روسی فیڈریشن کے درمیان باہمی تعلقات، تعاون اور سلامتی کے بانی ایکٹ پر 27 مئی 1997 کو پیرس میں نیٹو سربراہی اجلاس میں بورس یلسن اور نیٹو رہنماؤں نے دستخط کیے تھے۔

اسی تناظر میں 2014 سے پہلے افغانستان کے حوالے سے قریبی اور باہمی نتیجہ خیز تعاون بڑھانے کی شروعات ہوئیں تاہم 2014 میں روس کے کریمیا کے الحاق کے بعد تعلقات کچھ متغیر ہوئے، نیٹو روس کونسل جو نیٹو کے ارکان کے لیے ایک فورم میں تبدیل ہو گئی تھی، نے روس پر اُسی بانی ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، جس نے دونوں کے درمیان بات چیت اور باہمی تعاون کی بنیاد فراہم کی تھی، چنانچہ باہمی اعتماد کے فقدان اور کچھ تراشیدہ خطرات کو جواز بنا کر نیٹو نے مشرق کی طرف توسیع نہ کرنے کے اپنے ابتدائی وعدوں کے برعکس نیٹو میں یوکرین کی شمولیت کی درخواست لے کر روسی سرحدات کے قریب ایٹمی ہتھیاروں کی تنصیب کا فیصلہ کر کے ایک ایسے خونی تنازعہ کو جنم دیا جس نے براعظم یورپ کے انضمام کے خواب کو ہمیشہ کے لئے بکھیر کے رکھ دیا۔

افغانستان سے بیس سالوں پہ محیط طویل جنگ سے نیٹو اور امریکی کی بے نیل و مرام واپسی کے بعد یورپ کے قلب میں کبھی نہ تھمنے والی یوکرین جنگ کی حرکیات نے مغرب کے فوجی، سیاسی اور اقتصادی زوال کو یقینی بنا دیا۔ اگرچہ چند دور اندیش لوگ اب بھی نیٹو روس کونسل کو ممکنہ طور پر مفید فورم سمجھتے ہیں، انہیں نیٹو روس فاؤنڈنگ ایکٹ میں بہت زیادہ اہم مفادات نظر آتے ہیں، اس لئے فریقین کو اسے مکمل طور پر ترک نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ کسی مرحلے پر، جب یوکرین میں تنازعہ ختم ہو جائے اور شاید دونوں فریق نتائج سے مطمئن نہ ہوں، تب نیٹو کو اجتماعی طور پر ایک انتخاب کا سامنا کرنا پڑے گا، چاہے وہ روس پر قابو پانے کا فیصلہ ہو یا اس کے ساتھ مل کر جینے کی خاطر اجتماعی نظام کی تشکیل نو کے لئے کوشش کرنا پڑے لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ تمام تر خوشنما امیدوں کے الرغم روس کو دوبارہ مسخر کرنا ناممکنات کے قریب ہو گا۔

امریکی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں یوکرین کی جنگ نے ہتھیاروں کے کنٹرول اور تحمل کی تجدید کی طرف پیش رفت کی راہیں مسدود کر دیں۔ سب سے بہتر جس کی آخر میں امید کی جا سکتی ہے وہ باہم مل کر جینے کی راہ کے لئے موزوں مکالمہ کے لئے ہم آہنگ ماحول مہیا کرنا ہو گا جو یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی درخواست کے استرداد سے مشروط ہے۔ کیا ایسا ممکن ہو سکے گا کہ نیٹو یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کے لئے خود طلب کردہ درخواست مسترد کر دے؟

ہرگز نہیں! نیٹو نے یوکرین سے رکنیت کے حوالے سے جو وعدہ کیا تھا اسے نیٹو کی جولائی 2024 کی واشنگٹن سمٹ میں پھر دہرایا گیا، یہ کھلا وعدہ روس کی آتش غضب کو بھڑکاتا رہے گا، قطع نظر اس کے کہ موجودہ تنازعہ کیسے ختم ہو گا لیکن مکمل تباہی سے بچنے کے لیے نیٹو، روس تعلقات کے کچھ عناصر کو بچانے کی کوشش ترک نہیں کی گئی، اسی لئے نیٹو نے اب تک فاؤنڈنگ ایکٹ میں طے شدہ ”تین نیوکلیئر نوز“ کی پابندی کی ہے۔ اس میں جتنا بھی لمبا عرصہ لگے، شاید یورپ میں جوہری تحمل کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں اطراف کی رضامندی کا اعادہ گیند کو رول کرنے میں مددگار ثابت ہو۔

گزشتہ اکتوبر میں، یورپی لیڈرشپ نے ہینس سیڈل فاؤنڈیشن کے اشتراک سے یورپی ماہرین کو اکٹھا کیا تاکہ یوکرین جنگ کے ممکنہ نتائج کے مضمرات پر بات چیت کی جا سکے۔ گروپ نے سات امکانات کو پیش نظر رکھا، جن میں یوکرین یا روس کی فیصلہ کن فتح سے لے کر کسی بھی فریق کا فوجی فتح حاصل نہ کرنا، اسی طرح ممکنہ طور پہ روس اور مغرب کے درمیان طویل جنگ یا بڑے پیمانے پر رینگتی ہوئی کشیدگی جو رفتہ رفتہ بہتے خون (Bleeding) کی مانند موت کا سبب بنتی ہے، جیسے امکانات شامل ہیں۔

فی الوقت یہ تمام منظرنامے قابل فہم دکھائی دیتے ہیں اور تیزی سے بدلتے ماحول میں طویل جنگ کا منظر نامہ جو رینگنے کے برعکس یہاں بڑے پیمانے پر جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے، حالات کے تیور بتاتے ہیں کہ روس اُن علاقوں کو اپنے پاس رکھنا چاہیے گا جسے اس نے فتح کر لیا، جس سے تشدد کی مختلف سطحوں کے ساتھ جنگ بدستور جاری رہے گی۔ طویل جنگ میں یورپی یونین کے اندر پاپولزم اور بدعنوانی عروج پائے گی کیونکہ یونین اپنی پھیلتی ہوئی داخلی تقسیم اور یوکرین سے بڑھتی ہوئی ہجرت جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے میں سرگرداں ہے۔

یورپی یونین کی توسیع کے عمل کو متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ یوکرین کو شامل کیے بغیر یورپی یونین پھیل ہی نہیں سکتی، کچھ رکن ممالک روس کے خلاف توازن کے طور پر بلقان کے الحاق کو فروغ دینے کے حامی ہیں لیکن مشرقی یورپی یونین کے ممالک ممکنہ طور پر اس کو یوکرین کے الحاق کے نتائج سے جوڑیں گے چنانچہ یوکرین جنگ یورپی یونین کے دیگر مشرقی یورپی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو محدود کر دے گی، جس کی وجہ سے یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان معاشی تفاوت بڑھے گا۔

یورپی یونین کے فوجی صنعتی اڈے کو مضبوط کرنے کی خاطر مارچ 2024 میں شروع کی گئی یورپی دفاعی حکمت عملی میں خامیوں کے آثار ہویدا ہیں، جس کے نتیجہ میں بیک وقت، مشرقی اور جنوبی یورپی یونین کی ریاستوں کے درمیان دراڑ بڑھنے والی ہے، یورپ میں باہمی اعتماد اور شفافیت پر مبنی کوآپریٹو سیکورٹی طریقہ کار سے ظاہر ہوتا ہے، یہ براعظم مکمل طور پر تباہی کے قریب آن پہنچا ہے، لہذا ہتھیاروں کی دوڑ کے ساتھ ہی روایتی خطرات کے علاوہ جوہری جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا، جس سے مستقل تاریکی پلٹ سکتی ہے۔ مغرب نے یوکرین کو محدود فوجی مدد فراہم کر کے روس کے مقابلہ میں کچھ حاصل تو نہیں کیا لیکن یوکرین کے لیے فیصلہ کن فتح کی کمی نے عالمی اداروں میں یورپ کی آواز کو کمزور کر دیا۔ یوکرین جنگ میں امریکہ کے مصروف رہنے اور یورپ کے تھک جانے کے باعث مستقبل کے دبستانوں میں چین کا کردار بڑھ جائے گا۔

Facebook Comments HS