پیٹر پین سنڈروم کیا ہے؟
احمد عجیب و غریب عادات کا مالک بچہ تھا۔ اس کو کسی بھی قسم کی سرگرمی میں دلچسپی نہ تھی، نہ تو اس کو پڑھائی کا شوق تھا اور نہ ہی وہ کسی بھی مثبت سرگرمی میں شامل تھا۔ اس کا ایک ہی مشغلہ تھا کہ وہ ہر وقت صرف اور صرف وڈیو گیمز کھیلتا رہتا تھا۔
گھر والوں کے ساتھ وقت بتانا، ان کے ساتھ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانا اس کو سخت ناپسند تھا۔
گھر کے اور باہر کے کسی بھی قسم کے معاملے میں اس کی دلچسپی تقریباً صفر تھی۔ بڑے ہونے کے بعد بھی احمد کی روٹین میں کوئی فرق نہیں آیا۔ وہی چند دوست جو اس کے بچپن کے تھے، آج بھی وہی تھے۔ اس کو اپنے کیریئر کی، اپنی آنے والی زندگی کی کوئی فکر نہ تھی۔ نہ اس نے اپنی تعلیم مکمل کی، اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھا۔
ہمیشہ وہ اپنا جیب خرچ اپنے والدین سے لیتا تھا اور والدین کے بعد اپنے بڑے بہن بھائیوں پر انحصار کرتا تھا۔ وہ ایک بے مقصد زندگی جی رہا تھا اور کمال بات یہ ہے کہ اپنی اس زندگی کے ضائع ہونے کا اس کو کوئی دکھ اور ملال نہ تھا۔
یہ ایک ایسا ذہنی مسئلہ ہے جس میں انسان بڑا ہونے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔ اس کا ذہن کہیں بچپن میں ہی پھنس جاتا ہے۔ اس بات کو آپ یوں سمجھ سکتے ہیں کہ پیٹر پین وہ بچہ تھا جو اپنی پیدائش کے وقت تو نارمل تھا لیکن پھر وہ ”نیور لینڈ“ بھاگ گیا اور اس نے بڑے ہونے سے انکار کر دیا۔
علامات
اس کی کچھ خاص علامات ہیں :
1۔ کسی بھی کام میں دلچسپی کا نہ ہونا
2۔ آگے بڑھنے کا جذبہ انتہائی حد تک کم ہونا
3۔ کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے کام کو بھی سر انجام دینے میں مشکل محسوس کرنا
4۔ ناقابل اعتبار رویہ رکھنا
5۔ قوت فیصلہ انتہائی حد تک کمزور ہونا
6۔ غیر مستحکم جذباتی کیفیت کا ہونا
7۔ جواب دہی کے ڈر سے پیچھے رہنا
8۔ دوسروں کو ہمیشہ الزام دینا
9۔ ذاتی صفات میں انتہائی کمی نظر آنا
10۔ وقت کے ساتھ ساتھ آنے والی تبدیلی کو قبول نہ کرنا
11۔ بڑے ہو کر بھی اپنی ذمہ داری کو قبول نہ کرنا
12۔ تاخیر یا دیر کے حیلے بہانے کرنا
13۔ تنقید کو برداشت نہ کرنا
14۔ روز مرہ کے گھریلو کام کاج میں حصہ دار نہ بننا
15۔ اپنے بچپن کے گھر کو چھوڑنے سے انکار کر دینا
16۔ اپنے معاشی معاملات کے لیے ہمیشہ دوسروں پر بھروسا کرنا
17۔ ہمیشہ بے روزگار رہنا
18۔ اپنے تعلقات کے مابین چپقلش کا سامنا کرنے سے ڈرنا
19۔ کسی قسم کے نشے کا شکار ہو جانا
20۔ منفی خیالات کا کثرت سے ہونا
وجوہات
اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں :
1۔ زیادہ حفاظت کرنے والے والدین:
اگر والدین اپنے بچوں کو بیرونی دنیا سے بہت زیادہ چھپا کر رکھیں اور ان کو کوئی کام نہ کرنے دیں، اس سے ان کے اندر کوئی مہارت پیدا نہیں ہو سکے گی۔
2۔ کھلی چھوٹ دینے والے والدین:
اگر والدین اپنے بچوں کو حد سے زیادہ آزادی دے دیں اور ان سے کوئی سوال جواب نہ کریں تو ایسی صورت میں بھی بچوں کے اندر ایک غیر حقیقی ذہنیت پروان چڑھ جاتی ہے۔
3۔ ذہنی دباؤ:
بعض اوقات زندگی کی مشکلات کو دیکھ کر بھی بچے ذہنی طور پر بڑے ہونے سے انکار کر دیتے ہیں جیسے کہ بار بار امتحان میں ناکام ہو جانا یا بہت زیادہ بیمار پڑ جانا۔
4۔ اکیلاپن:
زندگی کے ابتدائی سالوں میں جب بچے کو بہت زیادہ محبت کی اور سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت اس کا تنہا رہ جانا بھی اس کو پی پی ایس کا شکار کر سکتا ہے۔
5۔ نرگسیت یا انا پسندی:
بعض اوقات جب انسان ذہنی طور پہ اس بات کو قبول کر لیتا ہے کہ وہ کوئی خاص مخلوق ہے اور اس کو شاہی طریقے سے خدمت گزاری چاہیے کیونکہ وہ اس کا حق رکھتا ہے، ایسی سوچ سے بھی پی پی ایس پروان چڑھتا ہے۔
6۔ پدرسری معاشرہ:
ہمارے روایتی معاشروں میں خواتین سے یہ امید لگائی جاتی ہے کہ گھر کا تمام کام صرف خواتین کریں گی اور گھر کے مرد یا لڑکے ایک پیالی چائے بنا کر دینا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں، اس مردانہ ذہنیت کی وجہ سے بھی یہ پرابلم ہو سکتی ہے۔
8۔ اعتماد کی کمی:
اگر بچے کو کسی قسم کا خوف ہو یا اعتماد کی کمی ہو تو اس صورت میں بھی بچہ پیٹر پین بن سکتا ہے۔
پرہیز اور علاج
پی پی ایس کی کا علاج ممکن ہے۔ مختلف تھیراپیز اور لائف کوچنگ کے ذریعے اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ: تمام نام فرضی ہیں۔ کسی بھی قسم کی مماثلت اتفاقی ہو سکتی ہے۔

