ویسٹ لینڈ: بیسویں صدی کے ادب کا عظیم شاہکار


Syed Abdul Hasib Quetta

ٹی ایس ایلیٹ کی شہرہ آفاق نظم ویسٹ لینڈ (Waste Land) جو پہلی جنگ عظیم کے بعد انیس سو بائیس میں لکھی گئی ہے۔ اس کو جدید شاعری کے تناظر میں سب سے موثر کام کہا جا سکتا ہے۔ اس نظم میں اس زمانے کے لندن کی جنگ عظیم اول کے بعد کی عکاسی کی گئی ہے۔ اگرچہ اس میں صحرا اور سمندر کے مناظر بھی شامل ہیں۔ اس زمانے کی نسل کی مایوسی اور انتشار کو اس نظم میں الفاظ کا روپ دیا گیا ہے۔ اس نظم کی تحریر غیر معمولی ہے کہ جس کے اندر مختلف شعری روایات اور اسالیب کو سمو دیا گیا ہے۔ یہ طویل نظم زوال، نا امیدی اور روحانی انحطاط جیسے موضوعات کو زیر بحث لاتی ہے۔ اس نظم کی تقسیم پانچ حصوں The Burrial of Dead٫Game of Chess، The Fire Sermon، Death by Water اور What The Thunder Said کی گئی ہے۔ ایلیٹ نے اس نظم میں بائبل، شیکسپیئر، سینٹ آگسٹین، ہندو اور بدھ مت کی مقدس کتابوں اور مختلف زبانوں انگریزی، جرمن، سنسکرت، فرانسیسی شاعری، واگنیری اوپیرا اور آرثرین افسانوی کہانیوں کو ادبی حوالوں کے طور پہ استعمال کیا ہے۔ دانتے کی ڈیوائن کامیڈی اور ہندو مذہب کی مقدس کتاب اوپنیشد سے بھی اقتباس لئے گئے ہیں۔ لیکن اس نظم میں کچھ اس زمانے کی اشیا جیسے جاز موسیقی، گراموفون، موٹر کار، ٹائپسٹ اور ڈبہ بند کھانے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس نظم میں ”منتشر دنیا“ کا تصور جنگ عظیم کے بعد کی بے ترتیبی اور روحانی انحطاط کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ اس ”انتشار“ سے روایتی اقدار، ثقافتی ہم آہنگی اور روحانیت، معنویت اور معاشرتی یکجہتی جیسی اقدار ناپید ہو کر رہ گئیں۔ نظم کی ٹوٹی پھوٹی ساخت جنگ کے بعد والی ”منتشر جدید زندگی“ کی تہذیب کی شکستہ حالت اور ماضی کی روایات اور اقدار سے یکسر انقطاع دکھاتی ہے۔ نظم کے اکثر کردار تنہا، روحانیت سے خالی اور بے کار کی مشغولیت میں ہوتے ہیں ان کی زندگیاں کسی بھی مقصدیت اور معنویت سے خالی ہوتی ہیں۔ نظم کی آوازوں میں بلندی اور پستی دور جدید کے افراد کے نفسیاتی الجھاؤ کو ظاہر کرتی ہے جو الگ تھلگ رہتے ہیں اور جن کی کوئی شناخت نہیں ہے۔ یہی چیز ان کو کسی بامعنی شناخت سے جڑنے بھی نہیں دیتی۔ ایلیٹ داستان، مذہب اور تاریخ کی باز گشت سے یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جنگ عظیم اول کے بعد کی دنیا مربوط بیانیوں سے کس قدر کٹی ہوئی ہے ان کی نظر میں جنگ اور انڈسٹرلائزیشن ایک منظم معاشرتی ڈھانچے کے انہدام کا باعث بنی ہے اور اب فرد ایک بے معنی اور بے ترتیب دنیا میں معنی اور ترتیب حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہے جو کہ ظاہر ہے نا ممکن ہے۔

نقادوں نے اس نظم کی اشاعت کے بعد اس کے مختلف پہلوؤں پہ روشنی ڈالی ہے کچھ نے اس کو کھوئی نسل کا نمائندہ قرار دیا ہے اور کچھ نے اس کی مختلف زبانوں اور ان کی کتابوں میں سے حوالوں کو پسند کیا ہے Waste land چونکہ پہلی جنگ عظیم کے بعد کے لندن کے معاشرے کی عکاس ہے اور اس نسل کی معاشرتی، نفسیاتی، روحانی اور جذباتی زوال کی عکاسی کرتی ہے اس لیے ان کے کرداروں کی تصویر کشی میں بھی یہ عوامل صاف نظر آتے ہیں۔ The Burrial of The Dead میں موت اور تباہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس حصے میں جنگ کے بعد کی دنیا کی ویرانگی کو ظاہر کیا گیا ہے۔ نظم کا آغاز امید بھری زندگی سے ہوتا ہے مگر جلد ہی اس میں تنہائی اور بے بسی کا تذکرہ چل پڑتا ہے اس حصے میں خوابوں، ماضی کی یادوں اور روحانی زوال کا تذکرہ ہے۔ اس کے کرداروں میں ایک عورت ماضی کی یادوں میں گم ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کے حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر زمین کے بنجر پن کو اس وقت کے معاشرتی حالات کی تنزلی کے استعارہ کے طور پہ پیش کرتے ہیں۔ A Game of Chess میں جنگ عظیم کے بعد انسانی رشتوں میں آنے والی دراڑ اور دوری کا ذکر ہے شطرنج کے کھیل کو ”طاقت اور ایک دوسرے کو قابو میں رکھنے کی جنگ“ کے استعارہ کے طور پہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان بات چیت کا خلاصہ ہے جو ایک بے مقصد اور عدم اطمینان والے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس رشتے میں صرف جنسی کشمکش اور ایک دوسرے کو قابو میں رکھنے کا جذبہ ہے۔ روحانی اور جذباتی میلان کا نام و نشان تک اس رشتے میں نہیں ہے۔ The Fire Sermon میں بدھ مت کے ”فائر سرمن“ کے حوالے کے ذریعے انسان کو دنیاوی خواہشات اور آسائشوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس میں ”ٹائپسٹ“ اور ”ینگ مین کاربنکلر“ جیسے کرداروں کا ذکر ہے جن کے درمیان ایک بے روح رشتہ ہے۔ ایلیٹ کے نزدیک جدید معاشرہ اخلاقی اور معاشرتی زبوں حالی کا شکار ہے۔ جس میں مادی اور جنسی خواہشات کی تکمیل ہی زندگی کا مقصد اور مدعا بن چکا ہے۔ وہ لندن کے معاشرے کو اخلاقی طور پہ ایک ناپاک جگہ سے تعبیر کرتا ہے اور ان کے نزدیک ایسے معاشرے کی تطہیر صرف روحانی اصلاح کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ Death by Water میں ”فیلیبئس فینیشن“ نامی ایک ملاح کی پانی میں ڈوبنے سے ہوئی موت کی کہانی بیان ہوئی ہے اس کردار سے زندگی اور موت کے دائمی تعلق اور رشتے کو بیان کیا گیا ہے اس میں دکھایا گیا ہے کہ پانی جو بظاہر تو زندگی کی علامت ہے کس طرح موت کا سبب بن جاتا ہے اس سے بتانا یہ مقصود ہے کہ زندگی کتنی ناقابل بھروسا ہے اور موت اس کے لئے کتنی اٹل ”What the Thunder Said“ میں شاعر اپنے قارئین کو امید کی کرن دکھانے کی کوشش کرتا ہے ان کے نزدیک اس جدید دنیا کی اس بدترین زوال کے بعد بھی بحالی اگر ممکن ہے تو وہ صرف اور صرف روحانی ارتقاء کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ”گرج چمک“ کو امید کے ایک استعارے ”زمین کی زرخیزی“ یعنی ”دنیا کی روحانیت کی طرف رجوع“ کے طور پہ استعمال کیا گیا ہے جو ہندو مذہب کی کتاب ”اوپنیشد“ سے ماخوذ ہے۔ جس میں انسانیت کو تین اصولوں ”دیا“ ( دینے کی صفت) ”داما“ (خود پر قابو پانے کی صفت) اور دیاوا ( رحم دلی کی صفت) کی تلقین کی گئی ہے۔ اس حصے میں کوئی مخصوص کردار متعارف کروانے کے بجائے پوری انسانیت کو مخاطب کیا گیا ہے اور کلی مادیت سے نجات اور روحانیت کی طرف واپسی کی دعوت دی گئی ہے۔ نظم کے اختتام پہ رجائیت کا ذکر کیا گیا ہے اور دنیا کی جنگ اور مادیت سے امن اور روحانیت کی طرف واپسی کی امید کا اظہار کیا گیا پے۔ اگرچہ ٹی ایس ایلیٹ کا ہر کام بے مثل اور لاجواب ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس کو ملنے والے نوبل ادبی پرائز کا سبب Wasteland جیسی شاہکار نظم ہی تھی۔

Facebook Comments HS