شہباز شریف سے جلنے اور نہ جلنے والوں کا منہ کالا
شہباز شریف کے دور میں پاکستان دن دوگنی اور رات چوگنی معاشی ترقی کر رہا ہے۔ اس بات سے وہ کروڑوں پاکستانی انکار نہیں کر سکتے جن کے گھر پہ بجلی کا میٹر لگا ہے اور وہ اس کا بل خود ادا کرتے ہیں۔ باقی رہ گئے وہ لوگ جن کے گھر قریبی کھمبے کے ساتھ چپکائی کنڈی سے بجلی آتی ہے اور وہ اس کا بل اپنے محلے یا علاقے کے ایک نیک اور غیر معزز سرکاری ٹھگ کو دیتے ہیں۔ وہ لوگ بھی خوش قسمت ہیں کیونکہ ٹھگ بجلی کا بل اس نسبت سے نہیں بڑھاتا جس نسبت سے حکومت بڑھاتی ہے۔ سب سے زیادہ خوش قسمت اور مطمئن تو وہ لوگ ہیں جن کے ہاں بجلی جیسی لعنت نہیں پائی جاتی۔ وہ لوگ ہمارے پنجاب کے سابق وزیر اعلی جناب عثمان بزدار کی طرح ایک مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ وہ اس ملک کی ترقی کو دیکھیں یا نہ دیکھیں کسی کو کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔
پاکستان کی معاشی ترقی گھی، آٹا، چینی، دال اور دوائیوں کی قیمتوں میں بھی خوب نظر آ رہی ہے۔ پاکستان شاندار ترقی کی راہ پر گامزن ہے اسی لیے تو شہباز شریف نے کسی وزیر، مشیر، بیوروکریٹ، جج یا جرنیل کو ملنے والی مراعات میں معمولی سی کمی بھی نہیں کی۔ ان کے گھر، گاڑیاں، پٹرول اور بجلی اب بھی پہلے کی طرح فری ہیں، یعنی حکومت ادا کرتی ہے۔ ہاں البتہ ان کے ملازمین، کسان، کلرک اور ریڑھی بانوں کو روٹی پانی اور ہوا کی قربانی، ملک کی ترقی کی خاطر، دینی پڑ رہی ہے۔ گو کہ ان کی قربانی کچھ بڑی نہیں۔ جتنا چھوٹا ان کا بل ہوتا ہے اتنی ہی ان کی قربانی بھی چھوٹی ہے۔ حکومت بے چاری اس کو کیا ویلیو دے سکتی ہے۔ اگر دو چار لاکھ بوڑھے دوائی نہیں خرید پا رہے یا دو چار کروڑ بچے سکول نہیں جا پا رہے تو کیا ہم ملکی دفاع اور کشمیر کاز کے لیے گانے بنانے کا ضروری کام بند کر دیں۔ پاکستان کو بنانے کا مقصد تو نہیں ناں بھول سکتے ہم۔ اس لیے ہمسایوں سے دشمنی جاری رہے گی۔
شہباز شریف کے دور میں آپ انصاف کی برابر فراہمی سے تو انکار کر ہی نہیں سکتے۔ غریب امیر سب برابر ہو گئے۔ گرفتاری اور اغوا گھر، یونیورسٹی یا پارلیمنٹ ہر جگہ جاری ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ غریب ڈاکو کچے کا نہ ہو، امیر ڈاکو پکے کا نہ ہو اور ایم این اے حکومت کا نہ ہو۔
پارلیمنٹ میں کچھ لوگ آئے ضرور اور کچھ معزز ممبران کو اٹھا کر لے گئے لیکن انہوں نے وطن کی عزت پر آنچ نہیں آنے دی۔ ملک کی عزت کی خاطر وہ پولیس کی وردی میں آئے اور سب سے پہلے پارلیمنٹ کی عمارت کی بجلی بند کی۔ وہ چاہتے تھے کہ مکمل اندھیرے میں واردات ڈالی جائے اور کوئی ویڈیو کلپ نہ بن سکے تاکہ گھر کی بات گھر میں رہے۔ چار دیواری کا تقدس قائم رہا۔ بس کچھ معزز ممبر پارلیمنٹ کی عمارت سے اٹھا لیے گئے اور ان کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کرنے پڑے۔ شہباز شریف ثابت قدم رہے اور کونے میں بیٹھے دہی کھاتے رہے۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں عزت کے سوا۔
مجھے پاکستان کے محبوب وزیراعظم شہباز شریف صاحب سے بہت ہمدردی ہے۔ ان کی نوکری بہت مشکل ہے، لیکن وہ بہت کامیاب جا رہے ہیں۔ اپنے ماتحت کی ماتحتی میں ابھی تک ان کی پرفارمنس سب سے بہتر جا رہی ہے۔
وہ بہت مظلوم ہیں۔ بیچارے پچھلی حکومت کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے کیونکہ پچھلی حکومت ان کی اپنی تھی۔ وہ اپوزیشن کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے کیونکہ اپوزیشن ان کی اتحادی ہے۔ وہ عمران خان کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے کیونکہ پی ٹی آئی کے وی لاگرز نے انہیں اس بات سے منع کر رکھا ہے۔ پی ٹی آئی کے وی لاگرز شہباز شریف کو ڈراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کچھ جرنیل تو عمران خان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ شہباز شریف ہر جرنیل کی ہر بات کو ویلیو دیتے ہیں۔ انہیں باجوہ اور مشرف سے بھی پیار ہے اور فیض حمید کی نوکری بھی کر سکتے ہیں۔ یعنی وہ کسی بھی جرنیل کے ماتحت وزیر اعظم رہ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم بنانے والوں کو بھی ان پر اندھا اعتماد ہے۔ یعنی انہوں نے شیخ رشید جیسے بہروپیے کو بھی فیصل واؤڈا سے بدل ڈالا لیکن شہباز کی جگہ ابھی بھی کوئی نہیں لے سکا۔
شہباز شریف ایک کامیاب وزیر اعظم ہیں۔ انہیں بھی ایک عام پاکستانی کی طرح اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے خواب دیکھنے اور اس کے لیے کوشش کرنے کا حق حاصل ہے۔ اب حمزہ شہباز ہمارے اگلے وزیر اعظم بن جائیں تو پاکستان کی باقی ماندہ معاشی ترقی ہم ان کے دور میں دیکھیں گے۔ جلنے اور نہ جلنے والے کا منہ کالا۔


