دستور میں نئی آئینی ترمیم: حاکمیت کے نوآبادیاتی فلسفے کا مطالعہ
ہندوستان پر سیاسی اجارہ داری کو تقویت دے کر، معاشی مفادات کا حصول برطانوی نوآباد کاروں کا بنیادی ہدف رہا۔ فوج کشی، جنگوں اور فسادات کے ذریعے سے، ہندوستان پر زبردستی تسلط قائم کرنے کے لیے استعماری طاقت نے نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا جس کا مقصد ہندوستان میں سامراجیت کی جڑوں کو مضبوط کرنا تھا۔ برطانوی حکام نے اس ضمن میں ہندوستان میں جمہوری پراسیس کو معطل رکھا اور آمرانہ تصور حکومت کے تحت نوآبادیاتی ادارہ جات متعارف کرائے۔ سلطنت مغلیہ کے ساتھ کیے گئے معاہدات کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے، مغل حکومت کے متوازی، کمپنی نے اپنا عدالتی، قانونی اور انتظامی ڈھانچہ کھڑا کر دیا اور اس کی ابتداء 1765ء میں دیوانی کے اختیارات ملنے کے بعد ہوئی۔ یوں سن 1765ء میں ہی مغل عمل داری محض علامتی بن کر رہ گئی۔ بنگال میں عدالتی نظام تشکیل دیا گیا جس کا دائرہ وسیع کرتے کرتے دہلی تک پہنچا دیا گیا۔ نوآبادیاتی منتظمین نے عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کیا اور ہر اُس ادارے کو کمزور کیا جو نوآبادیاتی استعماریت کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔
چنانچہ، نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا جسے ہم جابرانہ غیر جمہوری سیاسی ڈھانچہ کہہ سکتے ہیں اس غیر جمہوری نظام کے تحت ہندوستانیوں کی مزاحمت اور مخالفت کو جبر و استبداد کی بنیاد پر دبایا جاتا رہا۔ جابرانہ سیاسی ڈھانچہ نوآبادیاتی حکمرانی کا ایک اہم جزو تھا جس کے ذریعے برطانوی حکومت نے ہندوستان میں اپنی طاقت کو برقرار رکھا۔ نوآبادیاتی قوانین لاگو کر کے، سامراجیت کو پروان چڑھایا گیا جس کے لیے عدالتی نظام متعارف کرایا گیا، جب عدالت نوآبادیاتی حاکمیت میں رکاوٹ بننے لگی تو حکومت ہند نے قانون کی بالادستی کو معطل کرنے کا حربہ اپنایا جس کا مقصد قومی جمہوری حقوق کو غصب کرنا تھا۔ برطانوی حکام نے قانون کی حاکمیت کمزور کر کے حکومتی اختیارات کو ترجیح دی۔ عدالتوں پر قدغنیں لگا کر، حکومت نے قانون کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرنا شروع کر دیا۔
برطانوی استبداد کو سیاسی ڈھانچہ میں کیسے پیوست کیا گیا، پاکستان کے باشعور نوجوانوں کو اس تاریخ کا ادراک ہونا بے حد ضروری ہے تاکہ پاکستان کے حالیہ سیاسی و عدالتی بحران کی نوآبادیاتی ساخت کو سمجھا جا سکے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت، ہندوستان میں King ’s Court (شاہی عدالت) کی ابتداء مدراس، کلکتہ اور بمبئی میں 1726ء میں Mayor‘s Court کی تشکیل سے ہوا۔ برطانوی بادشاہ نے 1773ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ریگولیٹنگ ایکٹ کے نفاذ سے بہار، اڑیسہ اور بنگال میں سپریم کورٹ کے قیام کی منظوری دی۔ بعد ازاں، برطانوی بادشاہ نے 1800ء میں مدراس اور 1823ء میں بمبئی میں سپریم کورٹ قائم کرنے کی منظوری دی، ان عدالتوں کو King’s Court (شاہی عدالت) کہا جاتا تھا۔
1828ء میں بمبئی کی شاہی عدالت اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کے درمیان، قانون کی حکمرانی اور ہنگامی (ایمرجنسی) صورتحال کے نکتہ پر تنازعہ پیدا ہوا۔ اس قانونی تنازعہ کو Habeas Corpus کہا جاتا ہے۔ شاہی عدالت اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان تنازعہ دو مختلف نظریات کے گرد گھومتا تھا: ایک ”قانون کی حکمرانی“ کا نظریہ جس کی نمائندگی ججز کرتے تھے، اور دوسرا ”ہنگامی حالات کا نظریہ“ جو کمپنی کی حکومت نے اپنایا۔ پہلا نظریہ قانون کی حکمرانی اور حکومتی اختیارات پر آئینی پابندیوں پر زور دیتا تھا، جبکہ دوسرا نظریہ نوآبادیاتی ہندوستان میں امن و امان اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی مداخلت کو لازمی سمجھتا تھا۔
بمبئی کی شاہی عدالت میں قانونی سوال تھا کہ کیا عدالت سیاسی افراد کی گرفتاری اور اثاثہ جات ضبط کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے؟ اس مقدمے نے عدلیہ کی طاقت اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجی اور سیاسی خودمختاری کی حدود پر تنازعہ پیدا کیا۔ حکومت کا موقف تھا کہ ہنگامی حالات قانونی عمل کی معطلی کو جواز فراہم کرتے ہیں، جبکہ شاہی عدالت نے اس طرح کے اقدامات کو برطانوی قانونی روایات کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ججز برطانوی آئینی اصولوں کی بنیاد پر اپنی طاقت کا جواز پیش کرتے تھے اور حکومت کے اقدامات پر نگرانی کا حق مانگتے تھے۔ ان کے نزدیک، حتیٰ کہ ہنگامی حالات میں بھی عدالت کو آخری فیصلہ دینا چاہیے کہ کیا واقعی ہنگامی حالت ہے یا نہیں۔ حکومت کے لیے یہ موقف ایک بڑا مسئلہ تھا کیونکہ اس سے ہندوستان میں نوآبادیاتی حاکمیت میں رکاوٹ پیدا ہو رہی تھی۔
شاہی عدالت اور حکومت کے درمیان دائرہ اختیار کا تنازعہ نوآبادیاتی حکومت میں استبدادی رجحانات کو فروغ دینے میں معاون رہا۔ شاہی عدالت برطانوی آئینی اصولوں کے تحت حکومتی اقدامات کو چیلنج کرنے کے لیے کوشاں تھی جبکہ حکومت ہنگامی حالات کا حوالہ دے کر اپنی سیاسی مداخلت کو جواز فراہم کرتی تھی۔ اس کشمکش نے یہ ظاہر کیا کہ حکومت نے قانونی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایمرجنسی کا بہانہ بنا کر اپنے اختیارات میں اضافہ کیا۔ اس تنازعہ کے پس منظر میں جنگلی قبائل اور سرداروں کے ساتھ کمپنی کی مشترکہ حاکمیت کی اہمیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ عدالت نے مختلف قانونی مقدمات میں ان سرداروں کے خلاف وارنٹ اور حکم نامے جاری کیے، جس نے سرداروں کی سماجی حیثیت کو کمزور کیا۔ یہ صورتحال عدالت اور حکومت کے درمیان ایک بڑے تنازعے کا باعث بنی۔
شاہی عدالت کے دائرہ اختیار سے سرداروں کو بچانے کی کمپنی کی حکومت کی کوشش نے ایک ناخوشگوار سچائی کا انکشاف کیا۔ حکومت کے پاس پریذیڈنسی ٹاؤن میں اختیار کا فقدان تھا، جو اس کی علاقائی سلطنت کا مرکز ہے۔ Habeas Corpus مقدمہ میں شاہی عدالت کے ساتھ تصادم سے کمپنی کی خود مختاری کی کمزوری عیاں ہوئی۔ عدالت کی طرف سے دائرہ اختیار میں توسیع کے دباؤ سے حکومت اور سرداروں کی خودمختاری کو بیک وقت خطرہ لاحق ہو گیا تھا، جس سے سرداروں کے ذریعے حکومت کی بالواسطہ حکمرانی کی حکمت عملی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ یہ مسئلہ برطانوی علاقوں تک محدود نہیں تھا، کیونکہ 1820ء کی دہائی میں بمبئی میں خودمختاری کی ریاست پیچیدہ تھی، برطانوی ہندوستان میں سرداروں کو سیاسی، معاشی اور سماجی مراعات دی گئی تھیں۔ شہزادے بھی مکمل طور پر خود مختار نہیں تھے، کیونکہ برطانوی حکومت، مراٹھا کنفیڈریسی کی طرح، ماتحت اتحادیوں کے ذریعے خراج وصول کرتی تھی اور سیاسی باشندوں کے ذریعے اپنے اندرونی معاملات پر اثر انداز ہوتی تھی۔
سرداروں کے لیے کمپنی کی خصوصی مراعات پر شاہی عدالت کو قانونی اعتراضات تھے، عدالت کے نزدیک برطانوی ہند کی تمام رعایا کے لیے قانون یکساں طور پر لاگو تھا اور اس سے سردار بھی مبرا نہیں تھے، سیاسی تحفظات کی بنیاد پر مقامی حکمرانوں کے ساتھ مختلف سلوک رکھنے کی عدالت حامی نہیں تھی۔ سرداروں کے مظالم کے خلاف عدالت میں مقدمات دائر ہوئے، عدالت نے قانونی کارروائی کے تحت سرداروں کے خلاف فیصلہ جات کیے اور املاک کو بھی ضبط کر لیا گیا۔ سرداروں نے احتجاج کیا کہ اس سے ان کی حیثیت کو نقصان پہنچا ہے اور حکومت کے اپنے مراعات کے تحفظ کے وعدے کی خلاف ورزی ہے۔
عدالتی فیصلوں پر حکومت کی طرف سے سخت اعتراضات ہوئے، حکومت کی بڑی تشویش یہ تھی کہ مفصلات (دیہی علاقوں) میں خودمختاری برقرار رکھی جائے اور داخلی و خارجی خطرات کا مقابلہ کیا جائے۔ اس تنازع نے حکومت کے لیے عدالت کو ماتحت بنانے کے مطالبے کو جنم دیا، جسے لندن اور کلکتہ دونوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ حکومت کو عدالتی مداخلت ایک خطرہ محسوس ہوئی کیونکہ اس سے نوآبادیاتی استحکام اور حکومتی اختیار دونوں خطرے میں پڑ سکتے تھے۔ پہاڑی قبائل کے حملے اور مقامی شہزادوں کے ساتھ ان کے سیاسی اتحادوں نے غیر قانونی یا فوری ردّعمل کی ضرورت پیدا کی، جو کہ عدالتی عمل کی پیروی کیے بغیر اٹھائے جا رہے تھے۔ اس تنازعہ نے ہندوستان میں زیادہ جابرانہ سیاسی ڈھانچے کی تعمیر کی راہ ہموار کی۔
عدالت کو حکومت کی ایمرجنسی پالیسی کے تحت ماتحت کیا گیا تو برطانوی حکام نے ایک ایسا نظام قائم کیا جس میں قانون کی حکمرانی کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ افراد کے حقوق کی بجائے حکومتی کنٹرول کو برقرار رکھا جا سکے۔ برطانوی پارلیمان نے بذریعہ قانون سازی، شاہی عدالت کو کمپنی کی انتظامیہ کے ماتحت کر دیا گیا، گویا یہ نوآبادیاتی حکمرانی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس سے یہ ادارہ جاتی طور پر تسلیم کر لیا گیا کہ نوآبادیاتی قانون برطانوی قانون سے مختلف ہے اور ہندوستان میں قانون کی حکمرانی کو ریاست کی ضروریات کے تابع رکھا گیا، یہی تصور آج پاکستان میں بھی رائج ہے۔
یہ تبدیلی، برطانوی سامراجیت اور حکمرانی کا نیا رجحان تھا جس سے ہندوستان میں ملٹری، بیوروکریسی اور جابرانہ حکومت کا تصور رائج ہوا۔ کمپنی کی حکومت نے مقامی سرداروں کو عدالت کی گرفت سے بچاتے ہوئے ان کی حمایت حاصل کی اور ان کے ذریعے علاقے پر نوآبادیاتی کنٹرول بڑھایا۔ اس سے مقامی آبادی پر حکومتی تسلط مضبوط ہوا اور قانونی تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک طاقتور انتظامی ڈھانچہ قائم ہوا۔ برطانوی سامراجیت میں، قانون اور ہنگامی حالات کے درمیان فرق کو دھندلا دیا گیا تھا۔ حکومت نے قانون کو اپنے کنٹرول میں رکھنے اور اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک آمرانہ نظام قائم کیا جس میں قانون کی حکمرانی ایک آلہ بن گئی، نہ کہ ایک آزاد اور غیر جانبدار قوت۔
عدالت اور کمپنی کے درمیان تنازعہ حل کرنے کے لیے برطانوی پارلیمان نے مداخلت کی، برطانوی پارلیمان نے 1834ء میں کمپنی کے نئے دستور میں شاہی عدالت کو کمپنی کے ماتحت کر دیا اس سے نوآبادیاتی حکومت کے لیے ایک ایسا قانونی اور سیاسی ڈھانچہ قائم ہوا جس میں ایمرجنسی کو بہانہ بنا کر قانونی آزادیوں کو محدود کیا جا سکتا تھا۔ جابرانہ سیاسی ڈھانچے کی تشکیل میں بنیادی عوامل عدالت اور حکومت کے درمیان دائرہ اختیار کا تنازعہ، ہنگامی حالات کا جواز اور مقامی سرداروں کے ذریعے حکومتی طاقت کو مضبوط کرنے کے اقدامات تھے۔
جابرانہ سیاسی ڈھانچہ (Despotic Political Structure) ایک ایسا نظام حکومت ہوتا ہے جس میں حکمران کو لامحدود اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور عوام یا دیگر ادارے اس کے فیصلوں کے سامنے بے بس ہوتے ہیں۔ اس طرح کے نظام میں قانون اور آئین کی بالادستی کمزور ہو جاتی ہے اور حکومت اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔ نوآبادیاتی دور میں برطانوی حکمرانی کے تحت ہندوستان میں ایسا ہی ایک جابرانہ ڈھانچہ وجود میں آیا، جہاں سیاسی اختیارات کا مرکز حکومت تھی اور قانون کی حکمرانی اکثر معطل یا حکومتی مفادات کے تابع رہتی تھی۔ جابرانہ نظام میں اقتدار کی تمام شکلیں ایک مرکزی حکومت یا حکمران کے ہاتھ میں مرکوز ہوتی ہیں۔ نوآبادیاتی ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں برطانوی حکومت نے تمام سیاسی اور انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھے تھے۔ مقامی ادارے یا عدلیہ کو خودمختاری حاصل نہیں تھی اور ان کے فیصلے اکثر حکومتی مداخلت کا شکار ہوتے تھے۔
ہندوستان میں شاہی عدالت (King’s Court) اور حکومت کے درمیان تنازعات اس بات کا اشارہ تھے کہ عدالت کی خودمختاری کو محدود کیا جا رہا تھا۔ نوآبادیاتی دور میں جب بھی حکومت کو خطرہ محسوس ہوتا، وہ ”ہنگامی صورتحال“ کا بہانہ بنا کر قانونی حکمرانی کو معطل کر دیتی۔ یہ ایک اہم عنصر تھا جس نے جابرانہ ڈھانچے کو جنم دیا، سرداروں کو قانونی کارروائیوں سے استثنا دے کر ان کے اقتدار کو برقرار رکھا گیا۔
جابرانہ ڈھانچہ میں عوامی نمائندگی یا شمولیت کو محدود کر دیا جاتا ہے۔ برطانوی حکمرانی کے تحت ہندوستان میں عوام کو حکومتی فیصلوں میں شامل ہونے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ حکومت کے فیصلے عوامی مفادات کے بجائے نوآبادیاتی مقاصد کے لیے ہوتے اور ایمرجنسی کی حالت کا اکثر استعمال کیا گیا تاکہ قانونی کارروائیوں اور عوامی مزاحمت کو دبایا جا سکے (پاکستان میں دفعہ 144 کا نفاذ بیشتر نوآبادیاتی جبر کی یاد دلاتا ہے)۔ برطانوی حکومت کے تحت ہندوستانی عوام کو نہ تو قانونی تحفظات فراہم کیے گئے اور نہ ہی انہیں سیاسی عمل میں حصہ لینے کا حق دیا گیا۔ حکومت کے فیصلے صرف نوآبادیاتی مفادات کے مطابق کیے جاتے تھے۔
برطانوی پارلیمان ہر 20 برس بعد، ایسٹ انڈیا کمپنی کے چارٹر کی توثیق کرتی تھی گویا مذکورہ تنازعہ کے بعد 1834ء کے چارٹر میں برطانوی پارلیمان نے نوآبادیاتی ہندوستان میں کئی اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں ایک اہم پہلو عدلیہ کو حکومت کے ماتحت لانا تھا۔ ان اصلاحات کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری کو محدود کیا گیا اور حکومت کو عدالتی فیصلوں پر زیادہ اختیار دے دیا گیا، جس سے جابرانہ سیاسی ڈھانچہ مزید مضبوط ہوا۔ اس چارٹر کے تحت عدلیہ کو حکومت کے ماتحت لانے کی درج ذیل اہم شقیں تھیں :
چارٹر 1834ء کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ ہندوستان میں قانون سازی کے اختیارات گورنر جنرل اور اس کی لیجسلیٹو کونسل کو دے دیے گئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عدلیہ پر حکومت کی قانونی بالادستی قائم کر دی گئی۔ عدلیہ کو حکومت کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق فیصلے کرنا ہوتے تھے اور وہ خود کوئی قانون سازی نہیں کر سکتی تھی۔ اس سے عدلیہ کو محدود دائرے میں رکھا گیا۔ اس چارٹر کے تحت ایک مرکزی لیجسلیٹو کونسل (Legislative Council) قائم کی گئی، جسے پورے ہندوستان میں قانون سازی کا اختیار حاصل تھا۔ یہ کونسل گورنر جنرل کی قیادت میں کام کرتی تھی اور اس کے بنائے ہوئے قوانین عدالتوں پر لاگو ہوتے تھے۔ اس طرح عدلیہ کے فیصلے کونسل کے قوانین کے تابع ہو گئے۔ شاہی عدالت (King’s Court) کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی لیجسلیٹو کونسل کے ماتحت کر دیا گیا۔ چارٹر کے مطابق، عدالتوں کو حکومت کی پالیسیوں اور قوانین کی پابندی کرنی تھی اور کسی بھی ایمرجنسی یا سیاسی معاملے میں عدلیہ کو حکومت کے احکامات کی پیروی کرنی پڑتی تھی۔ اس طرح عدلیہ کی آزادی کو محدود کیا گیا اور اسے حکومت کے تابع کر دیا گیا۔
چارٹر میں حکومت کو یہ اختیار دیا گیا کہ ہنگامی حالات میں عدالتی فیصلوں کو معطل کر کے اپنے فیصلے نافذ کر سکتی ہے۔ اس شق کے تحت عدلیہ کو ہنگامی حالات میں حکومت کے احکامات پر عملدرآمد کا پابند کیا گیا اور اسے حکومتی پالیسیوں کے خلاف کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ چارٹر میں یہ واضح کیا گیا کہ گورنر جنرل ہندوستان میں عدالتی، انتظامی اور قانون سازی کے تمام معاملات میں حتمی اختیار رکھتا ہے۔ گورنر جنرل کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ عدالتی فیصلوں پر نظرثانی کرے اور اگر ضروری سمجھے تو ان میں مداخلت بھی کر سکتا ہے۔ اس طرح عدلیہ کی خودمختاری کو کمزور کر دیا گیا اور اسے حکومت کے ماتحت کر دیا گیا۔
چارٹر 1834ء نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت لانے کا ایک رسمی اور قانونی اعلان کیا۔ اس کے تحت عدالتی نظام میں حکومت کی مداخلت کو قانونی جواز فراہم کیا گیا اور عدلیہ کو حکومتی پالیسیوں اور احکامات کے تابع کر دیا گیا۔ یہ لندن کے افادیت پسند مفکرین جیسے جان سٹیورٹ مل، گرانٹ اور میکالے نہیں تھے بلکہ بمبئی اور کلکتہ کے حکام جیسے میلکم، میٹکالف اور بینٹنک تھے جنھوں نے عدلیہ پر ایگزیکٹو کی برتری کا نوآبادیاتی حکمرانی کا تصور پیش کیا تھا۔
عدلیہ اور قانون ساز کونسل کے درمیان تنازعات نوآبادیاتی عہد میں جبر و استبداد کو برقرار رکھنے کے تناظر میں اُبھرے تھے۔ بمبئی پریذیڈنسی کا 200 سال قدیم تنازعہ، آج پاکستان کی عدلیہ اور پارلیمان کے درمیان اختیارات کے تنازعہ کی تاریخ یاد کرا رہا ہے۔ پاکستان کا قومی جمہوری ڈھانچہ، نوآبادیاتی ستونوں پر استوار کیا گیا، جو حقیقت میں آمریت و استبداد کا شاخسانہ ہے جس پر جمہور کے نام کی ملمع کاری کی گئی ہے۔ قومی پارلیمان، عدلیہ اور ایگزیکٹو (سول و ملٹری بیورو کریسی) کی ساخت نوآبادیاتی فلاسفی اور اُصولوں کا تسلسل ہے جس کی جڑیں لیجیسلیٹو کونسل سے جا ملتی ہیں۔
مفکرین کو بس یہ سوچنا ہے کہ محض جمہور کا نام لے کر پارلیمان میں قانون سازی کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات سلب کرنے کا حالیہ عمل مملکت میں جبر و استبداد اور مقامی اشرافیہ کی بالادستی کو تقویت دینے کے لیے ہو رہا ہے۔ ہمیں نوآبادیاتی عہد کے تسلسل کو ختم کرنا ہے یا پھر پاکستان کو نیو کالونیل ریاستی ڈھانچہ میں تبدیل ہوتا دیکھ کر خاموشی اختیار کرنی ہے، فیصلہ آپ خود کر لیجیے! پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی (rule of law) ہے یا پھر قانون کے ذریعے حکمرانی (rule by law) ہے؟ نوآبادیاتی تاریخ بتلاتی ہے کہ جب بھی استعماری طاقت کا پنجہ مضبوط کرنا ہوتا تو ایک نیا قانون منظور کر کے لاگو کر دیا جاتا جیسے 1935ء کے انڈین ایکٹ کو منٹو نے ’نیا قانون‘ کے نام پر ’پرانا قانون‘ قرار دیا، کیا پارلیمان کی نئی آئینی ترمیم بھی تاریخ میں یہی مقام پائے گی؟


