ملتان کے نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا استحصال


پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے معصوم لوگ پر ہر طرح سے آگ (ظلم، زیادتی، نا انصافی، ذہنی اذیت اور مسلسل استحصال) برس رہی ہے اس کی لپیٹ میں ویسے تو کئی شعبہ جات سے وابستہ افراد ہیں مگر سب سے زیادہ جس شعبہ کے افراد جھلس رہے ہیں وہ نجی تعلیمی شعبہ ہے جہاں کوئی میکانزم نہیں ہے اور نہ کوئی معقول تنخواہیں ہیں۔

قارئین! آج ہم آپ کی توجہ پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کے نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کی جانب مبذول کراتے ہیں۔ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود نجی کالجز گروپ مالکان کے دربانوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ انتظامیہ کے ذمہ داران ان تعلیمی اداروں میں صرف فوٹو سیشن اور تحائف وصول کرنے میں بھونڈی نقل اتارتے رہتے ہیں اپنی سوچ مسلط کرنے والے احمق تعلیم جیسے حساس موضوع پر بھاشن دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

نجی تعلیمی کالجز میں اساتذہ کی صورت حال بہت زیادہ خراب ہے۔ لگتا ایسے ہے جیسے کسی خضر کی راہ دیکھ رہے ہوں آنکھوں میں نمی، چہرے پر معصومیت، ٹھنڈی سانسیں اور بار بار آسمان پر دیکھنا معمول بنتا جا رہا ہے جیسے وہ قدرت کے ہر فیصلے پر خاموش رہنا وتیرہ بنا رہے ہوں، مایوسی ان کے آنگن کو اندھیرے سے ڈرا رہی ہو، وہ اندر سے بوجھل خود کو زمین پر بوجھ سمجھ رہے ہوں، وہ اپنا یا پرائے دربان کا آخری فیصلہ سننے کے لیے تیار کھڑے ہوں فیصلہ کچھ بھی ہو۔ ایک دوسرے سے ہمیشہ کی جدائی کا زمانہ قدیم میں جدائی سے خوف آتا تھا اب کچھ انسانی رویوں نے انسان کو جدائی کے لامتناہی فوائد سے آگاہ کر دیا ہے ہر مظلوم ظلم سے جدائی چاہتا ہے وہ ہر شخص مظلوم ہے جس سے آپ زبردستی حقوق چھین رہے ہوں۔ اکیسویں صدی میں سب سے زیادہ مظلوم بے سہارا یہاں کا استاد ہے اور سب سے بڑا ظالم مالکان کو دھوکہ دینے والا شاطر طراز بھروسا کا آدمی ہے جو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ساری اخلاقی قدریں کھو رہا ہے تعلیمی اور اخلاقی اقدار کے پیمانے مبہم طریقے سے طے کر رہا ہے۔

لگتا یہی ہے اب نجی تعلیمی اداروں کا کام تربیت کرنا نہیں صرف ڈگریوں تک بچوں کی رسائی کو ممکن بنانا ہے یہی وجہ ہے نئی نسل میں مایوسی کی یا دساور کو جانے کی مسلسل خواہش نے ڈرا دیا ہے۔

نجی کالجز کے اساتذہ مسلسل ذہنی اذیت کا شکار ہو رہے ہیں مہنگائی کے اس دور میں ماضی جیسی غاصب سوچ کے مداری نجی کالجز گروپ مالکان کو خوش کرنے کے لیے یا اپنی زندگی چاپلوسی کی عادت کے مطابق گزارنے کے لیے تلوے چاٹنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ذہن اساتذہ کا مختلف حربوں سے ذہن نوچ رہے ہیں میرا ذہن نوچنے سے مراد اساتذہ کو بے توقیر کرنا، ان کا حق مارنا، معاشی استحصال کرنا، ذہنی اذیت دینا، ہراساں کرنا، ان کی معاشی بے بسی کا فائدہ اٹھانا، بار بار دھمکانا، ان کے اندر خوف پیدا کرنا، مارکیٹنگ سے لے کر ہیلپ سنٹر تک کا کام لینا، بار بار تابعداری کی خواہش کا پورا کرانا اور اب چاپلوسی نجی تعلیمی سیکٹر میں کامیاب ملازمت کا دوسرا نام ہے۔

اصل شکوہ ادارہ مالکان سے ہے کیا ادارہ مالکان کو قوم کی تربیت کرنا مقصود ہے؟ یا قوم کو مزید اندھیرے کی طرف دھکیلنا ہے اگر تربیت کرنا مقصد ہے تو اساتذہ کے اوپر ایسا شخص تعینات کرے جو کم از کم ذہنی مریض اور کیلکولیٹر نہ ہو دوسرا وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ سے مراد کسی بھی مضمون میں پی ایچ ڈی یا ایم اے پاس نہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے مراد کشادہ دل، کشادہ ذہن، کشادہ سوچ، مثبت مقاصد، مثبت کردار، اپنے ماتحتوں پر اعتماد، مساوی طرز عمل، اپنے اساتذہ پر مکمل بھروسا، اساتذہ کا کام صرف نصاب پڑھانا نہیں ہوتا بلکہ بچوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ بچوں کو نئی سوچ زمانے کی ضرورت کے مطابق جدید تعلیمی ضروریات پوری کرنا ہوتا ہے کم تعلیم یافتہ انتظامیہ سربراہان شاطر طرازی مداری پن کی وجہ سے گروپ کالجز مالکان کو خوش رکھنے کے لیے تعلیمی معیار گرا دیتے ہیں بچوں کو بجائے معیاری تعلیم فراہم کرنے کے غیر ضروری سرگرمیوں میں ملوث کردیتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی تشہیر ہوتی رہے جگہ جگہ بچوں کے دلوں کو لبھانے کے لیے بے فائدہ سرٹیفکیٹ تقسیم کرتے رہیں قوم کے اعلیٰ ذہنوں کو معیاری تعلیم اور معیاری ماحول مہیا کرنے کی بجائے جب آپ پینتیس یا چالیس بچوں کی کلاس میں اسی یا نوے بچے بٹھا دیں گے پھر معیاری تعلیم یا معیاری ماحول کیسے فراہم ہو گا۔ اس کا مطلب قوم کی تربیت کرنے کی بجائے آپ نے قوم کو مزید ذلت و رسوائے کی طرف دھکیل دیا ہے ایم اے اور ایم فل اساتذہ کو جب آپ کالجز میں مزدور کے برابر ماہانہ تنخواہ پر لیکچرر رکھیں گے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کم تنخواہ پر معیاری تعلیم دے سکیں۔

بعض اساتذہ نے تو یہاں تک بتایا کہ قومی زبان اردو کے ہفتے میں چھ دن کی بجائے پانچ دن کردیے گئے ہیں اور اسی طرح انگریزی کے بھی ہفتے میں پانچ دن لیکچر ہوتے ہیں اور کچھ اساتذہ کی تنخواہیں چالیس ہزار سے بھی کم ہیں صبح گیٹ ڈیوٹی، بریک ڈیوٹی اور چھٹی کے وقت دوبارہ گیٹ بھی ضروری کرنی پڑتی ہے جو نہ کریں اسے دھمکایا جاتا ہے کہ کسی بھی ملازمت سے برخاست کیا جاسکتا ہے جبکہ گروپ کے باقی شہروں میں ایسا استحصال سننے میں نہیں آیا جو ملتان میں ہو رہا ہے۔ لاہور میں اضافی پر لیکچر ملتان کے مقابلے میں دگنے معاوضے کا ہوتا ہے ملتان میں صرف 400 سو روپے کا ہے ملتان کے اساتذہ ملازمت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے سب ظلم سہ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ جلد از جلد نوٹس لیں تاکہ اساتذہ کو ذہنی اذیت سے نجات ملے اور مزید اساتذہ کا معاشی اور سماجی استحصال نہ ہو۔

Facebook Comments HS