کندھ کوٹ عوامی نمائندوں کے وعدوں کے باوجود یونیورسٹی قائم نہ ہو سکی


کندھ کوٹ، کشمور ڈسٹرکٹ سندھ کا آخری ضلع ہے اور ملک کے دو صوبوں، پنجاب اور بلوچستان کے سنگم پر قائم ہے۔ اس ضلع میں ملک کا سب سے بڑا گڈو پاور پلانٹ بھی موجود ہے اور یہاں پی پی ایل گیس فیلڈ بھی قائم ہے۔ ضلع بھر کی آبادی 1,233,957 ہے، اور اس میں تین صوبائی نشستیں اور دو قومی اسمبلی کی نشستیں شامل ہیں، جن میں سے ایک میں تحصیل ٹہل ضلع جیکب آباد اور ایک میں تحصیل خانپور ضلع شکارپور شامل ہیں۔ 2018 کے انتخابات اور 2024 کے انتخابات میں امیدواروں کی انتخابی مہم کے دوران عوامی نمائندوں کے سامنے تحریکی صورت میں ایک ہی مطالبہ آیا تھا کہ کندھ کوٹ کشمور ضلع میں یونیورسٹی قائم کروائی جائے۔

یونیورسٹی سے محروم ضلع کشمور کندھ کوٹ کے منارٹی سے تعلق رکھنے والے فقیر گوکل داس نے بتایا کہ یونیورسٹی نہ ہونے کی وجہ سے غریب طبقے کے لوگ اعلیٰ تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ یہ ضلع قبائلی علاقہ ہے جہاں سرداری نظام اور جاگیرداری نظام مضبوط ہے۔ بہت سے سردار اور وڈیرے نہیں چاہتے کہ ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر نیچے بیٹھنے والے لوگ یا ان کے بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ لوگ ان کے ساتھ برابر بیٹھ سکیں گے۔ یونیورسٹی کے قیام میں ناکامی کی وجہ سے اقلیتی برادری میں شامل بہت سی برادریاں، جو کھیتی باڑی اور مزدوری کرتی ہیں، اپنے طبقے کے ٹیلنٹ کے باوجود اعلیٰ تعلیم سے محروم ہو رہی ہیں۔ اس علاقے میں تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے جہالت بڑھ رہی ہے۔ کچے کے اندر علم کی روشنی نہ پہنچنے کی وجہ سے ڈاکو راج قائم ہے، اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے یہاں کے لوگ معمولی بات پر انا پرستی میں مبتلا ہو کر دشمنیاں پیدا کرتے ہیں، جس میں ایک دوسرے کے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں سردار اور وڈیرے ان کی صلح کرانے کے لیے جرگہ کرتے ہیں۔ اگر یونیورسٹی قائم ہو جائے تو جو لوگ دوسرے شہروں میں نہیں جا سکتے وہ اپنے ہی شہر میں علم کی روشنی حاصل کر سکیں گے، جس سے شعور بیدار ہو گا اور جہالت ختم ہوگی۔

کندھ کوٹ کے دیہی علاقے یونین کونسل بڈانی سے تعلق رکھنے والے نامور قانون دان منور علی بھٹو نے کہا کہ کندھ کوٹ ترقی کے حوالے سے پیچھے رہ گیا ہے۔ یہاں پر علم کی کمی ہے۔ وقت کے حکمرانوں اور عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لائیں تاکہ یہاں کے عوام، جس میں غریب طبقہ اور اقلیتی برادری شامل ہیں، فائدہ اٹھا سکیں۔ مقامی سطح پر یونیورسٹی سے کشمور کندھ کوٹ ایک پڑھا لکھا ضلع بن جائے گا۔ یونیورسٹی کے قیام سے شہر سمیت دیہات کے لوگ بھی تعلیم حاصل کریں گے۔ علم ہی ترقی ہے اور علم ہی سے شعور آتا ہے۔ یہاں کے طالب علموں کا کافی عرصے سے ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ کندھ کوٹ میں یونیورسٹی قائم کی جائے۔ سندھ حکومت کا تعلیم کے حوالے سے نعرہ ’پڑھے گا سندھ تو بڑھے گا سندھ‘ پر اب حقیقی عمل کا وقت آ چکا ہے۔

یونیورسٹی قائم کرو تحریک کے سرگرم طالب علم رہنما اختر سندھ یار نے بتایا کہ کندھ کوٹ کشمور میں یونیورسٹی قائم کرنے کے حوالے سے یونیورسٹی تحریک کا آغاز 2017 میں کیا گیا۔ اس دوران سٹی پارک کندھ کوٹ میں ایک جلسہ ہوا جس میں مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبا نے شرکت کی، یونیورسٹی کے قیام کے لیے قوم پرست جماعتوں کے سربراہان کی حمایت بھی حاصل کی گئی۔ 20 جون 2018 کو ضلع ہیڈ کوارٹر کندھ کوٹ میں ایک شاندار ریلی نکالی گئی۔ اس دوران نوجوانوں نے سیاستدانوں، سردار سلیم جان خان مزاری، احسان خان مزاری، میر شبیر علی خان بجارانی، اور چیف سردار میر عابد خان سندرانی کا الیکشن مہم کے دوران راستہ روکا اور یونیورسٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سیاستدانوں نے یونیورسٹی قائم کرنے کے وعدے کیے، لیکن یہ وعدے تاحال وفا نہ ہو سکے ہیں۔

کندھ کوٹ کے سماجی سدھارک احمد بخش چنہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کا قیام عمل میں آنے سے یہاں کی خواتین اور لڑکیوں کو بڑا فائدہ ہو گا، کیونکہ یہاں کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جہاں وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ ایک سروے کے مطابق کندھ کوٹ کشمور کی آبادی کے صرف پانچ فیصد طلبا یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں، باقی طلبا کالج میں ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ اگر عوامی نمائندگان اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کریں تو یونیورسٹی کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔ یونیورسٹی کے قیام سے یہاں کے ساٹھ فیصد لوگ تعلیم یافتہ ہو سکیں گے۔

Facebook Comments HS